دانت اور مسوڑھوں کی صحت
اسپیشل فیچر
انسانی صحت کا دانتوں اور مسوڑھوں سے گہرا تعلق ہے۔ دانتوں کی مضبوطی کا دارومدار مسوڑھوں کی صحت اور مضبوطی سے ہے۔ مسوڑھوں میں دانتوں کی جڑیں موجود ہوتی ہیں۔ مسوڑھوں میں ریشہ پیدا ہو جائے تو وہ ڈھیلے پڑنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے دانت کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس لیے مسوڑھوں کی حفاظت نہایت ضروری ہے تاکہ دانت مضبوط رہیں اور ان کی عمر دیرپا ہو۔ دانتوں کو چار درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: سامنے والے تیز دانتوں کا کام کاٹنا اور چھیلنا ہوتا ہے، انسان خوراک کو ان کی مدد سے کاٹتا ہے اور اگر کسی چیز کو چھیلنا مقصود ہو تو بھی ان دانتوں ہی سے اس کو چھیلتا ہے۔ لمبے اور تیز دانت ،ان کی مددسے کاٹنے اور دبانے کا کام لیا جاتا ہے۔ چھوٹی داڑھوں سے چپا کر غذا کھائی جاتی ہے۔ دانتوں میں داڑھوں کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے اگر انسان کی داڑھیں کمزور پڑ جائیں تو وہ سخت غذا کھانے کے قابل نہیں رہتا۔پیدائش سے چھ سال کی عمر تک کے درمیانی وقفہ میں اگنے والے دانت دودھ کے دانت کہلاتے ہیں۔ یہ دانت کمزور ہوتے ہیں اورایک ایک کر کے نکل جاتے ہیں۔ چھ سال کی عمر سے 16برس کی عمر تک انسان کے پختہ دانت نکل آتے ہیں۔ جوان بالغ انسان کے دانتوں کی کل تعداد 32ہوتی ہے۔دانتوں میں جراثیم خوراک کے ان ذرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو خوراک کھا چکنے کے بعد دانتوں میں پھنس جاتے ہیں۔ ان جراثیم کی وجہ سے دانتوں میں تیزابیت پیدا ہونے لگتی ہے اور مسوڑھے گل کر کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ دانتوں کی داڑھیں کمزور ہو کر ہلنے لگتی ہیں۔ دانتوں کے درمیان سوراخ نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر دانتوں کے علاج کی جانب توجہ نہ دی جائے تو دانتوں میں درد شروع ہو جاتا ہے جو بہت شدید ہوتا ہے۔دانتوں کے گلنے کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ میٹھا، کٹھا، ٹھنڈا یا گرم کھانے سے دانتوں میں ہلکا درد محسوس ہوتا ہے۔ یہی درد بڑھتا جاتا ہے اور شدت اختیا رکر لیتا ہے۔ اگر دانتوں کو اسی کیفیت میں چھوڑ دیا جائے تو ان میں پیپ پڑنے لگتی ہے اور پھوڑا بن جاتا ہے۔ دانتوں میں ہلکی سی ٹیس اٹھتی ہے تو منہ سوج جاتا ہے اور داڑھوں میں جہاں زیادہ درد ہوتا ہے تو چہرے پر سوجن نمودار ہونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں دانتوں کے علاج کی جانب فوری توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ آج کل ایسی ادویات موجود ہیں جن کے استعمال سے ریشہ اور پیپ ختم ہو جاتے ہیں، سوجن اتر جاتی ہے اور زخم مندمل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ ادویات کے استعمال کے بعد بھی دانت ہل رہا ہو اور جڑ مضبوط نہ ہو رہی ہو اگر دانتوں کا سرجن مشورہ دے تو ایسی داڑھ یا دانت کو نکلوا دینا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے دیگر دانت بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ دانتوں کی وجہ سے چہرے کے خدوخال بھرے بھرے نظر آتے ہیں اور چہرہ خوبصورت اور دلکش نظر آتا ہے۔ اگر دانت یا داڑھوں کو باری باری نکلوانا شروع کر دیا جائے تو چہر پلپلا اور بدنما نظر آتا ہے اور خوراک چبانے میں بھی زیادہ دقت محسوس ہوتی ہے۔