علامہ شبیر احمد عثمانی آپ دو قومی نظریہ کے لیے سرگرداں رہے
اسپیشل فیچر
آپ بلندپایہ عالم، خطیب اور مفسر تھے۔ آپ نے سیاست میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ریفرنڈم سرحد کے لیے آپ ایبٹ آباد تشریف لائے۔ آپ قائداعظم کے دست راست تھے اور آپ کے مقابلے میں مولانا ابوالکلام آزاد کانگریس کے صف اول کے لیڈر تھے۔ آپ نے 1945ء میں کانگریس کی حمایت کرنے والی مذہبی جماعت جمعیت علماء ہند کے مقابلے میں جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی۔ آپ نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ مفتی محمد شفیع صاحب وہ جید اور جرأت مند عالم دین تھے جنہوں نے 1945ء میں کانگریس اور مسلم لیگ کے متعلق شرعی فیصلہ کے متعلق ایک رسالہ تصنیف کیا جس میں ثابت کیا کہ کانگریس کی حمایت کفر کی حمایت ہے۔ یہ فتویٰ لیاقت علی خاں کے حلقہ میں بڑا مفید رہا۔ آپ بھی جمعیت علماء اسلام کے رکن تھے۔ ریفرنڈم کے موقع پر شبیر احمد عثمانی کے ہمراہ سرحد کا دورہ کیا۔ قیام پاکستان کی اہمیت سے پٹھانوں کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اپنے مریدوں اور پیروکاروں کے ذریعے سرحد میں قیام پاکستان کے مطالبے کو مقبول بنایا۔ قائداعظم ؒ سب سے پہلے پیر صاحب کی دعوت پر سرحد میں آئے۔آپ 1889ء میں یوپی کے شہر بنگلور میں پیدا ہوئے اور 13 دسمبر 1949ء کو بہاولپور میں وفات پا گئے۔ آپ نے مذہبی اور دینی تعلیم ہندوستان کی معروف علمی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے حاصل کی اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے وہیں دارالعلوم دیوبند میں پڑھانا شروع کیا۔ اس دوران آپ نے یوپی کے مختلف اضلاع کا تبلیغی دورہ کیا اور ہندوپاک میں دین کے پھیلائو کے لیے بڑا کام کیا اور اسی دورے میں آپ نے ترکی کے لیے بڑے فنڈز اکٹھے کیے۔ یہ 1912ء کا زمانہ تھا اور اس وقت بلقان کی جنگ جاری تھی۔ مولانا عثمانی نے تحریک خلافت اور غیر تعاون تحریک میں حصہ لیا اور ان تحریکوں میں بڑے نمایاں رہے۔ آپ جمعیت العلماء ہند کے 1919-45ء ممبر اور ورکنگ کمیٹی کے ممبر رہے۔ آپ آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے سرگرم ممبر رہے۔ مسلم لیگ کی آئین ساز کمیٹی کے تین سال تک ممبر رہے۔ جمعیت العلماء السلام کے 1945ء میں ممبر تھے اور پاک عرب ایسوسی ایشن کراچی کے 1948ء اور اسلامک ایسوسی ایشن کراچی کے 1945ء کے دوران ممبر منتخب ہوئے اور جمعیت پنجاب اور کمیٹی کانفرنس 1946ء کے ساتھ منسلک رہے۔ آپ نے مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ، مولانا احمد سعید سے تین گھنٹے تفصیلی مذاکرات کیے اور ان کو مسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ یاد رہے کہ مولانا حسین احمد مدنی اور مفتی کفایت اللہ نے 1936ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے اجلاس منعقدہ لاہور میں شمولیت کی تھی مگر پھر بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کے باعث کانگریس کو اختیار کیے رہے۔ مولانا عثمانی نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کے لیے سرگرداں رہے۔ آپ نے 1947ء کے دنوں میں ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں، مردان، مانسہرہ اور قبائلی علاقہ جات کا دورہ کیا۔ آپ نے 1946ء میں دہلی کنونشن آل انڈیا مسلم لیگ کی میٹنگ میں بھی شمولیت اختیار کی۔ آپ نے قائداعظم کی رحلت کے بعد قائد کی نماز جنازہ پڑھائی کیونکہ قائداعظم نے وصیت کی تھی کہ مولانا شبیر احمد عثمانی ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ۔(کتاب ’’صوبہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت اور قائداعظم ؒکے ساتھی‘‘ سے منقبس)٭…٭…٭