رنگوں کی دُنیا...! ان کے بغیرہماری زندگی نامکمل ہے
اسپیشل فیچر
کیا آپ کو معلوم ہے کہ انسان کو عقل کے علاوہ جانوروں پر کس چیز سے فوقیت حاصل ہے؟ مشکل سوال ہے ناں؟؟ مگر اس کا جواب رنگوں کی شناخت کرنا ہے کیونکہ بیشتر جانور رنگوں میں امتیاز نہیں کرپاتے بلکہ انہیں دنیا سیاہ و سفید (بلیک اینڈ وائٹ) نظر آتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ رنگ باتیں کرتے ہیں اور یہ کوئی تصوراتی یا افسانوی بات بھی نہیں۔ رنگ چاہے سفید ہو یا سیاہ، سبز ہو یا سرخ درحقیقت اپنی بے زبانی سے بھی کسی نہ کسی بات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ اب چاہے ،وہ آپ کی شخصیت کے سربستہ راز ہوں یا آپ کی پسند و ناپسندیدگی کا اظہار ،یہ دھنک رنگ سب کچھ بیان کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کی رنگوں کے معاملے میں پسند یا ناپسند مختلف ہوتی ہے ،مگر دھنک یا قوس و قزح کا جادو ہر ایک پر چلتا ہے:نارنجی رنگپیلے اور سرخ رنگ کے امتزاج سے بننے والا یہ رنگ ہر کسی کی توجہ اس پر اثر انداز ہوئے بغیر حاصل کرلیتا ہے اور جب بھی اس رنگ کا خیال ذہن میں آئے تو سورج کے طلوع و غروب ہونے کا منظر، خزاں کے پتوں اور مالٹے آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔یہ رنگ انسان کی بھوک اور تخلیق میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ نارنجی رنگ انسان کے جوش و خروش میں اضافہ کرتا ہے اور انسانی جذبات کو پوری طرح باہر آنے میں مدد دیتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ رنگ مختلف امراض کے علاج اور توانائی کی سطح کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔سبز رنگسبز فطرت میں پایا جانے والا سب سے عام رنگ ہے، جو ہر جگہ یعنی پتوں اور گھاس سے لے کر سانپوں، تتلیوں اور ناردرن لائٹس تک میں پایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک پاکستان کے جھنڈے سمیت متعدد ممالک کے پرچموں میں اسے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ رنگ زندگی، فطرت اور بلاشبہ ماحول کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ اس رنگ کو دیکھنا دل اور آنکھوں کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ تاہم اس کا گہرا رنگ کسی کمرے کو گھٹن زدہ بنا دیتا ہے۔سرخ رنگسرخ رنگ انسانی خونی، جوش، آگ، محبت اور غصے غرض کہ ہر طرح کے جذبات کی نمائندگی کرتا ہے،۔مشرقی ثقافتوں میں اسے خوش قسمتی اور دولت مندی کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے جبکہ فطرتی مظاہرے بھی اس کے بغیر نامکمل ہیں ،یعنی مردہ ستارے سے لے کر مرتے ہوئے پتوں تک ہر جگہ یہ نمایاں ہوتا ہے۔ انسان بھی اس رنگ کی طاقت کا فائدہ سیاست لے کر محبت اور کھیل کے میدانوں میں اٹھاتے ہیں۔اس کے مختلف شیڈز کو اقتدار، جارحیت اور جنس کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ یہ ہمارے مزاج، خیالات اور کام یا کارکردگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔سفید رنگمعصومیت، پاکیزگی، امن درحقیقت یہ رنگ صفائی سے لے کر کسی سیاہ کینوس پر ایک نقطے کی شکل میں ہر جگہ نمایاں ہوکر نظر آتا ہے۔ سفید رنگ کے ساتھ خوبصورتی اور پاکیزگی کا ایک انوکھا اور دلکش احساس وابستہ ہے، آسمان پر تیرتے سفید بادلوں کے ٹکڑے ہوں یا جھیل کی سطح پر تیرتے سفید راج ہنس، چودھویں رات کی چاندنی ہو یا پہاڑوں پر جمی برف کی سفیدی سب ہی دل کو موہ لینے والے نظارے ہیں، جن کی جانب دل بے اختیار کھینچا چلا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ابتداء سے ہی تمام ثقافتیں اور رسومات میں اس رنگ کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔زرد یا پیلازرد رنگ سورج کی روشنی سے بھی جھلکتا ہے جبکہ اسے ہر جگہ فطرت کے نظاروں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے، اسی طرح انسان کی بنائی ہوئی دنیا میں بھی یہ رنگ سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرالیتا ہے۔ اس کی چمکدار موجودگی ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہے، یعنی سکول بسوں، ٹریفک اشاروں سے لے کر ہائی لائٹرز اور کھیلوں کے میدان تک جہاں برے رویے پر وارننگ کے طور پر کھلاڑیوں کو یلو کارڈ دکھایا جاتا ہے جبکہ ٹور ڈی فرانس میں تو ہر مرحلے کے فاتح کو ’’مین ان یلو‘‘کہا جاتا ہے۔