ریاست اور بغاوت

ریاست اور بغاوت

اسپیشل فیچر

تحریر : جیف ملگن


ریاستیں اس لیے وجود میں آتی ہیں کہ وہ اپنے حکمرانوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں اور باقی سب کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔ اس دوہرے کردار یعنی آقا اور خادم کا۔۔۔ کی عکاسی طاقت کے ان وسائل سے ہوتی ہے جن سے کہ ریاستوں نے استفادہ کیا ہے۔ کسی ریاست کی طاقت کا سب سے واضح وسیلہ قوت ہوتا ہے جسے روایتاً ریاست کی سب سے بنیادی صلاحیت خیال کیا جاتا ہے۔ (معروف ماہر عمرانیات میکس ویبر ریاستوں کی تعریف تشدد کی اجارہ داریوں کے طور پر کرتا ہے۔) اور یہ قوت وہ فیصلہ کن منطق ہے جس کے طفیل عموماً ریاستیں اخلاقی انعامات کی بجائے تشدد کو بہت آسان اور سستا طریقہ خیال کرتی ہیں۔ ریاستیں باغی فوجوں سے لے کر دہشت گردوں تک عسکری طاقت کے حریف مراکز کو کچلنے کے لیے جو کچھ بھی ان کے بس میں ہو بروئے کار لاتی ہیں۔ روایتاً حکمرانوں کی حاکمیت کا زیادہ خالص اظہار ان کی اپنے لوگوں کی زندگی و موت پر اختیار سے ہوتا ہے۔ چین میں بادشاہ کی حاکمیت کی بنیاد وہ رسومات تھیں جن میں وہ قربانی، شکار اور جنگ کی صورت میں تشدد کا باقاعدہ حکم دیتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ جانیں لینے کا ایک قانونی طریقہ تھا۔ آج بھی دیکھیں تو امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزائے موت پانے والے مجرموں کی جان بخشی کر سکتا ہے۔تاہم ویبر نے ریاست کی جو تعریف کسی خاص علاقے میں تشدد کے اجارے کی حامل کسی تنظیم کے طور پر کی ہے وہ غلط محسوس ہوتی ہے۔ عہد جدید سے قبل کسی بھی ریاست کو اس مفہوم میں اجارہ داری حاصل نہیں تھی۔ پرانے حکمرانوں کی مار اپنے پایہ تخت یا چھاؤنی سے چند یوم کی مسافت سے زیادہ کی نہیں ہوا کرتی تھی۔ زیادہ حکمران اپنے گورنروں، سرداروں اور باجگزاروں پر انحصار کرتے تھے۔ بعض عظیم سلطنتیں بڑے بڑے منصوبوں کا اہتمام بھی کرتی تھیں مثلاً اہرام، بڑے بڑے آب پاشی کے منصوبے، اینکگرواٹ جیسے معبد یا پھر ٹے واٹی واکان جیسے شہر اور شاہراہوں کے وسیع و عریض جال۔ لیکن ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دارالحکومت سے سینکڑوں میل دور کسی شہر یا قصبے کے معاملات کو کنٹرول کر سکیں۔ چین کا شمار ان ریاستوں میں کیا جاتا تھا جن کی حکومت بہت مضبوط تھی اور جن کے پاس ایک اچھی خاصی افسر شاہی اور خفیہ پولیس کا نظام بھی تھا مگر اس کے باوجود ایک پرانی کہاوت کہتی ہے کہ۔۔۔ شہنشاہ بہت دور ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ باہر سے تو دیکھنے والوں کو بہت عظیم الشان قسم کا استحکام اور امن و امان نظر آتا تھا جب کہ ملک کے اندر بغاوت کے لاوے کھولتے رہتے تھے جن میں بعض اوقات لاکھوں لوگ مارے جاتے تھے۔انیسویں صدی کی تائپنگ بغاوت میں ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ انسان لقمہ اجل بنے تھے۔ روس کا پطرس اعظم اپنے سرداروں اور افسروں کو فرامین جاری کیا کرتا تھا لیکن ایک مرتبہ اسے پریشان ہو کر انہیں دیگر تمام فرامین کی تعمیل کا فرمان جاری کرنا پڑا۔ چنانچہ ریاستوں کی طاقتیں محدود تھیں۔ وہ جنگیں کرتی تھیں اور پلیں اور نہریں تعمیر کرواتی تھیں یہاں تک کہ نئے مذاہب بھی رائج کرتی تھیں مگر وہ امراض کے علاج یا بلووں کو روکنے سے قاصر تھیں۔ چند لوگوں سے زیادہ کو امیر بنانا بھی ان کے بس میں نہیں تھا۔یہ تو صرف ماضی قریب میں آ کر ہوا ہے کہ ریاستوں کو تشدد پر جیسی تیسی اجارہ داری حاصل ہوئی ہے جس کا سبب مواصلات و پیغام رسانی کے وسیع نظام، شاہراہیں، ریلوے اور قومی پولیس ہیں۔ انگلستان میں ٹیوڈور حکمرانوں کا یہ بڑا کارنامہ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے بڑے بڑے سرداروں کی عسکری قوت کا خاتمہ کیا اور انہیں اپنے لشکر اور قلعہ بندیاں ختم کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد ان کی اپنے قلعوں پر مورچے بنانے کے لیے لائسنس حاصل کرنے کی درخواستیں نامنظور کی جانے لگیں۔ فرانس کے بادشاہ لوئی سیز دہم نے بھی اپنے ایک وزیر رشلو کے کہنے پر باغی سرداروں کے قلعے تباہ کر وا دیے۔ بقیہ یورپ میں تشدد کی اجارہ داری کا آغاز 1648ء میں معاہدہ ویسٹ فالیہ سے ہوا جس کی رو سے وڈیروں اور نوابوں کی نجی فوجیں ختم کر دی گئیں تھیں۔ لہٰذا ویبر کی تعریف قدیم دور کی نسبت جدید دور پر زیادہ صادق آتی ہے بلکہ اب تو تشدد کی اجارہ داری کا نہ ہونا کسی ریاست کی ناکامی کی سب سے بڑی علامت بن گئی ہے۔ کمزور ریاستوں میں مضبوط ریاستوں کی نسبت زیادہ بلند سطح کا تشدد دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسی ریاستیں گاہے خود فسادیوں سے مل جاتی ہیں اور گاہے ان سے چشم پوشی کی روش اختیار کر لیتی ہیں۔ اس کے برعکس مضبوط حکومت کی حامل بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نسبتاً زیادہ جمہوری ریاستوں کی بڑی نشانی یہ ہے کہ ان میں تشدد بہت حد تک کم نظر آتا ہے۔ تشدد پر کنٹرول نہ صرف قومی ریاستوں بلکہ بین الاقومی حکومت کا بھی امتیازی وصف بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کی اہم ترین شق یہ تھی کہ ریاستی جارحیت کو جرم تصور کیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

