ظہور نظر ترقی پسند فکر کے ترجمان سخن ور کی 35 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

ظہور نظر ترقی پسند فکر کے ترجمان سخن ور کی 35 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : مظفر اقبال


ظہور نظر 22 اگست 1923ء کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ اصل نام ظہور احمد تھا۔ صحافت سے وابستہ رہے۔ مختلف فلموں کے لئے نغمے لکھے۔ ترقی پسند فکر کا پرچار کیا۔ بہاولپور کا یہ روشن ستارہ 7 ستمبر 1981ء کو بجھ گیا۔ غم کی آگ میں جلنے والے ، ہر دکھ چُپ چُپ سہنے والے، نظمیں غزلیں کہنے والے ، ترقی پسند اور پرُامن شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ادیب اور شاعر ظہور نظر 7 ستمبر 1981ء کو پیوند خاک ہوئے۔اقبا ل ، فیض اور منیر کے بعد و ہ ایک ایسے شاعر ہیں، جنہوں نے بیک وقت نظم اور غز ل میں مقدار و معیار کے لحاظ سے اُردو ادب میں نمایاں ترین اضا فے کیے بالخصوص نظم نگاری کے میدان میں اسلوب اور تکنیک کے اعتبارسے وہ ایک ممتاز ترین مقام کے حامل ہیں۔’’ریزہ ریزہ‘‘ ان کی نظموں کا مجموعہ ہے، جس میں آزاد اور پابند نظم کا ایک اورمنفرد امتزاج موجود ہے، جس کو کوئی مخصوص نام نہیں دیا جا سکتا۔ بقول احمد ندیم قاسمی ’’ ظہور نظر نے جو نظم کہی و ہ تصدق حسین خالد ، میرا جی اور ن م راشد کے برعکس ایک بالکل الگ صنف ہے ۔ اگر ہمارے ہاں آزاد نظم کو زندہ رہنا ہے، تو اسے ظہور نظر کا سلیقہ اختیار کرنا ہوگا‘‘۔ریزہ ریزہ میں شامل سرگوشی، میں نادم ہوں ، محنت کش، آخری ملاقات ، یہ جنگل کون کاٹے گا اور یہ جبر کی کون سی منزل ہے ایسی نظمیں ہیں، جن میں شاعر کا فن بلندیوں کو چُھورہا ہے۔ظہور نظر عام اور زبانی قسم کے ترقی پسند شاعر نہیں۔ انہوں نے حمید اختر ، م حسن لطیفی اور ساحر لدھیانوی کی رفاقت میں اس فکر کو نہ صرف اپنا نظریہ فن بنایا بلکہ آخری دم تک اس ترقی پسند فکر کے عملی مبلغ بھی رہے ۔ حمید اختر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کرشن چندرکے معروف افسانے ’’ ان داتا‘‘ کو سٹیج کرنے کا خیال سوجھا ،تو ظہور نظر نے اس میں بھر پور اورکلیدی کردار اد ا کیا ۔ان کا دوسرا مجموعہ کلا م’’ وفا کاسفر ‘‘ کے نام سے 1986ء میں شائع ہوا، جس میں نظموں کے ساتھ ساتھ 78 غزلیات بھی شامل ہیں ۔اُردوشاعری کو ایسے نادر نمونے / فن پارے دینے والے شاعر کوزندگی بھر سخت جدوجہد کا سامنا رہا ۔ زندگی کی سختی اور تلخی کو سہنا پڑا ۔ فکری اور عملی طور پر ان کی زندگی کامیاب جدوجہد سے عبارت ہے ۔ انہوں نے ہمیشہ ترقی پسندانہ اور مثبت رویوں کو پروان چڑھانے میں اپنا خون جگر صرف کیا ۔ فروغ صبح چمن میں ایک کُل وقتی ترقی پسند شاعر کا کردار ادا کیا ۔اہل ِ شہر کی طر ف سے کم وبیش اسی قسم کی ناقدری ، سفاکی اور بے حسی اس ظہور نظر کے ساتھ برتی گئی ،جو بہاولپور کی پہچان تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس روشن فکر شاعر کی اعزاز کے ساتھ تدفین کی جاتی، مگر افسوس صد افسوس کہ نمازِ جنازہ کے وقت اورمقام کا اعلان ہونے سے قبل اُن کے کافر اور ملحد ہونے کے اعلانات کیے گئے اور اہل ِ شہر کو ان کی نمازِ جنازہ ادا کرنے سے روکنے کی مذموم کوشش کی گئی ۔ اُن کے قریبی دوستوں اور عزیزوں کو تدفین سے پہلے ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ ثابت کرنا پڑا۔شہر کے مفتی نے مرحوم کا اسلامی کلام دیکھ کر ظہور نظر کو ’’مسلمان ‘‘ قرار دیا۔یوں ’’ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘۔ ظہور نظر کی ادبی برادری نے ان کی وہ پذیرائی نہ کی، جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے ۔ ظہور نظر کے فن اور شخصیت پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر خالق تنویر کے بقول ’’ہمارے ذرائع ابلاغ نے انہیں کوئی اہمیت نہیں دی، وہ ناقدین کی بے اعتنائی اور ظالمانہ بے رُخی کا شکار ہوئے ‘‘ ۔ اپنے اعلیٰ آدمی کے ساتھ اہل شہرکا یہ سلوک اور اہل قلم کا یہ رویہ اگرچہ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، مگر ہم کب تک اپنے تخلیق کاروں کو گمنامی کے گڑھوں میں دھکیلتے رہیں گے ؟ کب تک ہر معتبر لکھاری کو گھٹیا اور فضول قسم کے الزامات سے نامعتبر کیا جاتا رہے گا؟ کب تک شاعر اور ادیب کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا رہے گا؟کب تک ہم کسی کی عظمت کا اعتراف کرنے میں بخل اور مصلحت سے کام لیتے رہیں گے؟ کب تک ہم منٹو، شکیب اور اقبال ساجد جیسے بے بدل تخلیق کاروں پر بات کرنے سے کتراتے اور ہچکچاتے رہیں گے؟ کب تک ان کے فن اور شخصیت کو شجر ممنوعہ قرار دیتے رہیں گے ؟ کب تک حقائق سے نظریں چُراتے رہیں گے؟ تاریخ شاہد ہے کہ عظیم تخلیق کار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ظہور نظر جیسے لوگ اپنے شہر کا فخر ہوتے ہیں،ایسے لوگ بہت کمیا ب ہیں ۔ ان کی قدردانی اور فن شناسی سماجی اور ریاستی ہر دو سطح پر ضروری ہے ۔نمونہ کلامدیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیںرات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرفجان لیوا خوف تھا لیکن ہُوا کچھ بھی نہیںوہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دیکھ کر میں نے اُ س کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیںترے ستم کا گلہ یوں بھی کر گئے ہیں لوگ کہ اور کچھ نہ چلا بس تو مر گئے ہیں لوگ زمین پائوں تلے تھی نہ عرش سر پر تھامگر میں پھر بھی کسی آس کے سفر پر تھاگرا مکان مجھ آوارہ شخص کا جس شبمیں اتفاق سے اس روز اپنے گھر پر تھا٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
عثمانی ترکوں کی بحریہ