درحقیقت یہ خوشی کے اظہار کا رنگ ہے اور اسے دیکھنے سے خوشی کا احساس ہوتا ہے تاہم کسی کمرے میں اسے کیا جائے تو وہاں رہنے والے افراد بہت جلد غصے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔خاص طور پر چھوٹے بچوں پر یہ کافی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔نیلا رنگسمندر اور آسمان پر چھایا یہ رنگ فطرت کا قدرتی ساتھی لگتا ہے۔ کسی وہیل مچھلی کو تیرے ہوئے دیکھنا، مور کے پروں اور دیگر متعدد چیزوں میں اسے دیکھنے سے امن و سکون کا احساس ہوتا ہے۔درحقیقت صدیوں سے یہ رنگ راحت، سرد، اداسی وغیرہ کی نمائندگی کرتا آرہا ہے۔اس رنگ کی چیزوں کو دیکھنے سے ذہنی تناؤ سمیت بلڈپریشر اور دل کی دھڑکن کی بڑھی ہوئی رفتار کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے آرام اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ یہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے ۔خاص طور پر ہلکا نیلا یا آسمانی رنگ انسانی جذبات کو پرسکون رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔جامنی یا اودا رنگجامنی ایک ورسٹائل رنگ ہے ،جو سرخ اور نیلے رنگ کے امتزاج سے وجود میں آتا ہے۔ یہ انسان کو پرسکون کرنے کے ساتھ جوش کو بڑھانے جیسی صلاحیت رکھتا ہے، اسے فطرت میں بینگن سے لے کر مختلف چیزوں میں دیکھا جاسکتا ہے اور انسان اسے امارات کی نشانی کے طور پر لیتے ہیں۔ درحقیقت یہ ایک بہت ہی خاص رنگ ہے، جس کے اثرات ڈرامائی ہوتے ہیں جب ہی اسے شاہی رنگ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم ذہنی تناؤ کے شکار افراد کے لیے یہ رنگ زیادہ اچھا نہیں کیونکہ اس سے ان کے ڈپریشن میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔گولڈن رنگحقیقی یا خود تیار کیا گیا یا یوں کہہ لیں کہ قدرت یا انسان کا اپنا بنایا ہوا یہ رنگ آنکھوں کو چندھیا دیتا ہے۔ پھولوں سے لے کر سونے تک ہر جگہ اس کی روشنی آنکھوں کی جگمگاہٹ بڑھا دیتی ہے۔ ہزاروں برس سے اس رنگ کی چمک دمک انسانی تصورات کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے بلکہ اس کے حصول کے لیے ہی انسانی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے۔سلور رنگچاندی کا رنگ بادلوں کی روشنی میں ہمارے خاندانوں کی تاریخ کا حصہ ہوتا ہے۔ تاہم اس رنگ کو بہت کم مقامات پر ہی دریافت کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے یا تو پانی میں غوطہ مارنا پڑتا یا گلیوں میں گھومنا پڑتا ہے۔ اس رنگ کو پسند کرنے والے افراد بہت محنتی ہوتے ہیں اور ہر کام بہت اچھے طریقے سے کرتے ہیں، وہ اپنے ارادے اور مرضی کے مالک ہوتے ہیں اور اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنا پسند کرتے ہیں ۔بھورا رنگیہ انسانی آنکھوں کے لیے دنیا میں دیکھا جانے والا سب سے عام رنگ ہے اور ہر جگہ ہی عام نظرآتا ہے۔ چاہے وہ لباس ہو یا ہماری پسند کے جانور، یا وہ درخت جن پر ہم چڑھنے کی کوشش کریں اس رنگ کے بغیر ایک رنگا رنگ زندگی کی تکمیل ناممکن ہے۔ یہ رنگ زمین کی عکاسی کرتا ہے اور اسے پسند کرنے والے افراد کافی جذباتی ہوتے ہیں اور اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے زندگی کو بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے جبکہ وعدوں کو پورا کرنا اپنی مقدس ذمہ داری سمجھتے ہیں۔سیاہ رنگسائے سے لے کر فیشن کی دنیا اور سمندر کی گہرائیوں تک یہ رنگ ہر منظر کے مزاج اور پیچیدگی پر اثر انداز ہوتا ہے، انسان کی رنگت ہو یا کسی عنصر کا حصہ کالا رنگ آپ کو دنیا کے ہر کونے میں اپنے ساتھ ہی نظرآئے گا۔ اسے ایک پُراسرار مگر باوقار اور متاثرکن رنگ مانا جاتا ہے اور لوگوں کے خیال میں یہ تمام رنگوں پر بھاری ہوتا ہے ،جس میں کسی قسم کی نمائش نہیں ہوتی، اسے پسند کرنے والے افراد عام طور پر سخت مزاج ہوتے ہیں۔ تاہم یہ کوئی فارمولا نہیں اکثر نرم فطرت کے مالک لوگ بھی اسی رنگ کے دیوانے ہوتے ہیں ۔گلابی رنگگلابی رنگ دنیا بھر میں محبت کا نشان، ایک خاموش، خوبصورتی اور اس عزم کا اظہار کہ میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتا، سرخ اور سفید کے امتزاج سے بننے والا یہ رنگ سرخ رنگ کی مقدار کے لحاظ سے اپنی توانائی کا اظہار کرتا ہے، جیسے ہلکا پنک رنگ بچیوں اور لڑکیوں میں بہت مقبول سمجھا جاتا ہے اور دیکھنے میں بھی بہت بھلا لگتا ہے جبکہ گہرا گلابی رنگ تشدد اور ذہنی انتشار کو کم کرنے کے لیے موثر سمجھا جاتا ہے۔یہ رنگ نگہداشت، نرم دلی، ذاتی قدر، محبت اور قبولیت جیسے جذبات کا اظہار کرتا ہے۔٭…٭…٭