نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسدعمر اجلاس کی صدارت کریں گے
  • بریکنگ :- کابینہ کی توانائی کمیٹی کااجلاس کل طلب
  • بریکنگ :- اجلاس میں 6 نکاتی ایجنڈےپرغور کیاجائےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- کمیٹی پٹرولیم مصنوعات کوذخیرہ کرنےکی رپورٹ کاجائزہ لےگی،ذرائع
  • بریکنگ :- چھوٹےپن بجلی منصوبوں کےسیکیورٹی معاہدوں کاجائزہ لیاجائےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- ستمبرمیں گردشی قرضوں سےمتعلق رپورٹ پیش کی جائےگی، ذرائع
  • بریکنگ :- اوگراآرڈیننس میں ترامیم، سزائیں اورجرمانے بڑھانے کا جائزہ لیاجائےگا، ذرائع
Coronavirus Updates

نذیرحسین بھوجپوری فلموں کاناقابل فراموش فنکار

نذیرحسین بھوجپوری فلموں کاناقابل فراموش فنکار

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفرؔ


ہندوستان کے سابق صدر راجندر پرشاد سے ایک تقریب میں ہندی فلموں کے بے مثل کریکٹر ایکٹر نے ملاقات کی۔ یہ اداکار یو پی کے ضلع غازی پور سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں جب یہ علم ہوا کہ راجندر پرشاد کا تعلق بھی غازی پور سے ہے تو وہ ان سے ملنے کیلئے بے تاب ہوگئے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے سابق بھارتی صدر سے بھوجپوری سینما کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔ سابق بھارتی صدر نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں تلقین کی کہ وہ بھوجپوری زبان میں فلمیں بنائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کی بھی پیشکش کی۔ بعد میں ہندی فلموں کے اس کریکٹر ایکٹر نے بھوجپوری سینما کی نشوونما میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ وہ ہندی فلموں کے ساتھ ساتھ ایکٹر، ڈائریکٹر اور سکرین رائٹر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ اس ناقابل فراموش فنکار کا نام تھا، نذیر حسین۔لاجواب شخصیت اور متاثرکن آواز کے مالک نذیر حسین 15 مئی 1922ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریلوے گارڈ تھے۔ نذیر حسین کی پرورش لکھنو میں ہوئی۔ انہوں نے تھوڑے عرصے کیلئے برطانوی فوج میں کام کیا۔ پھر وہ سبھاش چندر بوس سے متاثر ہوئے اور ان کی جماعت انڈین نیشنل آرمی (آئی این اے) میں شامل ہوگئے۔ بالی وڈ میں داخلے کی ایک بڑی وجہ ان کی آئی این اے سے وابستگی تھی۔ نذیر حسین نے ہندوستان کے بے بدل ہدایتکار بمل رائے کے ساتھ مل کر فلم ’’پہلا آدمی‘‘ بنائی۔ یہ فلم آئی این اے کے تجربے کی بنیاد پر بنائی گئی تھی۔ برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد نذیر حسین کو حریت پسند قرار دیا گیا۔ انہیںزندگی بھر کیلئے مفت ریلوے پاس دے دیا گیا۔ ان دنوں بمل رائے اور سبھاش چند بوس آئی این اے پر فلم بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ آئی این اے ارکان کی تلاش میں تھے تاکہ وہ ان کی معاونت کریں۔ نذیر حسین کی شخصیت اور خوبصورت آواز نے بمل رائے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تاہم نذیر حسین فلموں میںکام کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ کیونکہ ان کا پس منظر فلمی نہیں تھا۔ ان کے دوستوں نے انہیں فلموں میں کام کرنے کیلئے قائل کیا۔’’پہلا آدمی‘‘ 1950ء میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد وہ بمل رائے کی فلموں کا لازمی حصہ بن گئے۔ کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے شائقین فلم نے ان کی بہت پذیرائی کی۔ انہوں نے ان گنت سپرہٹ فلموں میں کام کیا۔ وہ جذباتی مناظر کی وجہ سے بہت مشہور تھے اور انہیں ’’آنسوئوں کا کنستر‘‘ کہا جاتا تھا۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ انہوں نے بھوجپوری سینما کی نشوونما میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ پہلی بھوجپوری فلم ’’گنگا میا تو ہے پیاری چادہائی بو‘‘ کی تکمیل میں نذیر حسین نے جو کردار ادا کیا اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ ان کی بھوجپوری فلم ’’بالم پردیسیا‘‘ بھوجپوری فلمی صنعت کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ نذیر حسین کی بھوجپوری زبان میں فلمیں سماجی مسائل کے گرد گھومتی تھیں۔ ان کی فلموں میں جہیز کا مسئلہ اور بے زمین کسانوں کی مشکلات اہم ترین موضوعات تھے۔ جوان لڑکی کے مجبور باپ کے کردار میں ان کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی فلموں میں ظالم زمینداروں اور سرمایہ داروں کی مکاریوں کو بے نقاب کیا۔ المیہ کردار نگاری میں ان کا کوئی جواب نہ تھا۔ان کی مشہور ہندی فلموں میں ’’دو بیگھہ زمین، دیوداس، پاری نیتا، بمبئی کا بابو، گنگا جمنا، لیڈر، پرکھ، کشمیر کی کلی، انوراگ، میرے جیون ساتھی، رام اور شیام، جیول تھیف، امر اکبر انتھونی، پے انگ گیسٹ، کٹی پتنگ‘‘ اور کئی دیگر فلمیں شامل ہیں۔ نذیر حسین کو ہمیشہ اس بات کا قلق رہا کہ بھوجپوری سینما کی ترقی اور نشوونما دیکھنے سے پہلے ہی سابق بھارتی صدر راجندر پرشاد چل بسے۔یہاں اس حقیقت کا تذکرہ ضروری ہے کہ نذیر حسین نے سب سے زیادہ دیوآنند کے ساتھ کام کیا۔ ایک زمانے میں نذیر حسین، دیو آنند، مکرجی اور ایس ڈی برمن کا گروپ بہت مشہور تھا۔ اس ٹیم نے بڑا خوبصورت کام کیا۔ ان کی فلمیں آج کے شائقین بھی بہت پسند کرتے ہیں۔بمل رائے کی فلم ’’دو بیگھہ زمین‘‘ میں بلراج ساہنی نے لافانی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن ان کے علاوہ نروپارائے، رتن کمار اور نذیر حسین نے بھی اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کی دھاک جمادی تھی۔ رتن کمار ہندوستان کے مشہور ترین چائلڈ آرٹسٹ تھے اور ان کی فطری اداکاری نے ایک عالم کو متاثر کیا تھا۔ بعد میں رتن کمار پاکستان آ گئے تھے اور یہاں انہوں نے کچھ فلموں میں کام کیا۔ ان کی سب سے اہم فلم ’’ناگن‘‘ تھی جس میں انہوں نے نیلو کے ساتھ اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ نذیر حسین نے ’’دو بیگھہ زمین‘‘ میں اس رکشہ کھینچنے والے کا کردار ادا کیا تھا جو بلراج ساہنی کو یہ کام سکھاتا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر فلموں میں مثبت کردار ادا کیے۔ مرکزی کرداروں کی موجودگی میں کریکٹرایکٹر کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوانا کوئی آسان بات نہ تھی۔ یہ نذیر حسین تھے جنہوں نے اپنی زبردست صلاحیتوں کے بل بوتے پر شائقین فلم کے دلوں میں گھر کرلیا۔ بڑے بڑے ناقدین فلم ان کی تعریفوں کے پل باندھتے نظر آتے تھے۔ وہ جس فلم میں بھی ہوتے تھے اپنا نقش چھوڑ جاتے تھے۔نذیر حسین نے بڑی بھرپور زندگی گزاری۔ وہ 1985ء میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ ایسے لوگ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
انٹرنیٹ کا آغاز کیسے ہوا؟،موجد کون تھا ؟آئی ایم پی مشین نے دنیا کو کیسے کنٹرول میں لیا

انٹرنیٹ کا آغاز کیسے ہوا؟،موجد کون تھا ؟آئی ایم پی مشین نے دنیا کو کیسے کنٹرول میں لیا

