ظفر اور فرزندانِ ظفر کی بے بسی
اسپیشل فیچر
بہادر شاہ کے جو چار دیوان موجود ہیں وہ 1857ء سے پہلے کے ہیں، لیکن ان میں کتنے ہی شعر ہیں جو 1857ء کے حالات و واقعات پر تبصرہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاصا پریشان کن ہے اور اس گرہ کو ظفر کے حالات ہی کھولتے ہیں۔ بہادر شاہ ظفر 1775ء میں پیدا ہوئے۔ وہ اکبر شاہ ثانی کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ انہیں رواج اور روایت کے مطابق ولی عہد بننا چاہیے تھا مگر اکبر شاہ کو ان سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ ممتاز محل کے بطن سے اپنے دوسرے بیٹے جہانگیر کو ولی عہد بنانا چاہتے تھے۔ جب کمپنی نے اعتراض کیا تو انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ ’’سراج الدین میرا بیٹا ہی نہیں ہے۔‘‘ یہ زخم ظفر جیسے حساس آدمی کے لیے بہت گہرا تھا۔ مرزا جہانگیر 1821ء میں مر گئے اور کمپنی کے دباؤ کے تحت، اکبر ثانی کو اپنے بیٹے سراج الدین کو ولی عہد تسلیم کرنا پڑا۔ مالک رام کا خیال ہے کہ ظفر کا یہ شعر اسی واقعہ سے متعلق ہے۔ کیسی تدبیر ظفر، جب وہ کرے اپنا کرمکام بگڑے ہوئے بن جائیں یوں ہی آپ سے آپظفر کی شاہزادگی کے دور کی بے بسی کا اندازہ اس سے کیجیے کہ تخت نشینی سے پہلے وہ اپنا کوئی دیوان بھی شائع نہ کرا سکے۔ پھر باسٹھ سال کی عمر میں وہ تحت نشین ہوئے۔ موروثی بادشاہت میں، باپ کی طویل عمر، بیٹے پر کیسی گراں گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ شاید زیادہ مشکل نہیں۔ ظفر کی زندگی میں تخت سے پہلے یہ اضطراب تھا۔ پھر وہ تخت پر بیٹھے تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ قید فرنگ، قید حیات سے کچھ کم نہیں۔ ظفر، اکبر، شاہجہان اور اورنگ زیب کے جانشین تھے۔ اپنی مجبوری اور بے بال و پری کا احساس اور یہ تضاد انہیں ذہنی طور پر تڑپا دیتا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں کشمکش کا عنصر مجبوری، بے بال و پری اور بے بسی کے ساتھ ساتھ ہر جگہ ملتا ہے۔ غالباً ان کی زندگی کے اس مطالعہ کے بعد ان دونوں پہلوؤں میں کوئی تضاد نہیں رہ جاتا۔ ایک طرف تو سلطنت دہلی کے حکمران کی ذہنی اور حقیقی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ اسیر کنج قفس ہوں میں اے نوا سنجوبلا سے میرے گر آیا بہار کا موسمجو پھڑک بھی نہ سکے طاقت پرواز کہاںدیے صیاد نے اس صید کے پر کھینچ کے باندھجہاں چمن میں نشیمن تھے بلبلوں کے ظفرہزار حیف کہ واں آشیانِ زاغ بنےتخت نشینی کے بعد انگریزوں سے ان کے تعلقات کی جو نوعیت رہی اور کمپنی کی سخت گیری، وعدہ خلافی اور اپنی شرائط پر زور دینے سے ظفر کے قلب افسردہ میں بھی بغاوت کے شعلے بھڑک اٹھے۔ یہ اشعار ایسے ہی لمحات کی پیداوار ہیں۔ بہار آئی، اسیران قفس آپس میںکہتے ہیںپھڑک کر توڑنا ہے گر قفس تیار ہو جاؤگر اسیروں کو یونہی صیاد تو پھڑکائے گاتو نکل بھاگیں گے وہ اک دن قفس کو توڑ کرظفر کی شاعری کو اسی پس منظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ یہی وہ حالات تھے جنہوں نے ظفر کی غزل میں قفس، آشیاں، صیاد و عندلیب کی علامتی حیثیت کو ادبی روایت کے ساتھ ساتھ ایک نئی اور زندہ حقیقت بنا دیا۔ اسی طرح کارواں، شکستہ پائی، بے بال و پری اور بہار کے اشاروں کو ظفر نے اپنے سوانح کے ابواب کا درجہ دے دیا۔ غزل کی ایمائیت کے سیاسی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے آج جن شاعروں کا نام سب سے پہلے ہمارے ذہن میں آتا ہے، بہادر شاہ ظفر کو ان میں بھی امتیازی درجہ حاصل ہے۔ شاہ عالم ثانی آفتابؔ سے بہادر شاہ ظفر کے بیٹوں تک خاندان مغلیہ کے شاہوں اور شہزادوں کی شاعری کا سلسلہ ایک ایسی زنجیر ہے جس کا کوئی حلقہ ٹوٹا ہوا نہیں۔ مرزا محمد دارا بخت دارا، بہادر شاہ ظفر کے ولی عہد اول تھے۔ شہزادے کی شاعری میں اگرچہ ’’لغزش مستانہ‘‘ کا بھی ذکر ہے، مگر دلّی میں اپنی کم بضاعتی کا یہ احساس زیادہ شدید ہے کہ کوئی کوڑی کو بھی گاہک نہیں ہوتا اس کابیچنے کے لیے جاتے ہیں جو بازار میں دلمرزا فتح الملک بہادر غلام فخر الدین ’’رمز‘‘ (عرف مرزا فخرو) بہادر شاہ کے چوتھے بیٹے تھے۔ ان کے ساتھ بہادر شاہ ظفر نے جو سلوک کیا، وہ شاہ ظفر کے ساتھ ان کے والد اکبر شاہ ثانی کے برتاؤ کی یاد دلاتا ہے۔ بہادر شاہ نے زینت محل کے کہنے سے مرزا جوان بخت کی ولی عہد کے لیے انگریزوں کو درخواست دی تھی، جو مسترد کر دی گئی اور مرزا فخرو اس شرط پر ولی عہد بنائے گئے کہ برائے نام بادشاہ ہوں اور قلعہ معلیٰ سے اٹھ کر مہرولی جا رہیں گے۔ لیکن 1856ء میں انتقال ہو گیا۔ بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ انہیں زینت محل نے زہر دلوا دیا۔ یہ روایت محض ’’خیال‘‘ تک محدود ہے۔ ویسے مرزا فخرو کی شاعری میں بھی وہی بے چینی اور کشمکش ہے جو خود ظفر کے زمانۂ ولی عہدی کی شاعری میں ملتی ہے اور اسباب بھی یکساں ہیں۔ ایک طرف تو ولی عہدی وہ مشکل ہے جو آسان نہیں ہوتی اور دوسری طرف اپنے والد نہیں ’’زینتِ مجمعِ اغیار‘‘ نظر آتے ہیں۔ سب کچھ آساں ہے تجھے گردش دوراں کرناایک مشکل، مری مشکل کا ہے آساں کرناتم رہو اور مجمعِ اغیار میرا کیا ہے، ہوا ہوا، نہ ہوابہادر شاہ ظفر کے بیٹے خضر سلطان کو 22 ستمبر 1857ء کو مرزا مغل اور مرزا ابوبکر کے ساتھ خونی دروازے کے باہر گولی ماری گئی۔