بچوں کو سردی میں بیماریوں سے بچانے کے ٹوٹکے
اسپیشل فیچر
سرد موسم بچوں کے لیے خاصی زحمت کا باعث بن جاتا ہے۔ نزلہ، زکام، گلے کی خراش، نمونیہ، بخار وغیرہ اس موسم کی دین ہیں۔ ان سے بچائو کی تدابیر اختیار کرلیں تو آپ کے نونہال بیمار ہونے سے بچے رہیں گے۔دراصل اپنی ناتواں قوت مدافعت کے باعث نوزائیدہ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناسمجھی کے باعث انہیں احتیاطی تدابیر کا بھی زیادہ شعور نہیں ہوتا اور وہ نتائج سے لا پروا ہو کر اپنے کاموںمیں مگن رہتے ہیں، لہٰذا ان کا متاثر ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔سرد موسم میں نوزائیدہ بچوں کے پائوں، سینے اور خاص طور پر سر کو گرم رہنا چاہیے۔ شیر خوار اور کم از کم پانچ برس تک کے بچوں کے سر اور سینے کو ڈھانپ کر رکھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ برس سے بڑے بچوں کو گرم کپڑے نہ پہنائے جائیں، اور ان کو سرد ہوا کے جھونکوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے بلکہ احتیاط سب کے لیے ضروری ہے۔سرد موسم میں پانی میں کھیل کود سے ٹھند لگنے کا امکان ہوتا ہے۔ بچے نزلے زکام اور نمونیے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نمونیے کی صورت میں ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ تیز بخار ہو جاتا ہے اور بچہ سانس لینے میں دقت محسوس کرتا ہے۔نمونیے کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ پاکستان میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ نمونیہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے بچوں کو پہلے ہی نمونیے سے بچائو کے ٹیکے لگوالیں۔ بحیثیت ماں آپ کو اس بیماری کی علامات بھی معلوم ہونی چاہئیں تا کہ بروقت تشخیص کی جا سکے۔ماہرین کے مطابق جب بچہ کراہنا شروع کرے تو والدین کو چاہیے کہ فوری توجہ دیں، جب کہ سانس لینے میں سیٹی کی آواز نکلنا، پسلی چلنا، بچے کا نڈھال ہونا، بخار، نزلہ اور کھانسی کے ساتھ جھٹکے لگنا شدید نمونیے کی علامات ہیں، ایسی کیفیت میں ہنگامی بنیادوں پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں، اور اسے حرارت پہنچائیں۔لیکن یہ بھی دھیان رکھیں کہ کمرے میں ہوا کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بچے کو پائوڈر کا دودھ دیا جا رہا ہے تو بہتر ہے کہ ہر بار بوتل کو ابالیں یا اچھی طرح دھوئیں۔سردی سے نارمل بخار ہونے کی صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹک دینے سے گریز کریں۔ بچے کو بخار سے سردی لگ رہی ہو اور وہ کانپنے لگے تو اسے روئی کا بنولہ نا بنائیں بلکہ ذرا ڈھیلے کپڑے پہنائیں اکثر مائیں بچوں کو بخار میں گرم کپڑوں سے سر سے پیر تک ڈھانپ دیتی ہیں جس سے بعض اوقات ان کی حرارت معمول سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہلکے بخار کی صورت میں بچے کو نرم اور توانائی بخش غذائیں دیں جیسے سوپ اور یخنی۔ وقفے وقفے سے بچے کا درجہ حرارت نوٹ کرتے رہیں اور بخار بڑھنے کی صورت میں معالج سے ضرور رجوع کریں۔بچوں میں سردی کی وجہ سے نزلہ اور گلے میں خراش کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ نزلہ بظاہر معمولی نظر آتا ہے مگر اس کی وجہ سے ناک میں ورم کے باعث سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ زکام میں نیم گرم پانی پینا مفید ہے۔ چند ماہ کے شیر خوار بچوں کو ادرک کا رس اور شہد مکس کر کے چٹائیں، گاجر پالک کا رس پلائیں، موسمی کا رس پلائیں، چنے ابال کر ان کا پانی پلائیں، سونٹھ اور گڑ پانی میں ڈال کر ابال لیں اور وقفے وقفے سے پلائیں جائفل کو پانی میں گھس کر شہد میں ملا کر صبح و شام چٹانے سے زکام وغیرہ کی شکایات دور ہوجائیں گی۔ ٹھوس غذا کھانے والے بچوں کو زکام میں گڑ اور سیاہ تل کے لڈو کھلائیں، آنولے کا مربہ دیں، چائے اور جوشاندہ پلائیں۔ منقہ، امرود اور کچا پیاز کھانے سے بھی زکام ٹھیک ہو جاتا ہے۔بچوں کو سرسوں یا زیتون کے تیل کی مالش کر کے دھوپ میں لٹائیں یا بٹھائیں۔ مناسب احتیاط اور تدابیر اختیار کرکے ہم اپنے بچوں کو سردی کے امراض اور تکلیف سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ بچے کے سینے کو ٹھنڈ لگ جانے کی صورت میں پرانی روئی گرم کرکے سینکیں، سینے پر تارپین کا تیل یا معیاری بام مالش کریں۔نظام تنفس کی تکالیف کے سلسلے میں یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کا پیٹ صاف رہے یعنی وہ قبض میں مبتلا نہ ہو۔بچے کو قبض کی صورت میں اسپغول پانی کے ساتھ پلائیں۔چھوٹے بچوں کو کھانسی ہو تو چھوٹی الائچی پیس کر چٹا دیں ایک سیب پیس کر ایک صاف رومال میں رکھ کر اس کا پانی نچوڑ لیں اور اس میں تھوڑی سی مصری ملا کر صبح و شام پلائیں۔ ابلے ہوئے انڈے کی زردی اور اسے شہد میں ملا کر کھلائیں، اس عمل سے سخت سے سخت کھانسی میں بھی آرام آجائے گا۔ ادرک کے رس میں شہد ملا کر چٹائیں کھانسی دور ہو جائے گی۔٭…٭…٭