سیّد احمد سلطان المعروف حضرت سخی سرورؒ
اسپیشل فیچر
برصغیرپاک وہند میں اسلام کی تبلیغ اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے میں مرکزی کردار اولیائے کرام کا ہے۔حضرت سخی سرورؒ پنجاب کے سب سے بڑے ولیوں میں سے ہیں۔آپ ؒکا اصل نام سید احمد سلطان تھا اورآپ ؒکے والدین کا تعلق عرب سے تھا۔ آپ ؒحسینی سید تھے ۔آپ ؒکے والد حضرت زین العابدین ؒتبلیغ اسلام کے سلسلے میں شاہ کوٹ (ملتان ) تشریف لائے اور لوگوں کی کثیر تعداد کو مسلمان کیا ۔ یہاں آنے کے کچھ عرصہ بعد ان کی بیوی انتقال کرگئیں۔حضرت زین العابدینؒ نے ایک مقامی کی بیٹی سے نکاح کیا جن کا تعلق کھوکھر قوم سے تھا۔انہی کے بطن سے حضرت سخی سرورؒ پیدا ہوئے۔آپؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم والدِبزرگواراور لاہور میں مولوی اسحاق سے حاصل کی۔قرآن پاک آپ ؒنے بچپن میں ہی حفظ کر لیا تھا۔آپ ؒشروع سے ہی اللہ تعالیٰ کے احکامات اور سنت نبویﷺ پر عمل پیرا تھے۔بچپن میں آپ ؒنے بھیڑ بکریاں بھی چرائیں۔شفیق باپ کی وفات کے بعد آپ ؒنے عرب کا سفر کیا اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حاضری کے بعد بغداد پہنچے جو اس وقت علم کابہت بڑا مرکز تھا۔علم کی تکمیل کے بعد آپ ؒنے بغداد میں کچھ عرصہ بطور قاضی بھی کام کیا۔تعلیم سے فراغت اور ولی کا مل کا درجہ پانے کے بعد آپ ؒواپس برصغیر تشریف لائے۔ آپؒ نے سودہرا،دھونکل اور ملتان میں اسلام کی تبلیغ کی اور لوگوں کی بڑی تعداد کو مسلمان کیا۔آپؒ نے حاکم ملتان کی بیٹی سے شادی کی ۔آپ ؒشروع سے سخی اور فیاض تھے۔لوگوں کی بڑی تعداد آپ ؒکے پاس رہنمائی کیلئے آنے لگی جن میں امیر غریب اور سماج کے ٹھکرائے ہوئے لوگ شامل تھے۔ان علاقوں میں آپ ؒکانام بڑی عزت واحترام سے لیا جانے لگا۔جب لوگوں کی کثیر تعداد آپؒ کے آستانے پر حاضر ہونے لگی تو بعض افراد کا جذبہ حسد بھی بڑھ گیا اور وہ آپؒ کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے لگے۔ تنگ آکر آپ ؒنے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ شاہ کوٹ سے ہجرت کی اور کوہ سلیمان کے دامن میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے جسے نگاہہ یا مقام کہا جاتا تھا ،میں اپنا ڈیرہ لگایا۔جو اب آپؒ کی مناسبت سے قصبہ سخی سرور کہلاتاہے۔اس وقت یہ علاقہ دو خصوصیات کی بنیاد پر منفرد تھا ۔ایک تو یہ ہندو مذہب کا بہت بڑا گڑھ تھا ،اور دوسرا افغانستان، ایران اور برصغیر کے درمیان سفر کرنے والے تجارتی قافلوں کا یہاں مرکزی پڑائو ہوتا تھا۔آپ ؒنے یہاں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور مقامی لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا ۔آپؒ کی تبلیغ کا بنیادی نکتہ انسانیت کا احترام اور انسانیت سے محبت تھی۔آپ ؒکے حلقہ تعلیم میںہر مذہب اور فقہ کے لوگ شامل ہوتے تھے۔ جو لوگ آپ کی تعلیم سے مسلم نہ بھی ہوئے وہ آپ ؒکے عقیدت مند ضرور ہوئے۔لیکن آپ ؒنے بھی کبھی بھی ان کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا۔آپ ؒبذات خود اللہ تعالیٰ کے احکامات اور سنت ِ محمد ﷺ پر سختی سے عمل پیرا تھے اور مریدین کو اسلامی احکامات پر عمل کرنے کی ہدایت فرماتے تھے۔