نواب آف کالا باغ،ملک امیر محمد خان

نواب آف کالا باغ،ملک امیر محمد خان

اسپیشل فیچر

تحریر : سید صادق حسین شاہ


٭خاندانی پس منظر: ملک بندے علی سب سے پہلا اعوان ہے، جو ڈھنکوٹ سے کالاباغ آکر آباد ہوا ۔ یہاں وہ نمک پر قابض ہوا۔ کالاباغ پتن پر اپنا تسلط قائم کرکے پتن، نمک اور پھٹکڑی پر محصول لگا دیا اور اس علاقہ کا رئیس بن گیا۔ بھنگی خیل خٹک سے جو کالاباغ کے شمال میںپہاڑوں پر آباد تھے خراج لیا کرتا تھا۔ اس طرح ملک بندے علی نے شمال میں ٹولہ بانگی خیل، جنوب میں دائودخیل، مشرق میں سواں نالہ ، نکی اور مغرب میں جلال پور تک مکمل کنٹرول حاصل کرکے اپنی ایک خودمختار قسم کی ریاست کی بنیاد رکھ دی اور کالاباغ کو اپنا پایہ تخت بنایا ،جو پورے ہندوستان کے اعوان کا مرکزی مقام کہلاتاہے۔ رئیس کالاباغ نے شہر سے باہر قلعہ بنانے کا فیصلہ کیا کہ حملہ آوروں کا شہر سے باہر رہ کر مقابلہ کیا جائے تاکہ شہری آبادی بوڑھے ، بچے ، عورتیں محفوظ رہ سکیں۔ اس لیے موجودہ قلعہ نواب صاحب اس دفاعی مقصد کی غرض سے شہر سے باہر حملہ آوروں کی راہ میں تعمیر کرایا گیا۔ افغان حملہ آوروں کے ساتھ راستہ میں دوسرے خٹک قبائل بھی شامل ہوجاتے تھے جن کے ساتھ بھی رئیس کالاباغ کو جنگیں لڑنی پڑیں اور لڑتے لڑتے شمال میں اپنی ریاست کالاباغ کی حد ٹولہ بانگی خیل کالاباغ سے تیس میل دور تک قائم کی۔ ٹولہ میں ایک حد بندی برج تعمیر کرایا جو ریاست کی لائن آف کنٹرول کہلاتا تھا آج بھی موجود ہے۔ جنوب میں دائودخیل شہر تک مشرق میں سواں نالہ سے مغرب جلاپور شہر تک حدود مقرر کردی گئیں۔ ٭ پیدائش: جب پہلی جنگ ِ عظیم شروع ہوئی حکومت برطانیہ نے رئوسائے پنجاب سے جنگ میں امداد کی اپیل کی ۔ اس اپیل کے بدلے ملک کالاباغ نے حکومت برطانیہ کو ایک جنگی جہاز خرید کر دیا جس دن جنگی لڑاکا طیارہ خرید کر دینے کا اعلان ہوا دوسرے روز ہندوستان کے اخبار کی شہہ سرخی یہ تھی کہ ملک کالاباغ نے جنگی جہاز کی امداد دے کر پنجاب کے رئوسا سے امداد میں سبقت لے لی۔ رئیس ملک عطامحمد خان سے جب پوچھا گیاکہ آپ انگریز کی امداد کیوں کرتے ہیں ؟تو انہوں نے جواب دیا کہ انگریزوں نے ہماری سکھوں سے جان چھڑائی ہے ۔ انگریز سکھوں سے قدرے بہتر ہیں۔ ملک عطا محمد خان پہلے رئیس کالاباغ ہیں جن کو انگریز نے نواب آف کالاباغ کا خطاب دیا۔ اس سے قبل رئیس کالاباغ کہلاتے تھے۔ کورٹ آف وارڈز حکومت برطانیہ کا ایک نظام ایڈمنسٹریشن تھا جو کہ کسی رئیس کے فوت ہونے کی صورت میں اس کی اولاد کے جوان ہونے تک اس کی جائیداد کی دیکھ بھال کرتا اور اولاد کے جوان ہونے پر اولاد کو دے دیتا۔ اس سے قبل جتنے رئیس کالاباغ گزرے ۔ انہوں نے مقامی سطح تک دینی و دُنیاوی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ ٭نوابی: کالاباغ کا نظام حکومت صدیوں پرانا ہے اسی طرح ملازم کی بڑھایا پنشن بیوگان کا تادم حیات راشن گندم الائونس وغیرہ تنخواہ کے علاوہ فری علاج بچوں کی مفت تعلیم کالاباغ میں کوئی بیوہ یا غریب عورت سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگتی نظر نہیں آئے گی۔ جب بھی کالاباغ میں کوئی عورت بیوہ ہوتی ہے نواب صاحبان کی بیگمات کے پاس ملازم ہوجاتی ہے اور ان کی معاشرہ میں کافی عزت ہوتی ہے۔ نواب آف کالاباغ کے مہمان خانوں میں خٹک قبیلہ کے لیے علیٰحدہ خاص مہمان خانے تھے جہاں ان کے قیام و طعام کا بندوبست ہوتاتھا۔ ان کی ہر بات کو دوسر ے قبائل پر زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ نواب صاحبان کے پکے ووٹر تھے۔ ملک صاحبان کو فوجی طریقہ سے سلوٹ کرتے اور سر کہہ کر پکارتے تھے۔ دوسرے نمبر پر اُتراد کا اعوان قبیلہ تھا جو یونین کونسل مسان کے بارہ گائوں نکی ، مسان، شمارہ ، مراندی شرقی،غربی، شکر پڑی ، پنجووالہ، جابہ، نواں شہر، مسان اسٹیشن ، ڈھوک بھرتال، پیر پہائی وغیرہ پر مشتمل تھا۔ یہ زمیندار لوگ تھے ۔ان میں سے اکثر نواب آف کالاباغ کی زمینیں کاشت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ کالاباغ کے شہری تھے ، غیر زمیندار ، سادہ ، دبلے پتلے لیکن کمال کے ہنر مند ۔ کالاباغ کے کار پینٹر، مستری میسن جیسا کاریگر ، جوتے بنانے والا بہترین کاریگر، لباس تیار کرنے والے بہترین درزی، کمہار، لوہار، نمک اور پتھر کے برتن بنانے والے ، حلوہ والے حلوائی اور نانبائی ایسے کہ جن کا ملک بھر میں کوئی ثانی نہ تھا۔ رزق حلال کمانا ان کا پیشہ ہے ۔سرائیکی قوم ملک صاحبان کی مختلف ڈیوٹیاں سر انجام دیتی۔ علاقے کے عوام کو تھانہ کچہری جانے کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔ ایک سفید کاغذ پر بغیر ٹکٹ لگائے درخواست دی جاتی ، اس پر حکمِ نواب ہوتا۔ جرگہ مقرر ہو جاتا۔ چار ثالث جرگہ کے ممبر ہوتے ۔ فیصلہ کر کے نواب کو پیش کردیتے ۔ نواب فیصلہ سنا دیتے ، بغیر وکیل بغیر خرچے فیصلہ ہوجاتا۔ انگلینڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد1931ء میں وطن واپس آئے اور اپنی جائیداد کانظم و نسق کورٹ آف وارڈز سے لے کرسنبھالا اور اس کے انتظام و انصرام میں مصروف ہوگئے۔ نواب صاحب نے جدید طریقہ زراعت کو رائج کرکے اپنی زمینداری میں بہت سی مفید اصلاحات جاری کیں۔ اس طرح کالاباغ کے زرعی فارم کا پاکستان کے چوٹی کے فارموں میں شمار ہونے لگا۔ زمینداری کے ساتھ ساتھ نواب آف کالاباغ نے تحریک پاکستان کی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا۔1940ء میں منٹو پارک لاہور میں جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو نواب ملک امیر محمد خان اس میں خود بنفس نفیس شامل ہوئے۔قائد اعظم نے اس جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریر و تقریر کے ذریعے عوام کو بیدار کرنا ہوگا۔ ان کاموں کے لیے فنڈ زکی ضرورت ہوگی لہٰذا آپ تمام دوست تحریک کے لیے فنڈ زدیں۔ اجلاس میں موجود ہر آدمی نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دینے کا اعلان کیا۔ اس دوران قائداعظم کا سیکرٹری چندہ نوٹ کرتا رہا۔ جب تمام لوگوں نے امداد کا اعلان کردیا تو اجلاس میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک خوبصورت دراز قدلنگی سر پر سجائے ہوئے نوجوان پچھلی قطار سے اُٹھے اور اعلان کیاکہ سکیرٹری صاحب جتنا چندہ سب لوگوں نے جمع کرانے کا اعلان کیا ہے اس تمام چندے کے برابر تحریک پاکستان کے لیے میرا چندہ شامل کیا جائے۔ اجلاس میں شامل تمام رئوسائے پنجاب اور خود قائداعظم محمد علی جناح یہ اعلان سن کر دنگ رہ گئے ۔قائداعظم نے فرنٹ لائن سے پچھلی لائن میں لگی کرسیوں پر بیٹھے اس نوجوان کی طرف دیکھا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے نواب ممتاز دولتانہ سے پوچھا؛ یہ نوجوان کون ہے؟ جس کے جواب میں دولتانہ نے کہا؛ جناب !یہ ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ ہیں۔اس کے بعد قائداعظم نے ممتاز دولتانہ سے کہاکہ آپ میرے ساتھ والی اپنی کرسی ان کے لیے چھوڑیں تاکہ وہ میرے ساتھ بیٹھ سکیں ۔ چنانچہ قائداعظم نے نواب صاحب کو پچھلی قطار سے بلا کر اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھا دیا۔ ٭ گورنری: کالاباغ کو عالمی میڈیا کے سامنے سب سے زیادہ شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب نواب کالاباغ خاندان کے نواب ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان بنے جن کا عہد گورنری1959ء سے1966ء تک ہے۔ ان کا دور گورنری انتظامی لحاظ سے مثالی رہاہے، جس میں بھارت کے ساتھ1965ء کی کامیاب جنگ لڑی گئی اور پاکستان نے زرعی اور صنعتی میدان میں نمایاں ترقی کی۔ صدر ایوب خان نے اپنے گورنر نواب صاحب کو منہ بولابھائی کہاہوا تھا۔ مہنگائی ، بیروزگاری کا نواب صاحب کے دور میں خاتمہ ہوا۔ اشیائے خورونوش کے نرخ مقرر ہوئے ، داخلوں، ملازمتوں میں میرٹ کا رواج کر دیا۔ جو قانون غریب کے لیے تھا وہ صدر ایوب خان کے بیٹے پر بھی لاگو تھا۔ اپنے صاحبزادگان کو وقت لیے بغیر گورنر ہائوس میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ بیگم صاحبہ نے گورنر ہائوس دیکھا تک نہیں ۔ بغیر تنخواہ کام کیا۔ راشن آٹا گوشت روزانہ کالاباغ سے بذریعہ ریل ماڑی ایکسپریس لاہور منگوایا جاتا۔نواب صاحب کی صدر پاکستان اسکندر مرزا سے ذاتی دوستی تھی جن سے اپنے علاقہ دائودخیل ضلع میانوالی میں چار کارخانے کھاد سیمنٹ ،پاک ڈائز کیمیکل اور پنسلین فیکٹری منظور کروائے۔ جب ان کارخانوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو اسکندرمرزا نے اس رات نواب آف کالاباغ کے ہاں ان کے ذاتی مہمان خانہ بوہڑ بنگلہ میںقیام کیا۔ نواب صاحبان کے چند ذاتی مخالفین کہتے ہیں کہ نوابوں نے ضلع میں ترقی نہیں ہونے دی۔ اگر ایسی بات ہوتی تو رات کو گھر میں ٹھہرے ہوئے مہمان دوست صدر پاکستا ن کو میانوالی میں کارخانے لگانے سے منع کرسکتے تھے لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ یہ کارخانے نواب صاحب کی کوشش سے ضلع میانوالی کے عوام کی خوشحالی کے لیے لگائے گئے۔ پاکستان کی ترقی کو بیرونی طاقتیں خاص کر سی آئی اے کو یہ بات پسند نہ تھی کہ پاکستان ترقی کرے۔ حکومت مستحکم ہو، بیروزگاری کا خاتمہ ہو ہڑتالیں ، جلوس نہ ہوں۔ 1965 ء کے جنرل الیکشن میں حکومتی پارٹی کی جیت ہو۔ یہ سب باتوں کی پاکستان میں سی آئی اے کے ہیڈ سے امریکی حکومت نے باز پرس کی جس کے جواب میں امریکی حکومت کو بتایا گیا کہ جب تک نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان گورنر مغربی پاکستان ہیں نہ ایوب حکومت ختم ہوسکتی ہے اور نہ ہی ملک پاکستان کمزور ہو سکتاہے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ایک شخص اگر حکومت سے ہٹ جائے تو پھر ہمارے ادارے کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صاف ہو جائے گا۔ ادارہ سی آئی اے کی نئی کوششیں شروع ہوئیں اور ایوب خان اور نواب آف کالاباغ میں اختلافات پیدا کرائے گئے۔کالاباغ کا مہمان خاص چاہے شاہ ایران آرہا ہوتا، اسکندرمرزا، صدر ایوب خان یا ذوالفقار علی بھٹو پوری رعایا دست بستہ غلام کھڑی ہوتی ۔ خٹک تھے جو اپنی سپاہیانہ ڈیوٹی چوکیدارہ کررہے ہوتے اور کوئی خٹک ڈانس پیش کرتے ۔ کالاباغ کے لوگ اپنے اپنے فن سے خدمت میں مصروف ہوتے۔ مہمانا ن گرامی کو ایسا لگتا تھا جیسا کہ پورا علاقہ نواب آف کالاباغ کا ملازم ہے۔سب لوگ یوں سمجھتے تھے۔ حلقہ میں کسی کی کیا مجال کہ کوئی اس نواب یا اسکی رعایا سے الیکشن جیت سکے ۔ الیکشن بھی رعایا اپنا ذاتی الیکشن سمجھ کر لڑتے تھے۔ اچانک کسی کی نظر لگی جس طرح امریکی ادارہ سی آئی اے نے پاکستان کے منہ بولے دو بھائیوں ایوب خان اور نواب آف کالاباغ میں دراڑ ڈالی اور پاکستان گونا گوں مسائل کا شکار ہوکے رہ گیا۔(کتاب ’’ سوانح ِ حیات:نواب آف کالا باغ،ملک امیر محمد خان‘‘ سے مقتبس)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