ڈیجیٹل دنیا کے برے ایمو جیز

''تھمز اپ‘‘سب سے زیادہ نا پسندیدہموجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس نے نہ صرف ہماری روزمرہ زندگی کو تبدیل کر دیا ہے بلکہ ہمارے اظہارِ خیال کے انداز کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج الفاظ کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی تصویری علامتیں یعنی ''ایموجیز‘‘ ہماری گفتگو کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ یہ ایموجیز کبھی خوشی، کبھی غم، کبھی مزاح اور کبھی طنز کے جذبات کو چند لمحوں میں بیان کر دیتی ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے نے اس عام تاثر کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایموجیز ہمیشہ مثبت اور خوشگوار اثر ہی رکھتی ہیں۔برطانیہ میں کیے گئے ایک حالیہ سروے نے اس دلچسپ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ ہر ایموجی ہر شخص کیلئے یکساں معنی نہیں رکھتی۔ اس تحقیق میں تقریباً دو ہزار افراد سے رائے لی گئی، جس کے نتیجے میں 20 ایسی ایموجیز کی فہرست سامنے آئی جنہیں لوگ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔ حیران کن طور پر اس فہرست میں سرفہرست ''تھمز اپ‘‘ ایموجی ہے، جو عمومی طور پر تعریف، منظوری یا حوصلہ افزائی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ نتیجہ بظاہر حیرت انگیز ضرور ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی نفسیاتی اور سماجی وجوہات قابلِ غور ہیں۔ سروے میں شریک افراد کی ایک بڑی تعداد کے مطابق ''تھمز اپ‘‘ ایموجی بعض اوقات سرد مہری، بے رخی یا غیر مستقیم جارحیت کا تاثر دیتی ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل، جسے عام طور پر جنریشن زی (Gen Z) کہا جاتا ہے، اس ایموجی کو گفتگو ختم کرنے یا دلچسپی نہ لینے کی علامت سمجھتی ہے۔ یوں ایک سادہ سا مثبت اشارہ بعض افراد کیلئے منفی پیغام بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی صارفین نے اس رجحان پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صرف ''تھمز اپ‘‘ کے ساتھ جواب دے تو یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بات چیت کو اچانک ختم کر دیا گیا ہو۔ بعض نے تو اسے ''خاموشی سے دروازہ بند کرنے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔اس سروے میں دیگر ایموجیز بھی شامل ہیں جو لوگوں کیلئے ناگوار ثابت ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر بینگن ایموجی، جو عام طور پر سبزی کے طور پر استعمال ہونا چاہیے، لیکن ڈیجیٹل کلچر میں اسے ایک مخصوص اور غیر مہذب معنی دے دیا گیا ہے، دوسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ عورت کے رقص کرنے والی ایموجی، انسانی فضلہ، کوبائے ہیٹ والا چہرہ اور چیک مارک بھی ان علامتوں میں شامل ہیں جو بعض صارفین کیلئے پریشان کن یا غیر موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ماہرین ابلاغ کے مطابق ایموجیز کے مختلف معانی کی ایک بڑی وجہ ان کا سیاق و سباق (context) ہے۔