عثمانی ترکوں کی بحریہ

تاریخ اسلام میں عربوں کے بعد بحری قوت کو سب سے زیادہ ترقی عثمانی ترکوں نے دی۔ عثمانی مملکت کا آغاز شمالی مغربی ترکی کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جو چاروں طرف خشکی سے گھرا ہوا تھا اس لئے ابتداء میں بحری قوت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ سلطان اور خان (1259ء تا1326ء ) کے زمانے میں جب عثمانی مملکت کی حدود بحیرہ مرمرہ تک پہنچ گئیں تو پہلی مرتبہ عثمانیوں کو بحری بیڑے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کی بحریہ چودھویں صدی عیسوی کے اوائل میں تشکیل دی گئی۔ اس کی سربراہی قیودان پاشا (گرینڈ ایڈمرل) کرتا تھا۔ اس عہدے کو 1867ء میں ختم کر دیا گیا۔1308ء میں بحیرہ مرمرہ میں جزیرہ امرالی کی فتح عثمانیوں کی پہلی بحری فتح تھی۔ 1321ء میں اس کے جہاز پہلی بار جنوب مشرقی یورپ کے علاقے تھریس میں لنگر انداز ہوئے اور بعد ازاں براعظم یورپ میں فتوحات میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ عثمانی بحریہ دنیا کی پہلی بحریہ تھی جس نے بحری جہازوں پر توپیں نصب کیں۔ 1499ء میں لڑی گئی جنگ زونکیو تاریخ کی پہلی بحری جنگ تھی جس کے دوران بحری جہازوں پر لگی توپیں استعمال کی گئیں۔ عثمانی بحریہ نے ہی شمالی افریقہ میں فتوحات کا آغاز کیا اور 1517ء میں الجزائر اور مصر کو سلطنت میں شامل کیا۔ 1538ء میں جنگ پریویزا اور 1560ء میں جنگ جربا بحیرۂ روم میں عثمانی بحریہ کی طاقت اور وسعت کا ثبوت ہیں۔ علاوہ ازیں عثمانی بحری جہازوں نے 1538ء سے 1566ء کے درمیان بحر ہند میں گوا کے قریب پرتگیزی جہازوں کا مقابلہ بھی کیا۔ 1553ء میں عثمانی امیر البحر صالح رئیس نے مراکش اور آبنائے جبل الطارق سے آگے کے شمالی افریقہ کے علاقے فتح کیے اور عثمانی سلطنت کی سرحدیں بحر اوقیانوس تک پہنچا دیں۔ 1566ء میں آچے (موجودہ انڈونیشیا کا ایک صوبہ) کے سلطان نے پرتگیزیوں کے خلاف عثمانیوں کی مدد طلب کی اور خضر رئیس کی قیادت میں ایک بحری بیڑا سماٹرا بھیجا گیا۔ یہ بیڑا 1569ء میں آچے میں لنگر انداز ہوا اور اس طرح یہ سلطنت کا مشرقی ترین علاقہ قرار پایا جو عثمانیوں کی زیر سیادت تھا۔ اگست 1625ء میں مغربی انگلستان کے علاقوں سسیکس، پلائی ماؤتھ، ڈیوون، ہارٹ لینڈ پوائنٹ اور کورن وال پر چھاپے مارے۔ 1627ء میں عثمانی بحریہ کے جہازوں نے جزائر شیٹ لینڈ، جزائرفارو، ڈنمارک، ناروے اور آئس لینڈ تک اور 1627ء سے 1631ء کے دوران آئرستان اور سویڈن تک بھی چھاپے مارنے میں کامیاب ہوئے۔ 1827ء میں جنگ ناوارینو میں برطانیہ، فرانس اور روس کے مشترکہ بحری بیڑے کے ہاتھوں شکست اور الجزائر اور یونان کے کھو جانے کے بعد عثمانی بحریہ کا زوال شروع ہو گیا اور اس طرح سلطنت سمندر پار مقبوضات پر گرفت کمزور پڑتی چلی گئی۔ سلطان عبد العزیز اوّل ( 1861ء تا 1876ء) نے مضبوط بحریہ کی تشکیل کیلئے از سر نو کوششیں کیں اور کثیر سرمایہ خرچ کرنے کے بعد برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا بحری بیڑا تشکیل دیا لیکن زوال پذیر معیشت ان بحری جہازوں کے بیڑے کو زیادہ عرصے برقرار نہ رکھ سکی۔ سلطنتِ عثمانیہ کی بحریہ اٹھارہویں صدی میں جمود کا شکار ہو گئی تھی۔ اس صدی میں جہاں اس بحریہ نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں وہیں اسے بہت سی شکستیں بھی ہوئیں۔ انیسویں صدی میں عثمانی بحریہ کا زوال شروع ہوا۔ تاہم یہ سرگرم رہی۔ جنگ عظیم اوّل میں عثمانی بحریہ نے اکتوبر 1914ء میں بحیرہ اسود میں روسی ساحل پر اچانک حملہ کیا۔ اس کے بعد نومبر میں روس اور اس کے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس نے باقاعدہ جنگ شروع کردی۔ جنگ عظیم اوّل میں عثمانی بحریہ خاصی سرگرم رہی۔جدید ترکی کے قیام کے بعد بحریہ کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ عثمانی بحریہ کا امیر قپودان پاشا ( کپتان پاشا) کہلاتا تھا۔ ان میں معروف نام خیر الدین باربروسا، پیری رئیس، حسن پاشا، پیالے پاشا، طرغت پاشا اور سیدی علی عثمانی ہیں۔ بحری فتوحات کے علاوہ ان کے علمی کارنامے بھی نمایاں ہیں۔ 