انٹر نیٹ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ دنیا کی تمام ٹیکنالوجی اور ارتقاء انٹرنیٹ کی مرہون منت ہے تو غلط نہیں ہو گا۔اربوں ڈالر کی موبائل فون انڈسٹری ہو یا ورچوئل ورلڈسب انٹر نیٹ کے شاہکار ہیں۔انٹرنیٹ کی ایجاد کو 50سال سے زائدکا عرصہ گزر چکاہے۔1969ء کے اختتام میں، چاندپرانسانی قدم پڑنے کے کچھ ہفتوں بعد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسرلیونارڈ کلائن روک کے دفتر میں ایک سرمئی رنگ کادھاتی باکس موصول ہوا۔اس باکس کا سائز ایک ریفریجریٹر جتنا تھا۔یہ بات عام لوگوں کے لئے حیران کن تھی لیکن کلائن روک اس سے بہت خوش تھااور پرجوش نظر آرہا تھا۔60کی دہائی میںگہرے خاکی رنگ میں لی گئی اس کی تصویر اس کی خوشی کی بخوبی ترجمانی کررہی ہے۔وہ تصویر میں کھڑا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی باپ اپنی باصلاحیت اور قابل فخر اولاد کے ساتھ کھڑا ہو۔کلائن روک نے اپنی خوشی کی وجہ اپنے قریبی احباب کے علاوہ کسی کو سمجھانے کی کوشش کی ہوتی تو شائدوہ سمجھ نہ پاتے۔کچھ لوگ جنہیں اس باکس کی موجودگی کا علم تھا وہ بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ آخر یہ ہے کیا اور اس کا نام کیا ہے۔ یہ'' آئی ایم پی‘‘ تھاجسے انٹرفیس میسج پروسیسر بھی کہا جاتا ہے۔کچھ دیر قبل بوسٹن کی ایک کمپنی نے اسے بنانے کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔بوسٹن کے سنیٹر ٹیڈ کینیڈی نے ایک ٹیلی گرام کے ذریعے اس کی افادیت اور ماحول دوست ہونے کا اظہار کیا تھا۔کلائن کے دفتر کے باہر موجود مشین صرف دنیا میں رہنے والے مختلف لوگوںکے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم کام کرسکتی تھی۔دنیا میں انٹرنیٹ پہلی مرتبہ کب استعمال ہوا او ر اس کا باقاعدہ آغاز کس وقت ہوا اس کے متعلق یقینی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں کہ بہت سے لوگ اس کی تخلیق میں شامل تھے اور کئی لوگوں نے اس کی تخلیق میںکلیدی کردار ادا کیا تھا۔اس لئے بہت سے لوگ اس کاا عزاز اپنے نام کرنا چاہتے تھے۔ 29اکتوبر1969ء میں انٹرنیٹ کا آغاز ہوا، یہ کلائن روک کا مضبوط وعویٰ ہے کیونکہ اسی تاریخ کو پہلی مرتبہ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے پیغام ایک سے دوسرے سرے پر بھیجا گیا تھا۔29اکتوبر1969ء رات 10بجے جب کلائن، اس کے ساتھی پروفیسر اور طلباء ہجوم کی صورت میں اس کے گرد جمع تھے تو کلائن روک نے کمپیوٹر کو آئی ایم پی کے ساتھ منسلک کیاجس نے دوسرے آئی ایم پی سے رابطہ کیا جوسیکڑوں میل دور ایک کمپیوٹر کے ساتھ منسلک تھا۔چارلی کلین نامی ایک طالب علم نے اس پر پہلا میسج ٹائپ کیا اور اس کے الفاظ وہی تھے جو تقریباً135برس قبل سیموئیل مورس نے پہلا ٹیلی گراف پیغام بھیجتے ہوئے استعمال کئے تھے۔کلائن روک کو جو ذمہ داری دی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اسے لاس اینجلس میں بیٹھ کر سٹینفرڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں موجود مشین میں لاگ ان کرنا ہے لیکن ظاہر طور پر اس کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے تھے۔کلائن نے جو بھی کیا وہ ایک تاریخ ہے اور اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ایسا کہنا حماقت ہو گی کیونکہ کلائن روک کے پہلا پیغام بھیجنے کے 12سال بعد اس سسٹم پر صرف213کمپیوٹر موجود تھے۔ 14سال بعد اسی سسٹم پر ایک کروڑ 60لاکھ لوگ آن لائن تھے اورای میل دنیا کے لئے نئے دروازے کھول رہی تھی۔حیران کن بات یہ ہے کہ1993ء تک صارفین کے پاس کوئی قابل استعمال ویب براؤزر موجود نہیں تھا۔1995ء میں ہمارے پاس ایمزون تھا،1998ء میں گوگل اور2001ء میں وکی پیڈیاموجود تھااور ُاس وقت تک 513 ملین لوگ آن لائن ہو چکے تھے۔ اس رفتار سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ انٹر نیٹ نے کتنی تیزی سے کامیابی کی منازل طے کیں اور اب انٹرنیٹ اپنی اگلی جنریشن میں داخل ہونے کو تیار ہے، جسے میٹاورس کہا جاتا ہے۔تاحال میٹا ورس ابھی ایک تصور سے زیادہ کچھ نہیں لیکن اس میٹا ورس کی ورچوئل ورلڈ میں آپ ہیڈ سیٹ کا استعمال کرتے ہوئے دیجیٹل دنیا میں قدم رکھ پائیں گے اور اپنے روز مرہ کے کام سر انجام دے دسکیں گے ۔انٹر نیٹ کے ارتقاء کا عمل اتنا برق رفتا رتھا کہ یہ بہت سے نشیب و فراز جو اس دنیا نے دیکھے ان کا ''گواہ‘‘ بن گیا۔ آج انٹرنیت اپنی ایک الگ دنیا رکھتا ہے۔کلائن نے پہلا پیغام بھیجتے وقت یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ 50برس بعد یہ دنیا انٹر نیٹ کے ذریعے، فیس بک، ٹوئٹر ،وٹس ایپ اور انسٹا گرام جیسی ورچوئل ورلڈسے متعارف ہو گی ،جس کا استعمال دنیا کی سپر پاورز کے وزرائے اعلیٰ اور صدور بھی کیا کریں گے۔انٹر نیٹ نے دنیا کی سیاست کو بھی یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے یہی انٹرنیٹ کئی انقلاب اور بغاوتوں کا بھی گواہ ہے اور کسی حد تک وجہ بھی۔جس انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے کلائن روک سٹینفرڈ انسٹیٹیوٹ میں موجود کمپیوٹر پر لاگ ان کرنے کے لئے پریشان تھا وہی انٹرنیٹ ترقی کی منازل طے کرتا ہوا آج اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ پوری دنیا صرف135سے150گرام کے موبائل میں قید کر کے آپ کے ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے۔ آج دنیا کے 4 ارب66کروڑ لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔(تنزیل الرحمن ایک نوجوان لکھاری ہیں اور تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں)

