نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آسٹریلیاسےامریکااوربرطانیہ کا 50ارب یوروکادفاعی معاہدہ
  • بریکنگ :- فرانس نےامریکااورآسٹریلیاسےاپناسفیرواپس بلالیا،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- فرانس کااتحادیوں پربحری آبدوزمعاہدے میں دھوکےکاالزام
  • بریکنگ :- فرانس آسٹریلیاسےبحری آبدوزکامعاہدہ کرنےمیں ناکام رہاتھا
Coronavirus Updates

ظہور نظر ترقی پسند فکر کے ترجمان سخن ور کی 35 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

ظہور نظر ترقی پسند فکر کے ترجمان سخن ور کی 35 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : مظفر اقبال


ظہور نظر 22 اگست 1923ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ اصل نام ظہور احمد تھا۔ صحافت سے وابستہ رہے۔ مختلف فلموں کے لئے نغمے لکھے۔ ترقی پسند فکر کا پرچار کیا۔ بہاولپور کا یہ روشن ستارہ 7 ستمبر 1981ء کو بجھ گیا۔ غم کی آگ میں جلنے والے ، ہر دکھ چُپ چُپ سہنے والے، نظمیں غزلیں کہنے والے ، ترقی پسند اور پرُامن شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ادیب اور شاعر ظہور نظر 7 ستمبر 1981ء کو پیوند خاک ہوئے۔اقبا ل ، فیض اور منیر کے بعد و ہ ایک ایسے شاعر ہیں، جنہوں نے بیک وقت نظم اور غز ل میں مقدار و معیار کے لحاظ سے اُردو ادب میں نمایاں ترین اضا فے کیے بالخصوص نظم نگاری کے میدان میں اسلوب اور تکنیک کے اعتبارسے وہ ایک ممتاز ترین مقام کے حامل ہیں۔’’ریزہ ریزہ‘‘ ان کی نظموں کا مجموعہ ہے، جس میں آزاد اور پابند نظم کا ایک اورمنفرد امتزاج موجود ہے، جس کو کوئی مخصوص نام نہیں دیا جا سکتا۔ بقول احمد ندیم قاسمی ’’ ظہور نظر نے جو نظم کہی و ہ تصدق حسین خالد ، میرا جی اور ن م راشد کے برعکس ایک بالکل الگ صنف ہے ۔ اگر ہمارے ہاں آزاد نظم کو زندہ رہنا ہے، تو اسے ظہور نظر کا سلیقہ اختیار کرنا ہوگا‘‘۔ریزہ ریزہ میں شامل سرگوشی، میں نادم ہوں ، محنت کش، آخری ملاقات ، یہ جنگل کون کاٹے گا اور یہ جبر کی کون سی منزل ہے ایسی نظمیں ہیں، جن میں شاعر کا فن بلندیوں کو چُھورہا ہے۔ظہور نظر عام اور زبانی قسم کے ترقی پسند شاعر نہیں۔ انہوں نے حمید اختر ، م حسن لطیفی اور ساحر لدھیانوی کی رفاقت میں اس فکر کو نہ صرف اپنا نظریہ فن بنایا بلکہ آخری دم تک اس ترقی پسند فکر کے عملی مبلغ بھی رہے ۔ حمید اختر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کرشن چندرکے معروف افسانے ’’ ان داتا‘‘ کو سٹیج کرنے کا خیال سوجھا ،تو ظہور نظر نے اس میں بھر پور اورکلیدی کردار اد ا کیا ۔ان کا دوسرا مجموعہ کلا م’’ وفا کاسفر ‘‘ کے نام سے 1986ء میں شائع ہوا، جس میں نظموں کے ساتھ ساتھ 78 غزلیات بھی شامل ہیں ۔اُردوشاعری کو ایسے نادر نمونے / فن پارے دینے والے شاعر کوزندگی بھر سخت جدوجہد کا سامنا رہا ۔ زندگی کی سختی اور تلخی کو سہنا پڑا ۔ فکری اور عملی طور پر ان کی زندگی کامیاب جدوجہد سے عبارت ہے ۔ انہوں نے ہمیشہ ترقی پسندانہ اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانے میں اپنا خون جگر صرف کیا ۔ فروغ صبح چمن میں ایک کُل وقتی ترقی پسند شاعر کا کردار ادا کیا ۔اہل ِ شہر کی طر ف سے کم وبیش اسی قسم کی ناقدری ، سفاکی اور بے حسی اس ظہور نظر کے ساتھ برتی گئی ،جو بہاولپور کی پہچان تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس روشن فکر شاعر کی اعزاز کے ساتھ تدفین کی جاتی، مگر افسوس صد افسوس کہ نمازِ جنازہ کے وقت اورمقام کا اعلان ہونے سے قبل اُن کے کافر اور ملحد ہونے کے اعلانات کیے گئے اور اہل ِ شہر کو ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے روکنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔ اُن کے قریبی دوستوں اور عزیزوں کو تدفین سے پہلے ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ ثابت کرنا پڑا۔شہر کے مفتی نے مرحوم کا اسلامی کلام دیکھ کر ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ قرار دیا۔یوں ’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘۔ ظہور نظر کی ادبی برادری نے ان کی وہ پذیرائی نہ کی، جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے ۔ ظہور نظر کے فن اور شخصیت پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر خالق تنویر کے بقول ’’ہمارے ذرائع ابلاغ نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی، وہ ناقدین کی بے اعتنائی اور ظالمانہ بے رُخی کا شکار ہوئے ‘‘ ۔ اپنے اعلیٰ آدمی کے ساتھ اہل شہرکا یہ سلوک اور اہل قلم کا یہ رویہ اگرچہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، مگر ہم کب تک اپنے تخلیق کاروں کو گمنامی کے گڑھوں میں دھکیلتے رہیں گے ؟ کب تک ہر معتبر لکھاری کو گھٹیا اور فضول قسم کے الزامات سے نامعتبر کیا جاتا رہے گا؟ کب تک شاعر اور ادیب کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا رہے گا؟کب تک ہم کسی کی عظمت کا اعتراف کرنے میں بخل اور مصلحت سے کام لیتے رہیں گے؟ کب تک ہم منٹو، شکیب اور اقبال ساجد جیسے بے بدل تخلیق کاروں پر بات کرنے سے کتراتے اور ہچکچاتے رہیں گے؟ کب تک ان کے فن اور شخصیت کو شجر ممنوعہ قرار دیتے رہیں گے ؟ کب تک حقائق سے نظریں چُراتے رہیں گے؟ تاریخ شاہد ہے کہ عظیم تخلیق کار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ظہور نظر جیسے لوگ اپنے شہر کا فخر ہوتے ہیں،ایسے لوگ بہت کمیا ب ہیں ۔ ان کی قدردانی اور فن شناسی سماجی اور ریاستی ہر دو سطح پر ضروری ہے ۔نمونہ کلامدیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیںرات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرفجان لیوا خوف تھا لیکن ہُوا کچھ بھی نہیںوہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر میں نے اُ س کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیںترے ستم کا گلہ یوں بھی کر گئے ہیں لوگ کہ اور کچھ نہ چلا بس تو مر گئے ہیں لوگ زمین پائوں تلے تھی نہ عرش سر پر تھامگر میں پھر بھی کسی آس کے سفر پر تھاگرا مکان مجھ آوارہ شخص کا جس شبمیں اتفاق سے اس روز اپنے گھر پر تھا٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو‘‘

