تخلیق اور تعلیم کو ہم آہنگ کیجیے

تخلیق اور تعلیم کو ہم آہنگ کیجیے

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر مریم چغتائی


دنیا بہت تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اس تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں ہمارا نظامِ تعلیم اور اِس کے نتیجے میں حاصل کردہ ڈگری اپنی اہمیت کھو رہی ہے۔ہمارے ملک میں تعلیم کا نظام بدحالی کا شکار ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارانظامِ تعلیم تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ دنیا میں تعلیم کے معیار اور طریقہ کار پر اس وقت بحث ہو رہی ہے۔اِس بات کی اہمیت کو سمجھا جا رہا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ نظامِ تعلیم میں بھی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔کِن روبنسن، جو کہ پوری دنیا میں نامور ماہرِ تعلیم کے طور پر جانے جاتے ہیں،نے بھی تعلیم میں تخلیقی صلاحیتوں پر زور دیا ہے۔کِن روبنسن بتاتے ہیںکہ جولین لِن نامی ایک بچی کو اپنی تعلیم میں بہت مشکل کا سامنا تھا، اُس سے اپنا ہوم ورک نہیں ہو پاتا تھااور اس کی وجہ سے جماعت میں خلل پڑتا تھا۔ اس کے والدین کو اُس کے لئے کسی صلاح کار سے رابطہ کرنے کا کہا گیا۔لِن کی والدہ اور صلاح کار نے اُس کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں پوچھا مگر یہ مشق سود مند ثابت نہ ہوئی اور وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ کافی تحقیق کے بعد صلاح کار کو ایک خیال آیا۔ وہ ریڈیو چلاکر لِن کی والدہ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔ جیسے ہی وہ کمرے سے نکلی، لِن نے رقص کرنا شروع کر دیا۔ تب صلاح کارنے والدین کو مشورہ دیا کہ اِس بچی کو ڈانس سکول میں داخل کروا دیں۔یہی بچی جس کو ڈانس سکول میں داخل کروایا گیاوہ برطانیہ کی مشہور ڈائریکٹر، ایکٹریس، کوریوگرافر اور ڈانسر جولین باربرا لِن بنی۔ضروری نہیں ہے کہ کسی بچے یا بچی میں صرف رقص کرنے کی صلاحیت ہی ہو۔ دیگر بہت سی پوشیدہ صلاحیتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اصل میں کِن روبنسن نے اِس بات سے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر بچوں کی تعلیم و تربیت میں اُن میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کو بھی مدِنظر رکھا جائے تو ہم صحیح معنوں میں تعلیم کے مقصد سے مستفید ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اگر ہم بچوں کو اُن کی خداداد صلاحیتوں کے عین مطابق لے کر چلیں تو نہ صرف یہ بچے اپنے لئے کامیابیاں سمیٹیںگے بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی نیک نامی کا سبب بنیں گے۔ہمارے معاشرے میں تخلیقی صلاحیتوں کو عام طور پر غلط طریقے سے سمجھا جا تا ہے۔ اِس کو صرف فنکاروں ہی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت اِس سے مختلف ہے۔تخلیقی صلاحیت کی تعریف مختلف لوگوں نے مختلف انداز میں کی ہے۔ بقول روبرٹ فرینکلن ’’کسی نئے خیال کو پہچاننے ، پیدا کرنے، متبادل امکانات اور مسائل کا حل تلاش کرے جو دوسروں کے لئے سودمند ہو اُسے تخلیقی صلاحیت کہتے ہیں۔‘‘ امریکی ماہرِ نفسیات کارل روجرز کے مطابق تخلیقی صلاحیت کا مطلب تصورات کا آپس میں نئے انداز سے تعلق قائم کرنا اور دوسروں سے منفرد انداز میں سوچنا ہے۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فنکارانہ صلاحیتوں والے لوگ جیسا کہ موسیقار، مصور، شاعر، ناول اورافسانہ نگار ہی تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیںاور یہ خیال کافی حد تک درست بھی ہے ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص مختلف تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہو سکتا ہے۔جیسا کہ کوئی انجینئرکسی نئے خیال پر کام کرکے نئی چیز بنا سکتا ہے۔کوئی معمار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرکے تعمیر میں جدت لا سکتا ہے۔کوئی سائنس دان اور ماہرِ طبیعات اپنی تخلیقی صلاحیت سے انسانیت کی بھلائی کے لئے نئی چیز ایجاد کرسکتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی اور تعلیم میں تخلیق کے عمل کو بہت بری طرح نظر انداز کیا۔ کِن روبنسن نے ایک دفعہ اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نظامِ تعلیم ’’خطرناک حالت‘‘ میں ہے۔یہ نظامِ تعلیم 21ویں صدی کی صنعتی ضرورتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایاگیا تھا۔ اِس صنعتی تعلیم نے صرف وہی پود پیدا کی جو کہ صنعت کے لئے سودمند ہو سکتی تھی۔ تعلیم کو شماریات کا گورکھ دھندہ بنا کر رکھ دیا گیا۔ اِسی بات کا اظہار معروف ناول نگار چارلس ڈکن نے کئی دفعہ اپنے ناولوں میں کیا ہے۔ان کے ایک ناول ہارڈ ٹائمز میں ایک کردارٹیچر کا ہے ۔ اس ٹیچر کو بتایا جاتا ہے کہ صرف اور صرف حقائق ہی بتانے ہیںاور کوئی نئی سوچ اور بات نہیں کرنی جو حقائق سے ہٹ کر ہواور جب بھی پوچھا جائے صرف انہی حقائق کو دہرائے۔یہی مثال ہمارے موجودہ نظامِ تعلیم پر لاگو ہے کہ جو کچھ کتابوں میں لکھ دیا گیا ہے وہی حرفِ آخر ہے اور جو بچے اُسے حرف بہ حرف امتحانی کاپی میں اتار لیں وہی بچے کامیاب ٹھہرائے جاتے ہیں۔کئی دھائیوں سے ہم اسی طرح اپنے بچوں کو ’’زیورِ تعلیم‘‘ سے آراستہ کر رہے ہیں۔کِن روبنسن کے مطابق اِس وقت پوری دنیا میں تعلیم اصلاح طلب ہے۔ اِس کو مکمل طور پر نئے سِرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو کہ موجودہ حالات ، تقاضوں اور رجحانات پر پورا اترتی ہو۔ کِن روبنسن کہتے ہیں تعلیم میں انقلاب کی ضرورت ہے۔