ریڈیو ڈراما :تکنیک اور فن
اسپیشل فیچر
اسٹیج ڈرامے کے زوال کے بعد ریڈیو کی ایجاد کے ساتھ ہی ڈراما ریڈیو کے طلسماتی دروازے پر دستک دینے لگا اگرچہ چند بنیادی اور اہم تبدیلیاں ہوئیں مگر اِن کے ساتھ ریڈیو ڈرامے نے مقبولیت بھی حاصل کی ۔ بقول ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ:۔’’حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح ڈراما اسٹیج سے معدوم ہوگیا تھا۔ اگر ریڈیو اسے اپنے دامن میں نہ سمیٹتا تو شاید آج اردو ڈرامے کا کہیں نام و نشان بھی نہ ملتا۔ ریڈیو نے اسٹیج کے ہاتھوں سے ڈرامے کو چھین کر اس طرح اپنا لیا ہے کہ اب یہ اسٹیج سے بہتر معلوم ہونے لگا ہے۔‘‘ریڈیو ڈرامے کی تعریف عام طور پر ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ:۔’’نشری(ریڈیائی) ڈراما کانوں سے دیکھنے کی چیز ہے۔‘‘ریڈیو ڈراما دیکھنے سے نہیں سننے سے تعلق رکھتا ہے اور کانوں کی مدد سے دل و دماغ تک اترتا ہے اور آواز کی لہروں پر سفر کرتا ہوا پردئہ سماعت سے ٹکرا کر انہیں محظوظ کرتا ہے۔ریڈیائی ڈرامے کے داخلی عناصر بھی اسٹیج ڈرامے سے ملتے جلتے ہیں لیکن چند خصوصیات اور خارجی عناصر اسے اسٹیج ڈرامے سے منفرد بناتے ہیں۔ ریڈیائی ڈرامے میں موضوع کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ جو موضوع منتخب کیا جارہا ہے۔اس میں ریڈیو ڈراما بننے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں اس سلسلے میں ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ کہتے ہیں:۔’’ریڈیو فنکار کو دیکھنا چاہیے کہ جو کہانی وہ جن واقعات کے سہارے پیش کرتا ہے۔ اسے بغیر اسٹیج کے ایک اَن دیکھی دنیا میں محض آواز کے سہارے اس طرح پیش کیا جاسکے کہ نہ تو اس میں دلچسپی کی کمی محسوس ہو اور نہ غیر ضروری وقفے اور خلا پیدا ہوں۔‘‘جہاں واقعات میں کسی بھی قسم کی پیچیدگی اور الجھائو ڈرامے کو بے تاثر بناسکتے ہیں وہیںڈرامے کے آغاز ہی میںکرداروں کے تصادم اور تذبذب کا موثر طریقے سے ظاہر کردیا جانا معنوی اور عملی اعتبار سے سامعین کی توجہ اسیر کرنے کے لیے کارگر ثابت ہوتا ہے۔ پلاٹ کے سلسلے میں ایک اور بات قابلِ ذکر ہے کہ ریڈیو پر نشر کرنے کے لیے طویل اور مسلسل ڈرامے اتنے کامیاب نہیں ہوسکتے جتنے مختصر اور یک بابی ڈرامے۔ ریڈیو ڈرامہ کسی طرح کے ضمنی پلاٹ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ایک آدھ گھنٹے میں پیش کیا جانے والے ڈراما تو اس مختصر اور قلیل وقت میں اپنے موضوع کا حق ہی ادا کرسکتا ہے۔ریڈیو ڈراما نگار اپنے کرداروں کو تخلیق کرتے وقت کسی اسٹیج یااسکرین کا تصور نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس کا دائرہ کار اسٹوڈیو کا ایک محدود کمرہ ہوتا ہے اور اسے آوازوں کے کھیل سے ہی سامعین کے پردئہ تخیل پر ایک جہاں آباد کرنا ہوتا ہے۔ ریڈیائی ڈرامے میں آواز مرکزی شے ہے اور کوئی بھی حرکت یا عمل دکھانے کے لیے صوتی اثرات سے کام لینا پڑتا ہے کیونکہ اسٹیج اور ٹی وی ڈرامے میں ہیروئن یا ہیرو جیسا بھی ہو سامنے آجاتا ہے لیکن ریڈیو ڈرامے میں ہیروئن کو خوبصورت بنانے کے لیے اس کی آواز کا خوبصورت ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اصغر بٹ واضح الفاظ میں ریڈیو ڈرامے کے اس فرق کو بیان کرتے ہیں:۔’’ریڈیو ڈرامے میں آواز محض تصویر ہی نہیں ایک کردار ہوتی ہے اور چونکہ سامع کا تخیل اپنی ذہنی وابستگیوں کی بنا پر اس آواز کی ترجمانی اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں کرتا ہے اس لیے ڈرامے کے کردار اور مناظر ہر شخص کے ذہنی اسٹیج پر علیحدہ علیحدہ صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ یہ شخصی تخلیقات ڈرامے کے حظ میں اضافہ کرتی ہیں۔‘‘صوتی اثرات کا اہم جزو موسیقی بھی ہے۔ جو خوشی، غمی اور اداسی کے جذبات کو پیش کرنے میںمعاون ثابت ہوتی ہے۔ ریڈیو کے فن کار اور تخلیق کار کے لیے ایک ہی سٹوڈیو کے اندر پورا جہاں تخلیق کرلینے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا مکالموں، صوتی اثرات اور موسیقی کے ذریعے وہ بہار، خزاں برسات، گرمی اور سردی کو بھی بیان کرتا ہے۔ڈرامے میں آحادِ ثلاثہ کی شرط صرف اسٹیج ڈرامے پر ہی لاگو نہیں ہوتی بلکہ ریڈیائی ڈراما بھی اس اصول کے تحت پیش کیا جاتا ہے لیکن ریڈیو ڈرامے میں وحدت زماں اور وحدتِ مکاں کے نتیجے میں وحدت عملی پیدا نہیں کی جاتی بلکہ وحدتِ تصور سے وحدتِ عملی تخلیق کی جاتی ہے۔ ریڈیائی ڈراما نگار کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ تصور کی اس وحدت کو قائم رکھنے کی پوری کوشش کرے۔ سامعین کا تصور ایک کردار یا واقعے کے متعلق واحد اور واضح ہونا چاہیے اور سامعین کو اکتاہٹ سے بچانے کے لیے زیادہ طویل ڈرامے سے گریز کرنا ہوتا ہے۔ غیرضروری احتیاط اور تصنع سے سامعین کے تصورکوزک بھی پہنچ سکتی ہے۔ لہٰذا واحد پلاٹ اور واحد قصہ کے نتیجے میں ایک ہی طرح کا تصادم اور مرکزی خیال کی وحدت، تاثر کی وحدت کو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔وحدتِ مکان اور وحدتِ زمان کے سلسلے میں ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ کہتے ہیں کہ:۔’’خاص طور پر وحدتوں کے معاملے میں ریڈیو ڈراما پیش کرتے وقت اسے زمانی و مکانی حدبندیوں کا خیال نہیں رکھنا پڑتا۔ وہ ڈرامے کی ابتداء کرنے کے بعد اسے لامحدود کائنات کے گوشے گوشے اور زمانے کے مختلف ادوار کی آغوش میں اُچھالتا پھرتا ہے چونکہ اسے معلوم ہے کہ صوتی اثرات کے کمرے میں اس کی آزاد پرواز کے سارے سامان جمع ہیں۔ اس لیے تخیل کی آزاد روی اسے وسیع فضا مہیا کرتی ہے اور وہ اونچی ہوائوں میں اڑتا پھرتا ہے۔‘‘ریڈیائی ڈرامے کو لکھنے اور پیش کش کے حوالے سے یک بابی ڈرامے، دو بابی ڈرامے، فیچر ڈرامے، سیریل اور سیریز ڈرامے میں تقسیم کیا جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ مقبول یک بابی ڈراما ہے اور بعض اوقات یک بابی ڈرامے کو ریڈیائی ڈرامے کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دے دیا جاتا ہے جو کہ غلط خیال ہے۔٭…٭…٭۔۔