کچن کی ترتیب
اسپیشل فیچر
آج کل کی مصروف زندگی میں خود کو منظم کریں یا گھر کو، یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ گھر میں اگر تمام چیزوں کی جگہ مقرر ہو اور ہر چیز وقت پر اپنی جگہ پر مل جائے تو کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ باورچی خانے گھر کا دل کہلاتے ہیں اس لیے یہاں ترتیب کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس بارے میں چند مشورے ہیں۔ کھانا پکانے کے اجزا مثلاً دال، چاول، بیسن اور دیگر راشن وغیرہ چولہے کے نیچے والے شیلف میں رکھیں۔ مصالحے، نمک، چینی، کافی اور چائے وغیرہ اوپر والے شیلف میں رکھنا مناسب ہوتا ہے کیوں کہ ان کی بار بار ضرورت پڑتی ہے اور اوپر کے شیلف سے سامان بغیر جھکے نکالا جا سکتا ہے۔ چمٹا اور کھانا پکانے کے چمچے چولہے کے نیچے یا دائیں دراز میں رکھیں یا دیوار کے ساتھ لٹکانے کی جگہ پر لٹکا دیں۔ بسکٹ، نمکو، ڈبل روٹی، جام یا ناشتے کا دیگر سامان ایک شیلف میں ایک ساتھ ایک جگہ رکھیں۔صفائی کا سارا سامان برتن دھونے کا صابن، سرف، صفائی کا کپڑا، برش ، وائپر، گھر کی صفائی کے سپرے، مائع صابن، فنائل اور اس سے ملتا جلتا سامان ایک ساتھ ایک ہی جگہ سنک کے نیچے رکھیں۔ سنک کے نیچے کوڑے کی ٹوکری کے ساتھ انہیں جگہ مل سکتی ہے۔ جن الیکٹرانک مشینوں کی ضرورت روز روز نہیں ہوتی، ان کو بھی کچن سلیبز سے ہٹا کر جہاں ان مشینوں کو استعمال کرنے کا پلگ ہے اسی شیلف کے نیچے رکھ دیں۔ جو مشینیں اکثر کام آتی ہیں ان کے اوپر کے شیلف میں رکھیں اس سے کام کرنے میں وقت کی بچت ہوتی ہے۔پینے کے پانی کو اس کونے میں رکھیں جو کھانے کے کمرے کے پاس ہو پرانے برتن جو ٹوٹ گئے ہیں یا مستقبل میں جن کے کام آنے کا امکان نہ ہو ان کو ہٹا دیں۔ یہ بغیر وجہ کچن میں جگہ لیتے ہیں۔ کچن سے تمام برتنوں کو نکال کر ایک کسی دوسری جگہ رکھیں۔ پھر جس برتن کی ضرورت ہو اسے نکال کر کچن کی الماری میں رکھ دیں۔ اگر علیحدہ رکھے گئے برتن طویل عرصہ استعمال نہ ہوں تو سمجھئے کہ وہ آپ کے کام کے نہیں ہیں اور انہیں اب گھر سے نکالنے کا انتظام کرنا ہے۔کبھی کبھی کچھ برتن اس لئے خریدے جاتے ہیں کہ وہ بہت خوبصورت ہوتے ہیں، ان کا روز مرہ استعمال نہیں ہوتا، نہ ہی انہیں پھینکنے کا ذہن ہوتا ہے۔ ان برتنوں کو باورچی خانے کی سجاوٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بڑے بڑے برتنوں کو اوپر شیلف پر سجایا جا سکتا ہے اور کچھ برتنوں کو خوبصورتی سے دیوار پر لٹکایا جا سکتا ہے۔ پرانے سامان کے ساتھ محبت رکھنا بھی سر درد بن جاتا ہے سیل میں ملنے والے سستے سامان کو ضرورت سے زیادہ خریدنا بھی ایک غلط عادت ہے۔ یہ سامان بلا ضرورت کچن میں پڑا رہتا ہے اور اس عادت سے بجٹ بھی بگڑتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر سامان کے لئے ائیر ٹائٹ ڈبے استعمال کرنا مفید رہتا ہے۔ اس کے علاوہ فریج میں بھی یہ ائیر ٹائٹ ڈبے صحیح رہتے ہیں۔ لفافوں میں سامان رکھنے کی عادت کو فوری طور پر لگام دیں۔فریج کی صفائی کے لئے اس میں زیادہ سامان جمع نہ ہونے دیں۔ اگر ہفتے بھر کی سبزیاں ایک ساتھ خریدنی ہیں تو گن کر پانچ کے قریب سبزیاں ہی خریدیں۔ اگر کھانا بچ جاتا ہے تو اگلے دن ہی اس کا کام تمام کر دیں ورنہ یہ اگلے بہت دنوں تک اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔ تھوڑی تھوڑی بچی سبزیاں چاول میں تڑکا دے کر پلاؤ بنایا جا سکتا ہے یا بھرواں پراٹھے اور سینڈوچ بنا کرفریج میں رکھیں۔ اضافی سامان کو وقت پر اچھی طرح سے استعمال میں لا کر ختم کر دینا بھی ایک فن ہے۔ سوس، جوس، مکھن، مایونیز وغیرہ کے خراب ہونے کی تاریخ کو ذہن میں رکھیں۔ اسی طرح سلاد کی سبزیاں اور پکانے والی سبزیاں بھی الگ الگ جگہ رکھ سکتے ہیں۔ بریڈ کو بریڈ باکس میں رکھیں۔ جن چیزوں کی کھپت گھر میں کم ہوتی ہے یا جسے گھر کے دیگر رکن ذرا کم پسند کرتے ہوں اسے کم مقدار میں ہی خریدیں۔فرش کے ساتھ ساتھ، دیواروں اور چولہے کے اوپر کے ٹائل کی صفائی باقاعدگی سے کریں یہ روزانہ سے ہفتے میں ایک بار ہو سکتی ہے۔ اگر زیادہ کھانا بنتا ہے اور کئی بار چولہا اور سنک استعمال ہوتے ہیں تو زیادہ دنوں تک صفائی کا انتظار کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ذرا سا گندا ہوتے ہی صفائی کا انتظام کر دینا ٹھیک رہتا ہے۔ گیس یا بجلی کے بٹنوں پر گرے ہوئے سامان کو فوری طور پر صاف کر دینا ٹھیک رہتا ہے۔ اوون اور مائیکرو ویوو کی اندرونی صفائی کے لئے خاص قسم کے صفائی والے سپرے کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ باورچی خانے کے کسی شیلف یا دراز کا ایک کونا الگ طرح کے سامان کا بنانا ضروری ہے جیسے ہاتھ صاف کرنے کا تولیہ، گرم پتیلیوں کو چولہے سے اتارنے، جھاڑن اور الگ الگ کام میں آنے والے چھوٹے تولیے، روٹی کے ڈبے کا نیپکن وغیرہ یہاں صاف ستھرے اور دھلے ہوئے رکھے ہوں۔ گندے نیپکن سنک کے نیچے والے حصے میں تہہ کر کے رکھے جا سکتے ہیں۔ باورچی خانے میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ختم ہو جانے پر دوسری لانے کا انتظار کرنا مشکل ہوتا ہے جیسے نمک، چینی وغیرہ ان کا ایک ایک ڈبہ پہلے سے لا کر کسی الگ جگہ رکھ دیا جائے تو بہت سہولت رہتی ہے۔ باورچی خانے کے کسی کونے کا ایک بڑا شیلف، جسے خزانہ کہا جا سکتا ہے، وہاں انہیں رکھ دینا چاہئے تاکہ ضرورت پڑنے پر نکالا جا سکے۔ فریج یا دروازے کے اوپر الگ الگ فہرستیں لگائی جا سکتی ہیں جیسے خریداری کی فہرست، ہفتے کا مینو، مہمانوں کے آنے کا دن، ملازمہ کے لئے ہدایات وغیرہ۔