موٹاپے کے اسباب ، نتائج اور ان کا حل ۔۔۔

موٹاپے کے اسباب ، نتائج اور ان کا حل ۔۔۔

آج اپنے ارد گرد بیشتر افرادکو دیکھیں ہر کوئی اسی کوشش میں ہو گا کہ کسی نہ کسی طرح خود کو سمارٹ اور سلم رکھا جائے۔ لیکن ہمارے ہاں آبادی کا 10سے 15 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ دنیا میں 70فیصد افراد کو موٹاپے کا سامنا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ موٹاپے کا تعلق زیادہ کھانے سے ہے۔ عمر کے لحاظ سے وزن زیادہ بڑھ جانا موٹاپا شمار کیا جاتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ ہمارے ہاں لوگ موٹاپے کو سیریس نہیں لیتے لیکن اس کے باعث مستقبل میں موٹاپے کے شکار افراد کو کئی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انگلینڈ کے شعبہ صحت کے ماہرین کے مطابق زیادہ وزن یا موٹاپا انسان کو ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں بھیجنے تک کا سبب بن سکتا ہے۔ موٹاپے کی اصل وجہ کیلوریز میں ضرورت سے زیادہ اضافہ ہے۔موٹاپے کے اسبابجنک فوڈ کا استعمال وزن کو بڑھاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ٹرینڈ بن چکا ہے کہ لوگ گھر کے کھانے کے بجائے فاسٹ فوڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اکثر رات کے اوقات میں لوگ پیزا، برگر، شوارما وغیرہ کھانے میںاستعمال کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ میں موجوداجزاء کیلوریز میں اضافہ کرتے ہیں جس سے جسم میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے جوموٹاپے کا سبب بنتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ریڈ میٹ (سرخ گوشت)کا زیادہ استعمال بھی وزن میں اضافے کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ ایک حد سے زیادہ سرخ گوشت کا استعمال جسم میں چربی کی مقدار کو بڑھاتا ہے جسم میں چربی کی زیادتی کسی بھی صورت صحت کے لیے موزوں نہیں۔فرائیڈ آلو کے چپس، سموسے پکوڑے اور دیگر گھی میں تلی ہوئی اشیا بھی وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔بعض انسانوں کے جینز بھی ایسے ہوتے ہیں جو جسم کو فربا کرتے ہیں اور وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی نہ کرنا اور خاص طور مستقل بیٹھے رہنا یا فوراً لیٹ جانے کے باعث بھی وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ذہنی دباؤ بھی موٹاپے کا سبب ہے، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ذہنی دباؤ وزن بڑھا دے۔ ماہرین کے مطابق جب انسان ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہا ہوتا ہے یا کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو نیند میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ مکمل نیند نہ لینے سے وقت بے وقت بھوک لگتی ہے اور پھر سکون تب ہی ملتا ہے جب کھانا کھا لیا جائے۔ جب وقت بے وقت کھانا کھایا جائے تو انسانی جسم میں شوگر لیول بڑھ جاتا ہے جو کہ وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ ایک برطانوی ریسرچ کے مطابق نیند پوری نہ ہونے پر ہم ایک دن میں ضرورت سے زیادہ 385 کیلوریز اپنے جسم میں ڈالتے ہیں۔ورزش یا جسمانی آزمائشوں میں حصہ نہ لینے سے وزن بڑھنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ماہرین صحت نے تجربات کی روشنی میں بتایا ہے کہ صبح ناشتہ نہ کرنا بھی وزن بڑھنے کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح رات کا کھانا نہ کھانے سے بھی وزن بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ رات کا کھانا نہ کھانے سے ذہنی خلفشار پیدا ہوتا ہے اور پھر نیند ڈسٹرب ہوتی ہے اور نیند پوری نہ ہونے سے وزن بڑھنے کے اسباب اوپر بیان کیے گئے ہیں۔