’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو‘‘

عرفان کھوسٹ واقعہ بیان کرتے ہیں''میری اور استاد امانت علی خان کی اچھی خاصی دوستی تھی۔وہ اتنے ہمدرد اور مخلص انسان تھے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔جب میں نے ریڈیو پہ کام شروع کیا تو استاد امانت علی خان کا طوطی بولتا تھا۔کسی وجہ سے ریڈیو پہ میرے پروگرام بند ہو گئے اور میں بہت دل گرفتہ تھا۔امانت علی خان سے اُس وقت تک میری محض سلام دُعا ہی تھی۔مجھے پریشان دیکھا تو پوچھنے لگے کیا ہوا؟۔میں نے بتا دیا۔اُنہوں نے فوری طور پر ڈی جی کو فون کیا اور میرے پروگرام بحال کرائے‘‘عرفان کھوسٹ کے بقول ایسی شاندار شخصیت میں نے نہیں دیکھی ۔اخلاص اور محبت کا پیکر!گزشتہ روز برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے ماہر اِسی گائیک استاد امانت علی خان کی 47 ویں برسی منائی گئی۔استاد امانت علی خان کے گائے ہوئے کلاسیکی گیت اور غزلیں آ ج بھی بان زد عام ہیں۔پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد امانت علی خان 1922 میں بھارتی پنجاب کے علاقے ہوشیار پور (شام چوراسی) میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی۔شروع میں امانت علی خان اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کرگایا کرتے تھے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر گانا شروع کیا۔قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہو گئے۔ انہوں نے کم عمری میں ہی دادرا، ٹھمری، کافی اور غزل کی گائیکی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔اُن کی گائی ہوئی چند مشہور غزلوں میں ' 'ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے‘‘، ''موسم بدلا رُت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے‘‘ اور ''یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘ ‘وغیرہ شامل ہیں۔موسیقی کے ماہرین کے مطابق استاد امانت علی خان کی گائیکی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اونچی ٹون میں گاتے ہوئے بھی اپنی آواز پر مکمل کنٹرول رکھتے ۔ماہرین موسیقی کے مطابق انہیں معجزاتی گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔ راگ راگنیوں کو تسخیر کرنے والے فن کاروں میں ان جیسا کوئی بھی نہیں ہے، استاد امانت علی خان کی آواز اور گائیکی کا انداز ہمیشہ سر تال سے ہم آہنگ رہا، ایک ایسا فن کار، جو بکھرتاتو سمیٹا نہیں جاتا تھااور جب سمٹتا تو ہاتھ نہیں آتا تھا۔ استاد امانت علی خان صرف 45 برس جئے۔ وہ کہا کرتے تھے، ہمیں رضاکارانہ طور پر اپنی عمریں کم کر لینی چاہئیں تاکہ تھوڑی تھوڑی آسودگی سب کے حصے میں آجائے۔ان کے ملنے والوں میں دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور ادیبوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ شاید اسی لیے استاد امانت علی خان کی طرف سے گائیکی کے لیے غزلوں کا انتخاب بھی بہت عمدہ ہوا کرتا تھا۔ یوں تو ان کے گائے ہوئے تقریباً سارے کلام کو موسیقی کے شائقین نے پسند کیا لیکن ابن انشا کی غزل "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" کو اپنی آواز سے سجانے کے بعد اُنہیں جوشہرت ملی اس کی مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔اس کی دُھن مرحوم خلیل احمد نے تیار کی تھی ۔47 سال بعد بھی لوگ استاد امانت علی خان کو شوق سے سنتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کے مداح موجود ہیں۔ یہ بات ان کے فن کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ان کے اچھا فنکار ہونے کا بھی ایک ثبوت ہےاُن کا گایا ہوا ملی گیت''اے وطن پیارے وطن‘‘ وطن سے محبت کا عظیم نذرانہ ہے جسے آ ج بھی ہر کوئی سنتا ہے۔عرفان کھوسٹ ہی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں''میں نے پہلی بار سکوٹر خریدا تو خان صاحب سے کہا کہ ا ٓئیں میرے ساتھ بیٹھیں ۔اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ میں پہلی بار سکوٹر چلانے لگا ہوں۔وہ میرے ساتھ بیٹھ گئےتھوڑی دُور گئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ آ ج پہلی بار سکوٹرچلا رہا ہو ں اور آ پ میرے ساتھ بیٹھے ہیں۔امانت علی خان صاحب کو جب علم ہوا کہ میں نے پہلی بار سکوٹر چلایاہے تو وہ فوری طور پر اتر گئے۔بھلا وہ ایک اناڑی ڈرائیورکے ساتھ بیٹھ کر اپنی جان کو خطرے میں میں کیوں ڈالتے۔استاد امانت علی خان کے صاحبزادے اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان نے شام چوراسی گھرانے کی روایتی کلاسیکی موسیقی کو خوب رنگ لگائے تاہم شفقت نے مغربی انداز موسیقی کو بھی اپنایا ہے۔ شفقت امانت علی خان کا کہنا ہے:''ہمارے گھرانے میں فنکار نئے نئے تجربے کرتے رہے ہیں۔ استاد امانت علی خان نے غزل بھی گائی۔ خود میرے تمام گانے بھی کسی نہ کسی راگ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جس طرح لوگ بچوں کو دوائی میٹھی چیز کے ساتھ دیتے ہیں ہم بھی جدید انداز میں کلاسیکی روایت کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘ماہرین موسیقی کا کہنا ہے استاد امانت علی خان کا گایا ہوا کلام کانوں کو بڑا آسان لگتا ہے مگر اُسے اُن کی طرح گانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔آج کے گلوکار ان کی گائیکی سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔استاد امانت علی خان کے بڑے بیٹے اسد امانت علی خان کی آواز اور انداز یقینی طور پر والد سے مختلف تھا تاہم پٹیالہ گھرانے کا حسن اُن سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔وہی چاشنی اُن کی آ واز کو بھی چار چاند لگا دیتی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے صاحبزادے ہوں یا چھوٹے بھائی حامد علی خان ۔۔پٹیالہ گھرانے کو امانت علی خان جیسا ہیرا دوبارہ نہیں مل سکا۔

ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ

ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ

اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ تاریخ اچھے الفاظ میں صرف انہی کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مفاد عامہ کے لئے بے لوث خدمات سرانجام دی ہوں ۔ تاریخ جہاں فلاحی کام کرنے والوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے وہیں سیاہ کرتوت کے حامل افراد کے سیاہ کارناموں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں کثرت سے ملتا ہے۔جب ہم خلافت عباسیہ کے پانچویں خلیفہ ہارون الرشید کے دور خلافت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی نیک نامی کے ساتھ کچھ نہ کچھ انتظامی خامیوں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے۔ ہارون الرشید اس لحاظ سے خوش قسمت گردانے جائیں گے کہ ان کی شریکِ حیات ایک نیک، پارسا،خدا ترس اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار خاتون تھیں ۔زبیدہ بنت جعفر ، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی چچازاد اور بیوی تھیں۔ ان کا ابتدائی نام اگرچہ " امۃ العزیز " تھا لیکن ان کے دادا جنہیں ان سے بے پناہ پیار تھا اسے ''زبیدہ ‘‘کہہ کر مخاطب کرتے تھے چنانچہ بچپن ہی سے ان کا یہ نام شہرت اختیار کر گیا اور اصل نام امۃ العزیز قصہء پارینہ بن گیا۔زبیدہ 762 عیسوی میں موصل میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت ان کے والد موصل کے گورنر تھے۔ زبیدہ انتہائی خوش شکل،ذہین ، نرم گو ،رحم دل مخیراور انتہائی خوش پوش خاتون تھیں۔سن 782 عیسوی میں جب یہ بیس برس کی عمر کو پہنچیں تو انکی شادی خلیفہ ہارون الرشید سے ہو گئی۔کہتے ہیں ہارون الرشید اس شادی پر اسقدر خوش تھے کہ انہوں نے بلا تفریق ہر خاص و عام کو شادی کی تقریب میں مدعو کیا تھا۔ملکہ زبیدہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ 23سال تک ایکوسیع و عریض سلطنت کی خاتون اول رہیں۔ ہارون الرشید کا 23 سالہ دورخلافت ملکہ زبیدہ کے شاہانہ عروج کا دور تھا۔ انہوں نے اقتدار میں رہ کر فلاحی کاموں میں حیرت انگیز طور پر حصہ ڈالا۔ انہوں نے عراق سے مکہ معظمہ تک حاجیوں اور مسافروں کے لئے جگہ جگہ سرائیں تعمیر کرائیں ، کنویں کھدوائے۔اس زمانے میں تواتر سے آتی آندھیوں کے سبب سال کے بیشتر حصے یہ رستہ مٹی سے ڈھک جاتا تھا جس کے سبب مسافر اکثر راستہ بھول جاتے اور کئی کئی دن صحرا میں بھٹکتے رہتے تھے۔ چنانچہ ملکہ زبیدہ نے لاکھوں دینار خرچ کر کے راستے کے دونوں جانب پختہ دیواریں تعمیر کرائیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملکہ نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مسجدیں بنوائیں۔ علاوہ ازیں ملکہ زبیدہ نے ایک نہر عار کوہ بنان سے بیرو تک بنوائی اور اس پر متعدد پل بھی بنوائے۔ جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں ۔انہیں اب بھی'' تناظر زبیدہ ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔''انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا‘‘ کے مطابق ملکہ زبیدہ نے ایران کے ایک پر فضا مقام سے متاثر ہو کر تبریز نامی ایک شہر بھی آباد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کی کتابوں میں مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ کا ذکر بھی ملتا ہے جو دوسری ہجری میں حادثاتِ زمانہ کے ہاتھوں تقریباً اجڑ چکا تھا , ملکہ زبیدہ نے اس تاریخی شہر کے تشخص کو بحال کرنے کے لئے اسکی ازسرنو تعمیر کرائی۔یوں تو ملکہ زبیدہ کے رفاہی کاموں کی فہرست خاصی طویل ہے لیکن ملکہ کا ایک کارنامہ جو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔وہ '' نہر زبیدہ ‘‘ جیسے کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبے کی تکمیل تھی۔نہر زبیدہ کی تعمیر کا پس منظر: صدیوں سے مکہ مکرمہ اور دیگر سعودی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔کہتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید سے بہت پہلے بھی ایک دفعہ پانی کا اس قدر سنگین بحران پیدا ہو گیا تھا کہ محض ایک مشکیزہ دس درہم تک بکنے لگا۔ ایک دفعہ جب ملکہ زبیدہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں تھیں تو انہوں نے اہل مکہ اور حجاج کرام کو درپیش پانی کی قلت دیکھی تو اسی لمحے انہوں نے مکہ مکرمہ میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے مستقل انتظام کرنے کا ارادہ کر لیا ۔اس کا مقصد اہل مکہ اور حجاج کرام کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کو یقینی بناناتھا۔ملکہ نے ہنگامی بنیادوں پر جب دنیا بھر کے ماہرین کو یہ ذمہ داری سونپی تو طویل جدوجہد کے بعد ماہرین نے اطلاع دی کہ انہیں دو جگہوں سے بہتے چشموں کا سراغ ملا ہے۔ایک مکہ مکرمہ سے لگ بھگ پچیس میل کی دوری پر جبکہ دوسراچشمہ کرا کی پہاڑیوں میں نعمان نامی وادی کے دامن میں واقع ہے ۔ ان چشموں کا مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہیں تھا کیونکہ درمیان میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے رکاوٹ ڈالتے نظر آ رہے تھے۔ ملکہ جو اس نیک کام کا تہیہ کر چکی تھیں انہوں نے اس موقع پر جو احکامات جاری کئے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے آج بھی زندہ ہیں،''ان چشموں کا پانی مکہ تک پہنچانے کے لئے ہر قیمت پر نہر کھودو۔اس کام کے لئے جتنا بھی خرچ آئے پروا نہ کرو حتی کہ اگر کوئی مزدور ایک کدال مارنے کی اجرت ایک اشرفی بھی مانگے تو دے دو ‘‘۔ملکہ کا حکم اور ارادے رنگ لے آئے۔تین سال دن رات ہزاروں مزدور پہاڑیاں کاٹنے میں مشغول رہے۔ منصوبے کے تحت مکہ مکرمہ سے 35 کلو میٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ''جبال طاد ‘‘سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ایک نہر جس کا پانی ''جبال قرا ‘‘ سے '' وادی نعمان ‘‘ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا۔یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب واقع تھا۔علاوہ ازیں منٰی کے جنوب میں صحرا کے مقام پر واقع ایک تالاب ''بئیر زبیدہ ‘‘کے نام سے تھا جس میں بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جاتاتھا۔چنانچہ اس تالاب سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر تک لے جایا گیا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔اور یوں اللہ نے اہل مکہ اور حجاج کرام کی سن لی اور نہر کا یہ تاریخی منصوبہ تکمیل کو پہنچا۔بہت سارے لوگوں کے لئے یہ انکشاف شاید نیا ہو گا کہ اس نہر کا بنیادی نام ''عین المشاش ‘‘تھا لیکن اللہ تعالی کو شاید ملکہ زبیدہ کے نام کو اسی نہر کے توسط سے دوام بخشنا مقصود تھا جس کے سبب یہ ''نہر زبیدہ ‘‘کے نام سے شہرت اختیار کر گئی۔نہر زبیدہ 1200 سال تک مکہ مکرمہ اور ملحقہ علاقوں تک فراہمی آب کا بڑا ذریعہ رہا۔ پھر 1950 کے بعد اس نہر سے پمپوں کے ذریعہ پانی کھینچنے کاسلسلہ زور پکڑتا گیا جو رفتہ رفتہ نہر کی خشکی تک آن پہنچا۔آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں موجود ہے۔بلا شبہ یہ ایک کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبہ تھا جسے ملکہ زبیدہ کی مدبرانہ حکمت عملی اور انتھک کاوشوں کے طفیل کامیابی ملی۔نہر زبیدہ درحقیقت اسلامی ورثے کا ایک نادر نمونہ اور انجنئیرنگ کا لازوال شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر دیکھ کر آج بھی انجینئر اور ماہر تعمیرات حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم اور کٹھن منصوبے کو کیسے پایہء تکمیل تک پہنچایا گیا ہوگا۔

