آنکھوں کا علاج، چند احتیاطی تدابیر
اسپیشل فیچر
آنکھوں کی بیماریوں کیلئے استعمال ہونے والی زیادہ تر دوائیں قطروں یا کریم کی شکل میں دستیاب ہیں۔ ان میں سے بعض آنکھوں کو جلن، خارش یا معمولی انفیکشن سے بچانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔ اکثر دوائیں اینٹی بائیوٹکس یا سٹیرائیڈز پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی چند مشہور دوائیں مندرجہ ذیل ہیں:قطرےمیکسی ٹرال(Maxitrol)پون سڈ(Poncid)کریمجینٹی سین(Genticyn)پولی فیکس(Polyfax)مضراثرات:٭ خارش، آنکھوں میں چبھن٭ زودحساسیت(الرجی)احتیاط (جینٹی سین)٭ زیادہ لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ایسے جراثیم پیدا ہونے کا خطرہ ہوتاہے جن پر اینٹی بائیوٹکس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔٭ آنکھوں میں دوا ڈالنے کے بعد انہیں ملنا نہیں چاہیے۔٭ ایسے لوگ استعمال نہ کریں جن کو دوا سے الرجی ہو۔٭ اگر خارش یا جلن جاری رہے تو دواکا استعمال بند کر دینا چاہیے۔دوا کی نوعیت اور ضرورت کی اہمیتآنکھیں قدرت کا حسین عطیہ ہیں۔ ان کی بدولت بندہ قدرت کی عطا کی ہوئی نعمتوں اور دنیا کی رنگینیوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ آنکھیں بہت زیادہ حساس بھی ہوتی ہیں۔ اگر ان کی مناسب حفاظت نہ کی جائے تو ان میں انفیکشن یا بیماری بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے اور جب بھی آنکھوں کی کوئی تکلیف، نظر میں کوئی فرق وغیرہ محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے اور اس کے بعد دوا استعمال کی جائے۔ مرضی سے دوا استعمال کرنے سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔آسان اور متبادل علاجآنکھوں میں معمولی خارش، جلن یا پانی آنا یا ہاتھ یا انگلی لگنے سے پانی آنا کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ ایسی صورتوں میں آنکھوں کو ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر صاف کریں یا برف کی ٹکور کریں۔ انشاء اللہ افاقہ ہو گا۔ بچوں کی آنکھوں کو صبح سو کر اٹھتے وقت لازماً اچھی طرح صاف کر یں۔گرمیوں میں ٹھنڈا چشمہ استعمال کریں تا کہ آنکھیں گرمی کی حدت سے محفوظ رہیں۔ سونف، گاجر کا باقاعدہ استعمال کریں کیونکہ ان میں وٹامن اے ہوتا ہے جو آنکھوں کیلئے مفید ہے۔طبِ نبویؐامراض چشم میں سفید رنگ کی کھنبی (Mushrum) مفید ہے‘ اس کا پانی نکال کر آنکھ میں لگانے سے امراضِ چشم دفع ہوتے ہیں۔