ہیریئٹ اسکاٹ (Harriet Scott)، جوپرسپیکٹس گلوبل (Perspectus Global) سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ایک ہی ایموجی مختلف لوگوں کیلئے مختلف مفہوم رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آنکھوں والا ایموجی کسی کیلئے تجسس یا دلچسپی کی علامت ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرے کیلئے یہ شک یا نگرانی کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح سوچنے والا چہرہ یا تھوک بہانے والا چہرہ بھی مختلف تشریحات کا باعث بنتے ہیں۔اس رجحان میں عمر کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے 81 فیصد افراد ایموجیز کو پریشان کن سمجھتے ہیں، اور ان میں سے بڑی تعداد ان کے معانی سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں۔ اس کے برعکس، نوجوان نسل ایموجیز کو اپنی روزمرہ گفتگو کا لازمی حصہ سمجھتی ہے۔ 18 سے 30 سال کے تقریباً 93 فیصد افراد روزانہ ایموجیز کا استعمال کرتے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل زبان نسل در نسل تبدیل ہو رہی ہے۔یہ تبدیلی صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پالیسیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں Apple نے اپنے آپریٹنگ سسٹم ''iOS 26.4‘‘ میں 163 نئے ایموجیز شامل کیے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بڑی تعداد مختلف جلد کے رنگوں (Skin Tones) کی نمائندگی کرتی ہے، مگر 13 نئے ایموجیز بالکل نئے تصورات پر مبنی ہیں۔ ان میں ایک خاص ''مڑا ہوا چہرہ‘‘ ایموجی بھی شامل ہے، جس کے گلابی گال اور ابھری ہوئی آنکھیں صارفین میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔یہ تمام پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایموجیز اب محض تفریحی علامتیں نہیں رہیں بلکہ ایک مکمل زبان کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ تاہم، اس زبان کی پیچیدگی بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ ہر علامت کا مطلب ہر فرد کیلئے یکساں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ایک سادہ سا ایموجی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل گفتگو میں محتاط رویہ اختیار کریں۔ ایموجیز کا استعمال کرتے وقت نہ صرف اپنے جذبات بلکہ سامنے والے کے نقطۂ نظر کو بھی مدنظر رکھیں۔ خاص طور پر پیشہ ورانہ یا حساس گفتگو میں ایموجیز کے چناؤ میں احتیاط برتنا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچا جا سکے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایموجیز جدید دور کی ایک اہم ایجاد ہیں، جو ہماری گفتگو کو آسان اور دلچسپ بناتی ہیں، مگر ان کے استعمال میں توازن اور سمجھ داری ناگزیر ہے۔ کیونکہ ایک ہی علامت، جو کسی کیلئے مسکراہٹ کا سبب بنتی ہے، دوسرے کیلئے الجھن یا ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کا وہ پہلو ہے جو ہمیں مسلسل سیکھنے اور خود کو ڈھالنے پر مجبور کرتا ہے۔