مائیکرو فکشن کا بڑھتا رجحان

مائیکرو فکشن کا بڑھتا رجحان

مائیکرو فکشن کیوں؟میں کہتا ہوں کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔کیا اردو ادب میں اتبدادیت کا دور دورہ ہے؟کیا افسانچے کے بعد خط کھینچ دیا گیا ہے؟ناول تھا تو افسانہ کیوں آیا؟افسانہ تھا تو افسانچہ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟انگریزی و عربی فارسی ادب سے مستعار اردو ادب اور ادیب کب تک خود کو تحقیق اور جدت سے روکے رکھے گا؟جب بھی فکشن کا ذکر آتا ہے تو معروف انگریزی رائٹررور جینیا وولف کا ایک سوال جس نے برسوں پہلے ادبی حلقوں میں کہرام برپا کیا تھا ان کا مضمون "جدید فکشن "ایک خیال انگیز تحریر تھی اور ہے جس نے اس وقت جو سوال اْٹھائے آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ اس مضمون کی ابتدا میں ہی وہ لکھتی ہیں:''ہم نے مشین بنانے میں بہت ترقی کر لی ہے۔ نئے ماڈل کی کار کو دیکھتے ہی ہم بے اختیار کہہ اْٹھتے ہیں کہ اس کی ساخت میں کچھ نئی چیزیں سما گئی ہیں لیکن کیا ہم نے اسی طرح کا کوئی نیا طریق ادب کی تخلیق میں بھی دریافت کیا ہے؟ اورکیا اس طریق کو احساس تفاخر سے پیش کیا ہے کہ یہ فن پارہ پہلے فن پارے سے مختلف ہو؟ ورجینا وولف نے لکھا کہ فیلڈنگ نے اچھا فکشن تخلیق کیا تھا اوراسی طرح جین آسٹن ا پنے زمانے میں فیلڈنگ سے سبقت لے گئی لیکن جو حیرت فیلڈنگ نے اپنی سادگی سے تخلیق کی تھی اور اسی طرح بعد میں جو حیرت جین آسٹن نے اپنے انداز میں جگائی تھی ویسی حیرت کیا ہمیں ان کے بعد فکشن میں نظر آئی۔‘‘دیکھنے والی بات اس اقتباس میں یہ ہے کہ ورجینا وولف نے ارتقا کے اگلے دو قدم کا اعتراف بھی کیا ماضی اور مستقبل کے ادب کا تقابل کرتے ہوئے اس کے زوال کی بات بھی کی اور ادب میں جمود کی صورت پر بھی بات کی یہ درست کہ یہ پرانی بات ہے اس کے بعد انگریزی ادب میں فکشن کئی طرح سے لکھا گیا اور عمدہ نمونے بھی سامنے آئے لیکن اگر میں اردو ادب میں فکشن پر ایک نظر ڈالوں تو دور نہیں 90 کے بعد کے فکشن پر ناقد بھی زوال کا نوحہ کہتا نظر آئے گا۔جب میں نے مائیکرو فکشن پر بات شروع کی تو ادبی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ جیسے ٹیسٹ کرکٹ سے ون ڈے کا دور آیا اور ون ڈے سے ٹی ٹونٹی کا یوں ہی ادب میں بھی ہم مختصر ترین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔قارئین کے پاس پڑھنے کا وقت کم ہے یا نہیں ہے اس سے قطع نظر ادب کے معاملات الگ ہیں۔ ادب میں نئی اضاف کا آنانئی اضاف کے ریسرچ ورک سے جڑنا انگریزی ادب کا خاصہ ہے اس لیے ہمیں سب وہاں ہی ملا۔ ہمارے ہاں قصہ گوئی یا داستان کی روایت ملتی ہے لیکن کیا وہ اردو کی اپنی اضاف تھیں یہ الگ سوال ہے؟میں یہاں ساوتھ افریقہ میں ایک نجی کانفرنس میں شریک ہوا تو وہاں دوستوں سے تعارف کے بعد اردو ادب کا تذکرہ ہو اگوروں اور سیاہ فام ادبا کا سوال تھا اْردو ادب میں کون سی اضاف لکھی جاتی ہیں۔ تو میرا عمومی جواب یہ تھا کہ ناول ، ناولٹ، افسانہ ، نظم ہمارے ہاں بالخصوص لکھی جا تی ہیں ۔ تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ارے بھئی یہ سب تو انگریزی ادب سے مستعار ہے اردو ادب کی اپنی کون سی صنف ہے جو آپ لکھتے ہیں۔ تویہ اچانک سوال میرے لیے خود حیران کن تھا۔ خیر میں نے غزل کا نام لیا اور بات کچھ دیرکے لیے تھم سی گئی لیکن میں جانتا تھا غزل بھی کہاں اردو کی اپنی ہے۔ مجھے اس بات نے بطور اردو طالب علم جھنجھوڑا کہ ہم نے اردو ادب کو کیا دیا؟افسانے کی ہی بات کر لیں۔ افسانہ خود اپنے پیٹرن وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا ہے اور یہ ایک اچھی روایت رہی ہے اردو ادب ا فسانہ میں تجربات ہوئے یوں اس کا رد عمل 1960 میں تجریدی افسانے کی شکل میں سامنے آیا۔پھر 90 کی دہائی میں افسانہ علامت کی جانب واپس لوٹا لیکن دیکھا جائے تو یہ ا دوار افسانے میں انگریزی ادب اور اردو ادب میں بیک وقت گزرے۔ مطلب ہم وہی کر رہے تھے جو مغرب میں ہو رہا تھا۔ چلیں مانا کہ علوم کا لین دین منع نہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ایسا ہوا بھی ہے ۔ لیکن یہی محبت اگر اردو دان اردو کی اپنی الگ صنف بنانے میں کرتے جس کی ہیئت خود اردو کی وضع کی ہوتی تو ہم آج کہہ سکتے کہ فلاں صنف اردو کی صنف ہے۔ اسی سوچ کے پیش نظر میں نے مائیکر و فکشن پر تحقیقی کام کا آغاز کیا کہ ایک صنف تو ہو جو اپنی نئی شکل کے ساتھ سامنے آئے جسے ہم افسانچے۔۔۔۔ سٹوری فلیش فکشن سے الگ کر سکیں۔اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ صنف اپنی تو نام بھی اپنا ہونا لازم ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ یہ الفاظ اردو میں رائج ہیں اور عام فہم زبان میں ان کا یونہی رائج ہونا میرا نہیں خیال غلط ہو۔لیکن میں نے تحقیقی کام میں اس پر غور جاری رکھا اور بالخصوص نام کے حوالے سے بار بار ادبا کی رائے لی ان مکالموں میں بہت سے نام سامنے بھی آئے دنیا بھر کے ادبا نے بہت سے ناموں کی تجویز دی۔ ۔آخرکار کراچی سے ہمارے ایک محترم دوست شفقت محمود صاحب نے "مائیکروف" کی اصطلاح کو استعمال کرنا شروع کیا۔ میں نے دیکھا کہ ادبا کی کثیر تعداد نے اس "مائیکروف" کو معتبر حیثیت دی اور خود بخود یہ نام مستعمل ہوتا گیا اور اسے قبولیت کی سند ملی۔یوں نام کا قصہ ختم ہوا۔ اس دوران انہماک فورم پر اردو کے معتبر ترین ناقدین و ادبا سے مکالمے بھی جاری ہیں۔ جنہوں نے اس صنف کے اسلوب و ہیئت کے حوالے سے بات کی اور کئی ادبا میں اس کے روشن امکانات ومستقبل کی نشاندہی کی کچھ ادبانے اسے مجذوب کی جڑ بھی کہااور ناپسندیدہ قرار دیالیکن ایساردعمل چند ایک ادبا کی جانب سے ہواجو ذہنی طورپراردو میں کچھ نیا ہونے سے ڈرتے ہیں جب ہم غفار پاشا صاحب کے ساتھ سامنے آئے اورمقالے لکھے گئے تو صنف اپنا مقام خود بناتی چلی گئی آج انشائیہ پرایم فل کے مقالے لکھے جارہے ہیں۔اردو میں بہت کم کچھ الگ نیاکرنے کی روایت رہی ہے۔ہاں اسی ضمن میں عرض کروں تنقید نے اردو ادب میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے۔ اردو ادب میں تنقیدی میدان میں آج تنقید تاثراتی تنقیدسے ہوتی ہوئی مارکسی تنقید، مظہریت سے اختیاطی تنقید، نوآبادیاتی تنقید، ردتشکیل، پوسٹ ماڈرن ازم، اور امتزاجی تنقید تک پہنچ گئی اور اس پرکام بھی ہوا ہے گو کہ یہ بھی بیشتر مغرب کی تھیوریزہیں لیکن ان پر کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر وزیرآغا نے امتزاجی تنقید کی بنیاد رکھی اور جمیل آذر صاحب نے نیانشائی تنقید کا آغاز بھی کیاہے۔مغرب میں تھیوریزپیش کی جاتی ہیں اور ان پر مکالمہ ہوتاہے۔یوں بات آگے بڑھتی ہے ہمارے ہاں کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ بات کیا ہورہی ہے ۔وہ اہم ہے یا نہیں سب یہ دیکھتے ہیں کہ کہہ کون رہا ہے۔مائیکروفکشن (مائیکروف)کولیکر ہمارے ادبا خائف کیوں ہیں ۔ وہاں 'دریدا' کے مطابق زبان میں افتراق اور التوا کاکھیل ہے یہ کہہ کرسب لکھا، کہا،رد کردیاگیاہے اور جس کا جواب ابھی تک کوئی دے نہیں پایا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی متن حتمی معنی، مطلق و واحدمعنی نہیں رکھتا۔۔خیر عرض ہے کہ اگر وہ منی سٹوری کے بعد فلیش فکشن اور سائنس فکشن اور دیگر فکشن کو متعارف کرواسکتے ہیں تو ہمیں افسانچے کے انڈے پر 'مرغا' بن کرکب تک بیٹھے رہناہے۔ یہ اب ہم سب مل کر طے کرلیتے ہیں۔اب آپ دیکھ لیں اردو ادب و ادیب کو نئی صنف پرکام کرنے سے کترا رہے ہیں ۔ یہ کتنا لازم ہے،نہیں ہے وہ دوست طے کرلیں۔رہی بات ہاررفکشن کی تو ہم نئے مضوعات کو بدل بدل کر اب تک دنیا بھرکے مصنفین سے 500 کے قریب مائیکروف لکھوائے چکے ہیں جن پر دنیابھر کے معززین ناقدین نے تبصرے کیے آرادیں ہیں۔ تاکہ اس صنف میں نئے نئے موضوعات پرزیادہ سے زیادہ لکھا جائے۔تاکہ مصنفین وقارئین کا ذائقہ بھی بدلتارہے ا ور مشق بھی جاری رہے۔رہی بات انہماک میں شامل مائیکرو فکشن مثالوں کی تو عرض ہے وہ نشستیں مشق سخن سے متعلق ہیں۔ ان سب میں سے بہترین مثالوں کو سامنے رکھ کرہم اس کی صورت گری کرتے چلے جائیں گے۔ اس پرکام ہورہا ہے ہم اور دیگر دوست نوٹس بنارہے ہیں لیکن یادرہے سب کہانی کے لیے ہی بہتر ہوگا ۔ انجام، منظرنگاری، حیرت، ہر چیزاس کاحصہ ہوں گے۔ ہاررمائیکروفکشن میں جزئیات نگاری کو خاصی اہمیت حاصل ہورہی ہے ۔کیونکہ وہاں لفظوں سے قاری کو سارا منظر دکھانا ہوتاہے۔ لکھتے لکھتے قلم مائیکروفکشن کی جسامت کو تو بھانپ گئے ہیں اور ان کا قلم خودبخود طے کرتاگیاکہ اس کا حجم کیاہوگا ۔موضوع کے اعتبار سے لفظوں کی تعداد 600 تک جاسکتی ہے۔مائیکروف جدید دور کی اہم ترین ضرورت بھی ہے اور اس صنف میں تخلیقی بیانیہ اہم ہے۔ ہمارے ہاں سو لفظی کہانیوں کا چرچا داستان کا لطف، قصہ گوئی کی چاشنی، افسانے کا فسوں اور ناول کی جزئیات نگاری،مکالمے کا تیکھاپن اور نظم کا لطف سب درآمد کیے جا سکتے ہیں کم لفظوں میں بڑی بات گہری بات اور گہری فکرسے جوڑتا مائیکرواس وقت ادبا کے لیے لکھنے کاایساتخلیقی راستہ ہے جہاں سب خود کو جیتاجاگتااور مکمل تخلیق سے جڑاہواپاتے ہیں۔ اس صنف پرمزید مضامین و تحقیق کی ضرورت ہے۔ 

