گھر میں رنگوں کا استعمال

گھر میں رنگوں کا استعمال

اسپیشل فیچر

تحریر : امتیاز علی


گھر کی ڈیکوریشن کرتے وقت رنگوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رنگوں کا بھی انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ کچھ رنگ طبیعت کو سکون فراہم کرتے ہیں اور کچھ رنگ طبیعت میں تناؤ پیدا کرتے ہیں۔ خواتین رنگوں کے انتخاب کے لحاظ سے مردوں پر سبقت لے جاتی ہیں کیونکہ ان میں جمالیاتی ذوق نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ نہ صرف رنگوں کا انتخاب بلکہ امتزاج بھی دلکش انداز میں کرتی ہیں۔ رنگوں کے انتخاب کی منصوبہ بندی کرتے وقت ہم اپنے آرام، سہولت اور جمالیاتی ذوق کو مدنظر رکھتے ہیں۔ گھر میں چھوٹے بچے ہوں تو کریم اور سفید رنگ استعمال کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کی بجائے قدرے گہرے رنگ منتخب کیے جاتے ہیں تاکہ بچے انہیں زیادہ خراب نہ کر سکیں یا پھر اعلیٰ معیار کے ایسے رنگ استعمال کیے جاتے ہیں جو دھوئے جانے پر دوبارہ صاف ستھرے اور داغ دھبوں سے پاک بھی ہو جاتے ہیں۔ نوجوان مختلف رنگوں کے امتزاج کو پسند کرتے ہیں جیسے ڈرائننگ روم میں سبز نارنجی رنگ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ چونکہ انسان میں بردباری آ جاتی ہے، اس لیے شوخ کی بجائے ہلکے رنگ پسند کرنے لگتے ہیں۔ خاکی، کریم، آف وائٹ، گلابی، لیمن، قرمزی اور ہلکا بادامی رنگ پُرسکوں، پُرامن اور فرحت بخش ماحول پیدا کرتے ہیں جس میں اہل خانہ اور دوست احباب بیٹھ کر گفتگو کر سکتے ہیں۔ ان رنگوں میں یہ تاثیر ہوتی ہے کہ وہ فساد یا جارحیت کے جذبات پر غالب آ جاتے ہیں۔ یہ غیرجانبدار اور صلح پسند رنگ ہیں اور اپنے آپ میں پوری طرح مکمل ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس شے پر استعمال ہوتے ہیں اسے باوقار بنا دیتے ہیں۔ یہ رنگ قدرت اور مٹی کے قریب تر ہوتے ہیں۔ سمندر سے تعلق رکھنے والے رنگ جیسے سیپی، موتی اور سمندری گھاس بہت عمدہ پس منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ رنگ گھر کے مکینوں اور مہمانوں کو پیار و محبت اور حوصلہ افزائی مہیا کرتے ہیں۔ گھر کے وہ حصے جہاں سب سے زیادہ وقت گزارا جاتا ہے مثلاً لابی، ٹی وی کا کمرہ یا ڈرائننگ روم، وہاں رنگ سب سے زیادہ رنگ برنگے اور زندگی سے بھرپور ہونے چاہئیں۔ یہاں غیر روایتی رنگوں یعنی فیروزی اور سلور، سیاہ، نیلا اور سرخ و زرد رنگوں کا امتزاج بھلا معلوم ہو گا۔ خواب گاہ میں ذہن کو سکون بخشنے والے ہلکے رنگوں کا استعمال کریں جیسے کریم، گلابی، لیمن، خاکستری، سفید، سلور اور گولڈ کی ہلکی سی جھلک آپ کے کمرے کو روشن اور چمک دار بنا دے گی۔ بہت زیادہ اور تیز رنگ ذہن پر منفی اثر ڈالیں گے۔ رنگوں کا غیر معمولی امتزاج جیسے فیروزی، سلور یا نارنجی کھلے ذہن کی عکاسی کرتے ہیں۔ غیر روایتی رنگ استعمال کرنے والے خطرات مول لینا پسند کرتے ہیں۔ وہ دوسرے سے مختلف بن جانے کی پروا نہیں کرتے کیونکہ انہیں اپنے اوپر اعتماد ہوتا ہے۔ آپ نے ہوٹلوں، ہسپتالوں اور دفاتر میں سبز رنگ کی کھڑکیاں دیکھی ہوں گی۔ سبز رنگ قدرت کا رنگ ہے اور مناسب طریقے سے استعمال کرنے پر یہ آپ کے ذہن کو ٹھنڈک اور سکون دیتا ہے۔ سفید ایسا رنگ ہے جو حوصلے بلند کرتا ہے۔ یہ روشن اور چمک دار رنگ ہے لیکن سفید رنگ جلد میلا ہو جانے کے باعث زیادہ استعمال نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ سرد موسم میں سفید رنگ نظروں کو نہیں بھاتا۔ گو کہ حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے لیکن اس کی بھی زیادتی بھلی نہیں لگتی۔ رنگوں کی دنیا میں کوئی بات حتمی نہیں ہے۔ آ پ اپنی پسند اور ذوق کے مطابق ان میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔ ضرور غور کیجیے کہ رنگوں کی مدد سے گھر کی سجاوٹ کے بعد کیا وہ آپ کی شخصیت میںکسی اضافہ کا سبب بنتے ہیں یا اس میں کمی کر دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
امریکہ کی ناپسندیدہ ریاستیں

