آرزو لکھنوی

آرزو لکھنوی

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں اردو شاعری کا اپنا ایک مزاج تھا۔ اسے کلاسیکل شاعری کہا جاتا ہے۔ اس میں موضوعات کے حوالے سے داخلیت کو زیادہ ترجیح دی جاتی تھی۔ رومانوی اشعار سے غزلیات کو مزین کیا جاتا تھا اور انہی اشعار کو ندرتِ خیال کی کسوٹی پر پرکھا جاتا تھا۔ معروضی صورتِ حال کی جھلکیاں کم ہی ملتی تھیں۔ اخلاقیات پر بھی بہت زور دیا جاتا تھا۔ البتہ شاعری کا ایک بنیادی وصف جسے شعری طرزِ احساس کہا جاتا تھا، بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ رعایتِ لفظی اور نکتہ آفرینی بھی ملتی تھی اور مرزا اسداللہ خان غالب کے ہاں تو یہ اوصاف اوجِ کمال کو پہنچ جاتے ہیں۔ اس زمانے میں اردو ادب کے دو دبستان بڑے مشہور تھے، ایک لکھنوی دبستان اور دوسرا دہلی دبستان۔ آرزو لکھنوی کا پورا نام انور حسین آرزو لکھنوی تھا۔ وہ 1873ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ وہ دبستانِ لکھنؤ کے ایک اہم نمائندے تھے۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی سادگی اور سلاست ہے۔ ان کے بھائی میر یوسف حسین اور والد میر ذاکر حسین بھی شاعر تھے۔ لیکن آرزو لکھنوی کا شعری اسلوب ان دونوں سے جدا تھا۔ اپنے والد کی طرح وہ بھی جلال لکھنوی کے شاگرد تھے۔ اپنی شاعری کے حوالے سے انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ میر اور غالب کے اثرات سے بچ نہیں سکے لیکن اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ وہ ان سے مختلف کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے ہم عصروں، جن میں داغ دہلوی بھی شامل تھے، سے بھی کچھ الگ نظر آنا چاہتے تھے۔ اپنے شعری مجموعے ’’سنہری بانسری‘‘ کے افتتاحی صفحات پر وہ لکھتے ہیں ’’جس نے بنائی بانسری، گیت اسی کے گائے جا، سانس جب تک آئے جائے، ایک ہی دھن بجائے جا‘‘۔ محبت اور حسن و جمال کے معاملات پر بھی وہ ایک نئے زاویے کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہ شعر ملاحظہ کیجیے۔دفعتاً ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہےالجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کراور یہ شعر بھی توجہ طلب ہے۔ کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے ہے جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا، ٹوٹ کے برسا پانی انہوں 25 ہزار غزلیں لکھیں اور سات دیوان مرتب کیے، جن میں سب سے زیادہ مشہور ’’فروغِ آرزو، جانِ آرزو اور نشانِ آرزو‘‘ ہیں۔ انہیں علامہ کا خطاب بھی دیا گیا۔ آرزو لکھنوی نے فلمی گیت نگاری میں بھی کمال حاصل کیا۔ مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور شکیل بدایونی جیسے نامور نغمہ نگاروں کی ہندوستانی فلمی صنعت میں آمد سے پہلے آرزو لکھنوی نے شاندار گیت تخلیق کیے جو اس زمانے کے سپر سٹارز کے ایل سہگل، کرن دیوان اور مدھو بالا پر عکس بند ہوئے۔ ان گیتوں میں ’’کروں کیا آس، نراش بھائی (دشمن)، لچھمی مورت درس دکھائے (سٹریٹ سنگر)، اور آئی بھور سہانی‘‘ شامل ہیں۔ آرزو لکھنوی نے ابتدائی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی تھی۔ بعد میں انہوں نے لکھنؤ کے مشہور علما سے عربی اور فارسی سیکھی۔ 12 برس کی عمر میں انہوں نے مرثیہ لکھا اور یہیں سے ان کی شاعری کا آغاز ہوا۔ وہ 1942ء میں ممبئی چلے گئے تھے۔ بعد میں کراچی میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے کچھ ڈرامے بھی لکھے اور شاعری کی دوسری اصناف میں بھی طبع آزمائی کی لیکن انہیں زیادہ شہرت غزلوں کی وجہ سے ملی۔ہم ذیل میں آرزو لکھنوی کی غزلیات کے چند اشعار اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں۔ آنے میں جھجک، ملنے میں حیا، تم اور کہیں ہم اور کہیںاب عہدِ وفا ٹوٹا کہ رہا، تم اور کہیں ہم اور کہیںاے جذبہ محبت تو ہی بتا کیونکر نہ اثر لے دل ہی تو ہےسیدھی بھی چھری، ٹیڑھی بھی چھری، دلدوز نظر قاتل ہی تو ہےرسمیں اس اندھیر نگری کی نئی نہیں یہ پرانی ہیںمہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دوہر سانس ہے اک نغمہ، ہر نغمہ ہے مستانہکس درجہ دُکھے دل کا رنگین ہے فسانہآن رکھ لی تری شمشیر ادا کی یوں بھیجن کو مرنا نہیں آتا تھا وہ بسمل تو ہوئےآرزو لکھنوی 1951ء میں عالم جاوداں کو سدھار گئے۔ انہوں نے بے پناہ کام کیا جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 جین زی اور تعلیمی بحران :تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت کے چیلنجز