رمضان کے خصوصی پکوان

رمضان کے خصوصی پکوان

چٹپٹے شامی کباباجزاء:گوشت آدھا کلو،چنے کی دال آدھی پیالی،ادرک دو انچ کا ٹکڑا،لہسن چھ سے آٹھ جوئے،ثابت لال مرچیں دس سے بارہ عدد، سفید زیرہ دو کھانے کے چمچ،پیاز دو عدد درمیانی، دہی دو کھانے کے چمچ، انڈے تین عدد، پسا ہوا ناریل دو کھانے کے چمچ، ہری مرچیں باریک کٹی ہوئی تین سے چار عدد، ہرادھنیا آدھی گھٹی،پودینہ آدھی گھٹی،کوکنگ آئل تلنے کیلئےترکیب: دال کو دھو کردوپیالی گرم پانی میں آدھے گھنٹے کیلئے بھگو کررکھ دیں۔ ناریل، ہرا دھنیا، پودینہ اور ہری مرچوں کی چٹنی پیس لیں۔پین میں دال کو (اسی پانی سمیت جس میں دال کو بھگو کر رکھا گیا تھا) ڈال کر ابالنے رکھ دیں، جب ابال آ جائے تو اوپر سے جھاگ نکال دیں۔اس دال میں گوشت، ادرک، لہسن ، لال مرچیں، زیرہ اورپیاز ڈال دیں۔ اتنی دیر پکائیں کہ گوشت اچھی طرح گل جائے اور پانی مکمل خشک ہو جائے۔ٹھنڈا کرکے پیس لیں اور اس میں دہی، انڈے اور نمک ڈال کر اچھی طرح ملا لیں۔ کباب بناتے ہوئے اس کے درمیان میں ایک چائے کا چمچ چٹنی رکھ کر بنالیں۔دس سے پندرہ منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں پھر فرائنگ پین میں کوکنگ آئل ڈال کردرمیانی آنچ پر تین سے چارمنٹ گرم کریں اور کبابوں کو سنہری فرائی کر لیں۔ ہری مرچوں کی چٹنی کو دہی میں ملا کر رائتہ بنالیں اور گرم گرم کبابوں کے ساتھ پیش کریں۔ گشتابےاجزاء:بکرے کا گوشت ایک کلو، نمک حسب ذائقہ، سونٹھ (خشک ادرک) ایک چائے کاچمچ، کشمیری مرچ ایک عدد، سونفدو چائے کے چمچ،دھینا پسا ہوا ایک چائے کاچمچ، کالی مرچ پسی ہوئی ایک چائے کاچمچ،دہی آدھی پیالی، دودھ ایک پیالی، کھویا آدھی پیالی، چینی ایک چائے کا چمچ، بڑی الائچی تین سے چار عدد،پسا ہوا گرم مصالحہ ایک چائے کاچمچ،بناسپتی گھی تین کھانے کے چمچترکیب: اس ڈش کو بنانے کیلئے چربی والا گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔ گوشت کو دھو کر چھلنی میں رکھ کر اچھی طرح خشک کر لیں۔ پھر اسے چاپر میں ڈال کر اس میںکشمیری مرچ، سونٹھ، دو عدد بڑی الائچی، سونف، دھنیا اور گرم مصالحہ ڈال کر پیسیں۔پیستے ہوئے ساتھ ہی ایک کھانے کا چمچ بناسپتی گھی اور دو کھانے کے چمچ دہی کو تھوڑا تھوڑا کرکے شامل کرتے جائیں۔جب گوشت اچھی طرح پس جائے تو اس میںنمک ملا کراس کے درمیانے سائز کے کوفتے بنائیں اور اسے دس سے پندرہ منٹ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ دہی میں کھویا، نمک، چینی اور کالی مرچ ملا کر رکھ لیں، پین میں بناسپتی گھی کو درمیانی آنچ پر گرم کریں۔اب اس میں الائچی ڈال کر کڑکڑا لیں، پھر اس میں دہی کا مکسچر ڈال کر بھونیں۔ اس میں تھوڑا تھوڑا کرکے دودھ شامل کردیں، جب دودھ کو ابال آنے لگے تو آنچ ہلکی کرکے اس میں کوفتے ڈال دیں۔ ڈھک کر ہلکی آنچ پردم پر رکھ دیں جب دودھ خشک ہو جائے تو ہلکا سا بھون کرچولہے سے اتارلیں۔گرم گرم ڈش میں نکال کر ان مزیدار گشتابے کا لطف اٹھائیں۔ 

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے

الخوارزمی غالباًدنیا کا پہلا موجد مقالہ نویسی ہےالرازی نے چیچک پر دنیا کی پہلی کتاب لکھی  یورپ سے کئی سو سال قبل اسلامی دنیا میں گھڑیاں استعمال ہوتی تھیں۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو گھڑی (واٹر کلاک ) تحفہ میں بھیجی تھی۔ محمد ابن علی خراسانی (لقب الساعتی 1185ء) گھڑی بنانے کے ماہر تھے۔ انہوں نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔ اسلامی سپین کے انجینئر المرادی نے ایک واٹر کلاک بنائی جس میں گیئر اور بیلنسگ کیلئے پارے کو استعمال کیا گیا تھا۔ مصر کے ابن یونس نے گھڑی کی ساخت پر رسالہ لکھا جس میں ملٹی پل گیئر ٹرین کی وضاحت ڈایاگرام سے کی گئی تھی۔ جرمنی اور برطانیہ میں گھڑیاںسولہویں صدی میں بننا شروع ہوئی تھیں۔الجبرا پر دنیا کی پہلی شہر آفاق کتاب عراق میں مقیم سائنس دان الخوارزمی (780ء تا 850ء) نے لکھی تھی۔ اس نے 1-9 اور صفر کے اعداد 825ء میں اپنی شاہکار کتاب الجبرو المقابلہ میں پیش کئے تھے۔ اس سے پہلے لوگ حروف استعمال کرتے تھے۔ اس کتاب کے نام سے الجبرا کا لفظ اخذ ہے۔ اس کے تین سو سال بعد اطالین ریاضی داں فیبو ناچی نے الجبرا یورپ میں متعارف کیا تھا۔ الخوارزمی کے نام سے الگورتھم یعنی ایسی سائنس جس میں 9 ہندسوں اور 0 صفر سے حساب نکالا جائے کا لفظ بھی اخذ ہوا ہے۔الخوارزمی غالباًدنیا کا پہلا موجد مقالہ نویسی ہے۔ ہوا یہ کہ اس نے علم ریاضی پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا اور بغداد کی سائنس اکیڈیمی کو بھیج دیا۔ اکیڈیمی کے سائنسدانوں کا ایک بورڈ بیٹھا جس نے اس مقالے کے بارے میں اس سے سوالات کئے۔ اس کے بعد وہ اکیڈیمی کا رکن بنا دیا گیا۔ یونیورسٹیوں میں مقالہ لکھنے کا یہ طریق اب تک رائج ہے۔مصر کے سائنسداں ابن یونس (1009ء950-ء ) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے وقت کی پیمائش کیلئے پینڈولم کو استعمال کیا۔ اسی طریقے پر بعدازاں مکینکل کلاک وجود میں آئی۔ایران کا محقق زکریا الرازی (854ء- 925ء ) دنیا کا پہلا کیمیا دان تھا جس نے سلفیورک ایسڈ تیار کیا جو جدید کیمسٹری کی بنیادی اینٹ تسلیم کیا جا تا ہے۔ اس نے ایتھونول بھی دریافت کیا اور اس کا استعمال ادویات میں کیا۔ اس نے کیمیائی مادوں کی درجہ بندی (نا میاتی اور غیر نا میاتی ) بھی کی۔زکریا ا لرازی پہلا آپٹو میٹر سٹ تھا جس نے بصارت فکر اور تحقیقی انہماک سے نتیجہ اخذ کیا کہ آنکھ کی پتلی روشنی ملنے پر رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ الرازی نے اپنے علمی شاہکار کتاب ''الحاوی‘‘ میں گلاؤ کوما کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں اس بیماری کا شکار ہو گیا تھا۔زکریا الرازی نے چیچک پر دنیا کی پہلی کتاب ''الجدری والحسبہ‘‘ لکھی جس میں اس نے چیچک اور خسرہ میں فرق بتلایا تھا۔ وہ ابتدائی طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کے طریقے کا اجرا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے عمل جراحی کیلئے ایک خاص آلۂ نشتر بنایا تھا۔ اس نے ادویہ کے درست وزن کیلئے میزانِ طبی ایجاد کیا۔ یہ ایسا ترازو ہے جس سے چھوٹے سے چھوٹا وزن معلوم کیا جا سکتا ہے۔  