گرمی کم کرنے میں درختوں کا کردار، مگر ایک مسئلہ بھی ہے

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی، کنکریٹ کی عمارتیں، سڑکیں اور گاڑیوں کی بھرمار شہروں کو مسلسل گرم کر رہی ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کوUrban Heat Island Effect کہتے ہیں، یعنی ایسا اثر جس میں شہر اپنے اردگرد کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ درخت اس اضافی گرمی کو تقریباً نصف تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس تحقیق نے ایک تشویشناک حقیقت بھی سامنے رکھی ہے اور وہ یہ کہ جن شہروں کو درختوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہاں درخت سب سے کم موجود ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا کے تقریباً نو ہزار بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے سیٹلائٹ تصاویر، موسمی ڈیٹا اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے یہ معلوم کیا کہ درخت کس حد تک شہروں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ درخت اوسطاً شہری علاقوں کے درجہ حرارت کو 0.15 ڈگری سیلسیس تک کم کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ کمی معمولی محسوس ہوتی ہے مگر ماہرین کے مطابق اگر درخت موجود نہ ہوں تو شہروں کا درجہ حرارت دو گنا زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ درخت دو بنیادی طریقوں سے ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ پہلا طریقہ سایہ فراہم کرنا ہے۔ جب سڑکیں، عمارتیں اور گاڑیاں سورج کی تپش جذب کرتی ہیں تو گرمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔ درخت ان سطحوں پر براہِ راست دھوپ پڑنے سے روکتے ہیں جس سے گرمی کم ہوتی ہے۔ دوسرا طریقہEvapotranspiration ہے جس میں درخت اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کرتے ہیں۔ یہ عمل انسانی جسم کے پسینے کی طرح ماحول کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ ناسا کی ایک پرانی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ جن شہری علاقوں میں سبزہ زیادہ ہو وہاں درجہ حرارت نمایاں حد تک کم رہتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کے شہروں میں درخت زیادہ مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر برلن، واشنگٹن اور اٹلانٹا جیسے شہروں میں درخت شہری گرمی کو کافی حد تک کم کر رہے ہیں کیونکہ وہاں منصوبہ بندی کے ساتھ شجرکاری کی گئی ہے۔ اس کے برعکس افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی شہروں، جیسے ڈاکار، جدہ اور کویت سٹی میں درختوں کی کمی کے باعث شہری گرمی شدید مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فرق صرف موسمی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشی ناہمواری بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ امیر شہروں میں پارکس، باغات اور درختوں سے بھرپور سڑکیں عام ہیں جبکہ غریب علاقوں میں کنکریٹ کی تعمیرات زیادہ اور سبزہ کم ہوتا ہے نتیجتاً وہاں رہنے والے لوگ زیادہ گرمی برداشت کرتے ہیں، بجلی کا استعمال بڑھتا ہے اور ہیٹ ویوز کے دوران بیماریوں اور اموات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر شہروں میں درختوں کی تعداد بڑھا دی جائے تو گرمی سے ہونے والی اموات میں ایک تہائی تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ کیا صرف درخت لگانا کافی ہے؟اگرچہ درخت شہری گرمی کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں مگر سائنسدان خبردار کرتے ہیں کہ صرف شجرکاری اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ تحقیق کے مطابق مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور صرف درخت لگانے سے اس اضافی گرمی کا محدود حصہ ہی کم کیا جا سکے گا۔ اس لیے ماہرین صاف توانائی، کم کاربن اخراج، بہتر شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست تعمیرات کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہر جگہ ایک ہی قسم کے درخت لگانا بھی فائدہ مند نہیں ہوتا۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر گھنے درخت تنگ اور بند گلیوں میں لگائے جائیں تو وہ رات کے وقت گرمی کو باہر نکلنے سے روک سکتے ہیں جس سے درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ ہر شہر کے موسم، گلیوں کی ساخت اور مقامی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب درخت منتخب کیے جائیں۔ دنیا کے کئی شہروں میں اب گرین اربن پلاننگ پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے تحت نئی سڑکوں، رہائشی منصوبوں اور تجارتی علاقوں میں لازمی درخت لگانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ سنگاپور کو اس حوالے سے کامیاب مثال سمجھا جاتا ہے جہاں عمارتوں، سڑکوں اور پارکوں میں بڑے پیمانے پر سبزہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کے بڑے شہر ابھی سے سنجیدہ اقدامات کریں تو نہ صرف شہری گرمی کم ہو سکتی ہے بلکہ فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ اور بجلی کے زیادہ استعمال جیسے مسائل بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔ درخت صرف خوبصورتی یا سایہ فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ مستقبل کے شہروں کو قابلِ رہائش بنانے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔ بڑھتی ہوئی گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور شہری آلودگی کے دور میں درخت انسانی زندگی کے محافظ بن چکے ہیں۔ لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ ان درختوں کو وہاں لگایا جائے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

نیوٹن کے کششِ ثقل کے قانون کا اب تک کا سب سے بڑا امتحان

سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے آئزک نیوٹن کے مشہور قانونِ کششِ ثقل کو اب تک کے سب سے بڑے کائناتی پیمانے پر پرکھا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ قانون ایک بار پھر درست ثابت ہوا ہے، چاہے اسے زمین یا نظامِ شمسی کی حدود سے نکال کر کروڑوں نوری سال دور کہکشاؤں پر آزمایا گیا ہو۔کششِ ثقل کا بنیادی تصورنیوٹن نے 1687 میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کائنات کا ہر جسم دوسرے جسم کو اپنی کمیت کے مطابق اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کشش کی طاقت فاصلے کے مربع کے الٹے تناسب سے کم ہوتی ہے۔ یعنی اگر دو اجسام کے درمیان فاصلہ دوگنا ہو جائے تو ان کے درمیان کشش چار گنا کم ہو جاتی ہے۔یہ سادہ سا اصول صدیوں سے فزکس کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اور آج بھی روزمرہ زندگی سے لے کر خلائی تحقیق تک استعمال ہوتا ہے۔کائناتی پیمانے پر نیا تجربہحال ہی میں سائنسدانوں نے اس قانون کو صرف سیاروں اور ستاروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انتہائی بڑے پیمانے پر آزمایا۔ انہوں نے کہکشاؤں کے بڑے بڑے جھرمٹوں (Galaxy clusters) کا مشاہدہ کیا جو ایک دوسرے سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود ہیں۔جدید دوربینوں اور فلکیاتی سرویز کے ذریعے حاصل کیے گئے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ اس میں کہکشاؤں کی حرکت، ان کے درمیان کششِ ثقل کے اثرات اور کائنات کی مجموعی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی۔تحقیق کے نتائج نہایت واضح اور دلچسپ تھے۔ نیوٹن کا قانون اس وسیع کائناتی پیمانے پر بھی درست ثابت ہوا۔مشاہدات سے یہ بات سامنے آئی کہ کہکشاؤں کے درمیان کشش اسی اصول کے مطابق کام کر رہی ہے۔فاصلے بڑھنے پر کشش کم ہونے کا قانون ویسا ہی برقرار ہے۔کسی بھی مرحلے پر اس بنیادی اصول میں تضاد یا تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ اس سطح پر اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ روایتی قوانین میں تبدیلی یا نئی طبیعیات (New physics)سامنے آئے گی۔یہ تحقیق جدید طبیعیات کے لیے ایک مضبوط توثیق سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے دو بڑے نظریات کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے کہ ایک طرف نیوٹن کی کلاسیکی فزکس ہے جو روزمرہ اور بنیادی حساب کتاب کے لیے اہم ہے، اور دوسری طرف آئن سٹائن کی جنرل ریلیٹوٹی ہے جو کششِ ثقل کو زیادہ جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔یہ نیا مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ آئن سٹائن کا نظریہ زیادہ گہرا اور وسیع ہے، پھر بھی نیوٹن کا سادہ قانون بڑے پیمانے پر ایک بہترین اور درست اندازہ فراہم کرتا ہے۔اس تحقیق سے کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کو اس بات کا مزید یقین ہوا ہے کہ کائنات کے بنیادی قوانین نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ انتہائی بڑے فاصلے اور وقت کے باوجود یکساں طور پر کام کرتے ہیں۔