مصنوعی سیّارے
اسپیشل فیچر
ہمارے خلائی سائنسداں ایک طرف مصنوعی سیاروں کی تیاری میں مہارت حاصل کر رہے تھے تو دوسری طرف اِن سیّاروں کے استعمال کے طریقوں کا عملی جائزہ بھی لے رہے تھے۔ جس وقت ہم لوگ اپنے سیارے بنا رہے تھے اس وقت تک مغربی ممالک کے مصنوعی سیّارے خلاء میں نہ صرف یہ کہ موجود تھے بلکہ بخوبی کام بھی کر رہے تھے۔ ہمارے سائنسدانوں نے ان سیاروں کی مدد سے مواصلاتی نیز ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں کی تشہیر کانظام قائم کیا۔ امریکہ کے تعاون سے یکم اگست 1975ء اور 31 جولائی 1972ء کے درمیان سیٹیلائٹ انسٹرکشنل ٹیلی ویژن ایکسپریمنٹ (Site) نامی پروجیکٹ چلایا گیا۔ اس کے تحت ہندوستان کی چھ ریاستوں میں پھیلے ہوئے 2400 گائوں کو روزانہ چار گھنٹے ٹیلی ویژن کے پروگرام دکھائے گئے۔ جس کا بنیادی مقصد تفریحی نہیں بلکہ تعلیمی اور اصلاحی تھا۔ یہ پروگرام ہندوستانی خلائی مرکز کی احمد آباد اور دہلی میں واقع شاخوں سے امریکی سیاروں کو بھیجے جاتے تھے۔ یہ سیارہ ان پروگراموں کو متعلقہ گائوں تک پہنچاتا تھا۔ ان تمام نشریات کے لیے کل انتظامات ہندوستانی سائنسدانوں نے کیے تھے۔1969ء سے 1979ء کے دوران دس سالہ کڑی محنت کے بعد ہمارے سائنسداں خلائی راکٹ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ سیٹیلائٹ لانچ وہیکل (SLV)نامی یہ راکٹ 23 میٹر لمبے، 17 ٹن وزنی اور چار مرحلوں پر مشتمل تھے۔ ان میں سے پہلا راکٹ سری ہری کوٹا (SHAR)کے مقام سے 18 جولائی 1980ء کو داغا گیا تھا اس کے ساتھ 35 کلووزنی ’’روہنی اوّل‘‘ نامی مصنوعی سیارہ خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس راکٹ کی کارکردگی بہترین رہی لیکن مصنوعی سیارہ اپنے مشن میں ناکام ہو گیا۔ 24 جولائی 1980ء کو یہ سیارہ زمینی فضا میں و اپس آ گیا اور جل کر ختم ہو گیا۔ بعدازاں 31 مئی 1981ء کو ’’ایس۔ایل۔وی۔3 ‘‘ نامی راکٹ کے دوش پر ’’روہنی دوم‘‘ روانہ کیا گیا۔ ہندوستانی سرزمین سے روانہ ہونے والے اس دوسرے سیارے کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 58 کلووزنی یہ سیارہ محض نو دن بعد ہی اپنے مدار سے ہٹ کر تباہ ہو گیا، اگرچہ توقع یہ تھی کہ 90 دن تک یہ اپنے مدار میں رہے گا۔ اسی دوران ہمارے ملک میں ایک اور قسم کا مصنوعی سیارہ تیار کیا گیا جو کہ زمین سے کافی زیادہ اونچائی پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ ایک اہم مواصلاتی سیارہ تھا، جس کو 19 جون 1981ء کو یورپی خلائی ایجنسی کے راکٹ ’’آرئین‘‘ کے دوش پر کورو (فرینچ گیانا) کے مقام سے داغا گیا۔ اس پروجیکٹ کا نام ایپل (APPLE)تھا جو کہ ’’آرئین پسنجر پے لوڈایکسپریمنٹ ‘‘ کا محفّف تھا۔ 330 کلوگرام وزنی یہ سیارہ زمین سے 36000 کلومیٹر کی اونچائی پر اپنے مقررہ مدار میں 27 ماہ تک کام کرتا رہا اس کی مدد سے مواصلاتی اور نشریاتی پروگراموں کو بہت وسعت ملی۔ اگرچہ ہم نے اپنے اہم ترین مصنوعی سیّارے غیر ملکی راکٹوں کی مدد سے خلاء میں بھیجے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلائی راکٹ سازی میں ہم ہمت ہار چکے ہیں۔ ہمارا راکٹ سازی کا پروگرام تین نسلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی نسل میں سیٹیلائٹ لانچ وہیکل (SLV)کی تیاری عمل میں آئی۔ اس قسم کے راکٹ 150 کلوگرام تک کے وزن کے سیّارے خلا میں لے جا سکتے ہیں ہم نے اسی راکٹ کی مدد سے روہنی سیاروں کو خلا میں بھیجا تھا۔ ان راکٹوں کی دوسری نسل ان سے بہتر قسم کی ہے جس کو اے ایس ایل وی (ASLV)کہا جاتا ہے۔ ہمارا پہلا اے ایس ایل وی راکٹ 24 مارچ 1987ء کو چھوڑا گیا۔ اس کے ساتھ سیروس اول (SROSS)نامی مصنوعی سیارہ تھا لیکن اڑان کے 48 سیکنڈ کے بعد ہی یہ راکٹ تباہ ہو گیا۔ اس قسم کے راکٹ کی تیاری میں مہارت حاصل کرنے کے بعد تیسری نسل کے پی ایس ایل وی راکٹ کی تیاری شروع ہو گی جو کہ فی الحال کافی دور نظر آتی ہے۔(سائنس نامہ سے مقتبس)٭…٭…٭