آج کا دن

آج کا دن

بوئنگ737نے پہلی اڑان بھری 9اپریل 1967ء کوبوئنگ 737 نے اپنی پہلی اڑان بھری۔ یہ ایک تنگ جسامت والا ہوائی جہاز تھا، جسے بوئنگ کمپنی کی جانب سے واشنگٹن میں تیار کیا گیا۔ فروری 1968ء میں Lufthansa کی طرف سے اسے کمرشل سروس میں شامل کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب لمبی جسامت والا 737 کمرشل سروس میں شامل ہوا۔ یہ چار مختلف اقسام میں تیار کیا گیا۔ جس میں 85 سے 215 مسافروں تک کو لے جانے والی مختلف اقسام مارکیٹ میں پیش کی گئیں۔امریکی اٹامک انرجی کمیشن کا قیام1945ء میںآج کے دن امریکی اٹامک انرجی کمیشن کا قیام عمل میں آیا۔اسے عام طور پر ''AEC‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ایک ایجنسی تھی جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی کانگریس نے ایٹمی سائنس اور ٹیکنالوجی اور امن کو فروغ دینے اور کنٹرول کرنے کیلئے قائم کیا تھا۔ صدر ہیری ایس ٹرومین نے 1946ء میںاٹامک انرجی ایکٹ پر دستخط کیے اور جوہری توانائی کا کنٹرول فوج سے سویلین حکومت کو منتقل کردیا۔یہ حکم یکم جنوری 1947 سے نافذ العمل ہے۔جارجیا نے آزادی کا اعلان کیا9 اپریل 1991ء کو جارجیا نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔ یہ اعلان سوویت یونین کے ٹوٹنے سے کچھ دیر پہلے کیا گیا۔ جارجیا کی سپریم کونسل نے 31 مارچ 1991ء کو منعقدہ ریفرنڈم کے بعد پوری دنیا کے سامنے خود کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے پیش کیا۔26 مئی 1991 ء کو '' زویاد گامسخردیا‘‘ آزاد جارجیا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ جارجیا مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔جرمنی کاڈنمارک پر قبضہ9 اپریل 1940ء کو جرمنی نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کرتے ہوئے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا۔ بظاہر یہ حملہ ایک منصوبہ بندی کے مطابق کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جرمنی نے ناروے پر فرانس اور برطانیہ کے قبضے کو دیکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے حملہ کیا ہے۔اس منصوبے کو ''پلان4R‘‘کا نام دیا گیا۔ ان دونوں ممالک کے درمیان جغرافیہ، محل وقوع اور آب و ہوا میں نمایاں فرق نے فوجی کارروائیوں کو بھی بہت مختلف بنا دیا۔اس حملے کے دوران جرمنی کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 

