امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ خوش گوار یادیں , دلچسپ واقعات

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ  خوش گوار یادیں , دلچسپ واقعات

اسپیشل فیچر

تحریر :


میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے تحریک آزادی کے عظیم رہنما امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی رفاقت میسر آئی۔ میں مدرسہ قاسم العلوم ،ملتان میں زیر تعلیم تھا اور شاہ جی کا گھر مدرسہ کے قریب۔ تعلیمی مصروفیت کے بعد جو وقت بچتا ،میں اُن کی خدمت میں حاضر ہو جاتا۔ میرا زیادہ وقت شاہ جی کی مجلس علم و عرفان میں ہی گزرتا۔ اُن کی مجلس میں عام لوگ بھی ہوتے اور بڑی شخصیات بھی، لیکن وہ سب کو محبت سے ملتے اور احترام دیتے۔ مجھ جیسے ایک طالب علم کو بھی ان کی بے پناہ شفقت و مہربانی میسر آگئی تھی۔ شاہ جی کو ہم سے جدا ہوئے پچاس برس بیت چکے، مگر اُن کی یاد یں اُن کی باتیں اور بعض واقعات آج بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ ۹؍ مئی ۱۹۵۸ء کو سابق صدر سکندر مرزا، ملتان آئے۔ ان کی خواہش تھی کہ شاہ جی انہیں گیلانیوں کی دعوت پر ملیں۔ انہوں نے مظفر علی شمسی کو شاہ جی کی خدمت میں بھیجا۔ مظفر علی شمسی نے جب اپنی آمد کا مدعا بیان کیا، تو شاہ جی نے کہا: شمسی! میں تمہارے کہے پر عمل نہیں کر سکتا۔ اگر مرزا صاحب میرے جھونپڑے پر آ جائیں ،تو وہ بھی بلند ہو جائیں گے اور میں بھی۔ لوگ کہیں گے صدر مملکت ایک درویش کی کٹیا میں گیا۔ اگر میں انہیں ملنے جائوں ،تو اپنی عمر بھر کی کمائی برباد کر بیٹھوں گا، پھر مجھے اُن سے کوئی کام نہیں، انہیں کام ہے تو خود آجائیں۔ شمسی صاحب اپنا سا منہ لے کر چلے گئے اور سکندر مرزا کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ شاہ جی نے امرتسر میں دو مکان چھوڑے تھے۔ جب پاکستان آئے، تو عقیدت مندوں نے اصرار کیا کہ متروکہ مکانوں کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست دیں، مگر شاہ جی نے کہا: بھائی! عمر بھر میں نے مالک حقیق کے سوا کسی کے سامنے فدوی بن کر درخواست نہیں گزاری، اب کون سی ایسی ضرورت ہے کہ اپنے مالک سے منہ موڑ لوں۔ چنانچہ آپ نے کرائے کے ایک تین کمروں کے مکان میں اپنی بقیہ عمر گزاری۔ ایک روز آپ کے ایک عزیز ترین عقیدت مند سلیم اللہ خان راشن کارڈ کا فارم لے آئے۔ سلیم اللہ خان (مرحوم) نے جب آمدنی کی بابت پوچھا تو آپ نے مسکرا کر یوں کہا :کبھی دھن دھنا، کبھی مٹھی بنا، کبھی یہ بھی منع، آپ کا ذریعہ معاش فقط ذات باری پر توکل تھا۔ آپ نے کبھی کسی عقیدت مند کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا اور کبھی کسی مقروض کا ہدیہ قبول نہیں کیا۔ ایک دفعہ ایک فقیر نے دروازے پر صدا دی۔ شاہ جی نماز کے بعد دعا مانگ رہے تھے۔ اپنے رب حقیقی سے مخاطب ہو کر کہا :میں تیرا سائل ہوں اور یہ تیرے بندوں کا سائل ہے۔ جیل کے واقعات یہ ان دنوں کی بات ہے جب آپ کو دیناج پور جیل بھیج دیا گیا۔ آپ کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد اور جمعیت العلمائے ہند کے چند رہنما بھی تھے۔ جیل کے دروازے پر وارڈر نے تلاشی لینی شروع کر دی۔ جیل میں سیاسی قیدیوں کے لیے روپے لے جانا سخت منع تھا۔ جن لیڈروں کے پاس رقم تھی انہوں نے واپس کر دی۔ شاہ جی کے پاس بھی ۶۲ روپے کی رقم تھی۔ انہیں جیل میں رقم کی اہمیت کا علم تھا۔ اس لیے ہر قیمت پر یہ روپے اندر لے جانا چاہتے تھے۔ ساتھیوں نے منع کیا، مگر آپ باز نہ آئے۔ آخر تلاشی کرتے کرتے ان کی باری بھی آ گئی۔ انہوں نے بڑے رومال کے پہلو میں روپے باندھ رکھے تھے۔ وارڈرکے دیکھتے دیکھتے انہوں نے رومال اگلے قیدی کے کندھے پر ڈال دیا اور اپنے ہاتھ تلاشی دینے کے لیے بلند کر دئیے۔ اس طرح یہ ۶۲روپے جیل میں پہنچ گئے۔ شاہ جی نے اس رقم سے سگریٹ خرید کر ان سیاسی قیدیوں میں تقسیم کر دئیے، جو محض سگریٹ نہ ملنے کے باعث معافی مانگ کر رہا ہو جاتے۔ اسی جیل کا واقعہ ہے۔ ایک روز مولانا آزاد نے بڑے اہتمام سے چائے بنائی اور شاہ جی کو پیش کی۔ شاہ جی نے چائے پی لی اور چپ ہو رہے۔ شاہ جی کو خاموش دیکھ کر انہوں نے خود کہا: میرے بھائی! چائے کیسی رہی؟ شاہ جی بولے کہ ایک چیز کی کمی تھی۔ مولانا آزاد کا ماتھا ٹھنکا اور چہرے پر شکنیں آ گئیں۔ فرمانے لگے: وہ کیا میرے بھائی؟ شاہ جی نے کہا: اس میں زعفران نہیں ۔ مولانا نے اطمینان کا سانس لیا اور فرمایا: ہاں میرے بھائی! پھر وعدہ کیا کہ اگلے روز مزعفر چائے پلائیں گے۔ دوسرے روز زعفران سے معطر چائے تیار تھی، مگر عین اس وقت سپرنٹنڈنٹ دور سے آتا دکھائی دیا۔ مولانا بڑے گھبرائے کیونکہ جیل کے ضوابط کے مطابق دو طرح سے مجرم تھے ایک یہ کہ انہیں مولانا کے پاس آنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ وارڈر کو جل دے کر ان تک پہنچے تھے۔ دوم یہ کہ چائے کا لطف اٹھایا جا رہا تھا۔ آخر مولانا اٹھے اور دور جا کرسپرنٹنڈنٹ کا نہایت خندہ پیشانی سے استقبال کیا۔ سپرنٹنڈنٹ کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ وہ پھولا نہ سمایا اور مولانا سے باتیں کرتا ہوا دوسری جانب چلا گیا۔ ادھر شاہ جی مزے سے چائے پیتے رہے۔شاعروں، ادیبوں سے تعلقشاعروں اور ادیبوں سے آپ کے تعلقات بہت گہرے تھے۔ سخن فہمی کا ذوق بہت اعلیٰ تھا۔ اس لیے شعرا آپ کو اپنا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ہم عصر شاعروں میں سے آپ کو ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر سے خاص انس تھا۔ آپ ہمیشہ ان کی غیر ملکی بیوی کو بیٹی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ بیگم تاثیر آپ کا بڑا احترام کرتی تھیں۔ حتیٰ کہ آپ کو تعجب ہونے لگا۔ ایک دن اپنے اسی تعجب کا اظہار ڈاکٹر تاثیر سے کیا تو ثاثیر نے جواب دیا: شاہ جی یہ جس ملک کی رہنے والی ہے، وہاں بہو بیٹی کا سا مقام نہیں دیا جاتا۔ ایک دفعہ معروف شاعر سید عبدالحمید عدم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کافی دیر تک عدم کا کلام سنتے اور داد دیتے رہے۔ عدم کے جانے کے بعدحاضرین مجلس میں سے کسی نے کہا کہ ’’شاہ جی! عدم ؔشراب پیتا ہے‘‘ آپ کے چہرے پر رنج سے شکنیں ابھر آئیں اور کبیدہ خاطر ہو گئے۔ آپ نے کہا :تم نے اپنی آنکھوں سے اسے شراب پیتے دیکھا؟ کہنے لگا نہیں۔ آپ نے فرمایا تو پھر سُنی سُنائی بات کیوں کرتے ہو؟ ایک صاحب کہنے لگے کہ میں نے دیکھا ہے۔ اس پر آپ نے کہا : تو پھر خاموش رہو، در گزر اور چشم پوشی ربانی صفت ہے ،اس لیے تم بھی چشم پوشی سے کام لیا کرو۔ ایک تاریخی جلسہمراد آباد میں سائمن کمیشن کی رپورٹ کے خلاف جلسہ تھا، جس میں شاہ جی کے علاوہ جواہر لال نہرو کے والد موتی لال نہرو، سید محمود اور دیگر معزز لیڈر شامل تھے۔ شاہ جی نے محسوس کیاکہ جو کچھ مجھے کہنا تھا یہ حضرات کہہ چکے ہیں۔ زندگی میں پہلی بار شاہ جی کو پریشانی کا احساس ہونے لگا کہ آخر وہ کھڑے ہو کر کیا کہیں گے۔ اب سوائے اس کے چارہ کار کیا تھا کہ وہ اپنی تقریر کو ان جملوں کے ساتھ ختم کر دیں ’’ حاضرین اس موضوع پر میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا وہ مجھ سے پہلے کہا جا چکا ہے۔ لہٰذا میں شکریے کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں‘‘ مگر یہ تو اظہارِ شکست تھا۔ آخر بادل نخواستہ شاہ جی مائیک کا سہارا لے کر اٹھے۔ جب کھڑے ہوئے تو دیکھا سامنے کچھ لوگ سائمن کا علامتی جنازہ اٹھائے کھڑے ہیں اور سائمن کمیشن مردہ باد کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ شاہ جی کی زبان سے غالب کا یہ شعر بے ساختہ نکلا: ہوئے مر کے تم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا شعر کہنا تھا کہ حاضرین پر جذب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ کافی دیر تک وا واہ کا شور بلند ہوتا رہا۔ یہ شعر لوگوں نے کئی بار سنا ہو گا، مگر بخاری صاحب کی زبان میں کچھ اور ہی رس تھا۔ یہ حالت دیکھ کر موتی لال نہرو پکار اٹھے ۔ ارے ارے ارے! شاہ جی غضب کے آدمی ہو، کیا ہو گیا، لوگوں کو؟ احتسابِ ذاتانہی دنوں کا واقعہ ہے کہ حکیم محمد حنیف اللہ (مرحوم) کے مطب میں بیٹھے تھے کہ اچانک خود کلامی کرتے ہوئے اپنی ذات پر تنقید شروع کر دی۔ کچھ ایسے ہی جملے تھے: ’’تم نے کیا تقریر کی…تمہیں آتا کیا ہے … لوگ تمہیں سننے آئے تھے کیا… تمہاری حیثیت کیا ہے؟ … اللہ نے تم سے تقریر کرائی … لوگ تو اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی باتیں سننے آئے تھے۔ جب خاموش ہوئے، تو میں نے عرض کیا کہ آپ کس سے مخاطب تھے؟ فرمانے لگے کچھ نہیں! دہلی کا ایک جلسہ یاد آ گیا تھا۔ میری تقریر سننے کے لیے لاکھوں لوگ جمع تھے۔زندہ باد کے نعرے گونج رہے تھے۔ بس یہ خیال آیا ہی تھا اور میں استغفار میں مشغول ہو گیا۔ میں تو اپنا احتساب کر رہا تھا کہ وہ تقریر اللہ نے مجھ سے کرائی، لوگوں کو اللہ نے جلسہ میں بھیجا، میری کیا اوقات ہے، یہ تھا شاہ جی کا جذبۂ ایمانی اور احتسابِ ذات۔ جذبۂ ایمانیجنرل محمد ایوب خان اقتدار کے سنگھاسن پر نئے نئے قابض وبراجمان ہوئے تھے۔ان کے مارشل لاء کا بڑا رعب و دبدبہ تھا ۔ایک روز شاہ جی ، سلیمی دواخانہ (کچہری روڈ)تک جانے کے لیے گھر سے چلے، تو میں بھی اُن کے ساتھ تھا ۔راستے میں چلتے چلتے میں نے ملکی سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض حکومتی اقدامات کی تعریف شروع کردی۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ حضرت شاہ جی اپنی لاٹھی پر دونوں ہاتھ رکھ کر وہیں رک گئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے :’’مولوی یٰسین!تمہیں تو معلوم ہے کہ حدیث شریف میں نبی کریم ا نے ایمان کے تین درجے ارشاد فرمائے ہیں:(۱)منکرات کو ہاتھ کی طاقت سے روکو ،اس پر اختیار نہ ہو تو …(۲)زبان سے روکو ،اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو …(۳)دل میں برا سمجھواور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔یادر رکھو!جس دن ہمارے دلو ں میں حکمرانوں کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوگیا اور حکمران ہم سے مطمئن ہوگئے، وہ ہمارے ایمان کی جاں کنی کا آخری دن ہوگا ۔حکمرانوں کا ہمارے درپئے آزار رہنا ہی ہمارے ایمان کی علامت ہے‘‘۔مصائب میں صبربیماریوں کے ہجوم اور مصائب کی یلغار میں اس کوہِ استقامت کے معتقدات میں ادنیٰ لغزش بھی رو نما نہ ہوئی، ہر مزاج پرسی کرنے والے کو خندہ پیشانی سے الحمدللہ کہہ کر جواب دیتے۔ فرماتے : ہاں بھائی !الحمدللہ نہ کہوں تو او ر کیا کہوں؟۔ اس سے بد تر حالت بھی تو ہو سکتی ہے اور میں تو اُدھر سے شر کا قائل ہی نہیں ہوں، کوئی اللہ تعالیٰ ہمارے دشمن یا شریک ہیں جو ہمیں شر اور ایذا پہنچائیں، اُدھر تو خیر ہی خیر ہے، صرف ہمارا استعمال بعض چیزوں کو شر بنا دیتا ہے وہاں تو خیر ہی خیر ہے، وہ جو کچھ ہمارے لیے کرتے ہیں بہتر ہوتا ہے اگرچہ وہ ہمارے فہم سے بالاتر کیوں نہ ہو۔ اس کے بعد ایک مجذوب کا واقعہ ارشاد فرمایا کہ ان کی خدمت میں ایک رئیس حاضر ہوا ،اس نے عرض کیا :حضرت کچھ پریشانیاں ہیں دعا کرو۔ حضرت مجذوب نے فرمایا :یہی پریشانیاں کہ خدا آپ کی بات نہیں مانتا، یعنی جو کچھ آپ چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتا، تو آپ اس کی بات مان لیجئے، وہ اس کے زیادہ لائق ہے، پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ مصیبتوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بھائی اس کے سوا چارہ نہیں۔ الحمدللہ کہنے ہی میں خیر ہے۔ مجھے شاہ جی کی رفاقت میں جتنے دن بھی میسر آئے، وہ میری زندگی کا سرمایۂ عزیز ہیں۔ میرے فکر و عقیدہ کی اصلاح ہوئی، اعمال درست ہوئے، لکھنے پڑھنے اور بولنے کا سلیقہ سیکھا اور شعر و ادب سے مناسبت پیدا ہوئی۔ مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ۲۱؍ اگست ۱۹۶۱ء کو ان کے انتقال کے بعد تجہیز و تکفین کے تمام مراحل میں شریک رہا۔ شاہ جی زندہ تھے، تو لاکھوں کے مجمع سے خطاب فرماتے۔ انتقال ہوا ،تو لاکھوں مسلمان اُن کی نمازِ جنازہ میں شریک تھے۔ اُنہوں نے فقیرانہ زندگی میں لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کوہم سے جدا ہوئے نصف صدی ہو گئی لیکن لوگوں کے دلوں میں اُن کا احترام آج بھی موجود ہے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نئی ایپ نئی سہولت:گمشدہ سامان ہوا دھونڈنا آسان