بچوں میں نئی چیزوں کی کھوج اور ممکنات پر بات کرنا ہو گی، سوالات پوچھنے اور ایک سوال کے مختلف انداز میں جوابات کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی۔انٹرنیٹ کے اس دور میںمعلومات ہر ایک کی پہنچ میں ہیں۔ مناسب مواقع اور رہنمائی سے بچوں میں موجود تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور ماہر روبرٹ ایل فیلڈنگ کے بقول تخلیقی صلاحیتوں تک پہنچنے کے لئے ہم جن اقدامات کو اٹھا سکتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔٭ سقراطی طرز کے مکالمے میں بچوں کو شامل کرنا٭لکھنے کا ایساعمل جس سے سوال پیدا ہو۔ مختلف موضوعات پر لکھنے سے بچوں کو اپنی داخلی باتوں کو جاننے کا موقع ملتا ہے اور یہ عمل سوالات کو جنم دیتا ہے۔٭ یہ جاننا کہ آپ کیا جانتے ہیں۔یعنی اپنے اندر موجود علم اور صلاحیتوں کا علم ہونا۔٭ باتوں یا تصورات کو آپس میں جوڑکر ایک نیاخیال تخلیق کرنا۔ایک ماہرایلن ایچ جارڈن کے مطابق بچوںمیں تخلیقی عمل کو ابھارنے اور مشکلات کو حل کرنے کیلئے درج ذیل پانچ طریقوں کو آزمایا جا سکتا ہے۔٭ اُس چیز کی حوصلہ افزائی کی جائے جو بچوں میں دلچسپی کا باعث ہوں۔ یہ عمل سوچ کے نئے در کھولے گا۔٭ مختلف انداز میں سوچنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کسی کام کو کرتے ہوئے روایتی طریقے سے ہٹ کر انداز اور سوچ کو عمل میں لانا،مثلاً حساب کے سوال کیلئے عام طریقہ کار اپنانے کی بجائے مختلف انداز میں سوال کرنا اور جوابات تک پہنچنے کے لیے نت نئے طریقے اپنانا۔٭ گروپ کی صورت میں مسئلے کے حل کی حوصلہ افزائی کرنا۔ بعض کام ایسے ہیں جو کہ اکیلے کرنا ممکن نہیں ہوتااُس کیلئے مختلف ذہن اور صلاحیتیں مل کر آسانی سے یہ کام سر انجام دے سکتی ہیں۔٭ دریافت کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا۔بجائے اِس کے کہ بچوں کے صرف پڑھنے پر زور دیا جائے۔٭ جو چیز موجود ہے اُس سے ہٹ کر کوئی حل سوچنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنا۔ یعنی متبادل حل تلاش کرنے کا عمل۔اپنے نظامِ تعلیم کو اِس مقام تک لے جانے کیلئے بہت محنت درکار ہے۔ دنیا میں اپنے کردار اور اہمیت کو منوانے کیلئے ہمیں اپنی تاریخ دہرانی ہو گی اور وہ وقت واپس لانا ہو گا جب تمام دنیا علم و عمل کیلئے بغداداو ر غرناطہ کی طرف دیکھتی تھی۔ بڑے بڑے سائنسدان ، محقق ، فلاسفرمسلم دنیا سے تھے اور یہ سب اِس وجہ سے تھا کہ اُس وقت تعلیم قرآن کی روشنی میں تحقیق اور تخلیق کے عمل کو سامنے رکھ کر حاصل کی جاتی تھی۔بقول علامہ اقبالؒ یہ علم و حکمت کی مہرہ بازی ، یہ بحث و تکرار کی نمائش نہیں ہے دنیا کو اب گواراپرانے افکار کی نمائش٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
برسا جامع مسجد