وزن بڑھنے سے پیداہونیوالے مسائلجب ایک شخص کا وزن اس کی عمر اور جسم کے تناسب سے زیادہ تجاوز کر جائے تو اسے کئی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں کولیسٹرول میں اضافہ ، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، دل کے امراض، سانس کے مسائل، نیند کی خرابی، ذہنی عارضے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سستی کا طاری رہنا بھی مشاہدے میں آیا ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی ریسرچ کے مطابق زیادہ وزن کے حامل افراد میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے جس کے باعث کورونا وائرس کا جلد شکار ہو سکتے ہیں۔موٹاپے سے کیسے بچا جائے؟سب سے پہلے تو ضروری یہ ہے کہ ورزش کو معمول بنایا جائے۔ صبح کے اوقات میں ورزش کے بے شمار فوائد ہیں۔ ایک تو جسم چست و توانا ہو گا دوسرا یہ کہ چربی پگھلے گی، جب جسم میں چربی کی مقدار کم ہو گی تو وزن میں کمی ہو گی اور موٹاپے سے چھٹکارا ملے گا۔ تلی اور مرغن غذاؤں سے اجتناب کیا جائے۔ کھانا کھانے کے بعد چہل قدمی کی جائے ۔گاجر کا جوس: گاجر کا جوس فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ چینی کے بغیر پینے سے وزن میں حیرت انگیز حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔مالٹے کا جوس: مالٹے کے جوس کو منفی کیلوریز جوس قرار دیا جاتا ہے۔ مالٹے کا جوس جسم میں موجود کیلوریز کو جلانے میں مدد دیتا ہے ۔تربوز کا جوس: تربوز کا جوس جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے ،جوس میں موجود امائینوایسڈز کیلوریز جلانے میں مددگارہے ۔

 جیجو آئی لینڈ، جزیرہ نما کوریا کا جنت نظیر علاقہ

جیجو آئی لینڈ، جزیرہ نما کوریا کا جنت نظیر علاقہ

جزیرہ نما کوریا کا ایک حسین علاقہ جیجو آئی لینڈ اس خط ٔ ارض کے سینے پر دمکتا ہوا ایک ایساہیرا ہے جسے بلاشبہ اس کی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس جزیرے کا نیم بارانی موسم، جھیلیں اور چشمے ،انتہائی لذیذ اور روایتی کھانے اور اس کی ثقافت اسے کوریا کے دیگر علاقوں سے ممتاز کرتی ہے،اس جزیرے پر موجود آتش فشاں پہاڑ(Hall Asan)بھی اس خسین خطے کی ایک اہم یادگار ہے۔موسم بہار میں اس علاقے کی سیر سیاحوں پر ایک سحر طاری کر دیتی ہے۔اس وقت یہ وادی رنگا رنگ پھولوں سے ڈھک جاتی ہے۔جزیزہ جیجوصرف قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال نہیں ہے بلکی یہاں فائیو سٹار ہوٹل بھی ہیں۔ اس جزیرے پر صرف عالمی معیار کے ریسٹورنٹ ہی نہیں بلکی اس کے ساحل بھی اتنے خوبصورت ہیں کہ یہاں ہر لخظہ سمندری لہریں ٹکراتی رہتی ہیں۔جیجو کے قریب یوڈوآئی لینڈ ہے۔''UDO‘‘ کے معنی مقامی زبان میں '' گائے‘‘ کے ہیں۔یہاں بڑے پیمانے پر فش فارمنگ کی جاتی ہے۔اس جزیرے پر ایک بلند و بالا پہاڑ بھی ہے ۔اس پہاڑ پر سے اس کے پڑوسی جزیرے جیجو کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔جیجو کی مشہور و معروف آبشار کا نظارہ بھی سیاحوں پر جادو طاری کر دیتا ہے۔ اس آبشار کی تین دھاریں الگ الگ سمندر میں گرتی ہیں اور یہ نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔اس جزیرے کے حوالے سے کوریا میں کئی دیو مالائی کہانیاں بھی مشہور ہیں۔یہاں پر موجود 5کلومیٹربلند چٹان بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اقتباسات،محبت