نئی ایپ نئی سہولت:گمشدہ سامان ہوا دھونڈنا آسان

ڈیجیٹل دور میں جہاں جدید ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہے، وہیں قیمتی اشیاء کا گم ہو جانا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ موبائل فون، اسمارٹ واچ، وائرلیس ایئربڈز اور دیگر چھوٹے گیجٹس اکثر لاپرواہی یا مصروفیات کے باعث کہیں رکھ کر بھلا دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ایک نئی ایپ متعارف ہوئی ہے جو صارفین کو اپنے گم شدہ گیجٹس کو باآسانی تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ ایپ جدید ٹریکنگ سسٹم اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف اشیاء کا سراغ لگاتی ہے بلکہ صارفین کی پریشانی کو بھی کم کرتی ہے، جس سے روزمرہ زندگی مزید سہل ہو جاتی ہے۔کسی قیمتی چیز کے گم ہو جانے کا احساس، اور یہ نہ معلوم ہونا کہ وہ کہاں ہو سکتی ہے، اس سے زیادہ پریشان کن اور کچھ نہیں ہوتا۔ میرے ساتھ بھی حال ہی میں یہی ہوا، جب اچانک مجھے احساس ہوا کہ میری ''اورا‘‘ (Oura) رنگ کسی طرح میری انگلی سے پھسل کر کہیں گم ہوگئی ہے۔ اس وقت میں گھر پر ہی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ میں نے اسے آخری بار چند گھنٹے پہلے بیڈ روم میں چارج کرنے کے بعد پہنا تھا۔ اس کے بعد میری پوری شام اسے تلاش کرنے میں گزری اور یہاں تک کہ میں نے کچرے کے ڈبے کو بھی ایک ایک چیز نکال کر چیک کیا۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، میں نے پورا فلیٹ الٹ پلٹ کر رکھ دیا اور ٹارچ کی مدد سے ہر چھوٹے سے چھوٹے کونے کا جائزہ لیا۔ میری ''Oura ایپ‘‘ مجھے تسلی دیتی رہی کہ رنگ واقعی گھر میں ہی ہے، مگر وہ اس کی درست جگہ بتانے سے قاصر تھی۔ جب میری رنگ کی بیٹری ختم ہونے کے قریب پہنچی تو میں نے بے بسی کے عالم میں آن لائن کوئی ایسا طریقہ تلاش کرنا شروع کیا جو میری رہنمائی کر سکے۔ تب مجھے ایک مفت ایپ ''Wunderfind‘‘ کے بارے میں معلوم ہوا، جس نے مجھے سیدھا میری رنگ تک پہنچا دیا، جو میری گرم پانی کی بوتل اور اس کے کور کے درمیان چھپی ہوئی تھی۔یہ ایپ بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ''ڈیوائس ریڈار‘‘ استعمال کرتی ہے، جو آپ کے آس پاس موجود تمام ڈیوائسز کی فہرست فراہم کرتا ہے۔ اس میں ایپل مصنوعات، پورٹیبل اسپیکرز اور فٹنس ٹریکرز بھی شامل ہوتے ہیں۔ جب آپ کسی مخصوص ڈیوائس پر کلک کرتے ہیں تو یہ ایک فیصدی اسکور دکھاتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ اس کے کتنے قریب ہیں۔ آپ کو بس آہستہ آہستہ ادھر اُدھر حرکت کرنا ہوتی ہے تاکہ دیکھ سکیں کہ اسکور بڑھ رہا ہے یا کم ہو رہا ہے۔ یہ ایپ مجھے آہستہ آہستہ کمرے کے ایک کونے کی طرف لے گئی جہاں ہم گرم پانی کی بوتلیں رکھتے ہیں۔ جیسے ہی میں نے اپنا فون قریب کیا، اسکور اچانک 100 فیصد تک پہنچ گیا، جس سے ظاہر ہوا کہ میں گم شدہ ڈیوائس کے بالکل قریب ہوں۔ جب میں نے اپنی گرم پانی کی بوتل اٹھائی تو مجھے اس کے نچلے حصے میں رنگ محسوس ہوئی۔ جب میں نے کور کھولا تو بالآخر میری گمشدہ ہیلتھ ٹریکر سامنے آ گئی، جو گرم پانی کی بوتل اور اس کے اندرونی کپڑے کے درمیان پھنسی ہوئی تھی۔یہ ایپ آپ کو اپنے گمشدہ ایئر پوڈز، ایپل پنسل، آئی فون، آئی پیڈ، ایپل واچ اور دیگر ڈیوائسز تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔یہ ایپ چند ہی سیکنڈز میں آپ کی گمشدہ چیز کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔اب تک ایک لاکھ 15ہزار صارفین اس ایپ کو ریٹنگ دے چکے ہیں، اور اسے اوسطاً 5 میں سے 4.5 اسٹارز ملے ہیں۔ زیادہ تر صارفین نے خوشی کا اظہار کیا کہ اس ایپ نے ان کی گمشدہ اشیاء ڈھونڈنے میں مدد دی۔ ایک صارف کے مطابق، اس ایپ نے ان کے سماعت کے آلے کو گاڑی میں مڑی ہوئی نیپکن کے اندر تلاش کرنے میں مدد دی، جبکہ ایک اور شخص نے بتایا کہ اس نے صرف دو ہفتے پہلے اپنے ہیڈفونز اسی ایپ کی مدد سے ڈھونڈ لیے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ انہوں نے چند ہی منٹوں میں اپنی گمشدہ ایپل پنسل کو کپڑوں کی ٹوکری میں تلاش کر لیا، جبکہ ایک اور صارف نے اسے اپنے گدے اور بیڈ فریم کے درمیان دراڑ میں پایا۔ایک صارف نے لکھا کہ میں نے حال ہی میں پہلی بار سماعت کے جدید اور چھوٹے آلات حاصل کیے۔ ان کا نقصان یہ ہے کہ اگر وہ کہیں رکھ کر بھول جائیں تو ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے یہ بلیوٹوتھ سے منسلک تھے، اس لیے میں نے ایپ کے ذریعے گمشدہ ڈیوائس کو تلاش کر لیا۔ تاہم کچھ صارفین نے شکایت کی کہ اسکور اپڈیٹ ہونے میں تھوڑی تاخیر ہوتی ہے، اس لیے آہستہ حرکت کرنا اور صبر سے کام لینا ضروری ہے۔اپنی انگوٹھی کو اس ایپ کی مدد سے ڈھونڈنے کے بعد، میں نے اپنے تمام اہلِ خانہ اور دوستوں کو اس کے بارے میں بتایا۔ سچ کہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی اپنی رنگ تلاش کر پاتی، اگر اس ایپ کی مدد نہ ملتی۔یہ ایپ صرف ان ڈیوائسز پر کام کرتی ہے جو اس وقت بلوٹوتھ سگنل خارج کر رہی ہوں، اس لیے تیزی ضروری ہے تاکہ بیٹری ختم ہونے سے پہلے آپ اپنی چیز تلاش کر سکیں۔ ''Wunderfind‘‘ایپ، ایپ سٹور اور گوگل پلے سٹور دونوں پر دستیاب ہے۔