برسا جامع مسجد

سلجوقی و عثمانی عظمت کا سنگمترکی کے تاریخی شہر برسا(Bursa) میں واقع برسا جامع مسجد جسے مقامی طور پر ''اولو کامی‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی فن تعمیر کا ایک درخشاں شاہکار ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 14ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی اور اسے ابتدائی عثمانی دور کی نمایاں ترین یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلجوقی اور عثمانی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج نے اس مسجد کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے، جو آج بھی ہزاروں زائرین اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔برسا، جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا، تاریخی ورثے سے مالا مال شہر ہے۔ اسی شہر کے قلب میں قائم یہ جامع مسجد اپنی سادگی اور جلال کے باعث ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ روایت ہے کہ اس کی تعمیر سلطان بایزید اوّل کے دور میں مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عثمانی سلطنت اپنی بنیادیں مضبوط کر رہی تھی اور فن تعمیر میں نئی جہتیں متعارف ہو رہی تھیں۔ اولو کامی اسی ارتقائی مرحلے کی عکاس ہے۔مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 20 گنبد ہیں جو قطار در قطار ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ گنبد چھت کے وسیع ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں اور اندرونی حصے کو ایک منفرد توازن اور ہم آہنگی عطا کرتے ہیں۔ دو بلند مینار مسجد کی شان بڑھاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والوں کو اس کے روحانی وقار کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میں بیک وقت تقریباً پانچ ہزارافراد نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اس کے وسیع و عریض ہال کی گواہی دیتا ہے۔مسجد کا اندرونی منظر نہایت دلکش ہے۔ دیواروں اور ستونوں پر آویزاں خطاطی کے شاہکار اسے ایک روحانی عجائب گھر کا درجہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں موجود قرآنی آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی مختلف ادوار کے نامور خطاطوں کے فن کا نمونہ ہے۔ یہی خطاطی اولو کامی کو دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ بڑے بڑے ستون، کشادہ فرش اور گنبدوں سے چھنتی روشنی عبادت گزاروں کے دلوں میں سکون اور خشوع پیدا کرتی ہے۔مسجد کے اندر موجود ایک خوبصورت فوارہ بھی اس کی انفرادیت کا حصہ ہے۔ عموماً فوارے صحن میں ہوتے ہیں، مگر اولو کامی میں یہ اندرونی حصے میں واقع ہے، جو ایک منفرد طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف وضو کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ پانی کی مدھم آواز ایک روح پرور فضا قائم رکھتی ہے۔ یہ عنصر سلجوقی طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں پانی کو جمالیاتی اور روحانی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔برسا جامع مسجد کی تعمیر میں مضبوط پتھر اور سادہ مگر باوقار ڈیزائن اختیار کیا گیا۔ اس کی بیرونی دیواریں سادگی کا تاثر دیتی ہیں، جبکہ اندرونی حصہ نفیس آرائش اور خطاطی سے مزین ہے۔ یہی تضاد اسے ایک متوازن اور پْراثر عمارت بناتا ہے۔ یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی بلکہ صدیوں تک علمی و سماجی سرگرمیوں کا محور بھی بنی رہی۔آج بھی اولو کامی برسا کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ مقامی افراد کیلئے یہ روحانی مرکز ہے جہاں جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں آکر نہ صرف نماز ادا کرتے ہیں بلکہ اس کے فن تعمیر اور تاریخی پس منظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مسجد کے اطراف قائم بازار اور تاریخی عمارات اس علاقے کو مزید پرکشش بناتے ہیں، جس سے یہ مقام ایک ثقافتی مرکز کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ترکی میں موجود دیگر عظیم مساجد کی طرح برسا جامع مسجد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے فن تعمیر میں کس قدر بلندی حاصل کی۔ سلجوقی سادگی اور عثمانی عظمت کا امتزاج اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ یہ مسجد ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ حال کا زندہ روحانی مرکز بھی ہے۔مختصراً، برسا جامع مسجد یا اولو کامی صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور فن کا حسین امتزاج ہے۔ اس کے 20 گنبد، دو مینار، دلکش خطاطی اور وسیع ہال اسے ترکی کی نمایاں ترین مساجد میں شامل کرتے ہیں۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود اس کی شان و شوکت برقرار ہے اور یہ آج بھی اسلامی فن تعمیر کی عظمت کا روشن استعارہ ہے۔