یہ نتائج ڈارک میٹر ، کہکشاؤں کی تشکیل اور کائنات کی توسیع جیسے اہم موضوعات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔مختصر یہ کہ نیوٹن کا کششِ ثقل کا قانون، جو تقریباً 400 سال پہلے پیش کیا گیا تھا، آج بھی کائنات کے سب سے بڑے پیمانوں پر درست ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کے بنیادی اصول حیرت انگیز طور پر مستقل اور قابلِ اعتماد ہیں، چاہے ہم انہیں زمین پر دیکھیں یا اربوں نوری سال دور کہکشاؤں میں۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکہ، میکسیکو جنگ 13 مئی 1846ء کو امریکی کانگریس نے میکسیکو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں ممالک کے درمیان ٹیکساس کی ملکیت اور سرحدی تنازعات شدت اختیار کر گئے تھے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ریو گرانڈے دریا تک کا علاقہ اس کا حصہ ہے جبکہ میکسیکو اسے اپنی سرزمین سمجھتا تھا۔یہ جنگ تقریباً دو سال تک جاری رہی اور اس کے دوران امریکہ نے میکسیکو کے بڑے حصے جیسے کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹاہ، ایریزونا اور نیو میکسیکو پر قبضہ کر لیا۔ برازیل میں غلامی کا خاتمہ13 مئی 1888ء کو برازیل کی شہزادی ایزابیل نے ایک تاریخی قانون پر دستخط کیے جس کے ذریعے برازیل میں غلامی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ اُس وقت برازیل دنیا کا آخری بڑا ملک تھا جہاں غلامی قانونی طور پر جاری تھی۔اُس وقت برازیل میں تقریباً سات لاکھ غلام موجود تھے، جو زیادہ تر زرعی شعبے خصوصاً کافی کے باغات میں کام کرتے تھے۔اس قانون کے مطابق تمام غلاموں کو بغیر کسی معاوضے یا شرط کے آزاد کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق کی تاریخ میں ایک بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس13 مئی 1950ء کو برطانیہ کے مشہور ریس ٹریک سلورسٹون پر پہلی پہلی فارمولا ون ورلڈ چیمپئن شپ ریس منعقد ہوئی۔ یہ جدید موٹر ریسنگ کی تاریخ کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس ریس میں مختلف ممالک کے ڈرائیورز نے شرکت کی اور الفا رومیو کی گاڑیوں نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ Giuseppe Farina نے یہ تاریخی ریس جیت کر پہلا F1 عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد کے سالوں میں یہ کھیل دنیا کا سب سے مشہور اور مہنگا موٹر اسپورٹس بن گیا۔ پوپ جان پال پر قاتلانہ حملہ13 مئی 1981ء کو ویٹیکن سٹی میں سینٹ پیٹرز سکوائر کے اندر پوپ جان پال دوم پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ حملہ آور ایک ترک شہری تھا جس نے پوپ پر گولیاں چلائیں۔پوپ شدید زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طویل آپریشن کے بعد ان کی جان بچائی گئی۔ یہ واقعہ دنیا بھر میں چونکا دینے والا تھا۔بعد میں پوپ نے اپنے حملہ آور کو معاف کر دیا، جو انسانی برداشت اور معافی کی ایک بڑی مثال بن گیا۔ اس واقعے کے پیچھے مختلف سیاسی اور خفیہ سازشوں کے نظریات بھی سامنے آئے لیکن مکمل حقیقت آج تک واضح نہیں ہو سکی۔ فلاڈیلفیا MOVE بمباری13 مئی 1985ء کو امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں پولیس نے ایک مذہبی و سیاسی گروہ ''MOVE‘‘ کے خلاف آپریشن کیا جو ایک بڑی تباہی پر ختم ہوا۔ پولیس نے گروہ کے گھروں پر بم گرائے جس کے نتیجے میں شدید آگ لگ گئی۔ جس سے پورا رہائشی بلاک تباہ ہو گیا۔اس واقعے میں 11 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے ۔یہ واقعہ امریکی تاریخ کے سب سے متنازع پولیس آپریشنز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں حکومت نے اس واقعے پر معذرت بھی کی اور اسے انتہائی غلط فیصلہ قرار دیا گیا۔MOVE پہلے بھی متنازع گروہ تھا مگر اس کارروائی نے انسانی حقوق، پولیس فورس اور ریاستی تشدد پر بڑے سوالات اٹھا دیے۔

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیا واقعی شعور رکھتی ہے؟ یہ سوال اب صرف سائنس فکشن فلموں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے بڑے سائنسدان، فلسفی اور ٹیکنالوجی ماہرین اس پر سنجیدگی سے بحث کر رہے ہیں۔ معروف ارتقائی بیالوجسٹ Richard Dawkinsنے حال ہی میں unherd.com پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا کہ جدید AI نظام اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ مستقبل میں ان میں کسی درجے کا شعور پیدا ہونے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی بات دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آخر ''شعور‘‘ کیا ہے اور کیا مشین کبھی انسان کی طرح سوچ یا محسوس کر سکتی ہے؟شعور کیا ہے اور انسان اسے کیسے سمجھتا ہے؟انسانی شعور صدیوں سے سائنس اور فلسفے کا ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ شعور سے مراد صرف معلومات کو پروسیس کرنا نہیں بلکہ اپنے وجود کا احساس، جذبات، درد، خوشی اور ذاتی تجربات کا ادراک بھی ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے تو اسے خوشی ''محسوس‘‘ ہوتی ہے اور جب تکلیف میں ہوتا ہے تو درد کا احساس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی کمپیوٹر پروگرام بھی کبھی ایسا محسوس کر سکتا ہے؟