امریکہ کی ناپسندیدہ ریاستیں

امریکہ جیسے وسیع اور متنوع ملک میں ہر ریاست اپنی الگ شناخت، ثقافت اور طرزِ زندگی رکھتی ہے، مگر حالیہ سروے نے ایک دلچسپ اور کسی حد تک چونکا دینے والی حقیقت کو سامنے لایا ہے۔ اس تحقیق میں ان ریاستوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں عوامی رائے میں سب سے زیادہ ناپسند کیا جاتا ہے۔ یہ فہرست نہ صرف سماجی رویوں اور علاقائی تعصبات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ مختلف وجوہات جیسے معیشت، طرزِ حکمرانی، جرائم کی شرح یا عوامی رویے کس طرح کسی ریاست کی مجموعی شہرت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس انکشاف نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آخر کن عوامل کی بنیاد پر کسی خطے کو پسند یا ناپسند کیا جاتا ہے اور اس کے اثرات وہاں کے باسیوں پر کیسے پڑتے ہیں۔''ورلڈ پاپولیشن ریویو‘‘ نے اس بات کا تعین کرنے کیلئے تین اہم عوامل کا تجزیہ کیا کہ کونسی ریاستیں سب سے زیادہ منفی جذبات پیدا کرتی ہیں، کتنے رہائشیوں نے اپنی ریاست کو بدترین قرار دیا، آبادی میں کمی کی شرح، اور دوسری ریاستوں کی جانب سے انہیں سب سے زیادہ ناپسندیدہ پڑوسی کے طور پر نامزد کیے جانے کی تعداد۔کچھ معاملات میں یہ ناپسندیدگی بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع یا بدلتے ہوئے طرزِ زندگی پر لوگوں کی ناراضی کی عکاسی کرتی ہے۔جبکہ دیگر صورتوں میں طویل عرصے سے جاری علاقائی رقابتیں، خاص طور پر کھیلوں اور علاقائی شناخت کے حوالے سے، عوامی رائے پر غیر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔آبادی میں اضافے اور کمی کا تجزیہ کرتے ہوئے محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں کن ریاستوں کو چھوڑ رہے ہیں۔اس تجزیے میں یہ اصول اپنایا گیا کہ جس ریاست میں آبادی میں زیادہ کمی ہو، اسے درجہ بندی میں زیادہ منفی تصور کیا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے محققین نے ''امریکن کمیونٹی سروے ‘‘ کے اعداد و شمار استعمال کیے اور دو حالیہ سالوں کے ڈیٹا کا موازنہ کیا۔آخر میں تحقیق میں اس بات کو بھی شامل کیا گیا کہ باقی ملک ان ریاستوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ محققین کے مطابق بیرونی رائے کسی بھی ریاست کی ساکھ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ پڑوسی علاقوں کی منفی رائے اکثر پرانی رقابتوں، تعصبات یا علاقائی شکایات کی عکاسی کرتی ہے۔ان تینوں عوامل رہائشیوں کی عدم اطمینان، آبادی میں تبدیلی، اور ملک گیر رائے کو یکجا کر کے ایک حتمی کمپوزٹ اسکور بنایا گیا۔امریکی عوام نے اس بات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے کہ وہ کن ریاستوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایک درجہ بندی کے مطابق Illinois کو ملک کی سب سے زیادہ ناپسند کی جانے والی ریاست قرار دیا گیا ہے، جہاں 25 فیصد مقامی رہائشیوں نے خود اپنی ریاست کو رہائش کیلئے بدترین جگہ قرار دیا۔