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

اجزاء:دہی آدھا کلو، آلو ابلے ہوئے تین عدد، پیاز باریک لمبوتری کٹی ہوئی ایک پیالی، کھیرا دو عدد، نمک کالی مرچ( پسی ہوئی) حسب ذائقہ، مرغی( ابلی ہوئی) تقریباً 125گرام۔ ترکیب: مرغی کے باریک ٹکڑے کر لیں، ابلے ہوئے آلو کش کر لیں۔ ایک عدد کھیرا کش کر لیں۔ دوسرے کھیرے کے پتلے ٹکڑے کر لیں۔ ایک کھلے منہ کے پیالے میں دہی ڈال کر پھینٹ لیں۔ دہی میں آلو اور کٹی ہوئی پیاز ڈال کر پھینٹیں۔ ساتھ نمک اور کالی مرچ شامل کر دیں۔ دہی میں مرغی کے ٹکڑے اور کش کیا ہوا کھیرا ڈال کر یکجا کریں۔ ڈش میں دہی کا آمیزہ ڈالیں۔ دہی کے آمیزے پر کٹا ہوا کھیرا رکھ دیں۔ عمدہ ترین اور لذت سے بھرپور سلاد تیار ہے۔ تناول فرمائیں۔چکن قیمہ پکوڑااجزا:باریک کٹی چکن 250 گرام،پھینٹے ہوئے انڈے 2 عدد، بیسن 4کھانے کے چمچے، پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، کٹی ہری مرچ 2 عدد،ہلدی ایک چوتھائی چائے کا چمچ، بیکنگ پائوڈر آدھا چائے کا چمچ،نمک ایک چائے کا چمچ،کٹا ہرا دھنیا حسب ضرورت، چاٹ مصالحہ آدھا کھانے کا چمچ ،باریک کٹی ہری پیاز آدھا کپ۔ترکیب: بیسن ،بیکنگ پائوڈرپسی لال مرچ اور ہلدی،نمک، کپ پانی،باریک کٹی چکن،کٹی ہری مرچ اور کٹا ہرادھنیا ڈال کر ایک پیالے میں مکس کرکے 30 منٹ کیلئے رکھ دیں، اب پین میں تیل گرم کرکے اس کو پکوڑے کی شکل میں خستہ اور گولڈن ہونے تک فرائی کرلیں، لیجئے مزیدا ر چکن قیمہ پکوڑے تیار ہیں ۔اپنے افطار دسترخوان کی رونق بڑھائیں۔

آج کا دن

آج کا دن

باربی ڈول متعارف کرائی گئی1959ء میں آج کے روز معروف کارٹون اور کھلونا گڑیا باربی ڈول کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا گیا۔ اس گڑیا کو امریکی کھلونا ساز کمپنی نے جرمن گڑیا''بائلڈ لی لی‘‘ سے متاثر ہو کر بنایاتھا۔ باربی ڈول کا شمار دنیا کے مشہورترین کرداروں میں ہوتا ہے۔اب یہ گڑیا ایک فیملی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس فیملی کے اراکین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی معروف ماڈلز سے مماثلت رکھنے والی باربی ڈولز بھی بنائی جا چکی ہیں۔ہٹلر کا نئی فضائیہ بنانے کا اعلان9مارچ1935ء کوایڈولف ہٹلر نے جرمنی کیلئے نئی فضائیہ بنانے کا اعلا ن کیا۔ہٹلر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ورسائیلس معاہدے کی خلاف ورزی پر جرمنی کی فوجی طاقت کو دوبارہ مضبوط کیا جائے گا۔اسی عرصے میں دنیا دوسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی تھی اور عالمی حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے۔ ہٹلر نے تقریباً5لاکھ فوجی بھرتی کرنے اور جرمنی کیلئے ایک نئی فضائیہ بنانے کا اعلان بھی اسی دوران کیا۔ایستونیا پر بمباریدوسری عالمی جنگ کے دوران ایستونیا پر متعدد مرتبہ بمباری کی گئی۔ پہلی بمباری 1941ء میں کے دوران کی گئی جو آپریشن باربروسہ کا حصہ تھی۔ اس کے بعد ایستونیا کے دارالحکومت تالین پر 9مارچ 1944ء کو سوویت یونین کی جانب سے کی جانے والی بمباری سب سے زیادہ تباہ کن تھی۔یہ بمباری جنگ ناروا کے دوران کی گئی، اسے ''مارچ بمباری‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سوویت یونین نے دو دن کے دوران تالین پر ہزاروں بم برسائے۔