اقتباسات،محبت

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی عمل سے وابستہ نہیں ہوتا ۔ اچھائی، برائی ، کمی بیشی ، اونچ نیچ محبت کے سامنے یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ۔محبت کرنے والا محبوب کی خوبیاں خرابیاں نہیں دیکھ پاتابلکہ محبوب کی خرابیوں کو اپنی کج ادائیوں کی طرح قبول کر لیتا ہے ۔ڈیروں پر اسی محبت کاعکس نظر آتا ہے اور غالباً اسی محبت کی تلاش خلق کو بابوں کے پاس لے جاتی رہی ۔مشکل یہ ہے کہ کچھ لوگ محبت کے اہل نہیں ہوتے ۔انہیں اپنی ذہانت پر اس قدر مان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں میں کیڑے نکال کر ، کسی اور کا قد چھوٹا کر کے ، کسی دوسری کی خوبیوں میں خرابی کا پہلو نکال کر اپنی عظمت کی کلا جگاتے ہیں ۔میں یہ نہیں کہہ رہی کہ خان صاحب فرشتہ تھے ۔ان میں انسان ہونے کے ناطے خوبی اور خرابی کے دریا ساتھ ساتھ بہتے ہونگے ۔ان میں بھی حب جاہ کی طلب ہوگی ۔لیکن ان کے چاہنے والوں کی توجہ کبھی ادھر نہیں گئی ۔وہ کبھی ان کی بشریت کی طرف دھیان نہ دے پائے ۔ اورانہیں ایک بہت بڑا آدمی ، برگزیدہ صوفی اور انمول ادیب سمجھتے رہے ۔لیکن سوسائٹی میں کچھ نکتہ چیں قسم کے لوگ رہتے ہیں جو محبتی طریقہ نہیں اپنا سکتے ۔اور پکڑ پکڑ کر سینت سینت کے خان صاحب کی غلطیاں نکالنے کے درپے رہتے ہیں ۔دونوں قسم کے لوگوں میں صرف رویے کا فرق ہے ۔مہربان لوگوں کا رویہ ماں کی طرح ستر پوشی کا ہے اور عیب ڈھونڈھنے والے اپنے سچ پر اپنی ذہانت پر اعتماد کرتے ہیں ۔(از بانو قدسیہ راہ رواں)