منفرد کلیکشن، منفرد اعزاز

منفرد کلیکشن، منفرد اعزاز

3,482 بیئر برکس کھلونے جمع کرنے کا ریکارڈدنیا بھر میں شوق اور جنون کی بے شمار کہانیاں سننے کو ملتی ہیں، مگر بعض افراد اپنے ذوق کو اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ وہ ایک نئی تاریخ رقم کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں بیئر برکس (Bearbricks) کے ایک کلیکٹر نے تقریباً 3,500 مختلف ڈیزائنر کے کھلونوں کا نایاب مجموعہ اکٹھا کر کے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جاپانی کمپنی ''میڈیکم ٹوائے‘‘ (Medicom Toy) کے تیار کردہ یہ کھلونے محض کھیل کی اشیاء نہیں بلکہ جدید آرٹ، ثقافت اور تخلیقی اظہار کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ نہ صرف ذاتی شوق کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں کلکشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے۔جو چیز ایک شوق کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ بالآخر بیئر برکس (Bearbricks) کے پرجوش امریکی مداح ڈینیئل پارک کیلئے گنیز ورلڈ ریکارڈز کا اعزاز بن گئی، جنہوں نے اس مقبول برانڈ کی کل 3,482 اشیاء کا حیرت انگیز مجموعہ جمع کر لیا ہے۔اس مارچ، فخر کے ساتھ ریکارڈ رکھنے والے جو سوشل میڈیا پر ''برک شکاگو‘‘ (BrickChicago) کے نام سے جانے جاتے ہیں نے رنگ برنگی پینٹ شدہ پلاسٹک مجسموں سے سجی اپنی وسیع شیلفس کے ساتھ بیئر برک (Bearbrick) ریچھوں کے سب سے بڑے مجموعے کا اعزاز حاصل کر لیا۔پانچ سال پہلے انہوں نے اپنی اس مہم کا آغاز ایک واحد ''بلائنڈ باکس‘‘ کھولنے سے کیا تھا اور اسی یادگار دن کے بعد سے وہ اپنے ہوم آفس کو نہایت احتیاط سے ایک ایسے عجائب گھر کی شکل دیتے آئے ہیں جو ان ریچھوں کی مشہور سیریز کیلئے وقف ہے۔بیئر برکس (Bearbricks) پہلی بار 2001ء میں جاپان سے تعلق رکھنے والے تاتسوہیکو آکاشی نے تخلیق کیے، جو کھلونا ساز کمپنی ''میڈیکم ٹوائے‘‘ کے بانی ہیں۔ آکاشی کو 2001ء میں ٹوکیو میں ہونے والے ''ورلڈ کریکٹر کنونشن 2001ء ‘‘ کے شرکاء کو دینے کیلئے ایک تحفہ ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اور ٹیڈی بیئر کی 100ویں سالگرہ کی مناسبت سے انہوں نے اپنے کھلونوں کے سروں کو مشہور ریچھ کے سر سے تبدیل کر دیا یوں ایک نئی قسم کے جمع کی جانے والی آئٹم نے جنم لیا، جن میں مختلف رنگوں اور ڈیزائنز کی بھرمار ہے۔آج بیئر برکس کھلونوں اور فن کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں، کیونکہ ہر چھ ماہ بعد آنے والی نئی کلیکشن میں مشہور شخصیات، فنکاروں، ڈیزائنرز اور موسیقاروں کی جانب سے تیار کردہ منفرد اور قیمتی ڈیزائن شامل ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیئر برکس کے مجموعے کا ابتدائی ریکارڈ 2020ء میں چینی کلیکٹر کیگائو (Gao Ke )کے پاس تھا، جن کے پاس 1,008 ریچھوں کا مجموعہ تھا، لیکن ڈینیئل پارک نے اپنے 3,482 کھلونوں کے ساتھ اس ریکارڈ کو نمایاں طور پر پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ڈینیئل پارک نے گنیز ورلڈ ریکارڈ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جس چیز نے اُس وقت مجھے متاثر کیا تھا اور آج بھی مجھے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے، وہ اس معیاری پلیٹ فارم کی شاندار روایت ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کینوس ہے جو لامحدود تخلیقی اظہار کی اجازت دیتا ہے، جبکہ اپنی ایک جیسی اور منفرد پہچان رکھنے والی ساخت کو برقرار رکھتا ہے۔ڈینیئل پارک نے بتایا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل کرنے کی ترغیب اُس وقت ملی جب وہ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب دیکھ رہے تھے، اور اُس نے پوچھا کہ بیئر برکس کے مجموعے کا ریکارڈ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اگر آپ میں جذبہ، محنت اور نظم و ضبط ہو تو آپ اپنے ذاتی شوق کو عالمی سطح کی کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔ اگرچہ تصدیقی عمل وقت طلب تھا، مگر وہ اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ یہ اعزاز اپنے خاندان کے نام کر سکے۔ اگرچہ یہ کام تھکا دینے والا تھا، لیکن یہ محبت سے کیا گیا ایک ایسا سفر تھا جسے میں اپنی بیٹی اور عالمی کلیکٹر کمیونٹی کے سامنے پیش کرنے پر بے حد فخر محسوس کرتا ہوں۔ڈینیئل پارک نے مزید کہا کہ بیئر برکس کے ڈیزائن کی ہمہ جہتی اور لچک نے اُن کے گھر کے ہر فرد کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس کی وجہ سے سب لوگ اُن کے اس کلیکشن کے مشن سے خود کو جوڑ پاتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