بادلوں کی آنکھ مچولی

بادلوں کی آنکھ مچولی

فضا میں خنکی تھی۔ چاندنی رات تھی، آسمان پر بادلوں کے آوارہ ٹکڑے چاند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ ہوٹل، دفاتر اور ریسٹورنٹس کے درمیان ایک اوول بنا ہوا تھا۔ اوول کے عین وسط میں صندل کی لکڑی کا ایک چبوترا بنا ہوا تھا۔ مناسب فاصلے پر ایک نیم دائرے کی شکل میں میز بچھے تھے۔ ہر میز کے اردگرد چار چار اور چھ چھ کرسیاں دھری تھیں۔ لاگ (Log) کے بائیں طرف لکڑی کا بنا ہوا فلور تھا۔ فلور کے آخری کونے پر ایک پلیٹ فارم بنایا گیا تھا جس پر مائیک اور میوزیکل انسٹرومنٹ رکھے گئے تھے۔ میزوں پر بڑی بڑی موم بتیاں چاندی کے چار خانوں میں جل رہی تھیں۔ جب ہم پہنچے تو قریباً سبھی مہمان آچکے تھے۔ یوں لگا جیسے انہیں ہمارا ہی انتظار تھا۔ جونہی ہم اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھے تو وہی سیلزگرل جس نے ہمیں ہوٹل میں ٹھہرنے پر راغب کیا تھا، مائیک پر آئی۔ اپنی سُریلی لیکن نپی تلی آواز میں مخاطب ہوئی: ''ہائے فوکس!‘‘ ہر طرف سے ہائے ہائے شروع ہو گئی۔ وہ قدرے جھینپی اور پھر مسکرا دی۔ ''میں آپ کو آرنلڈفارم، مسٹراور لیڈی آرنلڈ کی طرف سے خوش آمدید کہتی ہوں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے آج ہمیں شرفِ مہمان نوازی بخشا ہے۔ جہاں ہم آپ لوگوں کے ممنون ہیں، وہاں ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ان لمحوں کو امر کردیں۔ یادگار بنا دیں۔ آج ہم جو پروگرام پیش کریں گے وہ صرف تفریح تک محدود نہیں ہو گا بلکہ اس میں آپ کو امریکہ کی تاریخ متحرک نظر آئے گی۔ یہ جو سٹیج پر رقاص اور نغمہ سنج بیٹھے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ریڈ انڈین قبائل کی اُمیدوں، اُمنگوں، آرزوئوں اور ارادوں کا چمن زار سمیٹ لائے ہیں۔ تاریخ کے دھارے جب بہتے ہیں تو وہ اپنی سمت خود متعین کرتے ہیں۔ حق انصاف، عدل گستری واخلاقی ضابطے کچھ بھی تو ان کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کی اپنی ایک منطق ہے جو ان تمام لطیف جذبات سے ماورا ہے۔ آج تاریخ میں سکندرِیونانی کا ایک مقام ہے۔ اسے سکندرِاعظم کہا جاتا ہے۔ ہر حکمران کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ کاش اسے بھی ایسا مقام اور مرتبہ حاصل ہو سکے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس میں اور ایک بدنام ڈاکو، قاتل اور لٹیرے میں کیا فرق تھا۔ اسے کیا حق پہنچتا تھا کہ وہ لاکھوں بے گناہ لوگوں کو تہ تیغ کر دے، ان کے گھر جلاڈالے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کوچۂ زنداں میں دھکیل ڈالے۔ تاریخ کے تعصب کے سامنے سب اخلاقی آوازیں دب جاتی ہیں۔ سب ضابطے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہی تاریخ یہاں بھی دُہرائی گئی۔ کولمبس نے نہ جانے یورپین اقوام کے کان میں کیا پھونکا تھا کہ یورپ کا ہر راستہ امریکہ کی طرف کھلنے لگا۔ ہر للچائی ہوئی نگاہ سونے کی چڑیا پر پڑنے لگی۔ گولڈرش Mad رش میں بدل گیا۔ بارود کی بو نے معطر فضا کو گہنا دیا۔ چارسُو گولیوں کی تڑتڑ، جوان، محنتی جسم جھلسے ہوئے درختوں کی طرح گرنے لگے۔ جائیداد کی حرص وہوس نے اخلاقی ضابطوں کو روند ڈالا۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے!‘‘ امریکن سامعین نے بے چینی سے پہلو بدلے۔ کچھ دبی دبی آوازیں بھی بلند ہوئیں ... ''میں آپ کے جذبات سمجھتی ہوں، میں بھی آپ میں سے ہوں، ہمارے آبائواجداد ایک تھے۔ ہماری تاریخ بھی ایک ہی ہے۔ شاید ہم ان کے اعمال کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاسکتے!‘‘ اس نے گہری نظر سے سامعین کے چہروں پر اُٹھتے ہوئے مدوجزر کا جائزہ لیا۔ ''لیکن تاریخی حقیقتوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ You can not corrupt History۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان ناانصافیوں اور ناجوازیوں کا ازالہ کیا جائے اور شاید کیا بھی جا رہا ہے۔ عدالتیں ان کے حق میں فیصلے دے رہی ہیں۔ حکومت نے مراعات کا حوصلہ افزا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ان کے گلے شکوے دور ہو جائیں گے۔ من وتوکی تقسیم ختم ہو جائے گی‘‘۔''Native کی تعریف کیا ہے؟‘‘ سامعین میں سے کسی نے اُٹھ کر سوال کر ڈالا۔''یہ ایک اچھا سوال ہے‘‘۔ اس نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ ''بحث کے طور پر کہا جا سکتا ہے ارضِ خدا انسانوں کے لیے بنی ہے۔ نقل مکانی ہر دور میں اور تاریخ کے ہر موڑ پر ہوئی ہے۔ آرئین کب ہندوستان آئے؟ یونانی کہاں کہاں گئے، سامراج نے کن خطوں کو ''فیض یاب‘‘ کیا۔ اگر یورپین اقوام سے پہلے ریڈانڈین آئے، آسٹریلیا میں برطانوی سپاہ سے پہلے ایب اور ویجنل موجود تھے تو یہ لوگ کہاں سے آئے تھے؟ کوئی نہ کوئی قوم کہیں نہ کہیں سے ضرور آتی ہے۔ محض وقت کی اکائیاں ان کا حق فائق نہیں کرتیں لیکن جو سلوک ان کے ساتھ روا رکھا گیا وہ یقینا نامناسب تھا۔ انہیں جنگلی سوروں اور کتوں کی طرح مارا گیا‘‘۔ میں ان جملات معترضہ کو یہیں ختم کرتی ہوں کیونکہ وقت نکلا جا رہا ہے۔ ہمیں ان حسین لمحات کو سمیٹنا ہے، اپنی روح میں اُتارنا ہے اور یادگار بنانا ہے۔ پروگرام شروع کرنے سے پہلے ہمیں ایک مقامی رسم پوری کرنی ہے اور وہ یہ ہے ''صندل کی لکڑیوں کے اس گھٹے کو ٹارچ دکھانی ہے۔ آگ کے الائو کی روشنی میں محفل رقص وسرود جمے گی ...‘‘