اِستقلال مسجد

اِستقلال مسجد

جنوب مشرقی ایشیا کی عظیم ترین عبادت گاہانڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں واقع ''استقلال مسجد‘‘ نہ صرف ملک کی سب سے بڑی مسجد ہے بلکہ اسے جنوب مشرقی ایشیا کی عظیم ترین عبادت گاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ''استقلال‘‘ کا مطلب ہے آزادی، اور یہ نام انڈونیشیا کی نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی یاد میں رکھا گیا۔ اس مسجد کی تعمیر 1978ء میں مکمل ہوئی اور یہ قومی تشخص، مذہبی وقار اور جدید فن تعمیر کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔استقلال مسجد تقریباً 5.9 ہیکٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے مرکزی ہال اور ملحقہ حصوں میں بیک وقت تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ مسجد کا کشادہ صحن، بلند و بالا ستون، وسیع گنبد اور جدید طرزِ تعمیر اسے ایک منفرد شناخت بخشتے ہیں۔ اس کا مرکزی گنبد تقریباً 45 میٹر قطر پر مشتمل ہے، جو انڈونیشیا کی آزادی کے سال 1945ء کی علامتی یاد دہانی بھی سمجھا جاتا ہے۔استقلال مسجد کا ڈیزائن سادہ مگر باوقار ہے۔ سفید سنگِ مرمر اور اسٹیل کے استعمال نے اسے جدید اور شفاف تاثر دیا ہے۔ مسجد کا مینار تقریباً 96 میٹر بلند ہے جو شہر کے افق پر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ستونوں اور محرابوں کی ترتیب میں اسلامی فن تعمیر کی جھلک موجود ہے، مگر مجموعی ڈیزائن میں انڈونیشیا کے متنوع ثقافتی ورثے اور جدید انجینئرنگ کا حسین امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد روایتی اور جدید طرزِ تعمیر کے سنگم کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔مسجد کا اندرونی حصہ نہایت وسیع اور ہوادار ہے۔ مرکزی ہال میں لگے بلند ستون اور کھلے طرز کی ترتیب نمازیوں کو روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔ فرش پر بچھے قالین، سادہ مگر خوبصورت محراب اور قرآنی آیات کی دلکش خطاطی عبادت کے ماحول کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ یہاں جدید صوتی نظام نصب ہے تاکہ ہزاروں افراد تک خطبہ اور اذان کی آواز واضح طور پر پہنچ سکے۔ رمضان المبارک، عیدین اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں لاکھوں افراد کا اجتماع ایک ایمان افروز منظر پیش کرتا ہے۔استقلال مسجد کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا جغرافیائی اور سماجی محل وقوع ہے۔ یہ مسجد جکارتہ کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور اس کے سامنے ایک تاریخی گرجا گھر موجود ہے، جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انڈونیشیا ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے، اور استقلال مسجد اس تنوع کے باوجود قومی یکجہتی کی روشن مثال کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہاں مختلف بین الاقوامی وفود اور سیاح بھی آتے ہیں، جنہیں مسجد کے مختلف حصوں کی سیر کروائی جاتی ہے۔مسجد میں نہ صرف نماز اور عبادت کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ یہ تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ کیلئے دروس، سیمینارز اور کانفرنسز منعقد ہوتی ہیں۔ وسیع کانفرنس ہال اور ملحقہ کمروں میں مختلف مذہبی و سماجی موضوعات پر مکالمہ ہوتا ہے۔ اس طرح استقلال مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک فعال سماجی و فکری مرکز بھی ہے جو قوم کی رہنمائی میں کردار ادا کرتا ہے۔ انڈونیشیا کی آزادی کی یادگار کے طور پر استقلال مسجد قومی وقار کی علامت ہے۔ اس کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی اور مقامی وسائل کا استعمال کیا گیا، جس سے یہ عمارت ملک کی ترقی اور خود انحصاری کی نشانی بن گئی۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں آکر اس کے فن تعمیر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ رات کے وقت روشنیاں اس کے سفید گنبد اور مینار کو مزید دلکش بنا دیتی ہیں، جو جکارتہ کی پہچان بن چکا ہے۔مختصراً، استقلال مسجد انڈونیشیا کی آزادی، مذہبی عقیدت اور ثقافتی ہم آہنگی کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ اپنی وسعت، جدید ڈیزائن اور روحانی ماحول کے باعث یہ مسجد نہ صرف جنوب مشرقی ایشیا بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہاں ادا کی جانے والی نمازیں، منعقد ہونے والے اجتماعات اور آنے والے زائرین اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ استقلال مسجد ایمان، اتحاد اور قومی فخر کی روشن علامت ہے۔