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

دنیا بھر میں جانوروں کی ذہانت اور ان کی تربیت کے حیرت انگیز مظاہرے ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں، مگر حال ہی میں ایک گھوڑے نے اپنے غیر معمولی کرتب دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔ صرف تین منٹ کے مختصر وقت میں تیس سے زائد کرتب پیش کرنے والا یہ گھوڑا نہ صرف اپنی فطری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس کے ٹرینر کی محنت، مہارت اور لگن کا بھی واضح ثبوت ہے۔ یہ شاندار مظاہرہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مناسب تربیت اور مثبت رویے کے ذریعے جانوروں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو کس حد تک نکھارا جا سکتا ہے۔امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا کے علاقے بولیویا میں ایک خوبصورت سفید گھوڑے نے اپنے باصلاحیت مالک کے ساتھ مل کر ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس گھوڑے نے صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں سب سے زیادہ کرتب دکھانے کا اعزاز حاصل کیا، جب اس نے بہترین تربیت کے ذریعے درجنوں کامیاب حرکات پیش کیں۔لورین زیپیڈا(Lauryn Zepeda) اور ان کے 19 سالہ گھوڑے گرینگو (Gringo)نے 5 مارچ کو یہ مشکل ریکارڈ توڑا۔ اس ذہین گھوڑے نے رقص کیا، گیند کو ٹھوکر ماری اور یہاں تک کہ سیلفی کیلئے پوز بھی دیا، جس کے نتیجے میں اس نے صرف 2 منٹ اور 47 سیکنڈ میں 38 حیرت انگیز کرتب مکمل کیے۔یہ جوڑی گزشتہ دس برسوں سے مختلف شوز میں ایک ساتھ حصہ لے رہی ہے، اور ان کے درمیان مضبوط ہم آہنگی برسوں کے اعتماد، محبت اور توجہ کا نتیجہ ہے۔ گرینگو دراصل جنگل میں پیدا ہوا تھا، مگر لورین نے اسے ایک سرکاری ادارے سے گود لے کر جدید انداز میں تربیت دی، جس میں انعامات کا استعمال کیا گیا،بالکل اسی طرح جیسے کتوں کو سکھایا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لورین نے ہمیشہ گھوڑے کو اپنی مرضی کا اختیار دیا، مگر گرینگو کو پرفارم کرنا واقعی پسند ہے، خاص طور پر جب اسے تعریف اور انعام ملے۔لورین نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ گھوڑوں کی دنیا میں ہمارا تربیتی طریقہ روایتی نہیں ہے۔ کلکر ٹریننگ اور مثبت حوصلہ افزائی کو عام طور پر کتوں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ گھوڑوں کے ساتھ بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جب ہم پرفارم کرتے ہیں تو ہم ایک اہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تربیت کے متبادل اور انسان دوست طریقے بھی موجود ہیں اور گھوڑے صرف سواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر بھی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریکارڈ توڑنے کی تیاری کے دوران، لورین اور گرینگو نے کئی ماہ تک تربیت کی، ہر کرتب کو چھوٹے اور قابلِ انتظام حصوں میں سیکھا، اور آخرکار سب کو یکجا کیا۔لورین نے بتایاکہ گرینگو کیلئے یہ کبھی محنت محسوس نہیں ہوئی، یہ بس کھیل تھا۔ جبکہ مجھے اس کی ذمہ داری کا احساس ہوتا، اس کیلئے یہ صرف ساتھ گزارا گیا وقت تھا، کچھ ایسا جو اسے واقعی پسند ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت کا ہمیشہ انعام ملتا ہے، جس سے یہ تجربہ اس کیلئے مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔یہ بات بھی گرینگو کیلئے آسانی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک کھلے فارم میں مکمل آزادی کے ساتھ رہتا ہے،وہ ہر وقت باہر ہوتا ہے اور جب چاہے گھاس اور پناہ گاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ جب دل چاہتا ہے، وہ ایک''چھوٹے ریوڑ‘‘ کے دیگر جانوروں کے ساتھ کرتب پیش کرتا ہے، اور باقی وقت اپنی مرضی سے کیچڑ میں کھیلتا ہے اور لورین سے اپنا پسندیدہ انعام مانگتا ہے۔جب یہ جوڑی مقابلے کیلئے تیار ہوئی، تو لورین نے گرینگو کیلئے 36 کرتبوں کی فہرست تیار کی،ساتھ ہی آٹھ اضافی کرتب بھی شامل کیے تاکہ مقابلے کے دن سب کچھ منظم اور ترتیب وار ہو۔ ان کرتبوں میں حرکت کے اشارے شامل تھے، جیسے ایک ٹانگ اٹھانا یا سر جھکانا اور ساتھ ہی سامان کے ساتھ کرتب بھی، جیسے جھنڈا لہرانا یا گھنٹی بجانا۔ لورین نے کہاکہ ہمارے تربیتی سیشنز مختصر اور انعامات کے ساتھ رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ جوش اور دلچسپی کے ساتھ حصہ لے۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اس کی توجہ قائم رکھ سکتی ہوں کیونکہ وہ واقعی ہمارے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میں بہت سوچ سمجھ کر کبھی اسے زیادہ محنت نہیں کراتی۔

زندگی کا اصول!

زندگی کا اصول!