یہ شدید عدم اطمینان اس حقیقت کے ساتھ جڑا ہے کہ ریاست کی آبادی میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جس کے مطابق حالیہ برسوں میں Illinois کی آبادی میں تقریباً 0.54 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔دوسرے نمبر پر نیو جرسی رہی، جو طویل عرصے سے ایک کم خوشگوار قومی شہرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اس ریاست کو اکثر تیز رفتار ڈرائیونگ کے حوالے سے اسٹیریو ٹائپس اور فلموں و ٹی وی میں طنزیہ حوالوں کا سامنا رہا ہے۔''گارڈن اسٹیٹ‘‘ کہلانے والی یہ ریاست اپنے پڑوسی ریاستوں کی تنقید کی زد میں بھی رہی، جہاں پانچ ریاستوں نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا۔تیسرے نمبر پر نیو یارک رہی، جہاں 12 فیصد رہائشیوں نے اسے رہائش کیلئے بدترین ریاست قرار دیا، جو ایک حیران کن حقیقت ہے کیونکہ یہ ریاست دنیا کے مشہور ترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔یہاں علاقائی رقابتیں بھی کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ رپورٹ کے مطابق میسا چوسٹس (Massachusetts) کے رہائشیوں نے نیو یارک کو اپنا سب سے ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا، جس کی وجہ ممکنہ طور پر کھیلوں کی پرانی رقابتیں اور علاقائی کشیدگیاں ہو سکتی ہیں۔فہرست میں آگے بڑھتے ہوئے ویسٹ ورجینیا چوتھے نمبر پر رہی، جس کی بڑی وجہ اس کی کم ہوتی ہوئی آبادی اور بہتر مواقع کی تلاش میں مسلسل لوگوں کا انخلا بتایا گیا ہے۔کیلیفورنیا (California )حیران کن طور پر پانچویں نمبر پر رہی، حالانکہ اسے اکثر ایک پرکشش اور بااثر ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نو دیگر ریاستوں نے اسے اپنا سب سے ناپسندیدہ پڑوسی قرار دیا، جو اس مطالعے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔اس کے بعد میساچوسٹس بھی اس فہرست میں شامل رہی، جہاں اندرونی سطح پر عدم اطمینان اور بیرونی رقابتوں نے اسے ناپسندیدہ ریاستوں کے اعلیٰ درجے میں پہنچا دیا۔مشی گن (Michigan) بھی اس فہرست کا حصہ بنی، جہاں تقریباً ہر دس میں سے ایک رہائشی نے اپنی ہی ریاست کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔ محققین کے مطابق یہ رویہ معاشی دباؤ اور صنعتی تبدیلیوں سے جڑا ہو سکتا ہے۔کونیکٹیکٹ(Connecticut )ایک غیر معمولی کیس کے طور پر سامنے آئی، کیونکہ کسی دوسری ریاست نے اسے سب سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں کہا، لیکن خود اس کے تقریباً 17 فیصد رہائشیوں نے وہاں رہنے کو ناپسندیدہ قرار دیا، جو اندرونی تنقید کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔کینٹکی(Kentucky )اس فہرست میں دسویں نمبر پر رہی، جہاں پڑوسی ریاستوں تنیسی (Tennessee) اور انڈیانا (Indiana) نے اسے اپنا کم پسندیدہ قرار دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حتیٰ کہ برانڈ اور ثقافت کے حوالے سے مشہور ریاستیں بھی علاقائی رقابتوں سے محفوظ نہیں۔محققین نے واضح کیا کہ ''سب سے زیادہ ناپسندیدہ‘‘ کا لیبل لازماً یہ معنی نہیں رکھتا کہ ان ریاستوں میں کشش یا خوبی نہیں۔ بلکہ یہ درجہ بندی آبادی میں تبدیلیوں، معاشی چیلنجز اور ثقافتی تصورات کی عکاسی کرتی ہے، جو یہ طے کرتے ہیں کہ لوگ اپنی رہائش گاہوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