رمضان کے پکوان:توری کے پکوڑے

رمضان کے پکوان:توری کے پکوڑے

اجزاء:توری آدھا کلو، نمک حسب ذائقہ، پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ڈبل روٹی کا چورا ڈیڑھ پیالی، ہلدی آدھا چائے کا چمچ، سفید تل دو کھانے کے چمچ، کالی مرچ پسی ہوئی آدھا چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:توری کو چھیل کر اس کے گول قتلے کاٹ لیں اور اس پر نمک ہلدی اور لال مرچ چھڑ کر اچھی طرح ملا لیں۔ پھیلے ہوئے فرائنگ پین میں ان قتلوں کو پھیلا کر درمیانی آنچ پر رکھیں۔ الٹ پلٹ کرتے ہوئے اتنا پکائیں کہ توری کا اپنا پانی اچھی طرح خشک ہو جائے۔ ڈبل روٹی کے چورے میں تل اور کالی مرچ ملا لیں اور انڈوں کو پھینٹ کر رکھ لیں۔ توری کے قتلوں کو پھیلا کر اچھی طرح ٹھنڈا کر لیں۔ پہلے انہیں پھینٹے ہوئے انڈوں میں ڈبوئیں پھر ڈبل روٹی کے چورے میں لتھیڑ کر گرم کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کرلیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دُنیا کی پہلی خاتون پائلٹ1910ء میں فرانس کی ریمنڈ کو دنیا کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز ملا ۔ 8 مارچ 1910ء کو انہیں ہوائی جہاز اڑانے کا لائسنس دیا گیا۔ ریمنڈ 22اگست 1882ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں۔وہ ایک پلمبر کی بیٹی تھیں۔1909ء میں انہوں نے اپنے ایک دوست سے درخواست کی کہ وہ انہیں ہوائی جہاز اڑانا سکھائے۔صرف ایک سال میں ریمنڈ بہترین پائلٹ بن گئیں۔امریکہ نے فلپائن خریدا8 مارچ 1906ء کوامریکہ نے اسپین سے 20 ملین ڈالرز میں فلپائن کو خریدا۔ تاہم وہاں کی عوام نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ 1902ء میں صدر تھیوڈور روزویلٹ نے فلپائن کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ۔اس جنگ کے دوران وہاں سیکڑوں مسلمانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔جاپان کا رنگون پر قبضہ1942ء میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے برطانیہ کے زیر انتظام برما کے علاقے رنگون پر قبضہ کر لیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کا وہ مرحلہ تھا جب جاپان کو جنگ میں فتوحات مل رہی تھیں اور اس کی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی تھیں۔ رنگون پر قبضے کے بعد جاپانی افواج نے جنگ کا رخ ہی بدل دیا۔ جاپان پرل ہاربر پر حملہ کر کے پہلے ہی امریکہ کے ساتھ براہ راست لڑائی شروع کر چکا تھا۔ملائیشین جہاز غائب ہو گیاملائیشیا ایئر لائنز کی ''پرواز 370 ‘‘ 8 مارچ 2014 ء کوکوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے غائب ہو گئی۔ جہاز کے عملے نے آخری بار ائیر ٹریفک کنٹرول سے ٹیک آف کے تقریباً 38 منٹ بعد اس وقت رابطہ کیا جب پرواز بحیرہ جنوبی چین کے اوپر سے گزر رہی تھی۔ اس کے بعد طیارہ ریڈار اسکرینوں سے غائب ہو گیا۔