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہے۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے اور راستے سے جھگڑا نہیں کرتا۔ جو جھگڑا نہیں کرتا، وہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کولمبیا خلائی شٹل کی لانچنگ ''کولمبیا خلائی شٹل‘‘ ناسا کی مدد سے بھیجی جانے والی خلائی شٹل تھی۔'' کولمبیا ‘‘خلا میں اڑان بھرنے والی پانچ خلائی شٹلز میں سے پہلی تھی۔ اپریل 1981ء میں اس شٹل نے اپنی پہلی پرواز پر خلائی شٹل لانچ وہیکل کا آغاز کیا۔اپنے 22سالہ آپریشن کے دوران کولمبیا نے خلائی شٹل پروگرام کے تحت28مشن مکمل کئے۔اس دوران اس نے خلا میں 300دن گزارے اور زمین کے گرد4ہزار سے زائد مدار مکمل کئے۔چین میں بدترین آتشزدگی1894ء میں چین کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز شنگھائی میں ہزاروں عمارتوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے۔ اس حادثے کو چین کی تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے اوربعد میں اتنے بڑے پیمانے پر چین میں کھی آگ نہیں لگی ۔فن لینڈ :سرکاری کرنسی متعارف1860ء میں فن لینڈ کے مختلف علاقوں میں فنش مارکا کو سرکاری کرنسی کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ یہ اعلان اس دور میں ایک اہم معاشی پیش رفت سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس سے پہلے فن لینڈ میں مختلف غیر ملکی کرنسیاں رائج تھیں۔ نئی کرنسی کے نفاذ کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا اور مالیاتی نظام کو منظم بنانا تھا۔ اس اقدام نے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا بلکہ فن لینڈ کی قومی شناخت کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔''عالم نسواں‘‘ جریدہ کا آغاز 4 اپریل 1913ء کو سلطنت عثمانیہ میں پہلی بار ''عالم نسواں‘‘ نامی ایک جریدہ شائع کیا گیا۔ اس جریدے کا مقصد حقوق نسواں اور ان کی شخصی آزادی کو فروغ دینا اور ان کی سماجی زندگی کو پروان چڑھانا تھا۔اس دور میں سلطنت عثمانیہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھی۔ حقوق نسواں پر زور دینا بھی انہی اقدامات میں سے ایک تھا تاکہ سلطنت کا ایک بہتر چہرہ دنیا کو دکھایا جا سکے۔مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا قتل1968 ء میں آج کے دن سیاہ فام امریکی پادری اورمساوی حقوق کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو قتل کیاگیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی تمام زندگی سیاہ فام امریکیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدو جہد کرتے ہوئے گزار دی۔ مارٹن عدم برداشت اور نسل پرستانہ نظریات کے شدید مخالف تھے۔اس جدو جہد کے دوران مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے خود بھی بہت سی مشکلات اٹھائیں ،کبھی انہیں قید کیا گیا تو کبھی قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ 1964ء میں انہیں اپنی جدو جہد کی بدولت نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا افتتاح1973ء میں نیویارک شہر میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز (ٹوئن ٹاورز) کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا گیا۔ یہ عظیم الشان عمارتیں اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتی تھیں اور جدید تعمیراتی مہارت کا شاہکار سمجھی جاتی تھیں۔ ان ٹاورز کا مقصد عالمی تجارت کو فروغ دینا اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے ایک مرکزی مقام فراہم کرنا تھا۔ افتتاح کے بعد یہ عمارتیں نہ صرف نیویارک کی پہچان بن گئیں بلکہ عالمی سطح پر بھی معاشی سرگرمیوں کی علامت قرار پائیں، جہاں دنیا بھر سے لوگ تجارت اور کاروبار کیلئے آتے تھے۔

