ذکر،فکر اور فن بشیر بدر
اسپیشل فیچر
جس طرح اردو زبان میں دنیا بھر میںقاضی عبدالودود، امتیاز علی عرشی اور رشید حسن خاں کارزارِ تحقیق میں… حالی، شبلی اور مولوی عبدالحق صحرائے تنقید میں…وزیر آغا، گوپی چند نارنگ دبستانِ ساختیات میں… شکیل الرحمن گلستانِ جمالیات میں میر کارواں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، اسی طرح کائناتِ غزل میں ڈاکٹر بشیر بدر کا نام سر فہرست ہے۔ بشیر بدر اسمِ با مسمٰی ہیں۔ دبستانِ غزل کے یہ ایک ایسے رہرو ہیں، جس میں ان دنوں ان کا کوئی مد مقابل ڈھونڈنا آسان نہیں۔ بالفاظِ دیگر، آج کائنات اردو میں جہاں بھی غزل نیز اس کے متعلقات کا ذکر ہوگا، وہاں ڈاکٹر بشیر بدرکا نام قارئین اردو اور شائقین غزل کے قلب و ذہن میں فی الفور اجاگر ہوگا۔ یہ تخصیص، مقبولیت، شہرت اور یہ عظمت ہرفنکار کا مقدر نہیں بنتی۔ بشیر بدر جہاں ایک استقامت آشنا، صاحب اسلوب تخلیق کار ہیں، وہیں بحیثیت شاعر ادبی و شعری دنیا میں ان کا اعتبار، وقار اور افتخار قائم ہو چکا ہے۔ شعری، فنی، جمالیاتی، عشقیہ اور نئی غزل کے حقائق و حقانیت کا جو منظرنامہ وہ گزشتہ نصف صدی سے سپرد تحریر کرتے رہے ہیں، وہ جدید غزل اور اس سے وابستہ دوسرے علائم و رموز نیز قدیم تہذیب کے ساتھ ان کے داخلی و باطنی رشتے کی شہادت و صداقت کے لیے کافی ہے۔ بشیر بدر کے چہرے میں ہند آریائی نقوش کی دلکشی و دل ربائی صاف جھلکتی ہے گرچہ تدبر، تفکر، سیاحی اور کثرتِ مطالعہ کے سبب چہرے پر بڑھاپے کے رنگ جھلکتے ہیںلیکن فراخ اور بے داغ پیشانی پر لکھی تمکنت انہیں کسی حد تک جواں سال بناتی ہے۔ ان کا شگفتہ چہرہ، ان کی سدا بہار مسکراہٹ، ان کی وجاہت و وقار کا بین ثبوت ہے۔ بشیر بدر کا ظاہری سراپا ان کی پرکشش شخصیت اور ان کی دلچسپ و دل افروز شبنمی گفتگو اپنے مخاطب کو اولیں ملاقات میں ہی اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے، گرچہ ان کی لفاظی و خود ستائی اور نرگسیت کے سبب بیشتر قلم کار ان سے بددل و بد حظ بھی ہو جاتے ہیں۔ البتہ ہمدردی اور خلوصِ فراواں کے یہ بشری پیکر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خلوص و یگانگت نے ان کے قالب میں پناہ لے رکھی ہے۔ کوئی بھی اجنبی موصوف سے ملنے کے بعد یہ محسوس نہیں کرسکتا کہ وہ آج پہلی بار بشیر بدر سے مل رہا ہے، بلکہ یوں محسوس کرتا ہے کہ برسوں سے شناسائی ہے۔ ایوانِ شاعری میں غزل سب سے مرعوب صنف سخن رہی ہے۔ غزل نے زندگی کے ہر پہلو، ہر رنگ اور ہر زاویے کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے۔ ولیوں، صوفیوں کی خانقاہوں، بادشاہوں کے درباروں، محفلوں اور عوام کی نشستوں سے ہو کر یہی دوشیزہ غزل رزم گاہوں میں بھی داخل ہوئی۔ غزل ہر دور میں خوبصورت، خوب سیرت اور عوام پسند رہی ہے۔ اس کا حسن، اس کا جادو اور اس کا نشہ ہر ایک کو مسحور و متاثر کرتا رہا ہے۔ یوں سمجھئے، غزل نے زندگی و زمانہ کے ہر پہلو کو اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ غزل ہر صدی، ہر دور اور ہر نئے دن کے ساتھ نئی اور تازہ کار اور شگفتہ ہوتی رہی ہے۔ لیکن غزل کا باشعور شاعر زمانے کی ایک ایک بات کو دیکھتا ہے، پرکھتا ہے، ایک ایک حرکت کو محسوس کرتا ہے اور ان سب کا نچوڑ اپنی غزل میں پیش کرتا ہے، عصر کو آئینہ دکھاتا ہے۔ اس تناظر میں بشیر بدرکا حرفِ سخن اپنا جواز آپ ہے۔ ان کی منفرد شاعری، ان کی غنائیہ شاعری، ان کی جدید لب و لہجہ کی شاعری، ان کی عوامی غزلیں، ان کی زمینی غزلیں، ان کے حساس دل، تخلیقی توانائی، فکری ذرخیزی اور شاعرانہ ریاضت کی ایسی دلکش ہم آہنگی کا نام ہے، جو چند ہی شاعروں کو بفیض ربی نصیب ہوتی ہے۔ ریاضت فن، غیر معمولی لگن جس سچی جاں کاہی اور جگر کاوی کا تقاضا شاعر سے کرتی ہے، اس شہرت، مقبولیت اور دوامی حصول میں بشیر بدر نے مقدور سے بڑھ کر اپنا خونِ جگر صرف کیا ہے۔ ان کا ہر تارِ نفس زندگی و زمانہ کے تازہ افکار اور جدید معیار کی کشید میں مصروف رہا ہے۔ بشیر بدر بحیثیت شاعر نہ صرف ہندوستان، پاکستان بلکہ مڈل ایسٹ، امریکہ کے علاوہ یورپ اور عرب میں بھی غزل کے متوالوں اور شاعری کے دیوانوں میں چار دہوں تک بے حد مقبول رہے ہیں، تاہم ادھر نئے الفئیے میں ان کا شہرت کا گراف بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔دراصل شاعری اور وہ بھی زندہ شاعری، زندگی بھر کی وعدہ وفائی کا دوسرا نام ہے۔ بشیر بدرنے بھی نصف صدی کی شعری مسافت طے کی اور ان کا یہ سفر ہنوز ذوق و شوق سے جاری ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے خلاق اور زرخیز ذہن کے نہاں خانوں میں ابھی لا تعداد شعری شمعیں فروزاں ہیں اور ابھی انہیں اسی روشنی غزل کو اپنی جدید و جید شاعری میں صرف کرنا ہے، جس کو ادب میں سچی اور اچھی سدا بہار شاعری کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان کا ہر مصرع ایک شعلہ کی طرح لپکتا ہے اور اس کی روشنی قارئین کے دل و دماغ سے گزرتی ہوئی شعور تک جا پہنچتی ہے۔ ان کے یہاں ایک ایک لفظ بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بشیر بدر کی غزل کو اس کے فطری حسن و جمال، خدو خال کے ساتھ ساتھ فکر جدید کے آئینہ میں دیکھنا ہو تو ان کی شاعری کا سنجیدگی اور غیر جانبداری سے مطالعہ بہت ضروری ہے۔بشیر بدرصاحب کے شعروں میں حرف و معنی کی فراوانی، جذب و شوق کی طغیانی، فکر و نظر کی حشر سامانی، تخیل کی بے کرانی، وجدان کی حکمرانی اور معصوم ذہنوں کی ترجمانی صاف نظر آتی ہے۔ چونکہ ہماری زندگی کے سفر میں کہیں تاریکی، کہیں نور، کہیں آدمی، کہیں حور، کہیں محبت، کہیں نفرت، کہیں بھوک، کہیں ہوک، کہیں خواب، کہیں سراب، کہیں ہجر، کہیں وصال، کہیں سوال تو کہیں جواب، غرضیکہ اثبات و نفی کے اس بڑے دائرے میں بشیر بدرکی رنگا رنگ، ہمہ رنگ، جل ترنگ اور دل پسند جدید غزلیں انسانی پہلوؤں کی بھرپور عکاس ہیں۔ موصوف کی غزلیں اپنے طلسم سخن سے، اپنے جدید رویے سے اور اپنے سادہ اسلوب و اظہار سے ہمیںمسحور و مبہوت کر لیتی ہیں۔ بطور نمونہ چند شعر دیکھئے:یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیںمرے بدن پر کسی دوسرے کی شال نہیںاداس ہوگئی اک فاختہ چہکتی ہوئیکسی نے قتل کیا ہے یہ انتقال نہیںالغرض! بشیر بدر صاحب کی خود پرستی، نرگسیت، خود اشتہاریت اور تجاہل عارفانہ کے باوجود، ان کے کلام و کمال، ان کے شعروں کی لطافت و حلاوت اور ان کی غیر معمولی شہرت و مقبولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