افلاطون کے نزدیک انصاف کیا ہے؟
اسپیشل فیچر
’’الجمہوریہ‘‘ میں افلاطون نے لفظ انصاف کو یونانی لفظ DIKAISUNE کے معنوں میں استعمال کیا ہے، جولفظ JUSTICEسے کہیں وسیع ہے۔انصاف کامفہومافلاطون کے نزدیک انصاف اس جذبہ کا نام ہے جس کے باعث ہرشخص صرف اپنے ہی فرائض کے دائرہ عمل میں رہتا ہے۔ اوردوسروں کے فرائض کے دائرے میںمداخلت نہیں کرتا۔ اس کے خیال میں ہر شخص کو صرف ایک کام کرناچاہیے اور یہ کام اس کے فطری میلان کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ دوسروں کے کام میں مداخلت کرنا نہ صرف انصاف کے خلاف ہے بلکہ نقصان کاباعث بھی ہوتا ہے، مثالی ریاست کی تنظیم میں فرائض کی تخصیص ہونی چاہیے اورہرشخص کواپنے کام کے علاوہ دوسرے کے کام سے غرض نہیں ہونی چاہیے۔ انصاف۔ خدمت خلق ہےاس کے نزدیک جو ریاست توازن سے جنم لیتی ہے اس میں انصاف منظم اتحاد کا متقاضی ہوتاہے اور یہ توازن معاشرے کوتین نفسیاتی بنیادوں پر تقسیم کر کے حاصل ہوتا ہے اور وہ تین بنیادیں معاشرے کے تینوں طبقے مزدورسپاہی اور حکمران ہیں۔ اس کے خیال میں کسی بھی شہری کو فرد واحد سمجھنے کی بجائے خود کو معاشرہ یاریاست کا حصہ سمجھناچاہیے۔ انصاف کا مطلب خدمت خلق ہے اور خدمت خلق اس سماجی اجتماع افراد کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کی خدمت سرانجام دی جاتی ہے۔انصاف، ریاستی برائیوں کی فریادافلاطون کے نزدیک شہری ریاست کی سیاسی اورسماجی برائیوں کا واحد علاج انصاف ہے اورانصاف کی خوبی ریاست میں بحیثیت مجموعی اورفرد میں بحیثیت انفرادی موجود ہے۔ ایک مثالی ریاست میں انصاف موجود ہوتا ہے اوریہ خوبی دوسری دانائی، جرأت، ضبط نفس جیسی خوبیوں کے وجود کاباعث ہے۔ تقسیم کار سے مراد قوم کی اخلاقی بہبود اورفرائض کی تخصیص کا مطلب ہرآدمی کا اپنا وہ فرض سرانجام دینا ہے جس کے لیے وہ موزوںہے اورجس کام کو اس کی فطرت سب سے زیادہ قبول کرتی ہے۔انصاف انسانی خوبی ہےافلاطون اپنے نظریہ انصاف میں Glancon Cephalus اور Thrasymachus کے نظریات انصاف پرزبردست تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ Cephalus کا یہ کہنا کہ ’’انصاف ایک فن ہے‘‘ غلط ہے۔ انصاف فن کا ہم معنی اور ہم پلہ نہیں ہوسکتا اورنہ ہی اسے تجربی طورپر حاصل کیاجاسکتا ہے بلکہ انصاف ایک انسانی خوبی ہے یہ انسان کے دل و دماغ کی آواز ہے اور یہ اس طرز کی خوبی ہے کہ اگر کوئی اسے اپنا لے تو پھر وہ کسی کے بھی جذبات کو نقصان نہیں پہنچاسکتا بلکہ وہ سماج کے ہرفردکافائدہ سوچتا ہے۔ افلاطون کہتا ہے کہ کسی چیزکے منصب کے مطابق اس سے موزوں کام لینے ہی میں اس چیز کی خوبی مضمر ہے۔ روح کی پاکیزگی کے لیے بہتر زندگی ضروری ہے اور بہتر زندگی ہی انصاف ہے۔ انصاف تقاضائے فطر ت ہےافلاطون کہتا ہے کہ انصاف عین تقاضائے فطرت ہے، انسانی روح کی صحیح ترصورت ہے اورانسان کی داخلی شے ہے۔٭…٭…٭