 ’’اوبسکور‘‘

’’اوبسکور‘‘

بیماریوں کی قبل از وقت پیشگوئی کرنے والا نظام متعارفسائنسی دنیا میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی صحت کے شعبے میں ایک نئی امید پیدا کر دی ہے۔ حال ہی میں ماہرین نے ایک ایسا جدید اور انقلابی آلہ تیار کیا ہے جو ٹائپ2 شوگر، سٹروک اور مختلف اقسام کے کینسر جیسے مہلک امراض کے ممکنہ خطرات کی پیشگی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ حیرت انگیز پیش رفت نہ صرف بیماریوں کی بروقت تشخیص کو ممکن بنائے گی بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں بھی مدد دے گی، جس سے لاکھوں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں طرزِ زندگی سے جڑی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، یہ ایجاد طبی شعبے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا انقلابی آلہ تیار کیا ہے جو ان افراد کی نشاندہی کرتا ہے جو سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔کوئین میری یونیورسٹی آف لندن (QMU) اور برلن انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ (BIH) کے محققین نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو موٹاپے یا زائد وزن کے باعث پیدا ہونے والی 18 بیماریوں کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کینسر کی روک تھام کے قابل وجوہات میں موٹاپا دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ پہلے نمبر پر تمباکو نوشی ہے۔ نام نہاد ''موٹاپے کی وبا‘‘ نے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انگلینڈ میں تقریباً 28 فیصد بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں۔ ٹائپ 2 شوگر اور دل کی بیماریوں کے علاوہ، اضافی وزن کے باعث سٹروک، آرتھرایٹس، ہائی بلڈ پریشر اور جگر کے امراض جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اب محققین کا ماننا ہے کہ انہوں نے ''اوبسکور‘‘ (OBSCORE) نامی ایک نئے آلے کے ذریعے موٹاپے سے جڑی پیچیدگیوں میں اضافے کو روکنے کا ممکنہ حل تلاش کر لیا ہے، جسے ماہرین نے ایک نہایت اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔یہ نظام ''یو کے بائیو بنک‘‘ کے 2لاکھ شرکاء کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا، جس میں رضاکاروں کی طبی معلومات محفوظ ہیں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے محققین نے 2ہزار سے زائد صحت کے اشاریوں، جن میں خون کے ٹیسٹ، جسمانی پیمائشیں اور طرزِ زندگی کے عوامل شامل ہیں کا تجزیہ کیا۔اس تحقیق کے نتیجے میں ٹیم نے 20 اہم عوامل کی نشاندہی کی، جو 18 موٹاپے سے متعلق بیماریوں کے خطرے کی درست پیش گوئی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ان عوامل میں عمر اور جنس جیسی بنیادی خصوصیات، طرزِ زندگی سے متعلق عادات جیسے تمباکو نوشی اور مجموعی صحت یا دیرینہ بیماریوں سے متعلق خود فراہم کردہ معلومات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینے میں درد، پیٹ میں درد اور جوڑوں کے درد جیسی علامات، نیز دل کی بیماری کی خاندانی تاریخ کو بھی خطرے کی پیش گوئی میں اہم قرار دیا گیا۔ ان کے ساتھ ساتھ خون کے ٹیسٹ اور روزمرہ کی طبی پیمائشیں جیسے خون میں شوگر کی سطح، کولیسٹرول، جگر اور گردوں کی کارکردگی، یورک ایسڈ، بلڈ پریشر اور جسم میں چربی کی تقسیم بھی نہایت اہم ثابت ہوئیں۔محققین نے ہر عامل کا سنگین پیچیدگیوں سے تعلق کا جائزہ لیا، مثلاً سینے کا درد کسی اندرونی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے، اور پھر ان تمام خطرات کو یکجا کر کے ''OBSCORE‘‘ نامی آلے میں شامل کیا۔ اس کے ذریعے کسی فرد میں 18 مختلف بیماریوں کے اگلے 10 سال میں پیدا ہونے کے امکان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ تمام عوامل مل کر کسی شخص کی صحت کی زیادہ واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جبکہ صرف موٹاپے پر انحصار کافی نہیں، کیونکہ ایک ہی جیسا موٹاپا رکھنے والے افراد میں بیماری کا خطرہ مختلف ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ بہت سے ایسے افراد جو وزن کے باعث پیچیدگیوں کے زیادہ خطرے میں تھے، وہ موٹے نہیں بلکہ صرف زائد وزن کے حامل تھے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ رہنما اصولوں میں، جو زیادہ تر بی ایم آئی پر مبنی ہیں، انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر کلاڈیا لینجنبرگ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک عالمی موٹاپے کی وبا کا سامنا کر رہی ہے۔ OBSCORE آلہ ہمیں موٹاپے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے اور اس کی پیچیدگیوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ ایک اوپن ایکسس ٹول ہے جو پالیسی سازوں، ماہرین صحت اور محققین کو یہ جانچنے میں مدد دے گا کہ اسے کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔محققین نے یہ بھی تجویز کیا کہ OBSCORE آلہ یہ فیصلہ کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے کہ کن افراد کو وزن کم کرنے والی ادویات تک ترجیحی رسائی دی جائے۔پروفیسر کلاڈیا لینجنبرگ نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے ساتھ اس کی طویل مدتی طبی پیچیدگیوں سے بچاؤ صحت کے نظام کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اور تفصیلی صحت کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ڈیٹا پر مبنی فریم ورک تیار کیے جا سکتے ہیں جو زیادہ خطرے والے افراد کی نشاندہی کریں اور موٹاپے کے بہتر انتظام میں مدد دیں۔اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والے ماہرین نے نتائج کو مثبت مگر محتاط انداز میں دیکھا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آلہ طبی لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیق میں بیان کردہ کئی خطرے کے عوامل پہلے ہی معروف ہیں۔موٹاپے سے جڑی بیماریاں نہ صرف صحت کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں بلکہ بعض مطالعات کے مطابق یہ افراد کو روزگار سے بھی باہر کر دیتی ہیں، جس سے فلاحی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔حال ہی میں محققین نے اشارہ دیا کہ زائد وزن 61 عام اور جان لیوا بیماریوں جن میں گردوں کے امراض، آرتھرائٹس اور ٹائپ 2 شوگر شامل ہیں کا بڑا سبب ہے۔موٹاپا کم از کم 13 اقسام کے کینسر سے منسلک ہے اور برطانیہ میں اس بیماری کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ 40 سال سے کم عمر افراد میں ٹائپ 2 شوگر کے کیسز میں 39 فیصد اضافے کا باعث بھی بنا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

