شیخ احمد سرہندیؒ
اسپیشل فیچر
اس میں شک نہیں کہ حضرت شیخ احمد سرہندیؒ جنہیں دنیا مجدد الف ثانیؒ کے نام سے جانتی ہے، کی حیات مبارکہ خود ایک ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس نے عالم و عامی، صوفی و فقیہ، شاہ و گدا سب ہی کو متاثر کیا اور ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے سرزمین پاک و ہند میں سلطنت اسلامیہ اور ملت محمدیہ کی کایا پلٹ کر کے رکھ دی۔ علامہ اقبالؒ نے حضرت مجددؒ کے تجدیدی اور اصلاحی کارناموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے: وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہباناللہ نے بروقت کیا جس کو خبردارحضرت مجدد الف ثانیؒ کے والد ماجد شیخ عبدالاحدکاایک نیک گھرانے میں عقد ہوا تھا، آپ کے ہاں سات صاحب زادے تولد ہوئے۔ حضرت مجددؒ چوتھے صاحب زادے تھے۔ حضرت مجددؒ کی ولادت باسعادت سولہویں صدی میں سرہند میں ہوئی۔ حضرت مجددؒ بچپن میں بہت سرخ و سپید تھے۔ آپؒ نے اوائل عمر ہی میں قرآن پاک پڑھ لیا اور پھر اپنے والد ماجد سے بیشتر علوم حاصل کیے۔ والد ماجد کے علاوہ دوسرے اساتذہ سے بھی استفادہ کیا۔ مثلاً مولانا کمال کشمیری سے بعض مشکل کتب پڑھیں۔ مولانا شیخ یعقوب کشمیری سے کتب حدیث پڑھیں اور سند لی۔ قاضی بہلول بدخشی سے متعدد کتابیں پڑھیں۔تحصیل علم سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مجددؒ آگرہ تشریف لے گئے اور وہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپؒ کے حلقہ درس میں فضلائے عصر شریک ہوتے تھے، یہ اکبری دور حکومت تھا اور پایۂ تخت ہونے کی وجہ سے آگرے کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور وہ گہوارۂ علم و حکمت تھا۔ علم و فن کے کاملیں یہاں جمع ہو گئے تھے۔ حضرت مجددؒ اپنے والد ماجد کی حیات میں زیادہ تر سرہند ہی میں رہے۔ جب آپؒ کے والد ماجد کا وصال ہوا تو دوسرے سال آپؒ زیارت حرمین شریفین اور (نفلی) حج بیت اللہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ دوران سفر جب دہلی پہنچے تو خواجہ باقی باللہؒ کے مشفقانہ اصرار سے متاثر ہوئے چنانچہ آپؒ تین ماہ اور چند روزوہاں مقیم رہے اور اس قلیل عرصے میں وہ کچھ پا لیا جو بہت سے طالبوں نے برسوں میں بھی نہ پایا ہوگا۔ آپؒ نے ایک جگہ ان احوال و مقامات کا ذکر فرمایا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنے مشہور انگریزی خطبات کے آخری خطبے میں فرمایا ہے کہ (حضرت مجددؒ نے جن تجربات و مشاہدات کا ذکر فرمایا ہے) جدید علم النفس اس ترقی و کمال کے باوجود اس کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا۔ اکبر ابتدائی دور میں نیک دل اور خوش عقیدہ مسلمان تھا، عبادات، ریاضات اور مراقبات سے اس کو کافی شغف تھا۔ تاہم اس نے ہندو عورتوں سے شادیاں کیں جنہوں نے آگے چل کر اس کے فکری انقلاب میں اہم کردار ادا کیا۔ ملکی امور میں ہندوؤں کا بڑا عمل دخل تھا جس سے اکبر بے راہ روی کا شکار ہوا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے عہد اکبری میں آنکھ کھولی۔ حضرت مجددؒ نے دربار اکبری کے اہم رکن خان اعظم کے نام ایک مکتوب میں عہداکبری میں اسلام کی زبوں حالی کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ پھر اکبر کا انتقال ہو جاتا ہے، جہاں گیر تخت نشین ہوتا ہے، لیکن حالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی، آپؒ جہاں گیری دربارکے ایک رکن لالہ بیگ کو ماضی کی تلخیوں سے آگاہ فرماتے ہیں اور مستقبل کے لیے ہوشیار و خبردار فرماتے ہیں: قریب قریب ایک قرن سے اسلام کی بے بسی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ کافر بلاد اسلامیہ میں کافرانہ احکام کے اجرا ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بوئے مسلمانی ہی نہ رہے…اگر آغاز سلطنت میں اسلام نے رواج پا لیا اور مسلمانوں کا وقار قائم ہو گیا تو فبہا ورنہ اگر اس میں توقف کیا گیا تو… مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو جائے گا۔حضرت مجدد الف ثانیؒ نے تبلیغ و اصلاح کا کام یوں تو قیام آگرہ کے زمانے سے ہی شروع کر دیا تھا لیکن خواجہ محمد باقی باللہؒ سے بیعت کے بعد باقاعدہ یہ کام شروع کیا۔ عہد اکبری کے آخری سالوں میں لاہور اور سرہند میں رہ کر خاموشی اور دور اندیشی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہے۔ جب دور جہانگیری شروع ہوا تو حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے برملا کوشش کا آغاز فرمایا۔ آپؒ نے تبلیغ و اصلاح کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے۔ آپؒ نے سنت نبویؐ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے مریدوں کے ذریعے، خلفا کے ذریعے اور مکتوبات کے ذریعے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ حضرت مجددؒ نے نعرہ بازی یا تقریروں کے سہارے انقلاب برپا نہیں کیا بلکہ ٹھوس اور فکری عملی اقدامات فرمائے۔ آپؒ نے عہد اکبری میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا جائزہ لیا اور ان کے اسباب و علل دریافت کیے اور پھر ان کے تدارک کی پوری پوری کوشش کی۔ آپؒ نے اپنے بے شمار مکتوبات میں ظاہر شریعت اور باطن شریعت کی پیروی پر بڑا زور دیا ہے اور شریعت کی پیروی ہی کو تمام بدعات کا علاج اور انسانی سعادت کی معراج بتایا ہے۔ نظریہ وحدت الشہود کا بانی آپؒ کو تصور کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں آپؒ سے پہلے شیخ علاؤ الدولہ سمنانی کے ہاں وجود و شہود کی بحث ملتی ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ حضرت مجددؒ نے اس تصور کو باضابطگی اور باقاعدگی کے ساتھ پیش فرمایا جس سے اس نے ایک نظریہ کی صورت اختیار کر لی۔ آپؒ نے 28 صفر 1034ھ مطابق 10 دسمبر 1624ء کو وصال فرمایا اورسر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپؒ کا مزار پُرانوار سرہند شریف میں مرکزِ انوار و تجلیات ہے۔ ٭…٭…٭