آسٹریلیا :پہلی قومی پارلیمنٹ9مئی1901ء کو آسٹریلیا نے میلبورن میں اپنی پہلی قومی پارلیمنٹ کا افتتاح کیا، جو اس کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس کے ساتھ ہی آسٹریلیا کی نوآبادیاتی ریاستوں نے ایک وفاقی نظام کے تحت متحد ہو کر ایک خودمختار قوم کی شکل اختیار کی۔ پارلیمنٹ کے قیام نے ملک میں جمہوری نظام کی بنیاد رکھی اور عوام کو نمائندگی کا حق فراہم کیا۔ اس تاریخی موقع پر مختلف ریاستوں کے نمائندے جمع ہوئے اور نئے آئینی ڈھانچے کے مطابق قانون سازی کے عمل کا آغاز کیا۔ گھانا فٹ بال بھگدڑٓٓٓٓٓٓ آج کے دن 2001ء میں گھانا کے شہر اکرا میں واقع اکرا اسپورٹس اسٹیڈیم میں ایک افسوسناک سانحہ پیش آیا جس میں 129 فٹ بال شائقین ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ بعد ازاں ''اکرا اسپورٹس اسٹیڈیم ڈیزاسٹر‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب میچ کے دوران ریفری کے ایک متنازع فیصلے پر تماشائی مشتعل ہو گئے۔ صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی۔ اسی بھگدڑ کے باعث درجنوں افراد کچلے گئے اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ کئی دیگر زخمی بھی ہوئے۔دوسری جنگ ارتوا1915ء میں جنگ عظیم اوّل کے دوران دوسری جنگ ارتوا جرمن اور فرانسیسی افواج کے درمیان لڑی گئی۔ یہ معرکہ فرانس کے علاقے ارتوا میں پیش آیا اور مغربی محاذ کی اہم جھڑپوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جنگ کا مقصد فرانسیسی افواج کی جانب سے جرمن دفاعی لائنوں کو توڑنا تھا، تاہم شدید مزاحمت اور خندقوں کی جنگ نے پیش قدمی کو مشکل بنا دیا۔ اس لڑائی میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا اور یہ جنگ خندقوں میں لڑی جانے والی طویل اور خونریز لڑائیوں کی ایک نمایاں مثال بن گئی۔یوم یورپیوم یورپ ''یورپ میں امن اور اتحاد‘‘کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن 5 مئی کو یورپی کونسل جبکہ 9 مئی کو یورپی یونین کی جانب سے منایا جاتا ہے۔یومِ یورپ پہلی مرتبہ کونسل آف یورپ کی جانب سے 1964ء میں منایا گیا تھا اور اسی برس اس دن کو بین الاقوامی شہر ت بھی حاصل ہوئی۔ یورپی یونین نے بعد میں 1950ء کے شومن اعلامیہ کی یاد میں اپنا یوم یورپ منانا شروع کیا۔ کچھ لوگ اسے ''یوم متحدہ یورپ‘‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔اس دن کو شومن علامیہ کی برسی کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ یہ وہی علامیہ تھا جسے پورا یورپ متحد ہوا اور یورپی اقوام کے درمیان ہمیشہ کیلئے جنگوں کا خاتمہ ہو گیا۔اسی علامیہ نے یورپی یونین کی بنیاد رکھی۔ویسٹری مائن حادثہویسٹری مائن کینیڈا میں کوئلے کی کان تھی۔یہ کان ستمبر 1991ء میں کھولی گئی، لیکن آٹھ ماہ بعد بند ہو گئی۔ یہ اس وقت بند کی گئی جب 9 مئی 1992ء کو زیر زمین میتھین کی وجہ سے ہونے والے دھماکے کی وجہ سے 26کان کن ہلاک ہو گئے۔ کان کنوں کو بچانے کی ہفتہ بھر کوشش کی گئی لیکن مایوسی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آسکا۔ 1997ء کے آخر میں انکوائری رپورٹ شائع کی گئی،رپورٹ میں بتایا گیا کہ کان کا انتظام غلط تھا، کان کنوں کی حفاظت کو نظر انداز کیا گیا تھا اور ناقص حکومتی ریگولیٹرز کی نگرانی اس تباہی کا باعث بنی۔

نئی ویڈیو انکرپشن ٹیکنالوجی

نئی ویڈیو انکرپشن ٹیکنالوجی

کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرے سے محفوظٹیکنالوجی کی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پیش رفت ہو رہی ہے لیکن اسی کے ساتھ سکیورٹی کے خطرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی ہے جو مستقبل میں موجودہ انکرپشن سسٹمز کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں سائنسدانوں نے ایک نئی اور جدید انکرپشن تکنیک تیار کی ہے جو خاص طور پر ویڈیو فائلز کو کوانٹم حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔یہ تحقیق اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابھی سے سکیورٹی کے نئے حل تلاش کرنا کتنا ضروری ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ کیا ہے؟روایتی کمپیوٹرز ڈیٹا کو 0 اور 1 کی صورت میں پراسیس کرتے ہیں لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کوانٹم بِٹس (qubits) استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت متعدد حالتوں میں رہ سکتے ہیں۔ اس صلاحیت کی وجہ سے یہ کمپیوٹرز بہت پیچیدہ حساب کو چند سیکنڈز میں حل کر سکتے ہیں۔یہی طاقت انکرپشن کے لیے خطرہ ہے۔ آج کی زیادہ تر سکیورٹی جیسا کہ بینکنگ سسٹمز،واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپس،آن لائن ویڈیو سٹریمز،کلاؤڈ سٹوریج سب RSA اور دیگر روایتی انکرپشن الگوردمز پر چلتے ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹرز مستقبل میں ان کو توڑنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں جس سے ڈیٹا چوری کا خطرہ بڑھ جائے گا۔نئی تحقیق کیا ہے؟حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک نئی قسم کی انکرپشن تیار کی ہے جو خاص طور پر ویڈیو فائلز کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ ویڈیوز عام فائلوں سے زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں کیونکہ ان میں ہزاروں فریمز ہوتے ہیں جو مسلسل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔اس نئے طریقے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو کو ایک مکمل فائل کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ویڈیو کو الگ الگ فریمز میں تقسیم کرتا ہے،ہر فریم کو الگ الگ انکرپٹ کیا جاتا ہے،ہر فریم کے لیے مختلف اور غیر متوقع cryptographic keys استعمال کی جاتی ہیں،ڈیٹا میں موجود پیٹرنز کو ختم کر دیا جاتا ہے۔اس طریقے سے کوئی ہیکر اگر ایک فریم تک رسائی حاصل کر بھی لے تو وہ پوری ویڈیو کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔اس طریقے کی اہم جدتعام ویڈیو انکرپشن میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ویڈیو کمپریشن کی وجہ سے کچھ پیٹرنز باقی رہ جاتے ہیں۔ یہ پیٹرنز ہیکرز کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔نئی تکنیک ان پیٹرنز کو ختم کرنے کے لیے Randomization بڑھاتی ہے اورہر فریم کو الگ الگ غیر متوقع کوڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ Entropy کو بڑھاتی ہے یعنی ڈیٹا کو زیادہ بے ترتیب بنا دیا جاتا ہے تاکہ اس میں کوئی شناختی پیٹرن نہ رہے۔یوں ہر فریم ایک علیحدہ سکیورٹی لیئر کے ساتھ محفوظ ہوتا ہے۔یہ تحقیق کیوں اہم ہے؟آج کے دور میں ویڈیو ڈیٹا انتہائی حساس ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پرسکیورٹی کیمرہ فوٹیج،آن لائن ویڈیو کالز،طبی ریکارڈز، فوجی یا حکومتی نگرانی کے نظام۔اگر یہ ڈیٹا لیک ہو جائے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایک ایسا نظام جو مستقبل کے خطرات سے پہلے ہی محفوظ ہو بہت ضروری ہے۔اس تحقیق کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹرز کے لیے نہیں بلکہ آج کے عام کمپیوٹرز پر بھی چل سکتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ سکیورٹی انفراسٹرکچر کو مکمل تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں جبکہ مستقبل کے لیے کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیاری بھی ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔تحقیقی تجربات میں یہ دیکھا گیا کہ نئی انکرپشن تکنیک نے روایتی ویڈیو انکرپشن کے مقابلے میں تقریباً 10 سے 15 فیصد بہتر سکیورٹی فراہم کی۔اگرچہ یہ بہت بڑا اضافہ نہیں لگتا لیکن کرپٹو گرافی میں اتنا بھی بہت ہے کیونکہ یہ حملہ آوروں کے لیے کامیابی کو کئی گنا مشکل بنا دے گا۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے مستقبل میں کئی ممکنہ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس سے آن لائن سٹریمنگ پلیٹ فارمز کی حفاظت ہو گی۔کلاؤڈ بیسڈ ویڈیو سٹوریج ہو گی۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اپنائی گئی تو یہ فوجی اور دفاعی نظام،ہائی سکیورٹی ویڈیو کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سکیورٹی کے مستقبل کو مضبوط بنا سکتی ہے۔بہرحال یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی انکرپشن مکمل طور پر ناقابلِ شکست نہیں، لیکن یہ محفوظ مستقبل کی جانب ایک بڑا قدم ضرور ہے جو خطرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔خاص طور پر جب کوانٹم کمپیوٹرز عام ہو جائیں گے تو ایسے سسٹمز ہی ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کا بنیادی ذریعہ بنیں گے۔یہ نئی ویڈیو انکرپشن تکنیک اس بات کی علامت ہے کہ سائنسدان مستقبل کے خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔بلا شبہ کوانٹم کمپیوٹنگ جہاں ایک طرف بے پناہ طاقت رکھتی ہے وہیں یہ موجودہ سکیورٹی سسٹمز کے لیے خطرہ بھی ہے،مگراس تحقیق نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جو ویڈیو ڈیٹا کو زیادہ محفوظ بنا کر مستقبل کے ممکنہ حملوں سے بچا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف آج کی ضرورت ہے بلکہ کل کی حفاظت کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔

مینٹل میتھ

مینٹل میتھ

بچوں کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتوں پر اثراتآج کے جدید اور تیز رفتار دور میں تعلیم صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہی بلکہ ذہنی صلاحیتوں کی مضبوطی بھی اتنی ہی ضروری ہو گئی ہے۔ انہی اہم صلاحیتوں میں سے ایک مینٹل میتھ (Mental math) ہے۔ مینٹل میتھ سے مراد بغیر کاغذ، قلم یا کیلکولیٹر کے صرف دماغ کی مدد سے حساب کرنا ہے۔ یہ مہارت بچوں کی ذہنی نشوونما، تعلیمی کارکردگی اور روزمرہ زندگی میں کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔مینٹل میتھ کی اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ بچوں کی شخصیت اور ذہنی صلاحیتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ دماغی نشوونما اور ذہنی طاقتماہرین کے مطابق مینٹل میتھ بچوں کے دماغ کو زیادہ فعال بناتا ہے۔ جب بچہ ذہنی طور پر حساب کرتا ہے تو اس کا دماغ مسلسل سوچنے، تجزیہ کرنے اور حل تلاش کرنے کی مشق کرتا ہے۔ یہ عمل دماغی خلیوں کو مضبوط کرتا ہے اور بچوں میں منطقی سوچ ( Logical Thinking) پیدا کرتا ہے۔ یادداشت اور توجہ میں بہتریمینٹل میتھ بچوں کی یاد رکھنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتا ہے کیونکہ انہیں نمبرز اور گنتی کو ذہن میں رکھ کر حل نکالنا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ان کی توجہ اورذہنی ارتکاز کو بھی بڑھاتا ہے کیونکہ ذہنی حساب کے دوران بچہ مکمل طور پر مسئلے پر فوکس کرتا ہے۔ خود اعتمادی میں اضافہجب بچہ بغیر کسی مدد کے صحیح جواب دیتا ہے تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہ اعتماد نہ صرف ریاضی بلکہ دیگر مضامین اور زندگی کے فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تعلیمی کارکردگی میں بہتریمینٹل میتھ بچوں کو امتحانات میں تیزی اور درستگی کے ساتھ سوال حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر ریاضی میں یہ مہارت بچوں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر کرتی ہے اور انہیں وقت کے اندر زیادہ سوال حل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں استعمالیہ مہارت صرف سکول تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی بہت اہم ہے۔ خریداری کے دوران بل کا حساب، رقم کی تقسیم، یا وقت کا اندازہ لگانا، یہ سب کام ذہنی حساب سے آسان ہو جاتے ہیں۔ قوت فیصلہ کی تیزیمینٹل میتھ بچوں کو تیزی سے سوچنے اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں وقت بہت قیمتی ہے یہ مہارت بچوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ ریاضی سے خوف کم کرنااکثر بچے ریاضی کو مشکل سمجھتے ہیں لیکن جب وہ مینٹل میتھ کی مشق کرتے ہیں تو ان کا ریاضی سے خوف کم ہو جاتا ہے اور یہ ان کے لیے ایک دلچسپ سرگرمی بن جاتی ہے۔مینٹل میتھ کی صلاحیت کیسے بڑھائیں؟بچوں میں مینٹل میتھ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مستقل مشق اور دلچسپ طریقے اپنانا بہت ضروری ہے۔بچوں کو روزانہ چھوٹے چھوٹے حسابی سوالات دیے جائیں۔ ابتدا میں آسان سوالات رکھیں اور آہستہ آہستہ مشکل سطح بڑھائیں۔نمبرز کو توڑ کر حل کرنا سیکھیں مثلاً 58 36 کو حل کرنے کے لیے پہلے 50 30 اور پھر 8 6 الگ الگ کریں۔ اس طریقے سے حساب کرنا آسان ہو جاتا ہے اور دماغ زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔ نمبر گیمز، میتھ پزلز اور تعلیمی ایپس بچوں کے لیے سیکھنے کے عمل کو دلچسپ بناتے ہیں اور ان کی ذہنی صلاحیت بڑھاتے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں استعمالوالدین بچوں کو روزمرہ کاموں میں شامل کریں جیسے خریداری کے دوران حساب لگوانا یا بچت کا اندازہ کروانا۔ اس سے عملی سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔بچوں کو محدود وقت میں سوال حل کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ ان کی رفتار اور ذہنی چستی بڑھے۔جب بچہ درست جواب دے تو اس کی تعریف کریں۔ حوصلہ افزائی بچوں میں مزید سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔والدین اور اساتذہ کا کردارمینٹل میتھ کی ترقی میں والدین اور اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے انہیں دلچسپ طریقوں سے سکھائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ کلاس میں سرگرمیاں، گروپ ورک اور ذہنی کھیل شامل کریں تاکہ بچے سیکھنے کے عمل میں دلچسپی لیں۔مینٹل میتھ بچوں کی ذہنی، تعلیمی اور عملی زندگی کے لیے ایک انتہائی اہم مہارت ہے۔ یہ نہ صرف ان کی ریاضی کی سمجھ کو بہتر بناتی ہے بلکہ ان کی یادداشت، توجہ، خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ بچوں کی صحیح رہنمائی کریں اور انہیں دلچسپ طریقوں سے سکھائیں تو ہر بچہ اس مہارت میں مہارت حاصل کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ہنڈنبرگ حادثہ 6 مئی 1937ء کو جرمنی کا مشہور ہوائی جہاز (ایئرشپ) ہنڈنبرگ امریکہ کے شہر لیکہرسٹ، نیو جرسی میں لینڈنگ کے دوران آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔ یہ ایئرشپ اُس وقت دنیا کی سب سے بڑی ہوائی سواریوں میں شمار ہوتا تھا اور اس میں مسافر اور عملہ سوار تھا۔ جیسے ہی یہ زمین کے قریب پہنچا زور دار دھماکہ ہوا اور پورا جہاز شعلوں میں گھِر گیا۔ اس حادثے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔یہ واقعہ اس لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس کے بعد ایئرشپ کے ذریعے مسافروں کی نقل و حمل تقریباً ختم ہو گئی۔ اس واقعے نے ہوابازی کی صنعت کو زیادہ محفوظ ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کیا اور جدید ہوائی جہازوں کی ترقی کو تیز کیا۔ انگلش چینل ٹنل کا افتتاح6 مئی 1994ء کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان زیر سمندر ریلوے سرنگ ''چینل ٹنل‘‘ کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ اس عظیم منصوبے کا افتتاح برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور فرانس کے صدر فرانسوا میتران نے کیا۔ یہ سرنگ تقریباً 50 کلومیٹر لمبی ہے اور انگلینڈ کو فرانس سے براہِ راست جوڑتی ہے۔یہ انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا جس پر کئی دہائیوں تک کام ہوتا رہا۔ اس سرنگ نے یورپ میں سفر اور تجارت کو بہت آسان بنا دیا۔ اب لوگ ٹرین کے ذریعے چند گھنٹوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک جا سکتے ہیں۔ راجر بینسٹرکا ریکارڈ6 مئی 1954ء کو برطانیہ کے ایتھلیٹ راجر بینسٹر نے ایک میل (تقریباً 1.6 کلومیٹر) کی دوڑ چار منٹ سے کم وقت میں مکمل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ انہوں نے یہ فاصلہ 3 منٹ 59.4 سیکنڈ میں طے کیا جو اُس وقت ناممکن سمجھا جانے والا کارنامہ تھا۔اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ انسان کے لیے چار منٹ سے کم وقت میں ایک میل دوڑنا جسمانی طور پر ممکن نہیں۔ لیکن بینسٹر نے اپنی محنت، تربیت اور عزم سے اس تصور کو غلط ثابت کیا۔ ان کے کارنامے نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو نئی ہمت دی اور کھیلوں میں نئی سوچ کو جنم دیا۔ روم کی لوٹ مار6 مئی 1527ء کو یورپ کی تاریخ کا ایک اہم اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جب رومی سلطنت کی فوجوں نے اٹلی کے شہر روم پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے کوSack of Rome کہا جاتا ہے۔ حملہ آور فوجیوں نے شہر میں داخل ہو کر لوٹ مار، قتل و غارت اور تباہی مچائی۔اس حملے میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور بے شمار تاریخی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ پوپ کلیمنٹ ہفتم کو بھی جان بچانے کے لیے قلعہ بند ہونا پڑا۔ یہ واقعہ نشاۃ ثانیہ کے دور کے خاتمے کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد روم کی ثقافتی اور سیاسی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا۔ پہلا ڈاک ٹکٹ جاری6 مئی 1840ء کو برطانیہ میں دنیا کا پہلا باقاعدہ ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ اس ٹکٹ پر ملکہ وکٹوریہ کی تصویر بنی ہوئی تھی اور اس کی قیمت ایک پینی تھی۔ اس سے پہلے خطوط بھیجنے کا نظام مختلف اور پیچیدہ تھا لیکن اس ٹکٹ نے ڈاک کے نظام کو آسان اور منظم بنا دیا۔یہ ایجاد دنیا بھر میں ڈاک کے نظام کے لیے ایک انقلاب ثابت ہوئی۔ اس کے بعد مختلف ممالک نے بھی اپنے ڈاک ٹکٹ جاری کرنا شروع کیے۔ ڈاک ٹکٹ نے نہ صرف مواصلات کو بہتر بنایا بلکہ تجارت، تعلیم اور سماجی روابط کو بھی فروغ دیا۔