حکائیت ِ سعدیؒ، کنجوسی کا انجام

حکائیت ِ سعدیؒ، کنجوسی کا انجام

ایک شخص کافی مالدار تھا لیکن کنجوس مکھی چوس تھا ایسا کہ نہ اپنے اوپر خرچ کرتا تھا نہ اپنے بال بچوں پر ۔ گو یا مال جمع کرنے کی ہوس نے اسے اپنا قیدی بنا لیا تھا اور روپیہ پیسہ اس کی قید میںپھنس کر رہ گیا تھا۔جس کی رہائی کوئی صورت نہ تھی۔اس شخص کا بیٹا ہمیشہ اس کی فکر میں رہتا تھا کہ کسی طرح اسے یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا باپ دولت کس جگہ جمع کرتا ہے۔ بالآخر ایک دن وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو گیا۔اس نے کنجوس کے خزانے کا سراغ لگا لیا اور جب وہ باہر گیا ہوا تھا تو سارا سونا اور چاندی نکال کر ان کی جگہ پتھر رکھ دئیے۔باپ جس درجے کا کنجوس تھا ،بیٹا اس درجے کا بدعقل اور عیاش تھا۔مال ہاتھ آیا تو اس نے راگ رنگ کی محفلیں آراستہ کیں اور یہ مفت کا مال بہت بے رحمی سے خرچ کرنے لگا۔کنجوس پر یہ راز کھلا تو اس نے اپنا سر پیٹ لیا،لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔اب تو صورت حال یہ تھی کہ باپ فکر اور غم کی وجہ سے ساری رات جاگتا رہتا تھا اور بیٹارقص و سرور کی محفل میں مدہوش رہتا تھا۔مال ضائع ہونے سے پہلے اگر وہ کنجوس یہ بات سمجھ لیتاتواسے یقینا فائدہ پہنچ سکتا تھا کہ مال تو اس لئے ہوتا ہے کہ انسان اپنے بال بچوں کی جائز ضرورتوں اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے۔ کنجوس کی مثال خزانے کے سانپ جیسی ہے کہ نہ وہ اس سے خود کسی طرح کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ دوسروں کو فائدہ اٹھانے دیتاہے۔وہ کوڑی کوڑی جوڑتا ہے اور بھرا خزانہ دوسروں کے لئے چھوڑ جاتا ہے۔شیخ سعدی شیرازیؒ نے اس حکایت میں بخیل کی مذمت کی ہے اور ایسے لوگوں کو ان کے اس انجام کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے وہ لازمی طور پر دوچار ہوتے ہیں۔ایک دن موت کا فرشتہ اچانک نمودار ہوتا ہے اور انہیں ان کے مال و متاع سے جدا کر کے قبر کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔

نقطہ نظر کیا ہے؟انسان کی اپنے بارے میں رائے آئینے میں عکس کی طرح ہوتی ہے

نقطہ نظر کیا ہے؟انسان کی اپنے بارے میں رائے آئینے میں عکس کی طرح ہوتی ہے

ہر شخص کا کسی مسئلے پر ذاتی نقطہ نظر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ کے اس ذاتی نقطہ نظر سے تمام لوگ اتفاق کریں۔کچھ آپ کے ذاتی نقطہ نظر سے اتفاق کریں گے جبکہ کچھ ایسے بھی ہوں گے جنہیں آپ کے نقطہ سے اختلاف ہوگا۔ یہ نقطہ نظر ایسے ہی قائم نہیں ہو جاتا۔ اس کے لئے پہلے آپ کی بصارت کام کرتی ہے۔ چیزوں کو پرکھنے کے لئے آپ کی دماغی قوت بھی آپ کا ساتھ دیتی ہے پھر کہیں جا کر آپ کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ جب آپ خوب غور و غوض کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں تو آپ کے لئے اس سے پیچھے ہٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ وہ ایک ایسا نتیجہ ہوتا ہے جس سے آپ فرار حاصل نہیں کر سکتے۔ اسے انگریزی میں Inescapable Conclusion کہتے ہیں۔نقطہ نظر بنانے کے لئے سب سے پہلے آپ کو یہ چیک کرنا چاہئے کہ آپ کا موڈ کیا ہے؟ کیا آپ اپنے موڈ کو درست طریقے سے سمجھ سکتے ہیں؟ آپ کے احساسات کیا ہیں؟ آپ اپنی ذہانت کو صحیح طریقے سے بیان کر سکتے ہیں یا نہیں؟کیا آ پ کا دماغ مستعد ہے؟ آپ جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کی صلاحیت انسانوں میں موجود ہے۔ جانوروں میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔ ہم اسے خود آگاہی کہتے ہیں یہ وہ صلاحیت ہے جس کی بنا پرآپ کے سوچنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کو دنیا کی ہر چیز پر فوقیت حاصل ہے اور یہی وہ سبب ہے جس کے بارے میں مشہور مفکر ہنری ڈیوڈ کہتا ہے ''میں اس حوصلہ افزا حقیقت سے زیادہ نہیں جانتا کہ انسانی قابلیت اور صلاحیت ہر شک و شبے سے بالاتر ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جس کی بدولت ہم دوسروں کے تجربوں سے سیکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے تجربوں سے بھی سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور یہی صلاحیت ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ آپ کوئی عادت اپنا بھی سکتے ہیں اور پھر اسے ترک بھی کر سکتے ہیں اور یہی وہ قابلیت ہے جو آپ کی زندگی کو شعوری کوشش سے بہت اوپر لے جا سکتی ہے‘‘۔اگر ہمارے نقطہ نظر کی تشکیل سماجی آئینے(Social Mirror) کی مر ہون منت ہے تویہ نقطہ نظر کئی حوالوں سے ناقص ہو سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نقطہ نظر کی تشکیل میں لوگوں کی رائے اور نظریات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یعنی آپ کی اپنے بارے میں رائے یا خیال آئینے میں عکس کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے مطابق آپ کے ذہن میں جو سوالات اُبھر سکتے ہیں وہ کچھ اس طرح کے ہوں گے۔1۔آپ کبھی وقت پر اپنا کام نہیں کرتے۔2۔آپ کبھی کبھی اپنی چیزوں کوترتیب سے نہیں رکھتے۔3۔آپ کے لئے ایک فنکار ہونا بہت ضروری ہے۔4۔آپ گھوڑوں کی طرح کھاتے ہیں۔5۔میں یہ یقین نہیں کر سکتا کہ آپ جیت گئے۔6۔یہ بہت سادہ سی بات ہے آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی؟یہ نقطہ نظر کسی تناسب کے بغیر ہیں اور منقطع ہیں۔ اس بات کو فراموش مت کیجئے کہ آپ کے رویے اور مزاج میں جینیاتی جبریت (Genetic Determinism) اہم کر دار ادا کرتی ہے۔زیادہ تر لغات میں آپ کو لٹریچر کا مطلب نہیں ملے گا۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی حیثیت سے ہم اپنی زندگی کے ذمہ دار خود ہیں۔ نہایت اہم بات یہ ہے کہ ہمارا رویہ ہمارے فیصلوں کا تعین کرتا ہے یعنی ہمارے فیصلوں کے پیچھے ہمارے رویوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ہم اپنے احساسات کو اقدار کے تحت ماتحت کر سکتے ہیں۔اب ایک اورلفظ پر یقین کیجئے۔یہ ہے ذمہ داری۔ذمہ داری کا دراصل مطلب یہ ہے کہ آپ جواب یا ردعمل کا انتخاب کیسے کرتے ہیں۔بہت زیادہ لوگ ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا یہ موقف ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی چیز کی ذمہ داری لیتے ہیں وہ حالات کو مورد الزام نہیں ٹھہراتے اور نہ ہی وہ اپنے رویے کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس بات کا بھی ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کام کرنے کے ماحول کے مطابق ڈھال نہیں سکے۔کچھ لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ فوری طور پر ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کو انگریزی میں Reactiveکہتے ہیں۔ ردعمل کا اظہار ایک حد تک ٹھیک ہے لیکن اگر آپ ضرورت سے زیادہ ردعمل کا اظہار کریں گے تو یہ عمل آپ کے نقطہ نظر کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ان کا رویہ ان کے شعوری انتخاب کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ ردعمل رکھنے والے لوگوں پر سماجی ماحول کا بھی اثر پڑتا ہے۔ جب لوگ ان سے اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو انہیں بہت اچھا محسوس ہوتا ہے اور جب ایسے لوگوں سے اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تو پھر وہ دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں یا پھر اپنی حفاطت کرنے کی سعی کرتے ہیں۔یہ بات بھی نوٹ کر لیں کہ فعال لوگ (Pro-Active People)کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتے۔نہیں جناب ایسا نہیں ہے ان لوگوں پر بیرونی محرکات بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔چاہے محرکات طبعی ہوں، سماجی ہوں یا نفسیاتی۔ لیکن بیرونی محرکات کو یہ لوگ جو جواب دیتے ہیں ان کی بنیاد اقدار پر ہوتی ہے۔سابق امریکی صدر روز ویلٹ نے کہا تھا ''آپ کو آپ کی مرضی کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘۔مذکورہ بالا تمام اوصاف آپ کو اپنے نقطہ نظر کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں یعنی یہ خوبیاں اپنا کر آپ اپنے اصولوں کی عمارت تعمیر کر سکتے ہیں جس کی بنیاد آپ کے نقطہ نظر کی اینٹوں پر رکھی ہو۔ اگر آپ ان اصولوں کو نہیں اپناتے تو یقین رکھیں کسی بھی معاملے پر آپ کا نقطہ نظر خامیوں سے پاک نہیں ہوگا۔(مصنف سٹیفن آر کووے کی بیسٹ سیلر بک ''دی سیون ہیبٹسآف ہائلی افیکٹیو پیپل‘‘ سے اقتباس)