سرن میں نئی دریافت

سرن میں نئی دریافت

تجرباتی اور نظریاتی طبیعیات کیلئے اہم پیش رفتحالیہ دنوںسائنسی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب یورپ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری سرن (CERN) کے سائنسدانوں نے کائنات کے بنیادی ذرات کی دنیا میں ایک بالکل نیا ذرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اُس وقت سامنے آئی جب لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ایک جدید اور حساس ترین ڈیٹیکٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے بعد نئے تجربات کیے گئے۔یہ نیا ذرہ ایک خاص قسم کا baryons ہے جسے زی سی سی پلس (ZCC ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو بھاری چارم کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارک پر مشتمل ہے۔ عام پروٹون دو اَپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنتا ہے مگر اس نئے ذرے کی ساخت میں دو بھاری کوارکس ہونے کے باعث اس کا وزن عام پروٹون سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اپ گریڈ کے بعد کی جانے والی پہلی بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ ایل ایچ سی بی (LHCb) ڈیٹیکٹر کو 2023ء میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا تاکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ ذرات کے تصادم سے پیدا ہونے والے نایاب ذرات کو شناخت کر سکے۔ اسی جدیدیت نے سائنسدانوں کو یہ نیا ذرہ تلاش کرنے کے قابل بنایا۔ایل ایچ سی میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے آپس میں ٹکرایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت کے لیے نئے ذرات بنتے ہیں۔ یہ ذرات عموماً لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں مگر ان کے بکھرنے سے پیدا ہونے والے دیگر ذرات کے آثار کا تجزیہ کر کے سائنسدان ان کی موجودگی کا پتہ لگاتے ہیں۔ زی سی سی پلس بھی اسی طرح کے عمل سے سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ذرہ محض چند فیمٹو سیکنڈز تک زندہ رہتا ہے۔ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی قلیل زندگی کے باوجود سائنسدان اس کے بکھرنے کے انداز سے اس کی خصوصیات کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔اس دریافت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ذرہ ملا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کوانٹم کرومو ڈائنامکس (QCD) جیسے نظریات کی جانچ میں مدد دے گا۔ QCDوہ بنیادی نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوارکس کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کر بیریونز اور میسونز جیسے ذرات بناتے ہیں۔ چونکہ زی سی سی پلس میں دو بھاری کوارکس موجود ہیں اس لیے یہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بھاری کوارکس ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں اور مادے کی ساخت میں ان کا کردار کیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس فیملی کا کوئی ذرہ دریافت ہوا ہو۔ 2017ء میں سائنسدانوں نے ایک اور مشابہ ذرہ زی سی سی پلس پلس دریافت کیا تھا جس میں دو چارم کوارکس کے ساتھ ایک اپ کوارک شامل تھا۔ تاہم زی سی سی پلس پلس کے مقابلے میں نیا دریافت ہونے والا ذرہ زیادہ غیر مستحکم ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔LHCB تجربے کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اپ گریڈ کے بعد تجرباتی آلات کی حساسیت اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیٹیکٹرز اب ایک سیکنڈ میں کروڑوں تصاویر لینے کے قابل ہیں جس سے نایاب ترین ذرات کی تلاش بھی ممکن ہو گئی ہے۔اگرچہ یہ دریافت ہگز بوزون کی دریافت جیسی تاریخی نہیں سمجھی جا رہی تاہم بنیادی فزکس کے ماہرین اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کی دریافتیں مادے کی ساخت کو سمجھنے، بنیادی قوتوں کی نوعیت جاننے اور کائنات کی ابتداکے رازوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایل ایچ سی اور اس کے جدید ڈیٹیکٹرز مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید ایسے نایاب ذرات دریافت ہوں گے جو کائنات کی بنیادی ساخت اور قوتوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید گہرا کریں گے۔یہ نیا ذرہ نہ صرف تجرباتی طبیعیات کے لیے اہم ہے بلکہ نظریاتی طبیعیات کے لیے بھی قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ہر نئی دریافت سائنسی نظریات کی جانچ کا موقع دیتی ہے اور یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہے کہ موجودہ ماڈلز کہاں تک درست ہیں اور کہاں نئی فزکس کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ زی سی سی پلس کی دریافت ایک اور قدم ہے اس سمت میں جس سے انسان کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے، جہاں ہر نیا جواب درجنوں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

