اختر شیرانی ۔۔۔ رومانیت کو نئے معنی دینے والا شاعر
اسپیشل فیچر
اردو شاعری کی تاریخ میں بہت سے ایسے شعرا ملیں گے جنہیں رومانوی شاعری کی وجہ سے بہت شہرت ملی۔ بہت سے شعراایسے بھی ہیں جنہوں نے صرف رومانوی شاعری ہی نہیں کی بلکہ وہ حقیقت پسندی کو بھی ساتھ لے کر چلتے رہے۔اردو میں جس شاعر کو باقاعدہ ’’شاعررومان‘‘ کا خطاب ملا وہ تھے اختر شیرانی۔اختر شیرانی چار مئی 1905ء کو راجھستان (بھارت) کے علاقے ٹونک میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمدداؤد خان تھا۔ ان کے والد حافظ محمود شیرانی بہت بڑے عالم اور اعلیٰ درجے کے استاد تھے۔ حافظ شیرانی نے 1921ء میں اسلامیہ کالج لاہورمیں پڑھانا شروع کیا۔ پھر وہ اوریئنٹل کالج چلے گئے۔ جوانی میں داؤد خان لاہور منتقل ہو گئے اور پھر تمام عمر یہاں رہے۔ انہوںنے 1921ء میں منشی فاضل کیا اور پھر 1922ء میں ادیب فاضل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد کی یہ شدید خواہش تھی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں لیکن اختر شیرانی نے اپنے والد کی خواہش پوری نہ کی اور کل وقتی شاعر بن گئے۔ اس میدان میں انہوں نے جس استاد کا انتخاب کیا ان کا بھی کوئی ثانی نہیں تھا۔ ان کا نام تھا مولانا تاجور نجیب آبادی۔ تاجور نجیب آبادی کا نام ادبی حلقوں میں بڑے احترام سے لیا جاتا تھا اور وہ ادبی جرائد شائع کرتے تھے۔ اختر شیرانی اختراع پسند تھے اور انہوں نے اردو شاعری میں نئے رجحانات متعارف کروائے۔ چھوٹی عمر ہی میں انہوں نے متاثر کن شاعری کی۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اخترستان، نگارشاتِ اختر، لالہ طور، طیورِ آوارہ، نغمہ حرم، صبحِ بہار اور شہناز‘‘ شامل ہیں۔ 1929ء سے لے کر 1939ء تک وہ کچھ ادبی جرائد کے مدیر رہے جن میں انتخاب، بہارستان، خیالستان، اور رومان‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خان کے اخبارات ’’زمیندار‘‘ اور ’’ہمدرد‘‘ کے لیے کالم بھی لکھے۔ اختر شیرانی نے کئی نئے ادیبوں کو جرائد کے ذریعے متعارف کرایا جن میں احمدندیم قاسمی اور قدرت اللہ شہاب بھی شامل ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کا پہلا افسانہ ’’چندروتی‘‘ اختر شیرانی کے جریدے ’’رومان‘‘ میں شائع ہوا۔ نثر اور شاعری میں ان کے نو مجموعے شائع ہوئے، تراجم اور افسانے اس کے علاوہ ہیں۔ ادبی اور تاریخی موضوعات پر ان کے مضامین لاتعداد ہیں۔ ان کے بیٹے پروفیسر مظہر محمود شیرانی نے ان کی حیات پر ایک کتاب تحریر کی تھی جس کا عنوان ‘‘کہاں سے لائیں انہیں‘‘ تھا۔ ڈاکٹر یونس حسنی نے بھی اختر شیرانی کی زندگی پر ایک کتاب لکھی تھی۔ اختر شیرانی کی شاعری میں جوانی اپنی مکمل رعنائیوں کے ساتھ ملتی ہے، بالکل جیسے انگریزی شاعر شیلے، کیٹس اور بائرن کے ہاں رومانس اپنی پوری لطافت اور نفاست کے ساتھ ملتا ہے۔ وہ شعر کو خوشبو کی طرح اپنے اندر سموتے تھے۔ وہ بڑی آسانی سے قارئین کے دلوں کو مسحور کرلیتے تھے۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شاعری وجد آفریں ہے۔ تاہم ان کی شاعری کا محور محض عورت کی جسمانی خوبصورتی نہیں۔ عورت ان کے نزدیک ہر روپ میں خوبصورت ہے۔ اسی طرح اختر شیرانی جس طرح فطرت کو بیان کرتے ہیں ہمیں ورڈز ورتھ یاد آ جاتا ہے۔ لیکن ان میں اور ورڈز ورتھ میں ایک فرق ہے۔ اختر شیرانی فطرت کی تمام اشیا کو عورت کی خوبصورتی سے جوڑ دیتے ہیں۔ اردو شاعری میں انہوں نے جو اثرات چھوڑے ہیں انہیں کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اردو کے کئی ممتاز شاعروںنے ان سے استفادہ کیا۔ یہاں ایک بات کا تذکرہ ضروری ہے۔ اردو کے دو شاعر ایسے ہیں جنہوں نے باقاعدہ محبوبہ کا نام لے کر شاعری کی۔ ایک تھے اختر شیرانی اور دوسرے مصطفی زیدی۔ اختر شیرانی کی محبوبہ کا نام سلمیٰ اور مصطفی زیدی کی محبوبہ کا نام شہناز تھا۔ اردو کی رومانوی شاعری میں یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔ بہرحال اس نئے رجحان کو بھی بہت پسند کیا گیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعد میں آنے والے کسی بھی رومانوی شاعر نے اس رجحان کو آگے نہیں بڑھایا۔ اصل میں ساٹھ کی دہائی میں جب جدید غزل لکھی جانے لگی تو اس کا اسلوب بھی بدل گیا اور موضوعات بھی۔ اب غزل میں جدید طرزاحساس نے جگہ لے لی۔ اس طرح رومانوی شاعری کا پرانا تصور بھی تبدیل ہو گیا۔ اب ذیل میں اختر شیرانی کے کچھ اشعار قارئین کی نذر کرتے ہیں۔محبت کی دنیا میں مسحور کردوںمرے سادہ دل تجھ کو مغرور کردوںمجھے زندگی دور رکھتی ہے تجھ سے جو تو پاس ہو تو اسے دور کردوںچاک دامن کی قسم، چاک گریباں کی قسم ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسماگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کردےتو ذرے کو مہتاب اور مہتاب کو آفتاب کردےاے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے وہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئےہرایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہےغم فراق کی دنیا دلِ تباہ میں ہے کام آسکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریںاس بے وفاکو بھول نہ جائیں تو کیا کریںکچھ تو تنہائی کی راتوں کا سہارا ہوتاتم نہ ہوتے نہ سہی ذکر تمہارا ہوتاان کی مشہور زمانہ نظم ’’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘‘ کا ایک بند ملاحظہ فرمائیںاے عشق نہ چھیڑ آآکے ہمیں، بھولے ہوؤں کو یاد نہ کرپہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم، تو اور ہمیں ناشاد نہ کرقسمت کا ستم بھی کم نہیں کچھ، یہ تازہ ستم ایجاد نہ کریوں ظلم نہ کر بیداد نہ کر اے عشق ہمیں برباد نہ کراختر شیرانی نے اپنی 43سالہ زندگی میں بہت غم و الم کا سامنا کیا۔ ان کا جوان بیٹا جاوید محمود چل بسا، پھر ان کے قریبی دوست مرزا شجاع خان نے خودکشی کرلی، ان کے داماد نذیرالدین شیرانی ایک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ وہ جس عورت سے محبت کرتے تھے اس نے انہیں قبول نہ کیا۔ ان تمام دکھوں کے باعث وہ کثرت سے بادہ نوشی کرنے لگے اور پھر نو ستمبر1948ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