ابواب کعبہ

ابواب کعبہ

مکہ مکرمہ کے معروف مورخ شیخ ظاہر الکروی اپنی ایک کتاب جس کا اردو میں ترجمہ عبدالصمد صارم نے کیا ہے، لکھتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم الٰہی ہوا کہ مکہ کی طرف جاؤ تو آپؑ حضرت حاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر روانہ ہوئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ یہاں نہ تو کوئی عمارت تھی اور نہ پانی اور نہ ہی یہاں آبادی کے کوئی آثار تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بچے کو یہاں بٹھا دیا، پانی کا ایک مشکیزہ اورکچھ کھجوریں ان کے حوالے کر کے خود شام کی جانب چل دیئے۔ دوسری دفعہ حضرت ابراہیمؑ واپس آئے تو یہاں قیام نہ کیا لیکن جب تیسری بار مکہ آئے تو حضرت اسماعیلؑ سے فرمایا کہ بیٹا، اللہ تعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں میں اللہ تعالٰی کا ایک گھر بناوں، کیا تم میری مدد کرو گے؟ حضرت اسماعیلؑ نے کہا ، کیوں نہیں۔گھر کی تعمیر شروع ہوئی تو حضرت اسماعیلؑ پتھر لاتے اور حضرت ابراہیمؑ دیوار بلند کرتے جاتے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کی پاک سرزمین پر تعمیر ہونے والے اس گھر کی تعمیر مٹی سے ہوئی اور نہ ہی چونے سے بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پتھر پے پتھر رکھتے چلے گئے۔ ابتدا میں اس مقدس عمارت کی نہ تو چھت بنائی اور نہ ہی اس کا دروازہ بنایا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ پانچ ہزار سالوں کی دستیاب تاریخ کے مطابق مختلف ادوار میں خانہ کعبہ کے اب تک چھ بار دروازے تبدیل کئے جا چکے ہیں۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں بیت اللہ کی تعمیر ہوتی رہی، قریش نے بھی اس تعمیر کو آگے بڑھایا اور بعد میں بھی ہوتی رہی۔خانہ ء کعبہ اس روئے زمین پر مسلمانوں کا مقدس ترین مقام تو ہے ہی لیکن اس روئے زمین پر تعمیر ہونے والا پہلا خانہ خدا بھی ہے۔اس کے ابواب یعنی اس کے دروازوں کی تاریخ بھی ہزاروں سال قدیم ہے۔جہاں تک خانہ خدا کے دروازوں کا تعلق ہے وہ اس روئے زمین پر موجود کسی بھی عمارت کے سب سے پرانے دروازے ہیں۔ خانہ کعبہ کے پرانے دروازے آج بھی سعودی عرب کے قومی ثقافتی ورثے میں محفوظ ہیں۔خانہ کعبہ کا پہلا دروازہ : الازوقی نے ''اخبار مکہ‘‘ میں ابن جریر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ بعثت نبوی سے کئی سال پہلے تبع ہی وہ پہلے بادشاہ تھے جنہوں نے خانہ کعبہ کا پہلا دروازہ لگوایا، اس پر غلاف چڑھایا اور ساتھ ہی اپنی اولاد کو اس کی دیکھ بھال کی تلقین کی۔ تبع کے بارے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ غلاف کعبہ کو رواج دینے والے بھی تبع ہی تھے۔ یاد رہے کہ بادشاہ تبع، جس نے بعد میں یہودیت اختیار کر لی تھی اس کا دور 375 عیسوی سے 440 عیسوی کے درمیان رہا ہے۔ اگرچہ خانہ کعبہ کے پہلے دروازے کی تعمیر کی صحیح تاریخ بارے تاریخ خاموش ہے تاہم اکثر مورخین کا خیال ہے کہ خانہ کعبہ کا پہلا دروازہ چوتھی صدی کے آخری عرصے میں تعمیر ہوا ہو گا۔تبع پہلے حکمران تھے جنہوں نے خانہ کعبہ کو پاک صاف کیا، اس کا دروازہ بنوایا اور اس کی چابی بھی بنوائی۔ مورخین کہتے ہیں کہ یہ دروازہ لکڑی سے بنایا گیا تھا اور پورے دور جاہلیت کے دوران موجود رہا۔ عہد اسلامی کے ابتدائی دور تک یہی دروازہ رہا۔خانہ کعبہ کا دروازہ خانہ کعبہ کے شمال۔ مشرقی دیوار پر واقع ہے۔ اسے ''باب الرحمان‘‘ جبکہ عربی میں اسے ''باب الرحمتہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ''رحم والا دروازہ‘‘ کے ہیں۔ اللہ کے گھر تک رسائی کا یہ واحد راستہ ہے۔خانہ کعبہ کا دوسرا دروازہتبع بادشاہ کے دور میں خانہ کعبہ کے بنائے گئے دروازے کو بعدازاں حضرت عبداللہ بن زبیر نے 64 ہجری میں تبدیل کیا۔ انہوں نے گیارہ ہاتھ لمبا دروازہ تیار کرایا جسے ''باب کعبہ‘‘ کہا جاتا ہے۔تیسرا دروازہ75 ہجری میں جب بنوامیہ نے حجاج بن یوسف کی قیادت میں مکہ فتح کیا تو انہوں سب سے پہلے خانہ کعبہ کی ازسر نو تعمیر کا ارادہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر والا دروازہ تبدیل کر کے دوبارہ اس دروازے کی لمبائی چھ ہاتھ کرا دی جبکہ حجاج بن یوسف نے اپنے کاریگروں کو دوسرے دروازے پر مہر لگانے کا حکم دیا، جسے ''پوشیدہ دروازہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔چوتھا دروازہخانہ کعبہ کے چوتھے دروازے کو تبدیل کرنے کی سعادت 1045ھ میں عثمانیہ دور کے بادشاہ مراد چہارم کو حاصل ہوئی۔ یہ دروازہ لگ بھگ تین صدیوں تک اسی حالت میں رہا۔ اس دروازے کی خاص بات یہ تھی کہ اس پر چاندی کی قلعی اور 200 رطل سونا استعمال ہوا تھا۔ اس لحاظ سے یہ خانہ کعبہ کاپہلا دروازہ تھا جس میں سونا اور چاندی استعمال ہوا تھا۔ بنیادی طور پر اس دروازے کے دو پاٹ تھے جن پر تاریخی اور اسلامی فن تعمیر کو مد نظر رکھتے ہوئے دھاتی پلیٹوں پر نقش و نگار کئے گئے تھے۔ یوں تین سو سالوں سے کچھ زیادہ عرصہ تک یہ دروازہ حجاج کرام اور معتمرین کا استقبال کرتا رہا۔ پانچواں دروازہسعودی عرب میں آل سعود کی حکمرانی کے قیام کے بعد شاہ عبدالعزیز السعود نے 1363ھجری میں محسوس کیا کہ تین صدیوں سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد موجودہ دروازہ کمزور پڑ چکا ہے۔ چنانچہ شاہ عبدالعزیز کے حکم پر ایک نئے دروازے کی تعمیر پر کام شروع ہوا جس کی بنیاد تو فولاد سے بنائی گئی لیکن اس کے دونوں پٹ قیمتی لکڑی سے بنائے گئے تھے۔ جن پر سو نے اور چاندی کی ملمع کاری کا انمول کام کیا گیا۔ یہ دروازہ شاہ کے حکم پر تین سال کی شبانہ روز محنت کے بعد پائیہ تکمیل تک پہنچا تھا۔چھٹا دروازہخانہ کعبہ کا چھٹا دروازہ شاہ خالد بن عبدالعزیز کے حکم پر ایک سال کی مسلسل محنت اور لگن کے ساتھ معروف سنار احمد بن ابراہیم بدر نے 1398 ہجری میں خانہ کعبہ کی زینت بنا تھا۔اس دروازے کی تیاری میں 280 کلو گرام خالص سونا خرچ ہوا جس پر 10لاکھ 43 ہزار کے لگ بھگ سعودی ریال خرچ ہوئے تھے۔ خانہ کعبہ بارے چند حقائقروایات کے مطابق کعبہ چونکہ ایک گہری وادی میں واقع تھا اور یہاں سال کے بیشتر حصے میں اکثر سیلاب آیا کرتے تھے جس کی وجہ سے خانہ کعبہ کے دروازے کو قدرے بلندی پر بنایا گیا تھا۔ چنانچہ قریش نے جب خانہ کعبہ کی تزین و آرائش کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے انہوں نے کعبہ کے مغربی دروازے پر مہر لگائی اور مشرقی دروازے کو زمین سے اونچا کر دیا۔یہ دراصل کعبہ کو سیلابی پانی سے محفوظ بنانے کی طرف ایک قدم تھا۔ اس وقت کعبہ کا دروازہ زمین سے 7فٹ بلند ہے۔اگرچہ ہم کعبہ کا صرف ایک دروازہ دیکھتے ہیں لیکن 2018ء میں دوران حج آنے والے طوفان میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ کعبہ کے دراصل دو دروازے ہوا کرتے تھے۔ کعبہ کے سنہری دروازے پر قرآن پاک کی مختلف آیات کندہ ہیں۔ خانہ کعبہ کے قفل اور اس کی کلیدوں کی تاریخ بہت طویل ہے۔ تقریباً ہر مسلمان فرمانروا نے خانہ کعبہ کے دروازوں پر قفل لگائے اور ان کی چابیاں تیار کرنے اور انہیں اپنے پاس محفوظ رکھنے کو ایک اعزاز سمجھا۔ خانہ کعبہ کلید برادری کا اعزاز بنی شیبہ کے خاندان کو جاتا ہے اور صدیوں سے بنی شیبہ کلید کعبہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔اس وقت دنیا کے مختلف عجائب گھروں میں کلید کعبہ قفل کعبہ موجود ہیں۔ انہی میں ایک قفل اور اس کی کلید پیرس کے ''لوور میوزیم‘‘ میں محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ قاہرہ کے تاریخی عجائب گھر میں بھی قفل کعبہ اور کلید کعبہ موجود ہیں۔