جین زی اور تعلیمی بحران :تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت کے چیلنجز

حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کیلئے ایک نیا چیلنج پیدا ہوا ہے۔ جین زی( 1997ء اور 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والے) کے طلباکی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی نے نہ صرف تعلیمی معیار کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں بلکہ اس سے مستقبل کے کریئر اور سماجی ترقی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ 'Fortune‘میگزین کے ایک تازہ آرٹیکل کے مطابق ماہرینِ تعلیم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جین زی کے طلبااکثر نصابی مواد کو خود سے سمجھنے یا تجزیہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔اساتذہ کی رائے میں، کئی طلباایسے ہیں جن کی پڑھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہے۔ یہ کمی صرف تنقیدی سوچ یا تجزیاتی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ الفاظ کو صحیح طور پر سمجھنے اور جملوں کی گہرائی میں جانے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔ بہت سے طلبا نصابی کتب کو خود سے پڑھ کر سمجھنے کے بجائے خلاصے یا امدادی نوٹس پر انحصار کرتے ہیں جو صرف ظاہری معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن اصل معنی اور گہرائی تک پہنچنے میں مددگار نہیں۔یہ رجحان تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اساتذہ مجبور ہو کر کلاس روم میں مواد کو بار بار دہراتے ہیں، اہم جملوں اور پیراگراف کی وضاحت کرتے ہیں اور بعض اوقات نصاب کو آسان زبان میں پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات تعلیمی معیار کو کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ طلباکی بنیادی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے ہیں تاکہ وہ بعد میں زیادہ پیچیدہ نصاب اور تحقیقی مواد کو سمجھ سکیں۔تعلیمی رویوں میں تبدیلیاساتذہ کی ایک بڑی تعداد کے مطابق وہ اپنی تدریسی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں مثال کے طور پر کچھ اساتذہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے پڑھاتے ہیں، کلاس میں سوالات کے ذریعے طلبا کی سمجھ بوجھ کو پرکھتے ہیں اور مواد کی وضاحت کے لیے جدید تدریسی ٹولز جیسے ویڈیو اور انٹرایکٹو گیمز کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلباکو اعتماد دینے کے لیے بعض اساتذہ گریڈز کے دباؤ کو کم کر کے انہیں زیادہ پرسکون ماحول فراہم کر رہے ہیں۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ طلباکی تفہیم، تجزیہ اور علمی سوچ کو فروغ دینا بھی ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اگر پڑھنے کی صلاحیت میں کمی برقرار رہی تو یہ بعد میں نہ صرف تعلیمی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔جین زی کی عادات اور سماجی تبدیلیاںماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جین زی کی پڑھنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ صرف تعلیمی اداروں کی ناکامی نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیاں بھی ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق تقریباً نصف امریکی افراد نے 2025ء میں ایک بھی کتاب نہیں پڑھی اور نوجوانوں کی پڑھنے کی عادات سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ اس کا تعلق موبائل فون، سوشل میڈیااور فوری معلومات کے رجحان سے ہے جو طویل اور پیچیدہ مواد کو سمجھنے کی عادت کو کمزور کر رہا ہے۔اس کے علاوہ جین زی کے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی اور اضطراب کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق یہ عوامل پڑھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ طلباجب پڑھنے کی عادت سے محروم ہوں تو وہ اکثر شارٹ نوٹس، خلاصے یا AI کی مدد پر انحصار کرتے ہیں جس سے اصل علمی مواد سے دوری بڑھتی ہے۔تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل پر اثراتاساتذہ اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو جین زی کی تعلیم اور مستقبل میں کیریئر کی تیاری پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ پڑھنے کی صلاحیت نہ صرف تعلیمی کامیابی بلکہ سماجی فہم اور تنقیدی سوچ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ طلباجو کتابوں اور تحقیقی مواد کو گہرائی سے نہیں پڑھ پاتے وہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ مواقع سے بھی پیچھے رہ سکتے ہیں۔جین زی کی تعلیمی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تجاویزپڑھنے کی عادت کو فروغ دینا: والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ ابتدائی عمر سے طلباکو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ کہانیاں، ناول اور معلوماتی کتابیں بچوں کو سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہیں۔ نصابی مواد کو مرحلہ وار سمجھانا: اساتذہ کو چاہیے کہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں، اہم نکات پر توجہ دیں اور کلاس میں سوالات کے ذریعے طلباکی سمجھ بوجھ کو جانچیں۔ تکنیکی وسائل کا مناسب استعمال: ویڈیوز، پوڈکاسٹس اور انٹرایکٹو ایپلی کیشنز کا استعمال طلباکو پیچیدہ مواد کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ یہ صرف معاون ٹول کے طور پر استعمال ہوں نہ کہ متبادل کے طور پر۔ تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت : اساتذہ کو طلباکو سوالات کرنے اور خود سے جواب تلاش کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی کے لیے بھی تیاری ہوگی۔ اعتماد اور ذہنی سکون کی اہمیت: طلباکو اضطراب کم کرنے اور خود اعتمادی بڑھانے کے لیے کلاس روم میں پرسکون ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ جب طلبا غیر ضروری دباؤ سے آزاد ہوں تو وہ بہتر طریقے سے پڑھ سکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں۔جین زی کے طلباکی پڑھنے کی صلاحیت میں کمی کا مسئلہ تعلیمی معیار، سماجی شعور اور مستقبل کی پیشہ ورانہ تیاری پر اثر ڈال رہا ہے۔اگرچہ اساتذہ نے اپنی تدریسی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ طلباکو بہتر تربیت دی جا سکے لیکن یہ مسئلہ صرف تعلیمی اداروں کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا۔ والدین، معاشرہ اور خود طلباکو بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔اگر ابتدائی عمر سے کتاب پڑھنے کی عادت ڈالیں، نصاب کو مرحلہ وار سمجھیں، تکنیکی وسائل کو مؤثر استعمال کریں اور تنقیدی سوچ اور اعتماد کو فروغ دیں تو جین زی نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری لاسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں سماجی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

لوہڑی :پنجابی ثقافت، لوک گیتوں اور رسومات کا تہوار

لوہڑی :پنجابی ثقافت، لوک گیتوں اور رسومات کا تہوار

جنوری کی ٹھنڈی رات، کھلے آسمان تلے دہکتا الاؤ، ڈھول کی تھاپ اور لوک گیتوں کی گونج ‘یہ منظر پنجاب کے قدیم تہوار لوہڑی کا ہے جو ہر سال 13 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ لوہڑی محض ایک موسمی یا تفریحی تقریب نہیں بلکہ پنجابی تہذیب، زرعی سماج، اجتماعی خوشی اور شکرگزاری کی ایک زندہ علامت ہے۔ پنجاب ایک زرعی خطہ رہا ہے اور یہاں کے بیشتر تہوار فصلوں اور موسموں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لوہڑی کا تعلق خاص طور پر گندم کی فصل سے ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب گندم کھیتوں میں جوان ہو رہی ہوتی ہے اور کسان آنے والی فصل کی امید میں قدرت کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے لوہڑی کو کسانوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں سورج کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور لوہڑی دراصل سورج کی حرارت، روشنی اور نئے زرعی چکر کے آغاز کا جشن ہے۔لوہڑی کی سب سے نمایاں اور مرکزی رسم الاؤ جلانا ہے۔ شام کے وقت گاؤں، محلوں اور کھلے میدانوں میں لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی جاتی ہے۔ مونگ پھلی، مکئی کے دانے اور گڑ ڈال کا مرونڈا بنایا جاتا ہے جو فصل کی برکت اور خوشحالی کی علامت کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ الاؤ سردی کے خاتمے اور نئی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔لوہڑی کا ذکر لوک گیتوں کے بغیر ادھورا ہے۔ اس موقع پر گایا جانے والا سب سے مشہور گیت پنجابی لوک ہیرو دلا بھٹی سے منسوب ہے جسے بچے اور بڑے سب مل کر گاتے ہیں:سندریے مندریے ؍تیرا کون وچارہ ؍دلا بھٹی والا ہو؍دلے دی دھی ویاہی؍ سیر شکّر پائی ۔یہ گیت دلا بھٹی کی بہادری، سخاوت اور مظلوموں کی مدد کی یاد دلاتا ہے۔ روایت کے مطابق بچے ٹولیوں کی صورت میں گھروں کے دروازوں پر جا کر یہ گیت گاتے ہیں اور بدلے میں مونگ پھلی، گجک، ریوڑیاں یا کچھ رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ بچوں میں اجتماعی سرگرمی اور ثقافتی شعور کو بھی فروغ دیتی ہے۔ لوہڑی کے موقع پر ڈھول اور بھنگڑا خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ نوجوان الاؤ کے گرد بھنگڑا ڈال کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ خواتین مخصوص پنجابی بولیاں گاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بزرگ لوک کہانیاں سناتے ہیں، جن میں دلا بھٹی، ہیر رانجھا اور دیگر لوک کرداروں کا ذکر ملتا ہے۔ اس طرح لوہڑی نسل در نسل ثقافت کی منتقلی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔لوہڑی کی ایک اہم روایت نئی شادی یا بچے کی پیدائش پر خصوصی لوہڑی منانا ہے۔ جن گھروں میں نئی دلہن آئی ہو یا پہلا بچہ پیدا ہوا ہو وہاں لوہڑی بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے۔ دلہن کو مٹھائیاں، کپڑے اور تحائف دیے جاتے ہیں جبکہ نومولود کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس رسم کا مقصد خوشی کو خاندان اور برادری کے ساتھ بانٹنا ہوتا ہے۔کھانے پینے کے بغیر لوہڑی کا تصور ممکن نہیں۔ اس دن مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے جبکہ گجک، ریوڑیاں، مونگ پھلی، تل اور گڑ ہر دسترخوان کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ غذائیں سرد موسم کے مطابق توانائی بخش سمجھی جاتی ہیں اور پنجابی ذائقوں کی پہچان ہیں۔دیہی پنجاب میں لوہڑی آج بھی اپنی اصل روح کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ شہری علاقوں میں اگرچہ لوہڑی کی شکل کچھ حد تک بدل گئی ہے تاہم ثقافتی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور پنجابی برادری اس تہوار کو ثقافتی دن کے طور پر مناتی ہے۔ لوہڑی کے پروگرام، بھنگڑا، لوک گیت اور پنجابی لباس اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ روایت اب بھی زندہ ہے۔پاکستان میں لوہڑی کو سرکاری سطح پر وہ مقام حاصل نہیں جو بھارتی پنجاب میں ہے مگر اس کے باوجود یہ تہوار پنجابی شناخت کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی جڑوں، زمین اور اجتماعی اقدار کی یاد دلاتا ہے۔لوہڑی کا اصل پیغام اتحاد، شکرگزاری اور خوشی بانٹنے کا ہے۔ ایک ہی الاؤ کے گرد امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب کا اکٹھا ہونا معاشرتی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔ آج کے تیز رفتار اور مادہ پرستی کے دور میں لوہڑی جیسے تہوار انسان کو سادگی، روایت اور رشتوں کی اہمیت یاد دلاتے ہیں۔ لوہڑی صرف ایک رات کا جشن نہیں بلکہ پنجاب کی روح، کسان کی محنت اور لوک ثقافت کا آئینہ ہے۔ جب تک الاؤ جلتے رہیں گے اور لوک گیت گونجتے رہیں گے، تب تک لوہڑی زندہ رہے گی اور اس کے ساتھ پنجابی تہذیب کی گرمائش بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