عالمی یوم آزادی صحافتعالمی یوم صحافت ہر سال 3 مئی کو اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے۔یونیسکو نے اپنے جنرل کانفرنس کے چھبیسویں اجلاس میں (جو 15 اکتوبر 1991ء سے 7 نومبر 1991ء تک جاری رہا )اس دن کو منانے کی سفارشات پیش کیں، جس کے تحت اقوام متحدہ نے1993ء میں 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔یہ دن دراصل 1991 میں نامیبیا میں ایک اعلامیے کی یادگار ہے جسے ''ونڈہوک اعلامیہ‘‘ (Windhoek Declaration) کہا جاتا ہے۔ اس اعلامیے میں آزاد، خودمختار اور کثیرالجہتی میڈیا کے قیام پر زور دیا گیا تھا۔عالمی یوم صحافت کا مقصداظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دینا، صحافت میں شفافیت، دیانت داری اور غیر جانبداری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ،ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو آزادیِ اظہار کی راہ میں جان کی بازی لگا چکے ہیں۔جمیکا کی دریافت 3مئی1494ء کو کرسٹوفر کولمبس نے جمیکا دریافت کیا۔ جمیکا بحیرہ کیریبین میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہے۔اس کا رقبہ 10ہزار 990 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ گریٹر اینٹیلز اور کیریبین کا تیسرا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ جمیکا کیوبا کے جنوب میں تقریباً 145 کلومیٹر اور ہسپانیولاکے مغرب میں 191 کلومیٹر پر واقع ہے۔ کرسٹوفر کولمبس نے جمیکا کو 1494ء میں امریکہ کی دریافت کے ٹھیک دو برس بعد دریافت کیا۔ فضائی حادثہ3مئی2006ء کوآرمینیا کی ایئرلائن کی پرواز 967 بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہو گئی۔ یہ طیارہ روس کے شہر سوچی کے ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی کوشش کر تے ہوئے حادثہ کا شکار ہوا۔ خراب موسمی حالات اور پائلٹ کی ممکنہ غلطیوں کے باعث طیارہ سمندر میں جا گرا۔ اس افسوسناک حادثے میں عملے سمیت تمام 113 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ سانحہ ہوا بازی کی تاریخ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سمجھا جاتا ہے۔جوڈو کا پہلا عالمی کپ 3مئی1956ء کو پہلے عالمی جوڈو کپ کا انعقاد جاپان کے شہر ٹوکیو میں کیا گیا۔جوڈو جس کے لفظی معنی ''نفیس طریقے سے‘‘ کے ہیں، جدید جاپانی مارشل آرٹ کی قسم ہے جو 1882ء میں ڈاکٹر کانو جیگورو نے جاپان میں تخلیق کی۔اس کھیل کا سب سے اہم پہلو مقابلے کا ہے، جہاں ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی کو مقابلے میں زمین پر چت اور اس کی حرکت کو موقوف کر نے کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹ کی تکنیک کے استعمال سے مقابل کو شکست قبول کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔البرٹا کی آتشزدگییکم مئی 2016ء کو فورٹ میک مرے، البرٹا، کینیڈا کے جنوب مغرب میں جنگل کی آگ شروع ہوئی۔ 3 مئی کو اس نے پوری کمیونٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسے البرٹا کی تاریخ کی سب سے بڑی جنگل کی آگ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ ا س میں88ہزار لوگ اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ فائر فائٹرز کی کینیڈین آرمڈ فورسز اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے ساتھ ساتھ دیگر کینیڈین صوبائی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے جنگل کی آگ سے لڑنے میں مدد کی۔ فورٹ میک مرے میں پھیلتی ہوئی جنگل کی آگ نے تقریباً2ہزار400 مکانات اور عمارتیں تباہ کر دیں۔

