امیر بننے کے دو آسان نسخے
اسپیشل فیچر
آپ خواہ جلد از جلد امیر بننے کے خواہش مند ہوں یا زندگی میں کسی او رمقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہوں اس کے لیے آپ کو صرف دو بنیادی باتوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا پڑے گا۔یہ دونوں باتیں انتہائی عام فہم اور قابلِ عمل ہیں۔-1 پہلے یہ سوچیے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔-2 او رپھر اس پر عمل کیجیے۔بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ان باتوں میں کچھ نہیں رکھا، لیکن جب آپ ان پر سنجیدگی سے غورکریں گے تو ان کی افادیت کے قائل ہو جائیں گے۔یہ دونوں باتیں یا یہ کُلّیہ بالکل درست ہے کہ:-1 آپ کو جو کچھ کرنا ہے یا آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس پر غور کیجیے اور پھر…-2 اپنی پوری صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے شروع کر دیجیے۔اس پر عمل کرنے میں تاخیر سے کام مت لیجیے۔یہ مت سوچیے کہ اس کُلّیے پر غور کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔یقین کیجیے کہ یہ ایک بنیادی کُلّیہ ہے۔ابتدائی اصول ہے۔ایسا ہی ابتدائی اصول جیسا کہ بچوں کے لیے ’’نرسری‘‘ کی تعلیم ہوتی ہے۔زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لیے یہ کُلّیہ ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے، ابتدائی اصول کاحامل ہے۔اس پر عمل کیے بغیر آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔جس طرح اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے تعلیم کے ابتدائی درجات سے گزرنا پڑتا ہے اسی طرح کامیابی کے حصول کے لیے چند ایک بنیادی باتوں پر بھی عمل کرنا پڑتا ہے،لہٰذا پہلا کُلّیہ یہ ہے۔-1 یہ سوچیے کہ آپ کو کیاکرنا ہے؟-2 اور پھر اس پر عمل پیراہو جایئے۔بہت سے لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ چند مخصوص کُلّیات پر عمل کر کے کوئی شخص کامیاب بھی ہو سکتا ہے یا دولت مند بھی بن سکتا ہے۔ان کے نزدیک اس قسم کے کُلّیے محض ’’ڈھکوسلے‘‘ ہیں۔محض فضول باتیں ہیں۔میرے خیال میں وہ لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ دولت مندی کیا شے ہے؟ اور کیا کوئی شخص اپنی انتھک اور صحیح سمت میں جدوجہد سے مالدار بھی بن سکتا ہے۔وہ دولت مندی کو صرف قسمت کا کھیل سمجھتے ہیں اور یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ قسمت اور محنت کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟یاد رکھیے محنت ایک ایسی قوت ہے جو بڑی سے بڑی مشکل کو آسان کر سکتی ہے۔یہ ایک اعجاز آفریں قوت ہے۔دنیا کی تمام ترقی محض محنت ہی کا نتیجہ ہے۔بہت سے لوگ اپنا وقت فضول کاموں میںضائع کر سکتے ہیں، غیرضروری مصروفیات میں زندگی گزار سکتے ہیں لیکن دولت حاصل کرنے کے لیے محنت یعنی انتھک محنت نہیں کر سکتے۔دوسروں کے آزمودہ طریقوں سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ان کے نقشِ قدم پر نہیںچل سکتے۔وہ قناعت پسندی کے فریب میں ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ان کی مثال اس مینڈک کی سی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ کنویں سے باہر سمندر نام کی کوئی شئے نہیں ۔قناعت پسندی اپنے اصلی معنوں میں ایک سکون بخش رویہ ہے۔لوگ اس کے معنی نہیں سمجھتے۔ قناعت پسندی، محنت کی مخالف نہیں ہے اور نہ ہی محنت کی ضدہے۔قدیم عہد نامے میںحضرت دائود ؑ کا ایک قولِ مبارک ہے ’’محنتی آدمی کا ہاتھ ہمیشہ حکمران رہتا ہے اور سست آدمی ہمیشہ باج گزار رہتا ہے۔‘‘اسی عہد نامے میں کہا گیا ہے ’’دروازہ کھٹکھٹائو گے تو وہ تمہارے لیے کھول دیا جائے گا‘‘۔اور پھر کہا گیا ہے ’’آدمی ویسا ہی بنتا ہے، جیسا کہ وہ سوچتا ہے۔‘‘تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں جس قوم نے بھی ترقی کی ہے اس نے ’’محنت اور محنت اور محنت‘‘ ہی کو اپنا اصول بنایا ہے۔نظریہ محنت، دولت مندی کا پیامبر ہے۔بار بار کہا گیا ہے ’’محنت کرو کہ محنت ہی میں عظمت ہے۔‘‘اگراس کے باوجود لوگ محنت کے بجائے قسمت پر شاکر رہتے ہیں، جو مل گیا اسی پر قناعت کر بیٹھتے ہیں تو اس میں محنت کا کیاقصور؟ جس شئے سے آپ نے استفادہ ہی نہیں کیا۔ اسے فضول اور بے ثمر قرار دینا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔آپ ایسے کتنے لوگوں کو جانتے ہیں جو ہر رات صرف ایک گھنٹہ اس سوچ میں گزارتے ہوں کہ دولت مند بننے کا کیا راز ہے؟…اس کا طریقِ کار کیا ہے؟کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اور جو کچھ وہ سوچتے ہیں کیا اس پر عمل بھی کرتے ہیں؟ایک پرانی کہاوت ہے ’’مکان باتوں سے نہیں بنا کرتے۔‘‘یہاں میں آپ کے لیے اینڈریو کارنیگی (Andrew Carnegi) کا مشہور قول دہرائوں گا۔اینڈریو کارنیگی اپنے عہد کا امیر ترین امریکی تھا۔اس نے اربوں ڈالرز کمائے اور اربوں ڈالرز خیراتی کاموں پرخرچ کیے۔اس کا قول ہے ’’جو لوگ ترقی کرنا نہیں چاہتے انہیں سمجھانے سے کچھ فائدہ نہیں کیونکہ جو لوگ اپنی مدد آپ نہیں کرتے ان کی مدد کوئی نہیں کرتا۔جوشخص سیڑھی پر نہ چڑھنا چاہے اسے کون چڑھا سکتا ہے۔‘‘کہا گیا ہے ’’علم میں بڑی طاقت ہے۔‘‘لیکن ایسا نہیں ۔علم میں طاقت نہیں، اس پر عمل کرنے میں طاقت ہے۔یہ ایک زبردست صلاحیت ہے ،جو آپ کو آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔کامیابی کی سیڑھی پر آپ کو خود چڑھنا پڑتا ہے۔قدم بہ قدم بلندی کی طرف جانا پڑتا ہے۔ایک وقت میں صرف ایک قدم۔(ایم- آر- کوپ میئر کی کتاب ’’آپ چاہیں، تو امیر بن سکتے ہیں‘‘ سے اقتباس)٭…٭…٭