گداگری-اب پیشہ بن گیا ہے
اسپیشل فیچر
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں آپ کو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرتے ہوئے لوگ ملیں گے۔ عام طور ہمارے معاشرے کو تین طبقات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے امیر لوگ، اس کے بعد درمیانہ طبقہ جن کے پاس مال و دولت ایک توازن میں موجود ہوتی ہے۔ اور سب سے آخر میں وہ غریب طبقہ جس کو عام طور پر ضروریات زندگی بمشکل میسر ہوتی ہیں۔اس تحریر کا زیادہ حصہ اس آخری طبقے کے بارے میں ہے جو عام طور غریب یا غریب تر ہوتا ہے۔ ان میں اکثر وہ افراد شامل ہوتے ہیں جو مالی اور جسمانی طور پر اہل نہیں ہوتے۔ ان میں سے کچھ افراد تو سفید پوش ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح، بغیر کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے، محنت مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی کھاتے ہیں۔ جبکہ باقی دوسرے افراد غریب ہونے کے ساتھ ساتھ ہٹ دھرم بھی ہوتے ہیں۔ اور یہ ہٹ دھرم افراد ہمارے معاشرے میں ایک بد ترین بحران پیدا کر رہے ہیں۔ یہ ہٹ دھرم افراد محنت مزدوری نہ کرنے کے بہانے گداگری کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں اور کھلے عام لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں اور جو نہیں دیتا اس کو بار بار تنگ کرتے ہیں۔ بالآخر جب تک وہ شخص کچھ دے نہ دے تب تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے گویا ایسا لگتا ہے کہ یہ گداگر اس شخص سے بھتہ طلب کر رہے ہیںیا اس شخص نے ان کا کوئی قرض واپس کرنا ہے تو یہ اس کی وصولی کے لئے اسے پریشان کر رہے ہیں۔ پہلے زمانوں کی بات ہے جب گداگر جمعرات یا جمعہ کے روز آ کر گھروں کے باہر کھڑے ہو کر صدا لگاتے تھے، اور پھر جن افراد نے کچھ نہ کچھ دینا ہوتا تھا وہ دے دیتے تھے اور گداگر لے کر چپ چاپ چلے جاتے تھے۔ لیکن آج کل گداگری ایک ـــ ’’پیشہ‘‘ بن گئی ہے۔ جس کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا اور نہ کچھ کرنے کی جستجو ہوتی ہے وہ بھکاری بن جاتا ہے۔ یہ بھکاری صرف ایک شخص نہیں ہوتا جو مانگ رہا ہوتا ہے بلکہ یہ پورے کے پورے ’’گینگز‘‘ ہوتے ہیں جو اپنی مخصوص کردہ جگہوں پر زیادہ تر بھیڑ والی جگہوں پر بکھرے ہوتے ہیں اور لوگوں سے بھیک کے نام پر’’بھتہ‘‘ وصول کرتے ہیں۔ عام طور پر پورے پورے خاندان نکلے ہوتے ہیں جن میں مرد عام طور پر لنگڑے ،لولے یا اندھے بنے ہوتے ہیںاور عورتوں نے شیر خوارر وتے ہوئے یاسوتے ہوئے بچے اٹھائے ہوتے ہیں۔ گداگری کے علاوہ یہ گینگز دیگر جرائم جیسے منشیات فروشی اور جیبیں کاٹنا وغیرہ میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