لاپتہ جنگی جہازکا ملبہ دریافت

لاپتہ جنگی جہازکا ملبہ دریافت

ایک صدی پرانا راز بے نقابپہلی جنگ عظیم کے ایک دیرینہ راز سے آخرکار پردہ اُٹھ گیا، برطانوی غوطہ خوروں نے ایک صدی سے زائد عرصے بعد امریکی جنگی جہاز کے ملبے کو دریافت کر لیا ہے۔ یہ جہاز 1918ء میں جرمن آبدوز کے تارپیڈو حملے کے نتیجے میں تباہ ہو کر سمندر کی گہرائیوں میں گم ہو گیا تھا۔ حالیہ دریافت کارن وال (Cornwall) کے ساحل کے قریب عمل میں آئی، جس نے نہ صرف تاریخ کے ایک اہم باب کو دوبارہ زندہ کر دیا بلکہ اُن درجنوں جانوں کی یاد بھی تازہ کر دی جو اس سانحے میں ضائع ہو گئی تھیں۔ یہ پیشرفت سمندری تحقیق اور تاریخی کھوج کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔امریکی کوسٹ گارڈ کا جہاز108 سال قبل سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔اب اسے نیوکی (Newquay) کے ساحل سے تقریباً 50 میل دور گہرے سمندر میں غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے تلاش کیا ہے۔اس جہاز پر موجود تمام 131 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ برطانوی شہری بھی شامل تھے۔غوطہ خور ٹیم کے 54 سالہ رکن ڈومینک روبنسن کہتے ہیں کہ وہ پچھلے تین سال سے اس جہاز کی تلاش میں تھے ۔ٹیم نے اس جہاز کو تلاش کرنے کیلئے برطانیہ کے ہائیڈروگرافک آفس سے حاصل کردہ معلومات، بشمول سمندر کی تہہ کے ڈیٹا کا استعمال کیا۔انہوں نے جرمن ریکارڈز کا بھی تجزیہ کیا جو اس آبدوز سے متعلق تھے جس نے یہ جہاز تباہ کیا تھا، اور پچھلے تین سالوں میں متعدد غوطے لگا کر اس کی تلاش جاری رکھی۔ 26 اپریل کو بالآخر انہیں یہ حیران کن کامیابی حاصل ہوئی۔ٹیم نے اپنی دریافت کے نتائج امریکی کوسٹ گارڈ کے سامنے پیش کر دیے ہیں، اور مسٹر رابنسن کا کہنا ہے کہ انہیںپورا یقین ہے کہ انہوں نے ''ٹامپا‘‘(TAMPA) کو ہی دریافت کیا ہے۔اصل میں ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہم نے ہر ممکن جگہ دیکھ لی ہے جہاں یہ ہو سکتا تھا اور ہم تقریباً ہار ماننے ہی والے تھے، لیکن پھر ہم مزید نیچے گئے اور اسے تلاش کر لیا۔انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاز کا ملبہ پانی کے نیچے صرف ایک جہاز ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سیلٹک سمندر میں، یہ جہاز کارن وال اور آئرلینڈ کے درمیان، 100 سال سے زیادہ عرصے سے پڑا ہوا ہے، اس لیے اسے طوفانوں اور ایک صدی سے زائد عرصے نے بری طرح متاثر کیا ہے۔جبکہ اسے پہلے تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ جس چیز کی تلاش میں تھے ان میں لنگر، بڑے پتھر، انجن شامل تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس جہاز پر بندوقیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی موجود تھا۔یہ ایک مضبوط اور اعلیٰ معیار کا بنایا گیا جہاز تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مختلف جہازوں کی تلاش میں غوطے لگائے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کس دور میں استعمال ہوتے تھے۔ ہم نے برتن بھی دیکھے جن پر ''نیو جرسی‘‘ لکھا ہوا تھا، جو فوراً امریکہ سے تعلق کی ایک واضح نشانی تھی۔''ٹامپا‘‘ جہاز پہلی جنگ عظیم کے دوران قافلوں کی حفاظت کیلئے تعینات تھا، تاکہ جرمن آبدوزوں سے ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ جہاز جبرالٹر اور انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے درمیان سمندری راستے پر ڈیوٹی انجام دیتا تھا۔26 ستمبر 1918ء کو TAMPA نے ایک قافلے کو چھوڑا ہی تھا کہ اسے تارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ رابنسن کے مطابق وہ دن کافی دھندلا تھا اور قافلے سے الگ ہونے کے تقریباً چار گھنٹے بعد انہوں نے ایک بڑا دھماکہ سنا اور اس کے بعد TAMPA دوبارہ کبھی نظر نہیں آیا۔چونکہ موسم دھندلا تھا اور کوئی واضح سراغ نہیں ملا، اس لیے اس کا مقام ہمیشہ غیر واضح رہا۔انہوں نے مزید بتایاکہ امریکہ نے بعد میں بھی TAMPA نام کا ایک جہاز سروس میں رکھا۔بہت سے لوگوں نے TAMPA کو تلاش کرنے کی کوشش کی، جن میں ہم بھی شامل ہیں ۔یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ کوئی ایک دن کی کامیابی نہیں بلکہ تین سال کی مسلسل محنت اور بہت سے دوسرے غوطہ خوروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔رابنسن کا کہنا تھا کہ اس قسم کی غوطہ خوری انتہائی سخت نوعیت کی ہوتی ہے ۔چونکہ یہ ملبہ تقریباً 100 میٹر کی گہرائی میں موجود تھا، اس لیے ٹیم کو سمندر کی تہہ میں صرف تقریباً 20 منٹ گزارنے کی اجازت ہوتی تھی، جس کے بعد انہیں سطح پر آہستہ آہستہ واپس آنے کیلئے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک ڈی کمپریشن (decompression) کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ہم نے یہ تمام معلومات جمع کیں اور امریکی کوسٹ گارڈ کو پیش کیں، جنہوں نے ویڈیو اور تصاویر کا جائزہ لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ہم نے TAMPA ہی کو تلاش کیا ہے۔

کھانے کے حیران کن عالمی ریکارڈز!