ذہنی صحت پر حیران کن اثرات ،ایک سائنسی جائزہجدید دور میں نوجوانوں کی زندگی جہاں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ کے گرد گھومتی ہے وہیں ایک اور اہم مگر نظرانداز پہلو اْن کی خوراک ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی خوراک ان کی ذہنی صحت پر ہماری توقعات سے کہیں زیادہ گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔یہ تحقیق، جو برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے، نشاندہی کرتی ہے کہ صحت مند غذا اور ذہنی سکون کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے جبکہ غیر معیاری خوراک ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق میں تقریباً 19 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں ایک واضح رجحان سامنے آیا اور وہ یہ کہ بہتر خوراک کا نتیجہ کم ڈپریشن جبکہ غیر صحت بخش خوراک کا نتیجہ زیادہ ذہنی دباؤ ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل سامنے آنے والا سائنسی رجحان ہے اور دیگر مطالعات بھی اسی نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ جو نوجوان زیادہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا استعمال کرتے ہیں ان میں ذہنی مسائل کم ہوتے ہیں جبکہ جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور اینگزائٹی کا سبب بنتا ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ صرف وٹامن یا سپلیمنٹس لینے سے واضح فائدہ ثابت نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر وٹامن ڈی کے حوالے سے کچھ مثبت نتائج ضرور ملے مگر وہ مستقل نہیں تھے۔اس کے برعکس مکمل غذا کا مجموعی معیار زیادہ اہم ثابت ہوا ہے یعنی متوازن خوراک اورقدرتی اجزا کا استعمال اورپراسیسڈ فوڈ سے پرہیز،یہ مجموعی طور پر ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں زیادہ مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانی وہ مرحلہ ہے جب دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں خوراک کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔اگر اس دور میں غذا غیر متوازن ہو تودماغی کیمیائی عمل متاثر ہو سکتے ہیں،جذباتی توازن بگڑ سکتا ہے،ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ وہ ونڈو آف اپرچونٹی ہے جہاں بہتر خوراک کے ذریعے مستقبل کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جنک فوڈ اور ذہنی مسائلتحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنک فوڈ خاص طور پر وہ خوراک جو چکنائی اور چینی سے بھرپور ہو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایسی غذاڈپریشن کے امکانات بڑھاتی ہے،یادداشت کو متاثر کرتی ہے، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کم کرتی ہے۔کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کم معیار کی غذا لینے والے نوجوانوں میں ڈپریشن کا خطرہ 80 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ گٹ برین کنکشنجدید سائنس ایک اور اہم پہلو پر زور دیتی ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔خوراک ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو متاثر کرتی ہے جو براہِ راست دماغی افعال سے جڑے ہوتے ہیں۔ناقص غذا کے اثرات نیوروٹرانسمیٹرز (جیسے سیروٹونن) کی پیداوار متاثر،سوزش (inflammation) میں اضافہ اورموڈ میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اوریہ عوامل ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کھانے کی عادات بھی اہمصرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کیسے کھاتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ناشتہ نہ کرنا ذہنی مسائل بڑھا سکتا ہے،فیملی کے ساتھ کھانا کھانا ذہنی سکون دیتا ہے،بے ترتیب کھانے کی عادات منفی اثر ڈالتی ہیں، یعنی خوراک کا معیار اور انداز دونوں اہم ہیں۔ سماجی و معاشی عوامل کا کرداریہ تعلق اتنا سادہ بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ معاشی حیثیت،صنفی فرق، خاندانی ماحول۔مثلاً کم آمدنی والے خاندانوں میں صحت مند خوراک تک رسائی کم ہوتی ہے جس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سائنسدان ابھی بھی اس تعلق کو مکمل طور پر ''سبب اور نتیجہ‘‘ کے طور پر ثابت نہیں کر سکے۔یعنی کیا خراب غذا ذہنی مسائل پیدا کرتی ہے یاکیا ذہنی مسائل خراب کھانے کی عادات پیدا کرتے ہیں؟اس سوال کا مکمل جواب ابھی باقی ہے، اسی لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جیسا کھاؤ گے ویسا سوچو گےتاہم یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت صرف نفسیاتی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ غذائی مسئلہ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ذہنی طور پر مضبوط ہو ڈپریشن اور اینگزائٹی سے محفوظ رہے، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھے تو ہمیں ان کی خوراک پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔متوازن غذا، قدرتی اجزا اور صحت مند کھانے کی عادات نہ صرف جسم بلکہ ذہن کو بھی طاقت دیتی ہیں ،اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپ جو کھاتے ہیں وہی آپ کی سوچ، مزاج اور ذہنی کیفیات کو تشکیل دیتا ہے۔