غریبوں ،ناداروں،یتیموں،فقیروں،اور بچوں سے آپ ؒکو خصوصی شفقت اور پیار تھا۔آپؒ کی تعلیمات سے لاکھوں لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔آپ ؒکے اس انسان دوست مشن اور اسلامی تبلیغ کو تجارتی قافلوں نے پورے بر صغیر ،ایران اور افغانستان تک پہنچایا۔یہی وجہ تھی کہ ان علاقوں سے راہِ حق کے متلاشی،دنیا کے ستائے ہوئے اور دکھی لوگ آپ ؒکے پاس ہر وقت بڑی تعداد میںحاضر ہونے لگے اور آپؒ ان لوگوں کی ہر قسم کی رہنمائی فرماتے ،ان کی ہر ممکن مدد کی کوشش کرتے اور ان کیلئے اللہ پاک سے دعائیں مانگتے جو رب العزت قبول فرماتا تھا۔ آپؒ کو اگر چہ صوفیائے کے چاروں سلسلوں پر عبور تھامگر کہیں بھی اور کبھی بھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ آپؒ نے کسی مخصوص سلسلے یا فقہ کی تبلیغ کی ہو۔ دنیا آج اکیسویںیں صدی میں جس بین الامذاہب ہم آہنگی کی بات کرتی ہے ۔حضرت سخی سرورؒ نے اس کا عملی نمونہ دنیاکے سامنے سیکڑوں سال قبل پیش کیا۔آپ ؒکی تبلیغ سے موجودہ بلوچستان،ڈیرہ اسماعیل خان ،ڈیرہ غازیخان ،ملتان ، ساہی وال،گوجراں والہ ،لاہور، فیصل آبادڈویژن، بھارتی صوبے پنجاب و ہریانہ اور صوبہ سندھ کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا۔مسلمان تو آپ ؒسے عقیدت ومحبت کرتے ہوئے آپ ؒکو اپنا ولی اور راہبر مانتے تھے لیکن ہندو بھی عقیدت کرتے تھے۔ہندوئوں کی عقیدت کااس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی ہندو اپنے مردوں کی راکھ گنگا جمنا کی بجائے حضرت سخی سرور ؒ کی ندی میں بہا دیتے تھے کیونکہ ان کا نظریہ تھا کہ جس طرح گنگا وجمنا کا پانی پاک ہے اسی طرح حضرت سخی سرورؒ کی ندی بھی پاک ہے۔سکھ مذہب اگر چہ آپ ؒکی شہادت کے بعد آیا لیکن وہ بھی آپ ؒکی تعلیمات سے بہت زیادہ متاثر ہوا حتیٰ کہ سکھوں کے ایک فرقے نے خود آپ ؒکی مناسبت سے سلطانی کہلوانا شروع کیا اور آج تک یہ فرقہ موجود ہے۔آپؒ نے لاکھوں لوگوں کی رہنمائی فرمائی اور ان کو راہ راست پہ لائے جس کی وجہ سے آپؒ لکھ داتا کہلانے لگے۔سخاوت کی وجہ سے سخی سرورؒ کا لقب ملا،اسی وجہ سے آپ ؒکا نام لکھ داتا سخی سرورؒ پڑ گیا۔ایک دور ایسا بھی آیا کہ پورے برصغیر ایران اور افغانستان کے لوگ آپ ؒکے در پہ حاضری دینے لگے۔آپؒ کی بزرگی،عظمت اور لوگوں کی عقیدت دیکھ کر آپؒ کے حاسدشاہ کوٹ سے ایک بڑا جنگی لشکر لیکر نکلے اور جنگ کیلئے نگاہہ آ پہنچے۔جب آپ ؒکو ان کی آمد کی اطلاع ہوئی تو اس وقت آپ ؒ نماز پڑھ رہے تھے۔زندگی کے ہر محاذ پر آپؒ نے ان بد بختوں سے در گزر فرمایا تھا لیکن جب وہ یہاں تک بھی پہنچ گئے تو آپؒ نے اپنے جد امجد کی طرح ایک مختصر سی جماعت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ۔جس کے بعد آپؒ نے شہادت کا رتبہ 22رجب سن 577ہجری (1181ء )حاصل کیا۔برصغیر کے اس عظیم صوفی بزرگ،ولی کامل ،بین الامذاہب ہم آہنگی کے علمبردار پیر لکھ داتا حضرت سخی سرور ؒ کے سالانہ عرس کی سرکاری طور پر پندرہ روزہ تقریبات کا آغاز یکم مارچ سے ان کے نام سے منسوب قصبہ سخی سرور میں ہو چکا ہے۔۔