خان الخلیلی بازار
اسپیشل فیچر
آج ہم نے قاہرہ کے قدیم اور تاریخی بازار خان الخلیلی دیکھنے جانا تھا۔ شام پانچ بجے وہ پروگرام کے مطابق آگیا۔ گو ابھی موسم میں تھوڑی حدت تھی، مگر ہلکی ہوا چلنے سے موسم قدرے خوشگوار سا ہوگیا تھا۔ راہ چلتی ایک ٹیکسی کو ہاتھ دیا اور پھر کچھ ہی دیر میں اس نے ہمیں خان الخلیلی بازار کے ایک کونے پر لے جا کر کھڑا کر دیا۔اندر داخل ہونے سے پہلے میرے گائیڈ نے مجھے اس بازار کی تھوڑی بہت تاریخ سے آگاہ کیا۔ خیر وہ تھوڑی تو ہرگز بھی نہیں تھی،بہت زیادہ تھی، جو وہ تاریخی اور حوالوں کے ساتھ فرفر بیان کئے جا رہا تھا۔ مجھے تو اس میں کام کی بس دو ہی باتیںسمجھ آئیں کہ یہاں پہلے مصر کے فاطمی حکمرانوں کا ایک قبرستان تھا جسے خلیلی نام کے ایک سلطان کے حکم پر تباہ و برباد کرکے وہاں ایک کاروباری مرکز کی بنیاد رکھی ،جہاں باہر سے آنے والے تاجروں کے لئے کاروان سرائے تعمیر کی گئی اور پھر یہیں ان کی اشیائے تجارت کی نمائش کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔ایسے تجارتی مرکز کو عربی زبان میں خان کہتے ہیں۔ سو میری یہ خوش فہمی تو دُور ہوگئی کہ کوئی ہمارے ہی علاقے کے کسی خان کے نام پر یہ نام رکھا گیا تھا۔ تعمیر کے وقت یہ بازار خوبصورت داخلی دروازوں، ڈھکے ہوئے بازاروں اور محرابی عمارتوں پر مشتمل تھا۔ جن میں سے کچھ عمارتوں کے آثار تو ابھی تک موجود ہیں۔ اس کے بعد متعدد دفعہ یہ علاقہ برباد ہوا اور ساتھ ساتھ اس کی تعمیر و تزین بھی ہوتی رہی۔ یہاں قاہرہ کی روایتی دستکاری کے شاہکار، فراعین مصر کے مدفنوں سے ملنے والے نوادرات کے ماڈل اور سیاحوں کی دلچسپی کی بے شمار دُکانیں ہیں۔جہاں ہر وقت اُن کا ایک ہجوم بھائو تائو کرتا نظر آتا ہے۔اس کے علاوہ قالینوں، جڑی بوٹیوں، مصالحہ جات، خواتین اور بچوں کے ملبوسات، روایتی مصری جبوں اور پگڑیوں کے علاوہ وہاں سونے کا بھی ایک بازار ہے، جہاں خوبصورت سنہری زیورات دُور سے ہی جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ الیکٹرونک کی بھی دُکانیں ہیں ،جہاں ہر وقت بلند آواز میں موسیقی بجتی رہتی ہے۔ کلائی کی گھڑیوں کے علاوہ دیواروں پر نصب کئے جانے والے بڑے بڑے گھڑیال بھی تھے۔بدقسمتی سے یہاں مارکیٹ میں تھوڑی بہت غیر ملکی زبانیں بولنے والے گائیڈ بھی دندناتے پھرتے تھے، جو مغرب سے آئے ہوئے معصوم اور بھولے بھالے سیاحوں کو میٹھی میٹھی باتوں سے بہلا پھسلا کر گھٹیا معیار کی جعلی اشیاء کو اصلی بتا کر خریداری کی ترغیب دیتے اور پھر انتہائی جا ں فشانی سے دُکاندار کے ساتھ بحث و مباحثہ کرکے اپنے پہلے سے طے شدہ مول تول کروا کر ان کو مطلوبہ اشیاء دلوا دیتے تھے۔ بعد میں وہ سیاحوں سے اپنی بے لوث خدمات کے عوض بخشش اور دُکاندار سے اپنی دلالی وصول کرنا نہ بھولتے۔ سیاح بھی اس سودے بازی سے بظاہر مطمئن اور خوش ہو کر واپس جاتے ،وہ اس نام نہاد رہنما کا بھی تاحیات احسان مند ہونے کا تاثر دیتے ، جس نے ان کی خاطر اتنی محنت اور مشقت کی ۔اصلی عطر بھی یہاں بکثرت ملتا ہے۔ بس ہاتھ آگے بڑھا دیں ،عطر فروش چھوٹی سی شیشیوں میں سے پلاسٹک کی سلائی پر ذرا سا عطر مس کرکے آپ کے ہاتھ پر لگا دیتا اور پھر اس کو رگڑ کر سونگھنے کا اشارہ کرتا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک کہ گاہک کو اپنی مرضی کا عطر نہ مل جاتا اپنی پسندیدہ خوشبو اور قیمت طے کرنے کے بعد وہ ایک ننھی سی خوبصورت شیشی میں مطلوبہ عطر ڈال کر گاہک کے حوالے کر دیتا۔٭…٭…٭