بلوچی لوک کہانی
اسپیشل فیچر
بہت عرصہ پہلے کسی گائوں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔دن بھر گھر سے باہر جا کر پشم سے بننے والی چیزوں کا مواد تیار کرتی تھی اور دائی کا کام بھی کرتی تھی۔روز صبح سویرے روٹیاں بنالیتی تھی اور تھوڑا ساکھالیتی تھی اور کچھ رات کے لیے بچا کر رکھتی تھی۔ا یک دن جب وہ روٹیاں بنارہی ہوتی ہے تو اس کے کسی ہمسائے کے گھر سے کوئی دودھ بھیجتا ہے۔ اس نے کھانا کھایااور کچھ رات کے لیے بچاکر رکھ دیا۔اور جب وہ بڑھیا کام سے واپس آرہی ہوتی ہے تو ایک بلی بڑھیا کی جھونپڑی میں آجاتی ہے اور سارادودھ پی لیتی ہے تو اسی وقت بڑھیا اپنی جھونپڑی میں داخل ہو جاتی ہے ۔جیسے ہی بلی کی اس حرکت کو دیکھتی ہے آگ بگولہ ہو کر چاکو لے کر بلی کی دُم کاٹ لیتی ہے ۔تو بلی رورو کر فریاد کرنے لگتی ہے ہائے میری عزت چلی گئی ،اُف اب میں کیسے دنیا والوںکو اپنا منہ دکھائوں گی۔بڑھیا کہتی ہے تم اسی قابل ہو، چور کی یہی سزا ہے تم نے مجھ بیچاری بوڑھی عورت کا رات کا کھانا کھایا، تمہیں نہ مجھ پر ترس آیا نہ ہی چوری کرتے ہوئے تمہیں شرم آئی ۔اب تم اسی طرح رہوگی۔پوری زندگی بغیر دُم کے پھرو گی اور سب تم پر ہنسیں گیں۔بلی کہتی ہے نہیں بڑھیا ایسا مت کہو ،مہربانی کر کے میری دُم دے دو، توبہ ہے میری، آج کے بعد میں چوری نہیں کروں گی،توبہ توبہ توبہ ۔مجھے میری دُم دے دو،مجھے لالی کی شادی پر جانا ہے۔بڑھیا بلی کی فریاد سن کر کہتی ہے، ٹھیک ہے تم میرے لیے دودھ لے کر آئو، میں تمہیں دُم واپس کروں گی۔بلی جاتی ہے،بکری کے پاس۔بکری بکری دودھ دو،دودھ دو۔بڑھیا کو دوں گی ،بڑھیا مجھے دُم دے گی دُم کو دُم پر باندھ کر لالی کی شادی پر جائوں گی۔بکری کہتی ہے پہلے جائو درخت سے شاخ لائو۔بلی جاتی ہے درخت کے پاس۔درخت درخت شاخ دو، شاخ دو ں گی بکری کو ،بکری مجھے دودھ دے گی دودھ دوں گی بڑھیا کو ،بڑھیا مجھے دم دے گی ۔دم کو دم پر باندھ کے لالی کی شادی پر جائوں گی۔درخت کہتا ہے ،میرے لیے فاختہ کا گھونسلہ لائو۔بلی جاتی ہے فاختہ کے پاس ،فاختہ فاختہ مجھے گھونسلہ دو،گھونسلہ دوں گی درخت کو،درخت مجھے شاخ دے گا شاخ دو ں گی بکری کو ،بکری مجھے دودھ دے گی، دودھ دوں گی بڑھیا کو ،بڑھیا مجھے دم دے گی ۔دم کو دم پر باندھ کے لالی کی شادی پر جائوں گی۔فاختہ کہتی ہے جائو مجھے دانہ دو۔بلی جاتی ہے کسان کے پاس۔کسان کسان مجھے دانہ دو۔دانہ دوں گی فاختہ کو ،فاختہ مجھے گھونسلہ دے گی،گھونسلہ دوں گی درخت کو،درخت مجھے شاخ دے گا ،شاخ دو ں گی بکری کو ،بکری مجھے دودھ دے گی، دودھ دوں گی بڑھیا کو ،بڑھیا مجھے دم دے گی ۔دم کو دم پر باندھ کے لالی کی شادی پر جائوں گی۔کسان کہتا ہے کہ جائو پانی لے کر آئوپھر تمہیں دانہ دوں گا۔بلی خدا تعالیٰ سے دعا مانگتی ہے، اے اللہ بادل لائو ،پھر بارش برسائو،یا اللہ مجھ پر کوئی بھی ترس نہیں کھاتا ،آپ تو ترس کھائیں ،یااللہ بارش دیں۔اللہ تعالیٰ بلی کی سن لیتا ہے اور بارش ہو جاتی ہے ،کھیت پانی سے بھر جاتا ہے تو کھیت کہتا ہے جائو کسان کو بلائو ۔بلی کسان جاکر کسان سے کہتی ہے جائو بیج بوئو۔جب کسان بیج بودیتا ہے اور گندم ،باجرہ پک کر تیار ہو جاتا ہے تو بلی باجرہ لے کر فاختہ کو دے دیتی ہے ۔فاختہ بلی کو گھونسلہ دے دیتی ہے ۔بلی گھونسلہ لے کر درخت کو دیتی ہے اور درخت بلی کو شاخ دیتا ہے ۔بلی شاخ کو لے کر بکری کو کھلاتی ہے اور بکری جب دودھ دیتی ہے تو بلی دودھ لے کر بڑھیا کے پاس چلی جاتی ہے ۔بڑھیا دودھ دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے اوربلی کی دم کو دم پر لگادیتی ہے ۔اور بلی کو روانہ کرتی ہے اور بلی ہنسی خوشی لالی کی شادی پر جاتی ہے ۔(میر عاقل مینگل،ترجمہ مہناز غنی)