پاکستان کے آثار قدیمہ قدیم قلعہ کہنہ (ملتان)
اسپیشل فیچر
ملتان غیر شعوری تاریخ سے لے کر تاریخی شعور کے طلوع ہونے تک کم از کم ایک ہزار سال کے دور کا حامل ہو گا۔ قلعہ کہنہ ملتان عہد رفتہ کی عظیم یادگار ہے بلند ٹیلے پر واقع قلعہ مذہبی، روحانی اور ثقافتی لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ملتان کا قدیم کہنہ جو اب محمد بن قاسم باغ کے نام سے معروف ہے سطح زمین سے قریباً (40) چالیس فٹ بلندی پر واقع ہے اس وقت اس کے چاروں طرف شہری آبادی ہے یہ قلعہ آج بہت بڑے سبزہ زار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ملتان کی قدامت اس قلعہ کی وجہ سے متعین ہوتی ہے۔ اس قلعہ پر قدیم ترین روایتی مندر ہے جو پر ہلاد بھگت کے مندر کے نام سے موسوم ہے۔ خود پرہلاد بھگت کی کہانی قبل از مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔ اسلامی دور میں ایک قلعہ پر بڑی عمارتیں اور تالاب وغیرہ تھے۔ اکثر بادشاہوں اور گورنروں کا صدر مقام یہی قدیم قلعہ ہوتا تھا اس قلعہ پر غوث بہائو الحق زکریا ملتانی سہروردی کا مزار ہے۔ یہیں دنیا کی تعمیرات میں اپنی انفرادیت رکھنے والی ہستی حضرت قطب العالم رکن الدین ملتانی سہروردی کی خانقاہ ہے جس کا شکوہ پورے برصغیر کو اپنے اثر میں لیے ہوئے ہے۔ یہ قلعہ کتنی بار تباہ ہوا اور کتنی بار اجڑا و آباد ہوا اس کا تعین کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ آخری بار کی تباہی سکھوں اور انگریزوں کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ہزاروں سال پرانا قلعہ اپنے اندر بے بہا تاریخی خزائن رکھتا ہے کسی زمانے میں اس کے اندر بڑی بڑی غاریں تھیں ۔ان غاروں کے مشاہدہ سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ کسی زبردست حادثہ کی وجہ سے ظہور میں آئی ہیں۔ ان غاروں کی اندرونی صورت کچھ عجیب سی تھی بعض جگہ جو غاریں سطح زمین سے بارہ فٹ بلند تھیں۔ وہاں قدیم آبادی کے آثار بھی پائے گئے۔ملتان کا وسیع و عریض علاقہ آریا اور ڈرا ویڈسن، بھیل اور کور لاریوں کی رزم گاہ تھا۔ ملتان کا قلعہ جب اپنی صحیح حالت پر تھا تو اس کا محیط قریباً چھ ہزار فٹ یعنی سوا میل کے قریب تھا اور اس میں قریباً 46 برج چھوٹے چھوٹے اور چار برج چاروں سمت پر پڑے تھے۔ اس کے علاوہ چاروں دروازوں پر دو بڑے بڑے برج اور بھی تھے ان چاروں دروازوں کے نام یہ تھے۔ 1۔ حسین آگاہی 2۔ ریڑھی دروازہ 3۔ شمال مشرق کی طرف خضری دروازہ تھا۔ چونکہ دریا کے رخ کی طرف تھا اس لیے اسی نسبت سے خضری دروازہ نام رکھا گیا۔ مشرقی جنوب کی طرف سکھی دروازہ تھا یہ سب تفصیل اس دور کی ہے۔ جب نواب مظفر خان اور اس کے بعد ساون مل اور مولراج یہاں کے حکمران تھے اور انگریزوں کی فتح کے وقت قلعہ کی یہی صورتحال تھی۔ اس قلعہ پر اورنگزیب کی تعمیر کردہ مسجد بھی تھی جو انگریزوں سے جنگ کے دوران قلعہ کے بارود پھٹنے سے تباہ ہو گئی جس کے آثار پرانے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ خود کنگھم ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی آف انڈیا نے 1853ء میں اس کے کھنڈر دیکھے تھے اس طرح کئی قدیم یادگاریں بھی تھیں جو سکھوں اور انگریزوں کے حملوں میں زمین بوس ہو گئیں۔