مغلیہ دور میں سرکاری زبان اردوتھی
اسپیشل فیچر
ہمیں مغلیہ حکومت میں فارسی کے ساتھ ساتھ اُردو کو سرکاری زبان کے طو رپر متعارف کرانے کا سراغ ملتا ہے۔ شاہ جہاں کے دور میں اُردو فرامین بھی قلم بند ہوئے۔ بہادر شاہ ظفر نے بھی کچھ سرکاری امور اُردو میں انجام دیئے۔ سلطنت دکن میں اُردو زبان نے سرکاری حیثیت اختیار کی۔ اکبر سے 20 سال پہلے ابراہیم عادل شاہ جو دکن میں حاکم تھے انہوں نے مال (ریونیو) اور مالیاتی اُمور اُردو میں ہی نمٹائے۔ 1833ء میں جے پور کشن گڑھ ریاست کے حاکم راجہ رام سنگھ نے اُردو کو سرکاری درجہ دیا۔ ریاست رام پور میں فارسی کی بجائے اُردو کا رواج ہوا۔ 1865ء میں ریاست ٹونک کے نواب محمد علی نے اُردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا۔انگریزوں کو پنجاب کے Board of Administration کے سیکرٹری جی جے کرسچن نے یہ تجویز پیش کی کہ اُردو پنجاب میں دفتری و عدالتی زبان ہونی چاہیے۔ 1851ء میں ڈیرہ غازی خان میں فارسی کی بجائے اُردو سرکاری زبان نافذ ہوئی۔ ضلع ہزارہ میں بھی اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ 1854ء میں لیہ ڈویژن (Division) ، پشاور اور کوہاٹ میں اُردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا: قیام پاکستان کے بعد ’’اُردو ہی پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان ہوگی۔‘‘ قائد اعظمؒ کے اس فرمان سے اُردو کی بطور قومی، سرکاری اور رابطے کی زبان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔پاکستان بننے کے بعد 2 دسمبر 1949ء کو مجلس زبان دفتری پنجاب (لاہور) کا قیام عمل میں آیا۔ اُردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کی تجاویز دینے کے لئے ایک کمیٹی بنی جس کے چیئرمین جسٹس ایس اے رحمن تھے۔جولائی 1950ء میںعثمانیہ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ رجسٹرارپروفیسر محمود احمد خان کی سربراہی میں مجلس مترجمین (Board of Translators) کا قیام عمل میں آیا۔ ستمبر 1950ء میں علیحدہ مجلس استناد قائم کی گئی۔ ڈاکٹر سید محمد عبداللہ، صوفی غلام مصطفی تبسم، سید وقار عظیم اور نذیر نیازی اس کے رُکن تھے۔ 10 اگست 1950ء کو حکومت پنجاب نے ایک گشتی مراسلہ شائع کیا کہ ضلعی سطح کے دفاتر میں انگریزی کی بجائے اُردو نافذ کی جائے۔ حکومت پنجاب نے فروری 1951ء میں یہ احکام جاری کیے کہ آئندہ تمام سرکاری اُردو مطبوعات حتی الامکان نسخ ٹائپ میں طبع کی جائیں۔ 23 نومبر 1965ء کو حکومت نے زیر تربیت افسروں کے لیے اُردو دفتری اصطلاحات و محاورات شاملِ نصاب کے احکام جاری کیے ۔ مجلس زبان دفتری پنجاب نے دفتری اصطلاحات و محاورات کے تراجم شائع کیے ۔محکمانہ اصطلاحات و محاورات پر مشتمل 1971ء میں 11 کتابچے شائع کیے ۔ 1974ء سے 1981ء تک کے عرصے میں حکومت پنجاب نے 707 اُردو ٹائپ مشینیں خریدیں۔ 1976ء میں 35 ہزار اصطلاحات پر مشتمل اُردو لغت کی اشاعت ہوئی ۔ مجلس زبان دفتری، حکومت پنجاب کی یہ کاوش قابلِ تعریف تھی۔ 1989ء میں اُردو لغت کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ اس میں 35 ہزار اصطلاحات کے علاوہ 4 ہزار اصطلاحات کا اضافہ کیا گیا۔ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد نے اس لغت کو سند سے نوازا۔اُردو کی ترویج کے سلسلے میں حکومت پنجاب کی دیگر کاوشیں ملاحظہ ہوں:ایکٹ سول ملازمین پنجاب (1974ئ) کا ترجمہ کیا گیا۔ اور بھی کئی قوانین کے ترجمے حکومت پنجاب کی کاوشوں سے ہوئے۔ مجلس زبان دفتری حکومت پنجاب کی مندرجہ ذیل کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ مثلاً: عوام سے درخواستیں اُردو میں وصول کی جائیں۔فارم اُردو میں شائع ہوں۔ افسروں کے ناموں اور عہدوں کی تختیاں اُردو میں آویزاں ہوں۔ سرکاری ملازمین کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے دفتری اُردو کورس کروائے جائیں۔ سرکاری گزٹ میں احکام اُردو میں جاری ہوں۔ نیپا لاہور اور سیکرٹریٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں اُردو مراسلت نویسی اور کیفیت نویسی (Noting) کے کورسز کروائے جائیں۔ مئی 1981ء میں پنجاب کے اضلاع میں ڈپٹی کمشنروں کی سربراہی میں ضلعی مجالس زبان دفتری قائم کی گئیں۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے حکومت سے کمیشن کے تحریری امتحانات اور انٹرویو اُردو میں لینے کی اجازت مانگ لی ۔ مجلس زبان دفتری کی سفارش پر مارچ 1981ء میں ماہانہ جریدہ ’’اُردو نامہ‘‘ شائع ہوا۔ مارچ 2002ء سے سہ ماہی کردیا گیا۔ 1991ء کا سال اُردو کی ترویج میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ غلام حیدر وائیں (سابق)وزیر اعلیٰ پنجاب نے خود مجلس زبان دفتری کا چیئرمین بننا قبول کیا۔ پنجاب میں اُردو کی ترویج کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 1992-1993ء میں اُردو ٹائپ رائٹر اور اُردو کمپیوٹر وغیرہ کے لیے محکموں کو دو کروڑ روپے دیئے۔1999ء میں مجلس زبان دفتری پنجاب کی از سر نو تشکیل ہوئی۔ مجلس زبان دفتری نے اُردو مختصر نویسی کے لیے بھی کورسز کروائے۔