مینڈک
اسپیشل فیچر
مینڈک دنیا کے قریباً تمام ممالک میں پایا جاتا ہے۔ اس کا تعلق دوسرے جل تھلیل (Amphibians) سے ہے۔ دنیا کے قریباً 88فیصد ، Amphibiansمینڈک ہیں۔ بارشوں کے مہینوں میں پاکستان بھر میں مینڈک نظر آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں مینڈکوں کی کوئی 300 اقسام پائی جاتی ہیں۔ مینڈکوں کی بعض اقسام زہریلی بھی ہیں۔ ان کے زہر کو انسانوں نے صدیوں تیروں پر لگا کر جنگوں میں استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں 1980ء سے آج تک مینڈکوں کی 30 اقسام ناپید ہو چکی ہیں۔ مینڈک کی مختلف اقسام اپنی جسامت، رنگ اور شکل و صورت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں ۔ امریکا میں زیادہ تر Tree Frog پائے جاتے ہیں، جو ایک انچ سے زیادہ لمبے نہیں ہوتے۔ مینڈکوں کی ایک اور قسم Frog Leopard لمبائی میں دو سے چار انچ لمبے ہوتے ہیں۔ اسی طرح مینڈک کی ایک قسم ’’بل فروگ ‘‘ آٹھ انچ تک لمبا ہو سکتا ہے جبکہ اس کی ٹانگوں کی لمبائی دس انچ تک ہوسکتی ہے۔ ان کا شمار دنیا کے بڑے مینڈکوں میں ہوتا ہے۔ شمالی ممالک میں موسم سرما کے آغاز سے ہی کچھ اقسام کے مینڈک تالابوں کی تہہ میں موجود گارے اور کیچڑ میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ تمام موسم سرما یہ وہاں سوئے رہتے ہیں۔ اس عمل کو سہ ماہی نیند کہتے ہیں۔ شدید سردی میں بھی تالابوں اور جوہڑوں کا پانی مکمل طور پر نہیں جمتا بلکہ سطح کے نیچے اپنی اصل حالت میں ہی رہتا ہے۔ اس وجہ سے مینڈکوں کو بھی سردی میں جم جانے کا خدشہ نہیں ہوتا۔ مینڈکوں کی آنکھیں اس کے سر کے بالکل اوپر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پانی میں چھپے رہنے کے باوجود سطح سے اوپر دیکھ سکتے ہیں۔ اسی خصوصیت کی بنا پر مینڈک اپنے شکاریوں کے خطرے سے آگاہ رہتے ہیں۔مینڈک کی ایک قسم ’’ڈارٹ مینڈک ‘‘ دنیا کا سب سے زہریلا مینڈک کہلاتا ہے ۔2 انچ کے اس چھوٹے سے مینڈک کی جلد سے نیوروٹاکسن زہر خارج ہوتا ہے، جس کی ایک خوراک 10 سے 20 افراد کو صرف تین منٹ میں ہارٹ اٹیک سے ہلاک کردینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔انڈیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق مینڈک کے زہر میں کینسر سے لڑنے اور درد کو دور کرنے والے اجزا موجود ہوتے ہیں ، لیکن ضروری نہیں کہ اس کے لیے براہِ راست زہر کو استعمال کیا جائے ،تاہم اتنی امید ضرور ہے کہ اس سے مؤثر دوائیں بنائی جاسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس زہریلے مینڈک کی بقا کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ قدرتی مسکن، زرعی کیمیکلز اور انسانی سرگرمیوں نے ان کے قدرتی ماحول کو برباد کر دیا ہے ۔ عام طور پر یہ مینڈک کولمبیا کے بارانی جنگلات میں پایا جاتا ہے ۔ اس کا رنگ پیلا، شوخ پیلا ہوسکتا ہے۔ جتنا پیلا مینڈک ہوگا اتنا ہی وہ زہریلا ہوگا۔ اگر کسی دستانے کے بغیر اس مینڈک کو چند سیکنڈ بھی ہاتھوں میں رکھا جائے، تو یہ جلد سے زہر خارج کرتا ہے، جو انسانی کھال میں جذب ہوجاتا ہے اور اعصاب کو منجمند کرکے دل کی دھڑکن روک دیتا ہے، یعنی صرف چھونے سے یہ انسانوں کو ہلاک کرسکتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق ڈارٹ مینڈنک کے زہر کا ایک قطرہ لے کر رکھا جائے، تو وہ دو سال بعد بھی اتنا ہی ہلاکت خیز ہوسکتا ہے۔آسٹریلیا کے ماہر حیوانات نے مینڈک کی ایک اور نئی قسم دریافت کر لی ہے ۔ آسٹریلوی ریسرچر جوڈی رولی کے مطابق اس کا پیٹ شوخ پیلا اور آنکھوں کا زیادہ تر حصہ سفید رنگ کا ہے۔ اُڑنے والے مینڈک کی دیگر اقسام کی طرح اس مینڈک کے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان جھلی ہے ،جو مینڈک کے چھلانگ لگانے کے بعد پیراشوٹ کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ مینڈک عموماً درختوں پر بسیرا کرتا ہے اور ویتنام میں پایا جاتا ہے۔مینڈک کی اس نئی نسل کا قد 4 انچ کے لگ بھگ ہے ۔(انٹر نیٹ سے ماخوذ)٭…٭…٭