افلاطون کا فلسفۂ تعلیم
اسپیشل فیچر
ریاست میں تعلیم کی ضرورتافلاطون نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’الجمہوریہ‘‘ میں اگرچہ تعلیم سے متعلق کوئی باضابطہ نظریہ پیش نہیں کیا لیکن اس کتاب میں دیئے گئے تعلیمی تصورات سے ایک باضابطہ نظریہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ افلاطون کے نزدیک نظام تعلیم بذات خود اصل مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد کے حصول کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ اس کے خیال میں مثالی مملکت انسانی ذہن کی مظہر ہے اس لیے انسانی ذہن کو مثالی مملکت کے اعلیٰ معیار تک لانے کے لیے افراد کو زیور تعلیم سے آراستہ کیاجانا ضروری ہے۔ تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ناقص معاشرے کو نئے سرے سے نئی بنیاد پر تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ تعلیم ذہن کی تربیت کرتی ہےافلاطون کے نزدیک انصاف یاعدل انسانی ذہن کی ایک صفت ہے اورانصاف کے نفاذ کے لیے انسانی ذہن کی تربیت ضروری ہے جس کا بہترین ذریعہ تعلیم ہے۔ تعلیم کا مقصد خودآگاہی ہے۔ اصل تعلیم پچاس سال کے بعد شروع ہوتی ہے کیونکہ اس عمر میں انسان کی عمر پختگی کے دور میں شامل ہو جاتی ہے۔ تعلیم فرد کی روح اورذہن کو جلا بخشتی ہے جس سے وہ خیر اورشر، نیکی اوربدی، اچھے اوربرے کی تمیز کرسکتا ہے اور وہ اخلاقی اعتبار سے خود کفیل ہوجاتا ہے۔یونان میں نظام تعلیمافلاطون کا تعلیمی فلسفہ دراصل ایتھنز کے نظام تعلیم کی اصلاح و ترمیم شدہ صورت تھی خصوصاً اس کا ابتدائی تعلیم کا سارا نظام ایتھنز اورسپارٹا کے طریقہ ہائے تعلیم کی اصلاح یافتہ صورت تھی۔ اس وقت ایتھنز اورسپارٹا کے طریقہ تعلیم مختلف تھے اوران مختلف حالات و ماحول کے پابند تھے جس کے زیر اثر یہ دونوں ریاستیں زندگی بسر کررہی تھیں۔ ایتھنز میں تعلیم ذاتی مسئلہ تھی اور ریاست سے اس کا کوئی تعلق واسطہ نہ تھا۔ لوگ تعلیم اپنی اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرتے تھے۔ لڑکیوں کو صرف گھریلو قسم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ابتدائی تعلیم6سال سے 14 سال تک اورثانوی تعلیم 14سال سے 18سال تک دی جاتی تھی۔ بعدازاں دو سال کے لیے فوجی تربیت دی جاتی تھی اوراسی حصہ سے ریاست کا تعلق ہوتا تھا، ابتدائی تعلیم کے نصاب میں جمناسٹک اورفن موسیقی شامل تھا۔ ثانوی تعلیم کے لیے طلباء کو فیس ادا کرنی پڑتی تھی۔یہ تعلیم بڑی مہنگی تھی اور صرف امراء حاصل کرتے تھے۔ ایتھنز کا تعلیمی نظام صرف خاندان تک محدود تھا اوراس کا دراصل مقصد جسمانی نشوونما، وافر ذہنی قوت اوربے عیب ذوق کا حصول تھا۔دوسری جانب سپارٹا کا نظام تعلیم مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں تھا۔ اس نظام کے تحت لڑکے کو سات سال کی عمر میں والدین سے لے کرریاست کے تحت کردیا جاتا تھا۔ والدین کو تعلیم دلوانے سے کوئی غرض نہ تھی یہ سب کچھ ریاست کرتی تھی، طالب علم مکانوں یا بورڈنگ ہائوسز میں رہتے تھے اوران کی قدیم پبلک سکولوں کی طرز پر تربیت کی جاتی تھی انہیں جنگ کے طریقوں سے روشناس کروادیا جاتا تھا۔ انہیں باربار آزمائشی تجربوں اورامتحانات سے گزارا جاتا تھا۔ اس طرح جنگجو تیار کیے جاتے تھے۔ سپارٹا میں عام تعلیم کے نصاب میں جمناسٹک، فن موسیقی اور رزمی رقص شامل تھے۔ امیر، غریب میں کوئی امتیازنہ تھا۔ جرأت وحوصلہ، نظم و ضبط اورقوت برداشت کے عنصر کی افزائش کی جاتی تھی لیکن اس نظام میں دانائی کے عنصر کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ لڑکے اورلڑکیوں کوبرابر تعلیم دی جاتی تھی اوروہاں تعلیم کا مقصد نوجوانوں کو فوجی تربیت سے آراستہ کرنا تھا۔ افلاطون سپارٹا کے نظام تعلیم سے متاثر تھا۔ریاست تعلیم کی ذمہ دارافلاطون کے نزدیک تعلیمی نظام کا ریاستی کنٹرول میں ہوناضروری ہے جس کابنیادی فائدہ یہ ہوگا کہ مملکت اپنی ضرورت کے مطابق تعلیم یافتہ اورہنرمند افراد پیدا کرے گی۔ اس کے خیال میں تعلیم حاصل کرنا یا نہ کرنا افراد کی اپنی مرضی پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ افراد کو لازمی طورپرزبردستی تعلیم دی جانی چاہیے۔ وہ مملکت کو تین طبقات غلام، فوجی اور فلسفی حکمران میں تقسیم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تینوں طبقات کے لیے الگ الگ اور ان کی ذہنی سطح جس کی بدولت وہ معاشرہ میں اپنے مقام کاتعین کرتے ہیں کو ملحوظ خاطر رکھ کر نصاب کا تعین کرنا چاہیے۔٭…٭…٭