حکمت کی باتیں

حکمت کی باتیں

صاحب حکمتاللہ صاحب حکمت ہے۔ دنیا میں ہونے والا ہر واقعہ اس کی دانائی، بصیرت اور اس کے حکیمانہ مقاصد کا حامل ہوتا ہے۔ ہماری نگاہ اس پر نہیں ہونی چاہیے کہ یہ مصیبت کتنی بڑی ہے بلکہ اس پر ہونی چاہیے کہ یہ کیوں آئی ہے، اس لئے کہ اس حکیم و خبیر سے یہ توقع نہیں کہ وہ بلاوجہ ہمیں کسی ابتلا میں ڈال دے گا۔ وہ یقینا درج بالا مقاصد ہی کے لئے ہمیں آزماتا ہے۔ اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ہر کام کو حکمت پر مبنی سمجھا جائے، اس لئے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ اس کی یہ صفات اس سے کسی حالت میں بھی الگ نہیں ہوتیؒ، اس لئے یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ کسی کو سزا بھی دے رہا ہو تو وہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ اس کو ہم ایک ادنیٰ درجے پر ماں کی مثال سے سمجھ سکتے ہیں، جو اپنے بچے کو بدتمیزی کرنے یا محنت نہ کرنے پر صرف اس لئے سزا دیتی ہے کہ اس کی عادتوں کا بگاڑ اس سے دور ہو یا اس کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ ماں کے ذہن کی یہ حکمت بعض اوقات بیٹے سے اوجھل ہوتی ہے اور وہ ماں سے باغی ہو جاتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔ اگر ماں اپنے بیٹے پر یہ ستم اس لئے توڑتی ہے کہ وہ سدھر جائے، اس کا مستقبل سنور جائے، وہ آنے والے دنوں میں پریشان نہ ہو تو کیا خدا ماں سے زیادہ حکیم نہیں ہے، اور وہ اس سے زیادہ مستقبل سے باخبر نہیں ہے؟ یہی اس کا علیم و حکیم ہونا ہے جو ہمارے لئے باعث اطمینان ہے۔اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ بسا اوقات ہم یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کاروبار چل جانا چاہیے، ہمیں ملازمت مل جانی چاہیے، ہمارے ہاں اولاد ہونی چاہیے لیکن معاملہ اس کے برعکس رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے اللہ کا علم یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے لئے مستقبل میں نقصان کا باعث ہوگا۔ وہ ہمیں اس نقصان سے بچانے کے لئے سب سب کچھ سے محروم رکھتا ہے۔پست خیال انسانپست خیال انسان آکاس بیل کی طرح خود پھیلتا ہے اور دوسروں کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ وہ دوسروں کو اُن کے حقوق سے محروم کر کے اپنے نفس کی تسکین چاہتا ہے۔ بلند خیال انسان شمع کی طرح جلتا ہے اور روشنی دیتا ہے۔ جلتا ہے، روشن رہتا ہے۔ بلند خیالی روشنی ہے۔ وہ روشن رہتا ہے، روشن کرتا ہے اور پھر اپنے اصل کی طرف یعنی نور کی طرف رجوع کر جاتا ہے۔ اُس کی زندگی دوسروں کے لیے اور دوسروں کا دُکھ اپنے لیے۔ وہ بلند خیال ہے۔ پست خیال کو ہم خیال بنانا اُس کا دین ہے، اُس کا مذہب ہے، اُس کا منصب ہے۔چیونٹی اور مکھیایک دن ایک چیونٹی اور مکھی دونوں اپنی فضیلت اور برتری پر لڑنے لگیں اور اپنی بحث وتکرار کرتے ہوئے مکھی نے کہا:''میری بزرگی مشہور ہے، جب خدا کے لیے نذر یا قربانی کی غرض سے جو بھی جانور ذبح ہوتا ہے اس کے گوشت، ہڈیوں اور انتڑیوں کا مزہ سب سے پہلے میں چکھتی ہوں۔ مساجد اور خانقاہوں میں بھی اچھی جگہ پر بیٹھی ہوں۔ میں عمدہ سے عمدہ جگہوں پر بلاروک ٹوک جاتی ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت عورت جو میرے پاس سے ہو کر گزرتی ہے، میرا دل چاہتا ہے تو میں اس کے نازک ہونٹوں پر جا بیٹھتی ہوں۔ کھانے پینے کے لیے مجھے محنت نہیں کرنا پڑتی۔ اعلیٰ سے اعلیٰ نعمت مجھے میسر رہتی ہے تو بے چاری غریب مسکین میرے رُتبے پر کہاں پہنچ سکتی ہے اور میری برابری کہاں کر سکتی ہے‘‘۔چیونٹی، مکھی کی یہ بات سُن کر بولی: ''خدا کی نذر یا قربانی میں جانا تو بہت باعث برکت ہے لیکن جب تک کوئی بلائے نہیں تیری طرح بن بلائے جانا تو بڑے بے شرمی کی بات ہے اور تو جو درباروں، بادشاہوں اور خوبصورت ہونٹوں پر بیٹھنے کا ذکر کرتی ہے تو یہ بھی بے جا ہے کیونکہ ایک دن گرمی کے موسم میں جبکہ میں دانہ لانے جا رہی تھی، میں نے ایک مکھی کو فصیل کی دیوار کے پاس ایسی غلیظ چیز پر بیٹھے دیکھا جس کا نام لینا بھی مناسب نہیں اور وہ اس غلاظت کو چپڑ چپڑ کھا رہی تھی اور تو نے مسجدوں اور خانقاہوں میں جانے کا کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو سستی اور کوتاہی کی ماری ہوئی ہے اس لیے وہاں جا کر پڑی رہتی ہے تاکہ کوئی زحمت اُٹھانا نہ پڑے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے جو سست اور کاہل ہوتے ہیں ان کو کوئی اپنی محفل میں آنے نہیں دیتا۔ اس لیے ادھر ادھر گھستے پھرتے ہیں۔ تو نے یہ کہا کہ تجھے کوئی کام نہیں کرنا پڑتا اور مجھے سب کچھ بغیر محنت کے مل جاتا ہے، بات تو سچ ہے لیکن یہ بھی سوچ گرمیوں کے دنوں میں جب تو ادھر ادھر کھیل تماشے میں کھوئی رہتی ہے تو سردیوں میں بھوک سے مرتی ہے اور ہم اپنے گرم گھروں میں مزے سے کھاتے پیتے اپنی زندگی ہنسی خوشی بسر کرتے ہیں‘‘۔عقل مند بیٹاکسی بادشاہ نے ایک تیلی سے دریافت کیا کہ ایک من تلوں سے کتنا تیل نکلتا ہے؟ تیلی نے کہا: دس سیر۔ پھر پوچھا دس سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی سیر۔ بادشاہ نے پوچھا: اڑھائی سیر میں سے؟ تیلی نے کہا: اڑھائی پائو۔ سلسلہ سوالات کے آخر میں بادشاہ نے پوچھا، ایک تل میں سے کتنا تیل نکل سکتا ہے؟ تیلی نے جواب دیا کہ جس سے ناخن کا سرا تر ہو سکے۔ کاروبار دنیوی میں تیلی کی اس ہوشیاری سے بادشاہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ علم دین سے بھی کچھ واقفیت ہے؟ تیلی نے کہا: نہیں۔ بادشاہ نے ناراض ہو کر کہا کہ دُنیاوی کاروبار میں اس قدر ہوشیار اور علم دین سے بالکل بے خبری۔ اس کو قید خانہ میں لے جائو۔ جب تیلی کو قید خانے میں لے جانے لگے تو تیلی کا لڑکا خدمت میں عرض کرنے لگا کہ ''میرے باپ کے جرم سے مجھے مطلع فرمائیںتو کرم شاہانہ سے بعید نہ ہو گا‘‘۔بادشاہ نے کہا: ''تیرا باپ اپنے کاروبار میں تو اس قدر ہوشیار ہے لیکن علم دین سے بالکل بے بہرہ ہے۔ اس لیے اس غفلت کی سزا میں اس کو قید خانے بھیجا جاتا ہے‘‘۔ تیلی کے لڑکے نے دست بستہ عرض کی: ''حضور! یہ قصور اس کے باپ کا ہے جس نے اس کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا، نہ کہ میرے باپ کا؟ میرے باپ کا قصور اس حالت میں قابل مواخذہ ہوتا، اگر وہ مجھے تعلیم نہ دلاتا۔ لیکن میرا باپ مجھے تعلیم دلا رہا ہے۔ آئندہ حضور کا اختیار ہے‘‘۔ بادشاہ لڑکے کے اس جواب سے بہت خوش ہوا اور کہا: ''تمہاری تھوڑی سی تعلیم نے نہ صرف اپنے باپ کو مصیبت قید سے چھڑا لیا بلکہ تم کو بھی مستحق انعام ٹھہرایا‘‘۔ چنانچہ بادشاہ نے تیلی کو رہا کر دیا اور اس کے لڑکے کو معقول انعام دے کر رُخصت کیا۔صبرہر طرح کی آزمائش میں صحیح رویے اور عمل کو اختیار کرنا صبر کہلاتا ہے۔ صبر کے معنی یہ ہیں کہ آدمی ہر صورت میں صحیح موقف پر قائم رہے۔ اللہ اسے دے تو وہ شکر گزار رہے، فرعون وقارون نہ بنے اور اللہ چھینے تو وہ صابر رہے، کفر وشرک اختیار نہ کرے، اللہ کے دروازے سے مایوس نہ ہو۔ صحیح موقف سے مراد یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے اخلاق سے نہ گرے۔ اپنے عزیزوں اور اپنے ساتھ بُرائی کرنے والے لوگوں سے بالخصوص اپنا رویہ صحیح رکھے۔ ان کے حقوق پورے کرے، ان کی عزت قائم رکھے۔ ان سے اگرسہوونسیان ہوا ہے تو بالخصوص ان سے درگزر کا رویہ اختیار کرے اور اگر ان کی طرف سے دانستہ کوئی چیز سرزد ہوئی ہے تو سزا دینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یہاں بھی پسندیدہ یہی ہے کہ اگر ہو سکے تو انھیں معاف کر دے۔خدا کی طرف سے آنے والی مشکلات میں بھی صبر ضروری ہے۔ ان چیزوں میں آدمی اگر صبر نہ کرے تو وہ مایوس ہو کر کفر وشرک تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کو ہم اپنے معاشرے کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب کسی کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور وہ علاج معالجہ کراتا ہے، دُعائیں کرتا ہے لیکن پھر بھی جب اولاد نہیں ہوتی تو وہ مایوس ہو جاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کے درباروں اور استھانوں کے چکر لگاتا ہے۔ ان کو خدا کی ایک صفت میں شریک وسہیم بنا دیتا ہے۔ چنانچہ اچھا خاصا آدمی محض اولاد سے محرومی کے دکھ میں شرک کر بیٹھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ صبرو استقامت سے کام لیا جائے۔کنکر نہیں ہیرےایک قافلہ ایک اندھیری سُرنگ سے گزر رہا تھا کہ اُن کے پائوں میں کنکریاں چبھیں۔ کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ کسی اور مسافر کو نہ چبھ جائیں، نیکی کی خاطر اُٹھا کر جیب میں رکھ لیں۔ کچھ نے زیادہ کچھ نے کم۔جب اندھیری سرنگ سے باہر آئے تو دیکھا وہ ہیرے جواہرات تھے۔ جنھوں نے کم اُٹھائے وہ پچھتائے کہ کم کیوں اُٹھائے۔ جنھوں نے زیادہ اُٹھائے اور بھی زیادہ پچھتائے۔دُنیا کی زندگی کی مثال اُس اندھیری سُرنگ کی سی ہے۔ نیکیاں یہاں کنکریوں کی مانند ہیں۔ اس زندگی میں جو نیکی کی وہ آخرت میں ہیرے موتی جیسی قیمتی ہو گی اور انسان ترسے گا کہ اور زیادہ کیوں نہیں کیں۔