کھانے کے حیران کن عالمی ریکارڈز!

انسانی تاریخ میں کھانے پینے کا شوق ہمیشہ سے ایک اہم حیثیت رکھتا آیا ہے، بعض افراد اس شوق کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں حیرت اور تجسس کا باعث بن جاتے ہیں۔ کہیں دیو ہیکل برگر تیار کیے جاتے ہیں تو کہیں چند لمحوں میں درجنوں ہاٹ ڈاگ کھا لینے کے حیران کن کارنامے انجام دیے جاتے ہیں۔ یہی غیر معمولی کارنامے بعدازاں عالمی ریکارڈز کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو کھانے کے پانچ حیران کن عالمی ریکارڈز سے روشناس کرائیں گے جو یقیناً آپ کو چونکا دیں گے۔سب سے بڑا برگردنیا کا سب سے بڑا برگر 2017ء میں جرمنی کے شہر پلسٹنگ میں ایک عوامی تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔ اسے 6افراد نے مل کر تیار کیا تھا۔ یہ جرمن دوستوں کا ایک گروپ تھا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے جذبے کے ساتھ اکٹھا ہوا تھا۔اس برگر میں سینکڑوں بیف پیٹیز شامل تھیں جن پر کیچپ اور مایونیز ڈالی گئی۔ اس میں بڑی مقدار میں پنیر اور ٹماٹر بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ دو دیو ہیکل بن رکھے گئے تھے جو اس کے مجموعی سائز کے مطابق تھے۔ اس کا وزن ایک اسمارٹ کار کے برابر یعنی 1,164.2 کلوگرام (2,566 پاؤنڈ 9 اونس) تھا اور یہ ایک برگر باآسانی ہزاروں افراد کھاسکتے تھے۔سب سے بڑا کدوپھر آتی ہے باری دنیا کے سب سے بڑے کدو کی، جس کا وزن حیران کن طور پر 1,246.9 کلوگرام (2,749 پاؤنڈ) تھا اور اس کا گھیراؤ 642.6 سینٹی میٹر (21 فٹ 1 انچ) تھا۔ اسے ٹراوس گینگر نے اْگایا جو ایک مقابلہ جاتی مالی ہیں اور زراعت خصوصاً کدو اگانے کے بے حد شوقین ہیں۔ٹراوس کا تعلق امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کے علاقے انوکا سے ہے، جسے اکثر دنیا کا ''ہالووین دارالحکومت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ریکارڈ سے پہلے بھی وہ ایک ہزار کلوگرام سے زائد وزن کے کئی کدو اُگا چکے تھے۔یہ نیا عالمی ریکارڈ انہوں نے 2023ء میں ''سیف وے ورلڈ چیمپئن شپ پمپکن وے آف‘‘ کے 50ویں سالانہ مقابلے میں قائم کیاتھا، جہاں ہر کدو کو مقامی جج حضرات بڑی احتیاط سے جانچتے ہیں، اور پھر ''گریٹ پمپکن کامن ویلتھ ‘‘ (جی پی سی) کے ذریعے اس کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے۔سب سے بڑاکیلوں کا گچھا بعض اوقات کچھ پھل جو باقاعدہ گچھوں کی صورت میں اُگائے جاتے ہیں، وہ بھی عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔ سب سے بڑا کیلے کا گچھا کینری ، اسپین میں اُگایاگیا۔ اس کا مجموعی وزن 130 کلوگرام (286 پاؤنڈ 9 اونس) تھا اور اس میں 473 کیلے شامل تھے، جو اسے غیر معمولی طور پر بڑا اور گچھا بناتے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں کیلے اُگانا ایک زرعی منصوبے کا حصہ تھا، جو 160 ہیکٹر پر محیط تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بنجر زمین کو زرخیز بنا کر اسے استوائی پھلوں کی کاشت کیلئے موزوں بنانا تھا، اور اس میں ایک بڑا حصہ خاص طور پر کیلے کی پیداوار کیلئے مختص کیا گیا تھا۔سب سے بڑا کیکاور یقیناً، میٹھی چیزوں کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہتی ہے۔ اٹلی کے شہر میلان میں ''نیشنل ایسوسی ایشن کیک ڈیزائنرز‘‘ سے تعلق رکھنے والے کیک آرٹسٹس کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے بڑا کیک تیار کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس کی لمبائی 16.46 میٹر (54 فٹ)، چوڑائی 13.94 میٹر (45 فٹ 7 انچ) اور اونچائی 0.54 میٹر (1 فٹ 9.25 انچ) تھی،یعنی یہ ایک اپارٹمنٹ کے فلور جتنا بڑا تھا۔یہ کیک محض ایک میٹھا پکوان نہیں بلکہ ایک حقیقی خوردنی کینوس تھا، جسے اٹلی کے نقشے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس پر اٹلی کی مشہور علامتی عمارتوں کے چھوٹے ماڈلز بھی بنائے گئے تھے، جیسے ''لینگ ٹاور آف پیسا، ایلپس، اور کلوژیم۔