ریاست اور بغاوت
اسپیشل فیچر
ریاستیں اس لیے وجود میں آتی ہیں کہ وہ اپنے حکمرانوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں اور باقی سب کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ اس دوہرے کردار یعنی آقا اور خادم کا۔۔۔ کی عکاسی طاقت کے ان وسائل سے ہوتی ہے جن سے کہ ریاستوں نے استفادہ کیا ہے۔ کسی ریاست کی طاقت کا سب سے واضح وسیلہ قوت ہوتا ہے جسے روایتاً ریاست کی سب سے بنیادی صلاحیت خیال کیا جاتا ہے۔ (معروف ماہر عمرانیات میکس ویبر ریاستوں کی تعریف تشدد کی اجارہ داریوں کے طور پر کرتا ہے۔) اور یہ قوت وہ فیصلہ کن منطق ہے جس کے طفیل عموماً ریاستیں اخلاقی انعامات کی بجائے تشدد کو بہت آسان اور سستا طریقہ خیال کرتی ہیں۔ ریاستیں باغی فوجوں سے لے کر دہشت گردوں تک عسکری طاقت کے حریف مراکز کو کچلنے کے لیے جو کچھ بھی ان کے بس میں ہو بروئے کار لاتی ہیں۔ روایتاً حکمرانوں کی حاکمیت کا زیادہ خالص اظہار ان کی اپنے لوگوں کی زندگی و موت پر اختیار سے ہوتا ہے۔ چین میں بادشاہ کی حاکمیت کی بنیاد وہ رسومات تھیں جن میں وہ قربانی، شکار اور جنگ کی صورت میں تشدد کا باقاعدہ حکم دیتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ جانیں لینے کا ایک قانونی طریقہ تھا۔ آج بھی دیکھیں تو امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزائے موت پانے والے مجرموں کی جان بخشی کر سکتا ہے۔تاہم ویبر نے ریاست کی جو تعریف کسی خاص علاقے میں تشدد کے اجارے کی حامل کسی تنظیم کے طور پر کی ہے وہ غلط محسوس ہوتی ہے۔ عہد جدید سے قبل کسی بھی ریاست کو اس مفہوم میں اجارہ داری حاصل نہیں تھی۔ پرانے حکمرانوں کی مار اپنے پایہ تخت یا چھاؤنی سے چند یوم کی مسافت سے زیادہ کی نہیں ہوا کرتی تھی۔ زیادہ حکمران اپنے گورنروں، سرداروں اور باجگزاروں پر انحصار کرتے تھے۔ بعض عظیم سلطنتیں بڑے بڑے منصوبوں کا اہتمام بھی کرتی تھیں مثلاً اہرام، بڑے بڑے آب پاشی کے منصوبے، اینکگرواٹ جیسے معبد یا پھر ٹے واٹی واکان جیسے شہر اور شاہراہوں کے وسیع و عریض جال۔ لیکن ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دارالحکومت سے سینکڑوں میل دور کسی شہر یا قصبے کے معاملات کو کنٹرول کر سکیں۔ چین کا شمار ان ریاستوں میں کیا جاتا تھا جن کی حکومت بہت مضبوط تھی اور جن کے پاس ایک اچھی خاصی افسر شاہی اور خفیہ پولیس کا نظام بھی تھا مگر اس کے باوجود ایک پرانی کہاوت کہتی ہے کہ۔۔۔ شہنشاہ بہت دور ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ باہر سے تو دیکھنے والوں کو بہت عظیم الشان قسم کا استحکام اور امن و امان نظر آتا تھا جب کہ ملک کے اندر بغاوت کے لاوے کھولتے رہتے تھے جن میں بعض اوقات لاکھوں لوگ مارے جاتے تھے۔انیسویں صدی کی تائپنگ بغاوت میں ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ انسان لقمہ اجل بنے تھے۔ روس کا پطرس اعظم اپنے سرداروں اور افسروں کو فرامین جاری کیا کرتا تھا لیکن ایک مرتبہ اسے پریشان ہو کر انہیں دیگر تمام فرامین کی تعمیل کا فرمان جاری کرنا پڑا۔ چنانچہ ریاستوں کی طاقتیں محدود تھیں۔ وہ جنگیں کرتی تھیں اور پلیں اور نہریں تعمیر کرواتی تھیں یہاں تک کہ نئے مذاہب بھی رائج کرتی تھیں مگر وہ امراض کے علاج یا بلووں کو روکنے سے قاصر تھیں۔ چند لوگوں سے زیادہ کو امیر بنانا بھی ان کے بس میں نہیں تھا۔یہ تو صرف ماضی قریب میں آ کر ہوا ہے کہ ریاستوں کو تشدد پر جیسی تیسی اجارہ داری حاصل ہوئی ہے جس کا سبب مواصلات و پیغام رسانی کے وسیع نظام، شاہراہیں، ریلوے اور قومی پولیس ہیں۔ انگلستان میں ٹیوڈور حکمرانوں کا یہ بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے سرداروں کی عسکری قوت کا خاتمہ کیا اور انہیں اپنے لشکر اور قلعہ بندیاں ختم کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد ان کی اپنے قلعوں پر مورچے بنانے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی درخواستیں نامنظور کی جانے لگیں۔ فرانس کے بادشاہ لوئی سیز دہم نے بھی اپنے ایک وزیر رشلو کے کہنے پر باغی سرداروں کے قلعے تباہ کر وا دیے۔ بقیہ یورپ میں تشدد کی اجارہ داری کا آغاز 1648ء میں معاہدہ ویسٹ فالیہ سے ہوا جس کی رو سے وڈیروں اور نوابوں کی نجی فوجیں ختم کر دی گئیں تھیں۔ لہٰذا ویبر کی تعریف قدیم دور کی نسبت جدید دور پر زیادہ صادق آتی ہے بلکہ اب تو تشدد کی اجارہ داری کا نہ ہونا کسی ریاست کی ناکامی کی سب سے بڑی علامت بن گئی ہے۔ کمزور ریاستوں میں مضبوط ریاستوں کی نسبت زیادہ بلند سطح کا تشدد دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسی ریاستیں گاہے خود فسادیوں سے مل جاتی ہیں اور گاہے ان سے چشم پوشی کی روش اختیار کر لیتی ہیں۔ اس کے برعکس مضبوط حکومت کی حامل بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نسبتاً زیادہ جمہوری ریاستوں کی بڑی نشانی یہ ہے کہ ان میں تشدد بہت حد تک کم نظر آتا ہے۔ تشدد پر کنٹرول نہ صرف قومی ریاستوں بلکہ بین الاقومی حکومت کا بھی امتیازی وصف بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کی اہم ترین شق یہ تھی کہ ریاستی جارحیت کو جرم تصور کیا جائے گا۔