افلاطون کے سیاسی تصورات
اسپیشل فیچر
افلاطون سقراط کے سیاسی فلسفے سے بے حد متاثر تھا۔ اس نے سقراط کے بے شمار خیالات و اعتقادات کو اپنی کتب میں اپنے حوالے سے پیش کیا۔ اس نے اپنی جملہ کتب مکالمات کی صورت میں تحریر کیں جو سقراط ہی کا طریقہ کار تھا۔ افلاطون نے سقراط کے اس نظریۂ علم کو کہ ’’ہر آدمی کا فرض ہے کہ وہ سچا اور حقیقی علم تلاش کرے جو انسان کی اپنی ذات میں پنہاں ہے۔‘‘ اپناتے ہوئے تخصیص فرائض کا فلسفہ پیش کیا اور سقراط ہی کے اس نظریہ کہ ’’اشیا کی حقیقت تصورِ اشیا میں مضمر ہے اور خارجی صورت عارضی ہے‘‘ سے متاثر ہو کر تصوریت کی اصطلاح استعمال کی۔ ایک سکالر کے مطابق کہ افلاطون کے سامنے الجمہوریہ کی بنیادی شکل میں، اس کے استاد سقراط کا یہ تصور ’’کہ نیکی علم ہے‘‘ موجود رہا۔ ایک دوسرے سکالر فاسٹر کے مطابق افلاطون نے جو کچھ سقراط سے حاصل کیا وہی اس کے سیاسی فلسفہ پر چھایا ہوا ہے۔ سقراط کے مطابق حکومت صرف عالموں کا حق ہے اور اسی تصور کی بنیاد پر افلاطون نے عالموں کی حکمرانی کا فلسفہ پیش کیا اور یہی فلسفہ اس کی ’’مثالی ریاست‘‘ اور فلسفی حکمرانوں کے پس پردہ کار فرما ہے۔ بلاشبہ سقراط نے دنیا کے اس بے مثل معلم اور مفکر میں شان تدبر پیدا کی۔ افلاطون کے زمانے میں ایتھنز کی حکومت اپنے زوال کی منازل طے کر رہی تھی۔ شہری ریاستیں تقسیم اور مختلف الخیال طبقات میں بٹ چکی تھیں۔ ایک طبقہ شہری ریاست پر حکومت کرنے والوں کا تھا جبکہ دوسرا رعایا کا۔ حکمران جابر تھے اور رعایا محکوم و مجبور۔ حکمران اخلاقی ضوابط سے بے نیاز ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے جبکہ محکوم لوگ کمزور سے کمزور تر اور غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے تھے۔ اس طرح ہر شہری ریاست میں حکمرانوں اور رعایا کے درمیان بیگانگی اور نفرت کی خلیج روزبروز وسیع ہو رہی تھی۔ ان حالات میں جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں سقراط کی موت کے بعد افلاطون جمہوریت کا دشمن ہو گیا اور اس نے دولت مندوں کے ذریعے ایتھنز کو سیاسی زوال سے بچانے کے لیے سیاسی مفکر کی حیثیت اختیار کی۔ افلاطون نے اپنی قائم کردہ اکیڈیمی میں ریاضی، سائنسی علوم اور فلسفہ و منطق پرجو لیکچر دئیے تھے، وہ زمانہ کے دست برد سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اس نے اپنے آخری ایام میں صرف مابعدالطبیعیات پر تنقیدی مقالات تحریر کیے۔ اس نے اپنے ہمہ گیر فلسفیانہ نظام کی تشکیل کے لیے قدما کے خیالات و نظریات سے استفادہ حاصل کیا۔ اسی لیے اس کی فکر پر خاندانی ماحول کے علاوہ فیثاغورث، سقراط اور سوفسطائیوں کے افکار کی جھلک نمایاں ہے۔ ایک متمول اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کی بنا پر وہ اعلیٰ مرتبہ کے حامل لوگوں کو حکومت کرنے کا حق دار اور جمہوریت کو بدترین طرز حکومت قرار دیتا تھا۔ افلاطون کہا کرتا تھا کہ ’’جمہوریت محض دھوکا اور فریب ہے۔ عام لوگوں کی رائے کو حقیقت یا علم کا درجہ دینا جہالت ہے کیونکہ یہ رائے تعصب اور تنگ نظری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جمہوریت مستقل کشمکش اور فتنہ و فساد ہے‘‘۔ افلاطون مضبوط، مستحکم اور پائیدار حکومت کا قائل تھا جس کی اس دور میں ایتھنز کو ضرورت تھی۔ وہ مملکت کے زوال کی پہلی وجہ نمود نمائش اور شان و شوکت کی خواہش کو قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’اس سے حکمران غافل ہو جاتے ہیں اور خوشامدیوں میں گھر کر اپنے اعلیٰ مقاصد کو بھول جاتے ہیں جس سے عام شہری خوف و ہراس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مملکت چند سری ہو کر رہ جاتی ہے اور جمہوریت کے لیے حالات سازگار ہوتے ہیں، جمہوریت سے گروہ بندی اور پھر سیاسی جماعتیں جنم لیتی ہیں۔ چالباز اور مکار ان پارٹیوں کے لیڈر اور ان میں سے مطلق العنان یا جابر حکمران بنتے ہیں جن کا دل عقل کی روشنی اور اخلاق کی رہبری سے محروم ہوتا ہے۔‘‘ افلاطون نے سوفسطائیوں کے اس نظریہ کہ ’’ریاست حکمران طبقہ کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ ہوتی ہے‘‘ کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ رعایا کی بھلائی ہی حکمرانوں کی بھلائی ہے اور ریاست اچھائی کے فروغ اور بہتر عوامی زندگی کے لیے تشکیل دی جاتی ہے۔‘‘افلاطون انفرادیت پسند ہونے کے ساتھ ساتھ تصوریت پسند بھی تھا۔ انفرادیت پسند ہونے کے ناتے وہ تسلیم کرتا تھا کہ ’’انسان نے ریاست اپنی ضروریات کی تکمیل کی خاطر تشکیل دی ہے اور … یہ ریاست کا فرض ہے کہ افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق جسمانی اور روحانی نشوونما کے لیے بہترین مواقع فراہم کرے۔‘‘ جبکہ بحیثیت ایک تصوریت پسند اس کا کہنا تھا کہ ’’کوئی ریاست اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک حکومت ایسے اشخاص کے پاس نہ ہو جو یہ جانتے ہوں کہ ریاست کی بہتری کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔‘‘ اس کے نزدیک حکومت صرف عالموں کا حق ہے اوراس کے لیے تعلیم ہی بہترین ذریعہ ہے۔ ٭…٭…٭