آئین بنانے میں تاخیر کے مضمرات
اسپیشل فیچر
اگست 47 ء میں جب پاکستان بنا تو آئین ساز اسمبلی نے متحدہ ہندوستان کے اس وقت کے رائج 1935ء کے آئین میں چند تبدیلیاں کر کے اسے ملک میں نافذ کر دیا خیال یہ تھا کہ آئین ساز اسمبلی کم سے کم عرصہ میں ملک کے لئے آئین تیار کر لے گی، مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا، جس کے ناگوار نتائج ملک کو بعد میں بھگتنے پڑے۔ اگر لیاقت علی خاں مرحوم دیگر امور کے ساتھ آئین سازی میں بھی مناسب دلچسپی لیتے، تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ آئین برس ڈیڑھ برس میں تیار نہ ہو جاتا، جس نزاعی مسائل سے آج ہم دو چار ہیں، آزادی کے بعد شروع میں ان کا وجود نہ تھا اور آئین کے جلد تیار ہونے کے بعد اس کے نفاذ کے ساتھ یہ نزاعی مسائل پیدا نہ ہوتے یا کم از کم اتنی سنگین صورت کبھی اختیار نہ کرتے۔ آئین سازی میں تاخیر کا نتیجہ سیاسی ریشہ دوانیوں کی صورت میں نکلا اور اس وقت کے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے انہیں ریشہ دوانیوں کے تحت آئینی اور قانونی حدود کا احترام نہ کرتے ہوئے پہلی آئین ساز اسمبلی کو توڑ دیا۔ دوسری آئین ساز اسمبلی بھی کچھ عرصہ تک سست روی کا شکار رہی تا آنکہ چودھری محمد علی ملک کے وزیراعظم بنے اور انہوں نے دن رات کام کرکے آئین منظور کرایا۔مارشل لاء کے نفاذ سے پاکستان ایک مرتبہ پھر سرزمین بے آئین بن کر رہ گیا۔ ایوب خاں نے 62ء میں اپنا ایک آئین نافذ کیا، جس کے تحت بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ کیا گیا۔ اس آئین کو ایک فرد نے بنایا تھا اور اسے عوام کی خواہشات اور قوم و ملک کے مفاد سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اکتوبر 58ء سے لے کر مارچ 69ء تک کے عرصہ میں بے شمار نزاعی مسائل پیدا ہوئے یا حکمرانوں نے اپنے آپ کوقائم رکھنے کی خاطر انہیں پیدا کیا۔ دس سال سے زائد کے اس طویل عرصہ میں سیاسی زندگی معطل رہی اور وطن عزیز سیاسی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس دوران وہ عناصر جن کی وفاداریاں ملک کے اساسی نظریات سے وابستہ نہیں تھیں یا جو مخصوص مفادات کے حامل تھے، ان سب کو خوب کھل کھیلنے کا موقع ملا محب وطن عناصر کو جو ملک میں اسلامی اقدار اور جمہوری روایات کا احیاء چاہتے ہیں انہیں حکمرانوں نے اپنا مخالف اور دشمن سمجھا اور ان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں۔ غلط عناصر کی سرکوبی کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی زندگی پورے طور پر بحال ہو تا کہ محب وطن عناصر غلط قسم کے لوگوں کو بے نقاب کر سکیں اور عوام کو ان کی تخریبی سرگرمیوں سے آگاہ کر سکیں۔ بہر حال گھٹن کے اس عرصے میں نزاعی مسائل کا پیدا ہونا قدرتی تھا اور اکثر اوقات تو برسراقتدار طبقہ نے اپنے مفاد کی خاطر ان مسائل کو اور الجھایا۔( جسٹس ذکی الدین پال کی کتاب’’ میرے مشاہدات‘‘ کا ایک اقتباس)