موجودہ دور کی AI ،جیسے چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس، بظاہر انسانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ وہ سوالات کے جواب دیتے ہیں، مشورے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ واقعی سمجھ رہے ہوں مگر حقیقت میں یہ نظام اربوں الفاظ اور ڈیٹا کی بنیاد پر صرف اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا مناسب جواب کیا ہونا چاہیے۔ یعنی AI کے پاس معلومات تو ہیں مگر اس کے احساسات ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شعور دراصل معلومات کی پیچیدہ پروسیسنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی نظام بہت زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے، اپنے بارے میں معلومات رکھے، ماحول کو سمجھے اور خود فیصلے کرے تو ممکن ہے کہ شعور جیسی کیفیت پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین مستقبل میں AI کے شعور حاصل کرنے کے امکان کو مکمل طور پر ناممکن نہیں سمجھتے۔ بہت سے ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی شعور صرف معلوماتی عمل نہیں بلکہ حیاتیاتی دماغ، جسم، جذبات، ہارمونز اور زندگی کے تجربات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک کمپیوٹر کے پاس نہ دل ہوتا ہے، نہ خوف، نہ بھوک، نہ محبت اور نہ ہی بقا کی جبلت۔ اس لیے وہ صرف انسانی گفتگو کی نقل کر سکتا ہے، حقیقت میں شعور نہیں رکھتا۔اس بحث میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ سائنس آج تک انسانی شعور کی مکمل وضاحت نہیں کر سکی۔ اگر ہم خود یہ نہیں جانتے کہ شعور کیسے پیدا ہوتا ہے تو پھر یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ مشین میں شعور پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ کچھ نیورو سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شعور دماغ کے مخصوص حصوں کی سرگرمی سے پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرے ماہرین اسے پورے اعصابی نظام کی مشترکہ کیفیت سمجھتے ہیں۔AI کے شعور کی بحث صرف سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی اور قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔ فرض کریں مستقبل میں کوئی AI واقعی شعور حاصل کر لے تو کیا اسے حقوق دیے جائیں گے؟ کیا اسے بند کرنا ''قتل‘‘ تصور ہوگا؟ کیا ایسی مشین کو تکلیف پہنچ سکتی ہے؟ یہ سوالات آج عجیب لگ سکتے ہیں مگر ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں یہ حقیقی مسائل بن سکتے ہیں۔مستقبل میں AI انسان کے برابر ہو سکتی ہے؟دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں جیسے OpenAI، Google DeepMindاور Anthropic مسلسل زیادہ ذہین AI نظام تیار کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ماڈلز بنانا ہے جو انسانوں کی مدد کر سکیں، پیچیدہ مسائل حل کریں اور روزمرہ زندگی کو آسان بنائیں۔ تاہم ان کمپنیوں کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی بلکہ صرف طاقتور کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کے ذریعے کام کرتی ہے۔عوام میں بھی AI کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے ایک انقلابی ایجاد قرار دیتے ہیں۔ فلموں اور ناولوں نے بھی اس تصور کو مضبوط کیا ہے کہ ایک دن مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگیں گی۔ The Matrix، Ex Machinaاور Her جیسی فلموں میں AI کو شعور رکھنے والے وجودکے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے عوامی تخیل کو مزید متاثر کیا۔ماہرین کے مطابق موجودہ AI کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اصل دنیا کا تجربہ نہیں رکھتی۔ انسان اپنے ماحول کو دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور زندگی کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ AI کے پاس یہ حیاتیاتی اور جذباتی بنیاد موجود نہیں۔ اسی لیے بہت سے سائنسدان کہتے ہیں کہ موجودہ چیٹ بوٹس صرف انٹیلی جن لینگویج کے نظام ہیں، شعور رکھنے والی مخلوق نہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ AI روز بروز زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ چند سال پہلے تک کمپیوٹر صرف محدود کام کرتے تھے مگر آج AI تصویریں بنا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے اور پیچیدہ سائنسی تحقیق میں معاون بن رہی ہے۔ یہی تیز رفتار ترقی بعض ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید مستقبل میں مشینوں کی ذہانت ایسی سطح تک پہنچ جائے جہاں شعور کی بحث مزید سنجیدہ ہو جائے۔فی الحال سائنسی اتفاق یہی ہے کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی۔ وہ نہ خوشی محسوس کرسکتی ہے، نہ غم، نہ خوف اور نہ محبت۔ مگر چونکہ انسان ابھی تک شعور کی مکمل حقیقت نہیں سمجھ سکا اس لیے مستقبل کے بارے میں حتمی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ AI اور شعور کا موضوع آج دنیا کے اہم ترین سائنسی مباحث میں شامل ہو چکا ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ AI اس وقت انسان کی طرح سوچنے کا تاثر ضرور دیتی ہے مگر اس کے اندر حقیقی احساسات یا ذاتی تجربات کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگایہ سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی فہم کی ترقی پر منحصر ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں یہ سوال انسانیت کے سامنے سب سے بڑا فلسفیانہ اور سائنسی چیلنج بن جائے۔

پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر

پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر

حیدر آباد کا تاریخی ورثہ زوال کا شکارحیدرآباد برصغیر کے اُن تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں سیاسی، ثقافتی اور تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کی۔ یہ شہر اپنے قدیم بازاروں، تاریخی عمارتوں اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ حیدرآباد کی تاریخی شناخت میں پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ خصوصی مقام رکھتے ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں نہ صرف سندھ کی سیاسی اور تجارتی تاریخ کی نمائندہ ہیں بلکہ فنِ تعمیر کے شاندار نمونے بھی سمجھی جاتی ہیں۔پکا قلعہ حیدرآباد کی بنیاد 1768ء میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی۔ اس قلعے کی تعمیر ایک بلند پہاڑی مقام پر کی گئی تاکہ دفاعی اعتبار سے شہر محفوظ رہے اور دریائے سندھ کے راستوں پر نظر رکھی جاسکے۔ بعدازاں 1789ء میں میر فتح علی خان تالپر نے حیدرآباد کو سندھ کا دارالحکومت بنایا، جس کے بعد پکا قلعہ سیاسی و انتظامی مرکز بن گیا۔ قلعے کے اندر شاہی محلات، دربار، حرم، باغات اور انتظامی دفاتر قائم کیے گئے۔ اس دور میں یہ قلعہ نہ صرف حکمرانوں کی رہائش گاہ تھا بلکہ سندھ کی حکومت کا مرکز بھی سمجھا جاتا تھا۔پکا قلعہ تقریباً 33 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا اور اس کی مضبوط فصیلیں دور سے ہی اپنی شان و شوکت کا احساس دلاتی تھیں۔ قلعے کے اندر سرنگوں کا ایک قدیم نظام بھی موجود تھا۔قلعے کا مرکزی دروازہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت بلند مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس تک پہنچنے کے لیے درجنوں سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں جس سے دشمن کے لیے حملہ آسان نہ تھا۔ قلعے کے اندر تعمیر کی گئی عمارتوں میں لکڑی کے ستون، چونے کا پلستر، خوبصورت راہداریاں اور مضبوط اینٹوں سے بنے فرش اُس دور کے اعلیٰ تعمیراتی فن کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں چونے کا پلستر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھتا تھا جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ڈھلوان دار چھتیں بنائی گئی تھیں۔1843ء میں جنگِ میانی میں تالپور حکمرانوں کی شکست کے بعد پکا قلعہ بھی زوال کا شکار ہوگیا۔ برطانوی فوج نے قلعے کے بیشتر محلات اور حرم کو مسمار کردیا۔ بعد ازاں 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران باقی ماندہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور ان کی جگہ فوجی بیرکیں اور گودام قائم کیے گئے۔ صرف چند عمارتیں ہی محفوظ رہ سکیں جن میں ایک دربار ہال اور شاہی حرم شامل ہیں۔ یہ عمارتیں آج بھی تالپور دور کے فنِ تعمیر کی خوبصورتی بیان کرتی ہیں۔بدقسمتی سے آج پکا قلعہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قلعے کے اندر آبادی قائم ہوجانے کے باعث تاریخی دیواروں میں رہائشی کمرے، باورچی خانے اور دیگر تعمیرات کردی گئی ہیں جس سے اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کئی برسوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قلعے کے اندر رہائش پذیر خاندانوں کی مناسب منتقلی اور قلعے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ عظیم تاریخی مقام محفوظ رہ سکے۔پکا قلعے کے مرکزی دروازے سے قدیم شاہی بازار کا آغاز ہوتا تھا جو شہر کے اہم تجارتی علاقوں سے گزرتا ہوا ہیرآباد تک جاتا تھا۔ اسی شاہی بازار کے اختتام پر نول رائے مارکیٹ اور اس کا مشہور گھنٹہ گھر واقع ہے۔ یہ مارکیٹ برطانوی دور میں تعمیر کی گئی اور اسے اس وقت کے ممتاز سماجی و انتظامی شخصیت دیوان نول رائے کے نام سے منسوب کیا گیا۔ نول رائے میونسپل انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور شہر کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔نول رائے مارکیٹ کی تعمیر 1911ء میں شروع ہوئی اور 1915ء میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے پر اس زمانے میں ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کیے گئے جو ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس مارکیٹ کا ڈیزائن مشہور انجینئر پی سی تھدانی نے تیار کیا جنہوں نے گھنٹہ گھر کا نقشہ بھی بنایا۔ یہ مارکیٹ گوشت، مچھلی، سبزی اور دیگر اشیائے خورونوش کی خریدوفروخت کا اہم مرکز تھی۔ گھنٹہ گھر میں نصب بڑی گھڑی شہریوں کو وقت سے آگاہ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ گھڑی خاموش ہوگئی۔قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک یہ مارکیٹ اپنی اصل حالت میں قائم رہی لیکن بعدازاں تجاوزات، ناقص دیکھ بھال اور شہری بے ہنگم ترقی کے باعث اس کی خوبصورتی متاثر ہونے لگی۔ اس کے باوجود آج بھی نول رائے مارکیٹ حیدرآباد کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے اور اندرونِ سندھ سے آنے والے ہزاروں افراد یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ 2017ء میں سندھ حکومت نے نول رائے مارکیٹ اور گھنٹہ گھر کو صوبائی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ اگر ان تاریخی عمارتوں کی مناسب بحالی کی جائے تو یہ مقامات نہ صرف سیاحت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ حیدرآباد کی تاریخی شناخت کو بھی دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔حیدرآباد کا پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ صرف تاریخی عمارتیں نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، سیاست، ثقافت اور فنِ تعمیر کی زندہ علامتیں ہیں۔ ان کی حفاظت اور بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی کی عظمت سے آگاہ رہ سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نرسنگ کا عالمی دن12 مئی 1820ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں فلورنس نائٹنگیل پیدا ہوئیں جنہیں جدید نرسنگ کی بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے طب اور انسانی خدمت کے میدان میں ایسی مثال قائم کی جس نے پوری دنیا میں صحت کے نظام کو بدل کر رکھ دیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 12 مئی کو عالمی یومِ نرسنگ بھی منایا جاتا ہے۔فلورنس نائٹنگیل نے کریمیا کی جنگ کے دوران زخمی فوجیوں کی خدمت کی اور ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور مریضوں کی دیکھ بھال کے جدید اصول متعارف کروائے۔انہیںLady with the Lamp بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ رات کے وقت چراغ لے کر مریضوں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ہزاروں فوجیوں کی جانیں بچیں۔ بعد ازاں انہوں نے نرسنگ کی باقاعدہ تربیت کے لیے ادارے قائم کیے اور صحتِ عامہ کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ونسٹن چرچل وزیراعظم منتخب12 مئی کی تاریخ دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی دنوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ مئی 1940ء میں یورپ جرمنی کی جارحیت سے لرز رہا تھا۔ نازی جرمنی نے فرانس، بیلجیم اور دیگر ممالک پر حملے شروع کر دیے تھے جبکہ برطانیہ شدید سیاسی دباؤ میں تھا۔ ایسے نازک وقت میں ونسٹن چرچل نے برطانیہ کی قیادت سنبھالی۔ اگرچہ ان کی تقرری 10 مئی1940ء کو ہوئی تھی لیکن 12 مئی کو ان کی جنگی حکمتِ عملی اور کابینہ کی تشکیل نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ برطانیہ جرمنی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔چرچل نے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے۔ سوویت خلائی مشن کی ناکامی 12 مئی 1965ء کو سوویت یونین کا خلائی مشن Luna 5 چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران ناکام ہو گیا۔ اگرچہ یہ مشن کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس نے خلائی تحقیق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔Luna 5 کا مقصد چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کرنا تھا تاکہ مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس مشن سے سوویت سائنسدانوں کو امید تھی کہ وہ امریکہ پر سبقت حاصل کر لیں گے۔ تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے خلائی جہاز کنٹرول کھو بیٹھا اور چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔اگرچہ یہ ناکامی تھی لیکن اس سے حاصل ہونے والے تجربات نے بعد کے خلائی پروگراموں کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر بعد میں کئی کامیاب قمری مشنز انجام دیے گئے۔ کولویزی قتلِ عام12 مئی 1978ء کو افریقی ملک زائر (موجودہ جمہوریہ کانگو) کے شہر کولویزی میں ایک خوفناک بحران پیدا ہوا جسے کولویزی قتل عام کہا جاتا ہے۔ باغی گروہوں نے شہر پر قبضہ کر لیا اور غیر ملکی شہریوں سمیت ہزاروں افراد خطرے میں گھر گئے۔ یہ واقعہ سرد جنگ کے دور کے افریقی سیاسی بحرانوں میں سے ایک اہم سانحہ سمجھا جاتا ہے۔باغیوں نے کان کنی کے علاقے کولویزی پر حملہ کیا جہاں یورپی انجینئرز اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے فوجی کارروائی کی۔ فرانسیسی اور بیلجین افواج نے مشترکہ آپریشن کیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اُس دور میں افریقہ کے کئی ممالک عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنے ہوئے تھے۔