ساون من بھاون
اسپیشل فیچر
جھلستی زبانوں سے نکلتی دعاؤں کا اثر ہوہی گیا، بادل چھائے اور خوب برسے، عمارتوں کے جنگل میں پہلی برسات نے سڑکوں کو ندیاں بنا دیا۔ محکمہ صفائی کے کروڑوں روپوں کے خوبصورت دعوے ہر چوک میں جوہڑ کی صورت میں نظر آ رہے تھے۔لگتا تھا ،بڈھا راوی جوان ہوکر لاہور شہر کی سیر کو آنکلا ہے۔ مجھے راولپنڈی واپس پہنچنا تھا، موسلادھار بارش کے دوران بس کی کھڑکی سے برسات کا وہ حسن دل آویز نظر آیا، جس سے شہری آبادی محروم ہو چکی ہے۔ بادلوں کا سفید دوپٹہ پہاڑوں کے حسن و جوانی کو حیا میں بھگو رہا تھا۔ شہروں کی سڑکیں اب بھلا کہاں شفاف نظر آتی ہیں۔ یوں معلوم پڑتا تھا کہ موٹروے اس کھلے علاقے میں نہانے آگئی ہے اور دیر تک چھینٹے اڑانے، دوسروں پر پانی پھینکنے، شور مچانے اور اچھل کود کے بعد فصلوں کے درمیان لیٹ گئی ہے۔ موسموں کا بادشاہ زمین پر اتررہا تھا۔ پورے لاؤلشکر اورشان بان کے ساتھ۔ کسی مسافر نے خدا سے زیادہ بارش ہونے پرشکوہ نہ کیا شاید سبھی نکھرے نکھرے ‘ ٹھنڈے اور حسین منظروں میں کھوئے ہوئے تھے۔ بادل شریر بچوں کی طرح سڑکوں پر ناچتے پھر رہے تھے۔برسات کو برصغیر میں خصوصی اہتمام کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا رہا ہے۔ راہ چلتے بزرگوں پر پانی پھینک کر ان کے کوسنوں کو بارش آور سمجھنے والے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق پہلی بارش کو تہوار کے طورپر مناتے تھے۔ کھلی جگہوں پر برستی بارش میں آم کھانے کی دعوتیں‘ گھروں میں میٹھے پوڑے‘ پکوڑے اور حلوہ جات کی تیاری‘ چنری کو دھانی رنگ دینے سے لے کر تحفے تحائف کے تبادلے اور درختوں پر جھولے ڈالنے سے لے کر خدا سے خصوصی دعاؤں کا سلسلہ ساون میں ہی نظر آتا۔ ساون کے استقبال کی تیاریوں میں بیاہی بیٹیوں کو ساونی بھیجنا ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ سب سرگرمیاں‘ کھیل اور دعوتیں لوگوں کو نفرتیں بھلا کر ایک دوسرے کے قریب لے آتیں‘ساون آج بھی اسی چھب سے آتا ہے۔ لیکن نہ کوئی چنری کو رنگ دیتا ہے نہ کوئی جھولے ڈالتا ہے۔ باغوں کی کٹائی کرکے ہر جگہ بلند عمارتیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ لوگ کھلی جگہوں کے بجائے بند دڑبوں میں قید ہو رہے ہیں۔ راستوں پر زیادہ کیچڑ نہیں ہوتا، لیکن غلاظت سے بھرپور پانی ضرور ہر طرف حملہ آور نظر آتا ہے۔ ہم اب ساون کے ساتھ کھیلتے نہیں کھڑکی میں بیٹھ کر کوستے ہیں۔ ہم موسموں سے لطف اٹھانے کی صلاحیت کھورہے ہیں۔ ہماری زندگی اس طرز پر ڈھلتی جا رہی ہے کہ ہم مفت میں ملنے والے بے حد و حساب پیار کا ہر روپ خریدنے پربضد ہیں۔ ذرا نظر ڈالیے کہ کتنے لوگ ہیں جو سارا سال پارٹیاں دیتے رہتے ہیں‘ کروڑوں روپے اڑا دیتے ہیں‘ بے لوث اور پرخلوص رشتے پھر بھی نہیں ملتے۔ ساون کا پکوان ہمسایوں‘ گلی محلے والوں کو بھیجئے‘ بچیوں کو کچھ دیر کیلئے کیبل اور انٹرنیٹ سے اٹھا کربرستے ساون میں جھولا ڈال کر دیجئے‘ ان کے دل اس احساس سے بھر جائیں گے کہ ان کے والدین اور بزرگ ان کی کس قدر کیئر کرتے ہیں۔ آم روز کھائے جاتے ہیں۔ برسات میں عزیزوں اور دوستوں کو دعوت دیجئے‘ وہ سارا سال آپ کی اس کی دعوت کے قصے سناتے رہیں گے۔آپ صاحب ِذوق ہیں اور وسائل موجود ہیں تو ساون مشاعرہ کے بہانے دوستوں کو جمع کرلیجئے۔ کالجوں‘ سکولوں میں ساون پکوان کا مقابلہ ثقافتی اور سماجی روایات کو مضبوط بنانے کا کام کرسکتا ہے۔ساون نظر آتا ہے تو نظیر اکبر آبادی کی برسات پر کہی نظم‘ دہلی اور لکھنؤ کے رئیسوں کے وظیفہ خوار شاعروں اور پنجاب کے ان درویشوں کے اشعار یاد آنے لگتے ہیں جو کسی سے وظیفہ قبول کرنے کوتیار نہ ہوئے۔ جیسے ساون بلاامتیاز ہر زمین پر برستا ہے اسی طرح ساون ہر دل پر اثر کرتا ہے۔ برستی بوندیں ملہار کا رس گھولتی ہیں تو چھاجوں برستا مینہ ہمارے محاوروں میں چلا آتا ہے۔ کھیت‘ درخت‘ پھول‘ عمارتیں اور راستے ہی نہیں ہماری نظر بھی نہائی نہائی سی معلوم ہونے لگتی ہے۔ کلرکہار کے بل کھاتے راستوں پر امنڈتی گھٹائیں دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ فطرت کے الٹ چل کر انسان نے آسائش اور آسانی حاصل کرلی ہے یا وہ بہت سی خوشیوں سے محروم ہوگیا ہے۔ عجائب گھروں میں ہمارے اجداد کا رہن سہن محفوظ پڑا ہے۔ کیا ہم ان کی خوشیوں‘ قہقہوں اور محبتوں کو محفوظ نہیں کرسکتے۔ساون ایک موسم نہیں‘ ساون ایک روایت ہے۔ یہ اس دھرتی کے لوگوں کے مابین رشتوں کا نام ہے‘ یہ گرمی اور لو کے جبر سے رہائی کی تحریک ہے‘ یہ ہماری ان دیسی محبتوں کی خوشبو ہے جسے ابھی تک کشید کرکے بازار میں فروخت نہیں کیا جاسکا۔ یہ قدرت کی وہ نشانی ہے جو انسانی ذہن کو آج بھی حیرت میں مبتلا کردیتی ہے۔ اس موسم میں وہ سب کچھ ہے جس سے جدید دور کا انسان محروم ہے۔نرماہٹ‘ گدگداہٹ‘ فرحت ظاہر ہونے کا موسم‘ سبزے کی صورت میں زندگی کا معجزہ ظاہر ہونے کا موسم‘ زمین کے کنویں بھرنے کا موسم۔ہم ساون کا حسن محفوظ کرسکتے ہیں اگر اپنے گھروں میں گنجائش کے لحاظ سے کوئی درخت‘ کوئی جھاڑی‘ کوئی بیل لگالیں۔ پلاسٹک کے شاپر بیگ سے جان چھڑا لیں۔ گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر کے وقت نکاسی آب کا معقول انتظام کرلیں اور راستوں کے کچے کناروں پر گھاس وغیرہ لگا دیں۔ ہماری ذرا سی توجہ ہماری حبس زدہ زندگی میں خوشیوں کی پھوار شامل کرسکتی ہے۔ گلیوں بازاروں میں پھر سے اجلا‘ نتھرا اور شفاف ٹھنڈا پانی بہتا نظر آسکتا ہے۔