دلچسپ حقائق

دلچسپ حقائق

ظاہر اور باطنایک اسلامی ملک کی اہم شخصیت علامہ اقبال کی مہمان تھی۔ اس کے اعزاز میں دعوت کے موقع پر چوہدری صاحب نے علامہ اقبال سے سرگوشی کے انداز میں کہا: ''آج مذاق سے باز رہنا‘‘۔جب معزز مہمان کا حاضرین سے تعارف کروایا جانے لگا تو چوہدری شہاب الدین کی باری پر علامہ اقبال نے کہا: ''یہ ہیں ہمارے دوست چوہدری شہاب الدین، منافقت کے اس دور میں مخلص اور صاف باطن کے مسلمان ہیں۔ ان کا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے‘‘۔ یہ سُننا تھا کہ تقریب میں شریک تمام لوگ بے اختیار ہنس پڑے۔سکندراعظم کی لاتڈیماستھز یونان کا مشہور خطیب تھا۔ جب سکندراعظم نے ایتھنز فتح کیا تو دیکھا کہ ڈیماستھز کہیں دور پڑا ہوا ہے۔ سکندراعظم نے اُسے ایک لات ماری۔ اس نے سکندراعظم سے پوچھا:''تم کون ہو؟‘‘سکنداعظم نے فخر سے کہا: ''میں بادشاہ یونان ہوں‘‘۔ڈیماستھز نے کہا: ''ہاں ممکن ہے کہ آپ یونان کے بادشاہ ہوں مگر لات مارنا تو گدھے کا کام ہوسکتا ہے‘‘۔کم عمر ترین گوریلا لیڈرمیانمار (برما) کے گوریلا نسلی گروپ ''خدا کی فوج‘‘ (God's Army) کے لیڈر 12 سالہ جڑواں بھائی ہیں۔ یہ دونوں جڑواں بھائی جانی (Johnny) اور لوتھر ہتو (Luther Htoo) میانمار حکومت کو مطلوب ہیں۔ 24 جنوری 2000ء کو ان دونوں بھائیوں نے رچابوری (تھائی لینڈ) کے ایک ہسپتال میں 700 افراد کو 24 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔سول نافرمانی کا سب سے لمبا مارچسول نافرمانی کا سب سے لمبا مارچ 12 مارچ 1930ء کو موہن داس کرم چند گاندھی نے انگریز سرکار کے خلاف شروع کیا۔ اس کا مقصد انگریزوں کی طرف سے نمک پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ گاندھی نے اپنے 78 حامیوں کے ساتھ 241 میل لمبا پیدل مارچ کیا۔ یہ مارچ سابرمتی آشرم سے شروع ہوا اور 5 اپریل 1930ء کو ڈانڈی (گجرات) میں ختم ہوا۔دُنیا کے مقبول ترین قوالنصرت فتح علی خان کو قوالی کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا ہے۔ 1997ء میں اپنی وفات تک نصرت فتح علی خان کے قوالی کے 125البم مارکیٹ میں آچکے تھے۔ اُنھوں نے دُنیا کے متعدد ممالک میں فن کا مظاہرہ کر کے غیرملکیوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ جاپانی خاص طور پر ان کے زبردست مداح تھے۔ 1995ء میں امریکہ کے ایک کنسرٹ میں انھیں زبردست پذیرائی ملی۔برائے نام 4لاکھ سرکاری ملازمجنوری 1985ء میں افریقی ملک کینیا کے سرکاری تحقیقاتی کمیشن نے ایک عجیب انکشاف کیا کہ ملک کے 4لاکھ سرکاری ملازمین کوئی وجود نہیں رکھتے مگر ان کی تنخواہ ہر ماہ باقاعدگی سے سرکاری خزانے سے وصول کی جاتی ہے۔ کینیا میں اکائونٹنگ کے پیچیدہ نظام کے باعث ان جعلی ملازمین کو نہ پکڑا جا سکا حالانکہ اس سلسلے میں پولیس کی طرف سے کئی کوششیں کی گئیں۔سانپوں کی اقسامدُنیا میں سانپ کی تین ہزار نسلیں پائی جاتی ہیں، جن کو دس بڑے خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ''اندھا سانپ‘‘ یا ''کیچوا سانپ‘‘ کی ایک سو اسّی قسمیں ہوتی ہیں۔ یہ سانپ کیچوے کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کی لمبائی دس سے پندرہ سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان کا جسم ملائم، چمکدار چانوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ اس کا رنگ سُرخی مائل بھُورا یا کالا ہوتا ہے۔ یہ سانپ اندھے ہوتے ہیں اور صرف روشنی اور اندھیرے میں تمیز کر سکتے ہیں۔ یہ ساری زندگی زیرزمین رہتے ہیں اور چیونٹی کے انڈے، دیمک کے انڈے اور کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ اس سانپ کی مادہ اپریل سے لے کر مئی تک تین سے آٹھ انڈے دیتی ہے۔ ڈیڑھ سے دو ماہ میں ان انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ یہ زمین میں سوراخ بنا کے اس میں رہتا ہے۔ یہ سانپ نوانچ سے لے کر دو فٹ لمبے ہوتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے اور خاص طور پر دیمک کھاتے ہیں۔ یہ دُنیا کے گرم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے تمام دانت اُوپر والے جبڑے میں ہوتے ہیں۔ اس سے ملتے جلتے سانپ ''ڈوری سانپ‘‘ کی چالیس قسمیں ہوتی ہیں۔ ان کے دانت فقط نچلے جبڑے میں ہوتے ہیں اور یہ بھی دُنیا کے گرم ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔دلچسپ مقدمہدسمبر 1985ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژنل بنچ نے ایک مقدمہ قتل میں 19سال قبل بری ہونے والے ملزم شہریار کے خلاف حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے سزائے عمر قید کا حکم سنایا۔ ملزم شہریار کے خلاف 1966ء میں ایک شخص عبدالعزیز کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہوا تھا۔ 1967ء میں ایڈیشنل سیشن جج جھنگ نے ملزم کو اس مقدمہ سے بری کر دیا تھا جس کے خلاف حکومت کی جانب سے اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت فاضل عدالت عالیہ میں دسمبر 1985ء میں 19سال بعد ہوئی۔ ملزم کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ فاضل عدالت نے مقدمہ کے مدعی محمد طفیل کے وکیل اور سرکاری وکیل کی سماعت کے بعد 19سال قبل بری ہونے والے ملزم کو سزائے عمرقید کا حکم سنا دیا۔بنچ پر نام لکھنے کی سزامارچ 2003ء میں رڈنگ (برازیل) کی عدالت میں ضمانت کے لئے آنے والے 43 سالہ شخص کو بنچ پر اپنا نام کھودنے پر جیل بھیج دیا گیا۔ آوارڈو ریویرا پر چوری کا مال خریدنے کا الزام تھا اور وہ اپنی ضمانت کے لئے کمرہ عدالت میں اپنی باری کا منتظر تھا۔ ریویرا کو ہر جگہ اپنا نام لکھنے کی بری عادت تھی چنانچہ وہ عدالت میں بھی فارغ نہ بیٹھ سکا اور اپنے سامنے پڑے بنچ پر اپنا نام کھودنا شروع کر دیا۔ عدالت میں موجود پولیس افسر نے جب اسے کام میں مصروف دیکھا تو چپکے سے اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا اور اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پولیس افسر نے وہیں جج کو بتایا کہ پہلے مقدمے میں ضمانت کے لئے آنے والا کمرئہ عدالت میں جرم کا مرتکب ہو رہا ہے جبکہ جرم کا ثبوت بھی موجود ہے جس پر جج نے حکم دیا کہ ضمانت کی بات تو بعد میں ہو گی پہلے ریویورا کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے جرم میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا پولیس نے ریویرا کو ہتھکڑی لگائی اور جیل بھیج دیا۔سب سے پہلا پاکستانی بینکقیام پاکستان کے بعد پہلا کاروباری بینک ''مسلم کمرشل بینک‘‘ (MCB) تھا، جس کا قیام 9جولائی 1947ء کو کلکتہ (بھارت) میں عمل آیا۔ قیام پاکستان کے بعد 17اگست 1948ء کو اسے ڈھاکہ (مشرقی پاکستان) منتقل کر دیا گیا۔ اس اعتبار سے پاکستان میں قائم ہونے والا یہ پہلا بینک ہے۔ 23اگست 1956ء کو اس کا مرکزی دفتر کراچی میں قائم کیا گیا۔ یکم جنوری 1974ء کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت نے بینکوں کو قومی تحویل میں لینے کا اعلان کیا تو یہ بینک بھی حکومتی تحویل میں آگیا۔ نیز اس میں پریمیئر بینک لمیٹڈ کو بھی ضم کر دیا گیا۔ جنوری 1991ء میں نجکاری کے بعد اسے نجی شعبے میں دے دیا گیا۔تین پائوں والا شخصمیکسیکو کے ایک شخص جوزلوپیز (Jose Lopez) کے تین پائوں تھے۔ اس کا ایک ہی ٹخنہ اور چار انگلیاں تھیں۔ یہ تیسرا پائوں اس کی بائیں ٹانگ کے ٹخنہ کے ساتھ ہی قدرت نے جوڑ رکھا تھا۔معمر ترین میراتھن کھلاڑی٭ مردوں میں عمر رسیدہ ترین میراتھن کھلاڑی ہونے کا اعزاز یونان کے ڈائمٹر یون یور داندس (Dimitrion Yordandis) کے پاس ہے۔ اس نے 98 برس کی عمر میں 10 اکتوبر 1976ء کو ایتھنز (یونان) میں یہ ریکارڈ قائم کیا اس کا دورانیہ 7 گھنٹے 33 منٹ تھا۔٭ عورتوں میں دنیا کی عمر رسیدہ ترین میراتھن کھلاڑی ہونے کا اعزاز جینی وڈایلن کے پاس ہے جس کا تعلق ڈونڈی (سکاٹ لینڈ) سے تھا۔ 1999ء میں جب جینی نے انگلینڈ میراتھن ختم کی تو اس کی عمر 87 سال جبکہ دورانیہ 7 گھنٹے 15 منٹ تھا۔