رمضان کے خصوصی پکوان

رمضان کے خصوصی پکوان

اسفنڈ پیزا اجزا: میدہ تین پیالی، نمک حسب ذائقہ، چینی دو کھانے کے چمچ، خشک خمیر ایک کھانے کا چمچ،نیم گرم دودھ آدھی پیالی، انڈا ایک عدد، قیمہ 200گرام،لہسن پسا ہواایک چائے کا چمچ، پیاز (باریک چوپ کی ہوئی) ایک درمیانی،کالی مرچ گدری پسی ہوئی ایک چائے کا چمچ، مشروم (باریک کٹے ہوئے) تین سے چار عدد، زیتون (باریک کٹے ہوئے) چار سے چھ عدد، چیڈرچیز (کش کیا ہوا) ایک پیالی، اجوائن پسی ہوئی ایک چوتھائی چائے کا چمچ، لہسن پسا ہوا ایک چوتھائی چائے کا چمچ، اولیوآئل حسب ضرورتترکیب: دودھ میں خمیر اورایک چائے کا چمچ چینی ڈال کر ملائیں اور ڈھک کر گرم جگہ پر دس منٹ کیلئے رکھ دیں تاکہ پھول جائے۔میدے کو دو مرتبہ چھان لیں اور اس میں چینی، نمک، انڈا، خمیر ملا دودھ اور چار کھانے کے چمچ اولیوآئل ڈالیں دس سے پندرہ منٹ تک اچھی طرح گوندھیں۔ ڈھک کر گرم جگہ پربیس سے پچیس منٹ کیلئے رکھ دیں۔فرائنگ پین میں ایک کھانے کا چمچ اولیوآئل ڈال کر اس میں لہسن اور پیاز ڈال کر ہلکا سا نرم ہونے تک فرائی کریں۔ پھر اس میں قیمہ، نمک اور کالی مرچ ڈال کرڈھک کر ہلکی آنچ پر پکنے رکھ دیں۔جب پانی خشک ہو جائے تو بھون کر چولہے سے اتارلیں۔ اس میں مشروم، زیتون، چیز، اجوائن اور تھائم ڈال کر ملالیں۔گندھے ہوئے میدے کی روٹی بیل لیں اس کے آدھے حصے پر قیمے کا مکسچر ڈالیں پھر دوسرا آدھا حصہ پلٹ کر اور سے فولڈ کرکے بند کردیں۔ کناروں کو کانٹے سے دباکر اچھی طرح سیل کردیں۔اوون کو 180cپر پندرہ سے بیس منٹ پہلے گرم کرلیں اور پزاپین کو اولیوآئل لگا کر اس میں یہ پزا رکھ دیں۔دس سے بارہ منٹ بیک کرنے کے بعد اوپر سے تین سے چار منٹ کیلئے گرل جلالیں تاکہ خوبصورت سا سنہرا رنگ آ جائے۔گرم گرم اوون سے نکال لیں اور شام کی چائے یا سکول لنچ میں ٹماٹو کیچپ کے ساتھ پیش کریں۔چائنیز آملیٹاجزاء: انڈے چار عدد،چکن کاقیمہ ایک پیالی، نمک حسب ذائقہ، پسا ہوا لہسن ایک چائے کا چمچ،سفید مرچ پسی ہوئی آدھا چائے کا چمچ،چینی آدھا چائے کا چمچ، کالی مرچ پسی ہوئے آدھا چائے کا چمچ،ہری پیاز ایک عدد، مشرومزتین سے چار عدد، سویا ساس دو کھانے کے چمچ، اخروٹ کی گری دو سے تین عدد، اولیو آئل حسب ضرورتترکیب: پین میں دوکھانے کے چمچ اولیوآئل ڈال کر اس میں باریک ہری پیاز کے ڈنٹھل ڈالیں اور ان کو ہلکا سا فرائی کرلیں۔پھر اس میں لہسن ، نمک، کالی مرچ اور چکن کا قیمہ ڈال کر فرائی کریں اور تیل علیحدہ ہونے پر چولہے سے اتارلیں۔ہری پیاز کی پتیاں اور مشرومز کو باریک کاٹ لیں اور ان پر چینی اور سویا ساس چھڑک کر رکھ دیں۔انڈوں کو پھینٹ کر ان میں نمک اور سفید مرچ ملا کر رکھ لیں۔فرائنگ پین میں تین سے چار کھانے کے چمچ اولیوآئل کو گرم کریں اور اس میں انڈوں کے مکسچر کو پھیلا کر ڈال دیں۔دو سے تین منٹ میں جب وہ ایک طرف سے پکنے پر آ جائے تو اس میں فرائی کا ہوا قیمہ، ہری پیاز اور مشرومز ڈال دیں۔پھرکٹے ہوئے اخروٹ ڈال کر آملیٹ کو احتیاط سے رول کرلیں، مشرومز اور ہری پیاز اس میں ہی پک جائیں گے۔اسے رول کی ہی شکل میں پلیٹ میں نکالیں اور حسب پسند بریڈ کے ساتھ اس غذائیت بھرے آملیٹ کو پیش کریں۔