میاں محمد بخشؒ
اسپیشل فیچر
بابا فرید گنج شکر ؒسے شروع ہونے والی ’’صوفی روایت‘‘ کے آخری شاعر ہونے کا اعزاز میاں محمد بخشؒ کو حاصل ہے۔ اگرچہ انہوں نے اور بھی بہت کچھ تحریر کیا لیکن ان کا قصہ ’’سیف الملوک‘‘ جس کو انہوں نے ’’سفر العشق‘‘ کا نام دیا تھا، بہت زیادہ مقبول ہوا اور وہی ان کی پہچان بھی بنا۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ … پنجاب کی شعری روایت میں یا تو گیتوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جس میں بولیاں، ٹپے، ماہیے بھی شامل ہیں یا پھر ’’قصہ گوئی‘‘ … جب کہ ’’قصہ گوئی‘‘ کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں کہانی کے ساتھ سماجی اور بہت کچھ پر رائے زنی کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں ہیر رانجھا کی رومانوی داستان کو دمودر مقبل اور وارث شاہ نے بھی تحریر کیا جب کہ اس کہانی کو اور بھی اہم ترین شاعروں نے ضبطِ تحریر میں لانے کی کوشش کی لیکن یہ الگ بات کہ وارث شاہ جیسی مقبولیت کسی اور کو حاصل نہیں ہوئی۔قصۂ سیف الملوک بھی اس سے پہلے مختلف زبانوں میں تحریر ہوا لیکن میاں محمد بخشؒ نے اس کو پنجابی زبان میں لکھ کر پنجاب کے عوام کے سامنے پیش کیا۔ دلچسپ اور تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کہانی کا تمام پس منظر ’’مصری متھالوجی‘‘ سے ہے اور اس میں جنون اور پریوں کے آپسی تعلقات ، تنازعات اور جنگوں کے ساتھ ایک ’’آدم زاد‘‘ کی ایک ’’پری‘‘ سے عشق کی داستان بیان کی گئی ہے۔ آدم زاد کا جنات اور پریوں کی سر زمین کا یہ ’’سفرنامہ‘‘ منفرد اور انوکھی داستان ہے جو پنجاب کے عوام میں بطور داستان وہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی کیوں کہ اس کا پنجاب کی تہذیب ثقافت اور روایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ میاں محمد بخشؒ نے زبان و بیان کے ساتھ جس طرح ثقافتی روایات کو اس داستان سے ہم آہنگ کیا وہ بلا شبہ لائق تحسین ہے۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ یہ کہانی ہیر رانجھا، مرزا صاحبان اور سسی پنوں کی طرح تو زبان زد عام نہیں ہو سکی لیکن میاں صاحب نے جہاں بھی عقل و دانش کے موتی بکھیرے ہیں یا پھر جہاں کہیں بھی انسانی نفسیات کو ’’عوامی زبان‘‘ میں بیان کیا ہے وہ لوگوں کو ازبر ہو گیا ہے۔میاں محمد بخشؒ کا اس قصہ گوئی میں تخلیقی جوہر جس کمال پر نظر آتا ہے وہ بڑے سے بڑے شاعروں میں بھی کم کم ہی نظر آتا ہے۔ یہ امر بھی مصدقہ ہے کہ میاں محمد بخشؒ کا ’’صوفی ورثہ‘‘ بھی وجودی تھا اور وہ وحدت الوجود ہی کے قائل تھے جس میں توحید کو ہر چیز پر برتری و فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ وحدت الوجود کا یہ نظریہ در حقیقت ایرانی اور ہندی شاعری کا وہ ورثہ ہے جو ہمارے صوفیا سے ہوتا ہوا میاں محمد بخشؒ تک بھی آیا ہے لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ میاں محمد بخشؒ نے جس طرح تصوف کے مختلف مقامات کو اپنے بیان کا حصہ بنایا ہے اور جس کو وسیع و فصیح انداز میں عمومی اذہان کے لیے قابل قبول بنایا ہے اس سے پہلے صوفیا نے ایسا نہیں کیا۔ یہ میاں محمد بخشؒ کا ہی کمال ہے کہ انہوں نے سلوک کی منزل میں مقام حیرت اور مقام فقری کی تفصیل بیان کی ہے۔ایک نقطۂ نظر تو یہ بھی ہے کہ ان کے گلے پر گلہڑ تھا جس کو انہوں نے اپنی داڑھی میں چھپایا ہوا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس ’’ظاہری عیب‘‘ کے باعث ان کی منگنی بھی ٹوٹ گئی تھی جس کے بعد انہوں نے تمام عمر شادی نہیں کی۔ لیکن اس حادثہ نے انہیں ایک طرف تودنیا سے بے نیاز کر دیا تو دوسری طرف انہیں درد و سوز کی وہ دولت بھی عطا کی جو ان کی شاعری کی میراث بن گئی لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں وہ استغنیٰ بھی حاصل ہوا جس نے انہیں صوفیانہ روش پر چلنے کی قوت اور طاقت بھی عطا کی اور یہی استغنیٰ عشقِ حقیقی اور عشق نبیؐ کا اہم ترین ذریعہ ثابت ہوا۔میاں محمد بخشؒ 1830ء کو میاں شمس الدین قادری کے گھر چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے اور 1904ء میں کھڑی شریف میر پور میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے والد حضرت پیرے شاہ قلندر کے مزار کے گدی نشین تھے۔ میاں محمد بخش ؒنے بھی ہمارے دیگر صوفیا کی طرح ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے ہی حاصل کی اس طرح انہیں عربی، فارسی، فقہ حدیث اور تفسیر کا علم ورثہ میں حاصل ہوا تھا انہوں نے ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد حضرت غلام محمد کی بیعت کی اور تصوف کی راہ پر گامزن ہوئے۔ انہوں نے نفس کی پاکیزگی کے لیے بڑے بڑے اور سخت مجاہدے کیے حضرت پیرے شاہ المعروف دمڑی والی سرکار کے مزار کے ساتھ ہی حضرت میاں محمد بخشؒ کے نام سے مشہور ’’حجرے‘‘ آج بھی موجود ہیں جنہیں یادگار کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے قصہ سیف الملوک کے علاوہ اور بھی بہت سے قصے لکھے ہیں جن میں سخی خواص خان، مرزا صاحبان، سوہنی مہینوال، شیریں فرہاد اور قصہ شیخ صنعان، قصہ شاہ منصور بھی شامل ہیں۔ انہوں نے فارسی مثنوی ’’نیرنگ عشق‘‘ کا پنجابی زبان میں منظوم ترجمہ بھی کیا لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا ہے کہ جو مقبولیت اور پذیرائی انہیں سیف الملوک سے حاصل ہوئی کسی اور تحریر سے نہیں ملی۔