اس عظیم الشان کیک کو ''Hobby Show‘‘ کے دوران باضابطہ طور پر پیش کیا گیا، جہاں آنے والے ہر فرد کو اس کا ذائقہ چکھنے کا موقع بھی دیا گیا۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکی بحری بیڑے پر حملہ1964 میں ویتنام جنگ کے دوران ایک اہم واقعہ پیش آیا جب امریکی طیارہ بردار جہاز ''یو ایس این ایس‘‘ بندرگاہ پر لنگر انداز تھا۔ اسی دوران ویت کانگ کے دو غوطہ خور جنگجوؤں نے جہاز کے نچلے حصے میں بارودی مواد نصب کیا، جس کے نتیجے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور جہاز ڈوب گیا۔بعد ازاں جہاز کو سمندر سے نکال کر مرمت کی گئی اور سات ماہ سے بھی کم عرصے میں دوبارہ سروس میں شامل کر دیا گیا۔بیس بال کا آغاز1920 میں نیگرو نیشنل لیگ کے تحت بیس بال کا پہلا باضابطہ میچ کھیلا گیا۔ یہ لیگ اس دور میں قائم کی گئی تھی جب نسلی امتیاز کے باعث سیاہ فام کھلاڑیوں کو بڑی پیشہ ورانہ لیگوں میں کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس تاریخی مقابلے نے نہ صرف افریقی نژاد امریکی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا بلکہ بیس بال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا، جو بعد میں کھیل میں برابری اور مواقع کی جدوجہد کی علامت بن گیا۔ٹونی بلیئر وزیر اعظم بنے1997ء میں آج کے دن ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وہ43 سال کی عمر میں وزیر اعظم بنے۔انہیں گزشتہ دوسو سالوں میں سب سے کم عمر وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی مقبولیت میں اس وقت کمی واقع ہوئی جب انہوں نے عراق کے معاملے میں امریکی پالیسی کی حمایت کی۔2006ء میں انہوں نے اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کیا اور 27جون2007ء کو مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔کیریبین فضائی حادثہ1970ء میں ''اے ایل ایم فلائٹ 980‘‘ ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئی جب اسے فنی خرابی اور ایندھن کی کمی کے باعث ہنگامی طور پر اتارنے کی کوشش کی گئی۔ طیارہ سمندر میں گر گیا، جس کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حادثے نے ہوا بازی کی دنیا میں حفاظتی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور بعد ازاں بہتری کی کوششوں کو تیز کیا گیا۔میانمار میں سمندی طوفان2مئی 2008ء کو میانمار میں شدید سمندی طوفان آیا جسے ''نرگس سائیکلون‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی تباہ کن طوفان تھا جو میانمار کی ریکارڈ شدہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفت کا سبب بنا۔طوفان نے گنجان آباد علاقوں میں 40 کلومیٹر تک طوفانی لہریں پیدا کیں۔اس طوفان سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور تقریباًایک لاکھ38ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ صرف لابوٹا ٹاؤن شپ میں 80ہزار لوگ ہلاک ہوئے، بوگلے میں تقریباً 10ہزار اموات رپورٹ ہوئیں۔ 55 ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہوئے ۔طوفان کی وجہ سے 12 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔جرمنی: مزدور یونینوں کا خاتمہ1933 میں جرمنی میں ایک اہم سیاسی تبدیلی کے دوران ملک کی آزاد مزدور یونینوں کو ختم کر کے ان کی جگہ جرمن لیبر فرنٹ قائم کر دی گئی۔ یہ اقدام اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے مزدور تحریک کو ایک مرکزی اور ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوشش تھی۔ اس تنظیم نے تمام مزدور سرگرمیوں کو حکومت کے تابع کر دیا اور آزاد یونینوں کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس تبدیلی نے جرمن معاشرے میں مزدوروں کی آزادی اور حقوق پر گہرے اثرات ڈالے اور ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مزید سخت کنٹرول میں دے دیا۔