مادی زندگی سے ماورا ایک روحانی قوت
اسپیشل فیچر
وہ ان دیکھی حقیقت جو تمام مادی زندگی کا منبع ہے، وہ ابدیت کے اس ننھے سے وقفے سے کہیں زیادہ زبردست، طاقتور اور اہم ہے جسے ہم ’’زندگی‘‘ یا ’’پیدائش اورموت کے درمیان کوئی چیز‘‘ کہتے ہیں۔ان دیکھی حقیقت کا روحانی پہلو ہمیں اس مادی زندگی کے آغاز اور اختتام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہی روحانی جوہرہماری قوت اور ہمارا ماخذ ہے جو ہماری خاکی حیثیت سے کہیں زیادہ شاندار اور جلیل القدر ہے۔ جب ہمارے وجود میں ولولہ انگیزی، تحیرآمیزی اور ترنگ افروزی پیدا ہو جاتی ہے (جس طرح میں نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے) تو ہم ایک ایسی قوت و توانائی سے منسلک اور متصل ہو جاتے ہیں جو ہماری اس مادی زندگی کے ہر پہلو سے زیادہ شاندار اور عظیم ہے۔ یہ مکمل شعور اور روح پروری کی حالت ہی تھی کہ جس کے تحت ہمارا مقصد متعین کیا گیا، اور اب یہ مکمل شعوری اور روح پروری پر مبنی حالت ہی ہے جہاں ہماری قدر و منزلت، قطعی اور ناقابل تنسیخ ہے۔ اپنی مادی شکل کا وجود پانے سے قبل، ہم خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی ایک حصہ تھے جس نے اپنے میں موجود خوبیوں اور خصوصیات یعنی تخلیقیت، محبت وپیار، امن و سکون، خوشی و مسرت اور خوشحالی سے مزین کر کے اپنے نائب اور خلیفہ کے طور پر اس کرہ ارض کی حکومت ہمارے حوالے کر دی۔جب ہمیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آرتھ ملّر (Arthur Miller) نے بظاہر کیا کیا، تو ہم یہ تسلیم کر لیتے اور سمجھ لیتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل ہوئی توانائی ہمارے وجود میں سرایت کر رہی ہے اور ہم اس ماخذ، قوت اور توانائی کے ذریعے اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات بجا لانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی انا، خودپرستی اور انفرادیت کے ذریعے اپنی شناخت اور پہچان ترک کر دیتے ہیں اور ہم اپنی تخلیق کا باعث بننے والی قوت و توانائی پر بخوشی اعتماد اور بھروسہ کر لیتے ہیں۔ ہم اپنی ذات پر اعتماد کرتے ہوئے مکمل شعور اور روح پرور کے عالم میں زندگی کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، جو ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے مادی وجود سے کہیں ماورا اور اعلیٰ و افضل ہے۔ جب ہم اس آواز پر کان دھرتے ہیں اور اسے اپنی ذات و وجود میں سرایت ہونے دیتے ہیں، تو پھر ہمارا شعور اور روحانی قوت ہماری راہنمائی کرتی ہے، لیکن جب ہم اس آواز پر کان نہیں دھرتے، یا اپنی انا، خودپرستی اور انفرادیت کو اپنا راہنما بنا لیتے ہیں، تو پھر ہم میں ولولہ انگیزی، تحیرافروزی ا ور تخلیقی ترنگ پیدا نہیں ہوتی۔یہ تو ایک نہایت سادہ اور سہل حقیقت ہے۔اس کتاب کے آخری حصے میں چند ایک مخصوص طریقے اور تراکیب بیان کی گئی ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی ذات کے اس حصے سے متصل اور منسلک ہو سکتے ہیں لیکن اس سے قبل میں چاہتاہوں کہ میں مکمل شعور اور روح پروری کے ساتھ خود پر گزرنے والی واردات اور تجربے سے آپ کو بھی آگاہ کروں۔(ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر کی تصنیف ’’جذبے کی طاقت‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