کمر کا درد
اسپیشل فیچر
کمر پر بوجھ یا کمر میں درد مختلف صورتوں میں ایک عام تکلیف ہے۔ کمر کے درد کی وجوہات میں پٹھوں اور ہڈیوں کی تکالیف بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ دیگر اعضا کی بعض بیماریاں بھی اس درد کا سبب بنتی ہیں۔ موٹاپا کمر کے درد کی ایک عام وجہ ہے۔ موٹاپے کی وجہ سے آدمی کے بیٹھنے اٹھنے کا انداز تبدیل ہو جاتا ہے اور اس انداز سے کمر پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ جس سے کمر کے پٹھے تھک جاتے ہیں۔ اسی طرح پیٹ کے اعضا میں کوئی تکلیف ہو تو بھی کمر میں درد محسوس ہوتا ہے۔ اس صورت میں ہم اسے ریفرڈ درد کہتے ہیں ۔ دوران حمل، ماہواری اور بعض بیماریوں سے مریضہ کو کمردرد کی شکایت ہو سکتی ہے۔ گردوں کی بیماری ہو تو بھی کمر میں درد محسوس ہوتا ہے۔ بعض متعدی بیماریوں کے آغاز کی پہلی علامت کمر کا درد ہوتا ہے۔ اسی طرح اعصابی تناؤ اور تھکاوٹ سے بھی کمر میں درد شروع ہو سکتا ہے۔ بعض بیماریاں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایسی صورت میں مریض کی کمر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ پیٹھ کے مہروں کی درمیانی جگہ اورمہروں کی سوزش جسے ’’اوسٹیو ارتھرئٹس‘‘ کہا جاتا ہے، کمر کے درد کا ایک اور اہم سبب ہے۔ اسی طرح کمر کے پٹھوں کی جھلیوں کی سوزش ’’فبروسیٹائٹس‘‘ بھی شدید کمر درد کا باعث بنتی ہے۔ کمر کی ہڈی یعنی مہروں کا ٹوٹ جانا انسانی جان کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر مریض ٹھیک ہو جائے تو عموماً اسے کمر میں درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ چوٹ لگنے سے مہروں کے درمیان کی جگہ پر موجود پلیٹ یا ڈسک اپنی جگہ سے ہل جاتی ہے اور کمر کے شدید درد کا باعث بنتی ہے۔ کمر کی یہ چوٹ خاصی تکلیف دہ ہوتی ہے اور بعض اوقات درد بازوؤں اور ٹانگوں میں بھی جاتا ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ چوٹ کمر پر کس جگہ لگی ہے۔ کمرکی ہڈی جسے ورٹیبرل کالم کہتے ہیں (ہر مہرے کو ورٹیبرائی کہتے ہیں)، انسانی جسم کی بنیادی ہڈی ہے۔ اس پر پورے جسم کے وزن اور توازن کا انحصار ہے۔ جب ہم وزن اٹھاتے ہیں۔ چھلانگ لگاتے ہیں، بھاگتے دوڑتے ہیں، نیچے جھکتے اور اوپر اٹھتے ہیں، تو ان تمام حرکات و سکنات کا براہ راست اثر کمر کی ہڈی پر پڑتا ہے۔ مہروں کے درمیان جوڑ ہوتے ہیں اور ان جوڑوں میں لچک ہوتی ہے۔ یہ لچک کمر کی درست حرکت کے لیے بہت ضروری ہے۔ ان جوڑوں کے درمیانی وقفے میں سے مختلف عصبی ریشے یا سپائنل نروز بھی نکلتے ہیں، جو جسم کے مختلف حصوں کو جاتے ہیں۔ بعض اوقات مہروں کی چوٹ یا کسی اور وجہ سے ان عصبی ریشوں پر دباؤ آ جاتا ہے یا انہیں چوٹ لگ جاتی ہے۔ اس طرح ان ریشوں میں تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ عام طور پر اس طرح کی تکلیف کمر کے نچلے حصے میں ہوتی ہے، جہاں سے عصبی ریشے ٹانگوں، رانوں اور پیروں کو جاتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو کمر کے درد کے ساتھ ساتھ درد ٹانگ کے پچھلے جانب پاؤں تک جاتا ہے۔ یہ درد خاصا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ درد عام طور پر ایک طرف ہوتا ہے اور کھانسنے سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چھینکنے سے بھی درد بڑھ جاتا ہے اور مریض جب ٹوائلٹ جاتا ہے تو بھی اسے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اس درد کو شیاٹیکا بھی کہا جاتا ہے۔ وزن اٹھانے یا کمر کی حرکت سے درد بڑھ جاتا ہے اور متاثرہ پٹھے اکڑ جاتے ہیں۔ مناسب علاج سے یہ تمام تکالیف مکمل طور پر دور ہو جاتی ہیں۔ کیاکرنا چاہیے: اگرمہروں پر چوٹ لگ گئی ہو تو کمر کے درد کے مریض کو سیدھے اور سخت بستر پر سونا چاہیے۔ وہ یا تو زمین پر روئی کے گدے ڈال لے یا پھر لکڑی کا سیدھا تختہ رکھ کر اس پر سوئے۔ فوم کے بیڈ اس کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اگر فوم استعمال کرنا ہے تو فوم کے نیچے سیدھا تختہ لگوائیں۔ متاثرہ جگہ پر مساج اور گرم ٹکور سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ کمر درد کے لیے بیلٹ یا پیٹی بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس سے عصبی ریشوں پر دباؤ میں کمی آ جاتی ہے۔ ڈاکٹر سے رجوع کریں اور وہ ایکسرے یا دوسرے ذریعے سے تکلیف کی درست نوعیت کا تعین کرے گا اور پھر علاج تجویز کرے گا جو ادویات کی شکل میں ہو گا۔ ہو سکتا ہے فزیو تھراپی یعنی ورزش اور ٹکور بھی تجویز کی جائے۔ اس طرح ٹھیک نہ ہونے والے کیس میں آپریشن کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