دس میوزیم آباد
اسپیشل فیچر
یہ گمان نہ کیا جائے کہ ہمارا سارا وقت یورپ میں مکان کی تلاش یا غسل خانوں کی پیمائش میں گزرتا لیکن کیا کیا جائے جہاں رہنا چار دن ہو اور ان میں سے دو آرزو میں کٹ جائیں، دو انتظار میں۔ وہاں اور کیا محل گفتگو ہو سکتا ہے، گیارہ بارہ بچے دن مسز واٹسن کے بوسیدہ تہہ خانے میں بسر کرنے کے بعد یہ کمرہ ملا ہے۔ علیحدہ خواب گاہ، علیحدہ نشست گاہ، علیحدہ غسل خانہ بھی جو فی زمانہ نہیں ملتا۔ کرایہ اس سے پونے دو گنا لیکن خیر۔ ہمارا آدھا وقت تو غسل خانے میں صرف ہو جاتا ہے۔ من کا میل دور نہیں کر سکتے تو تن تو اجلا رہے۔ ان مکروہات دنیوی سے فرصت پا کر ہم کلچر کی چکھوتیاں بھی کرتے رہے۔ برٹش میوزیم میں گئے۔ کیا پرانی پرانی چیزیں بھر رکھی ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی مورتیاں، پرانی وضع کے مٹکے اور لوٹے۔ مٹیالی کیڑے کھائی کتابیں۔ اس سے کہیں بہتر چیزیں تو یہاں بازار کی ہر دکان میں مل جائیں گی، اور نئی۔ اس کے کتب خانے کو بھی ہم نے دیکھ ڈالا۔ وہی وہانوی کا کوئی ناول نہ ملا۔ کارڈ بنوانے گئے تو ایک ترش رو اسسٹنٹ نے کہا، کبھی پہلے بھی ممبر رہے ہو؟ ہم نے کہا، ہاں آج سے چھ سال پہلے ستمبر میں بنا تھا۔ وہ چھت پر گیا اور ہمارا کارڈ نکال لایا۔ کارڈ بنانے والا بہت خوش دل اورعلم کی قدر کرنے والا تھا۔ اس نے ہماری علمیت کو ہمارے چہرے ہی سے بھانپ لیا، اور ہمارے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا، ہم آبدیدہ سے ہو گئے کہ موتی کی قدر سمندر سے نکل کر ہیرے کی قدر کان سے باہر آ کر ہی ہوتی ہے۔ مصر کی قدیم تہذیب کا ہم نے بہت شہرہ سنا تھا۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ ولادت مسیح سے ہزار دو ہزار سال پہلے تہذیب کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے اہرام بنائے، ممیاں بنائیں اور دفن کیں اور نہ جانے کیا کیا۔ برٹش میوزیم کے کئی کمروں میں اس تہذیب کے آثار پھیلے ہوئے ہیں جن میں بادشاہوں اور پروہتوں کے علاوہ ان کی روزمرہ زندگی بھی کھلونوں اور ماڈلوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہم تو ذرہ بھر متاثر نہ ہوئے۔ ان کے تین ہزار سال پہلے کے آلات زراعت دیکھے۔ کوئی کمال نہیں ویسے ہی جیسے آج کل ہم استعمال کرتے ہیں۔ لوہاروں اور بڑھئیوں کے ہتھوڑے اور تیشے بھی ایسے ہی ہیں جو پاکستانی دیہات میں مستعمل ہیں۔ لباس کا بھی ایسا زیادہ فرق نہیں۔ زمین سے پانی نکالنے کے طریقے رہٹ اور ڈھینگلی وغیرہ ضرور ہمارے آج کل کے دیہاتی طریقوں سے ذرا بہتر ہیں لیکن ایسا زیادہ فرق نہیں کہ اس پر کتابیں لکھیں۔ قدیم مصر کی کھدائی کرنے والوں نے شاید ہمارا ملک نہیں دیکھا ورنہ انہیں زمین کھودنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ زمین کے اوپر ہی یہ ساری چیزیں اتنی افراط میں مل جاتیں کہ ایک چھوڑ دس میوزیم آباد کر لیں۔