لیتھوانیا کا وِلنِیئس قتلِ عام 13 جنوری 1991ء کو لیتھوانیا میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جسے Vilnius Massacre کہا جاتا ہے۔ اس دن سوویت یونین کی فوج نے لیتھوانیا کی دارالحکومت ولنیئس میں پرامن آزادی پسند مظاہرین پر حملہ کیا۔ سوویت افواج اور بلیٹسٹا فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں چودہ شہری ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ نہ صرف لیتھوانیا بلکہ پورے مشرقی یورپ میں سویت کے خلاف آزادی کی تحریک کے لیے تحریک کا باعث بنا، بالآخر 1991 میں لیتھوانیا نے اپنی آزادی حاصل کی۔ رہوڈز اوپیرا ہاؤس کی تباہی 13 جنوری 1908ء کو امریکہ کے شہر بویرو ٹاؤن پنسلوانیا کے اوپیرا ہاؤس میں شدید آتشزدگی سے تقریباً 171 افراد ہلاک ہو گئے۔اوپیرا ہاؤس اس وقت ایک اہم تفریحی مقام تھا جہاں تھیٹر شو، میوزیکل پرفارمنس اور دیگر عوامی اجتماعات ہوتے تھے۔یہ واقعہ امریکی تاریخ میں سرکاری اور عوامی عمارات میں حفاظتی انتظامات کی ناقص صورتحال کی واضح مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے فائر سیفٹی قواعد و ضوابط سخت کیے گئے ، عوامی مقامات میں ایگزٹ راستوں، فائر الارم اور حفاظتی تربیت کو لازمی قرار دیا گیا۔ چیلیانوالہ کی لڑائی 13 جنوری 1849ء کو چیلیانوالہ (ضلع منڈی بہائوالدین) میں سکھوں اور برطانوی فوج کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی جس میں شیر سنگھ کی کمان میں سکھ فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ۔ انگریز فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس شکست کی اطلاع ملتے ہی برطانیہ میں صف ماتم بچھ گئی اورکمانڈر انچیف لارڈ ہیوگ گف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے کمانڈر انچیف کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا اورچارلس نیپئر کو جو اس سے پہلے سندھ اور بلوچستان فتح کر چکا تھا لارڈ گف کی جگہ کمانڈر انچیف مقرر کرکے بھیجا۔ ڈیٹا سِگما تھیٹا سوسائٹی کا قیام13 جنوری 1912 کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں موجودہاورڈ یونیورسٹی میں افریقی نژاد امریکی خواتین کی سب سے بڑی سوشل اور فلاحی تنظیم Delta Sigma Thetaکا قیام عمل میں آیا۔یہ سوسائٹی ایک ایسا پلیٹ فارم تھی جو تعلیم، سماجی خدمت، برابری اور انسانی حقوق کے لیے وقف تھی۔ جس وقت یہ تنظیم بنی اس وقت امریکہ میں نسلی امتیازاور سماجی ناانصافی عروج پر تھی۔ ڈیٹا سِگما تھیٹا نے خواتین کو نہ صرف تعلیم کے لیے آگے بڑھایا بلکہ حق رائے دہی، صحت، اقتصادی مواقع اور برادری کی ترقی جیسے اہم موضوعات پر بھی کام کیا۔نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا قیام13 جنوری 1888 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل جیوگرافک کا قیام عمل میں آیا۔یہ سوسائٹی دنیا کی سب سے قدیم اور معتبر جیوگرافیکل تنظیموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد زمین، انسان، قدرتی ماحول، دنیا کے مختلف خطوں اور ثقافتوں کی سائنسی تحقیق کو فروغ دینا تھا۔ اس کی بنیاد محققین، سائنسدانوں اور مفکرین نے رکھی تاکہ دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور لوگوں تک مفید معلومات پہنچانے میں کردار ادا کیا جا سکے۔نیشنل جیوگرافک میگزین، ڈاکومنٹری فلمیں، تحقیقاتی منصوبے اور جغرافیائی ایجوکیشن پروگرام تحقیق اور مشاہدے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتایک خراب رات کی نیند کا مطلب صرف اگلے دن تھکن اور آنکھوں کی سْستی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل میں آنے والی بعض بیماریوں کے بارے میں بھی اشارے دے سکتی ہے۔ جدید سائنس نے نیند کے رازوں کو سمجھنے میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایک ایسا پروگرام تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کے ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے، وہ بھی تشخیص سے سالوں قبل۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، یہ ماڈل نیند کے دوران دماغی لہروں، دل کی دھڑکن، سانس اور دیگر حیاتیاتی عوامل کا تجزیہ کر کے مستقبل کی ممکنہ بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (AI) پروگرام تیار کیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے ۔اس ماڈل کو ''سلیپ ایف ایم‘‘ (SleepFM) کا نام دیا گیا ہے اور اسے 65ہزار شرکاء کے 5لاکھ 85ہزارگھنٹوں کے نیند کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی ہے۔یہ ڈیٹا پولیسومنوگرافی (polysomnography) نامی نیند کے جائزے سے حاصل کیا گیا، جو دماغی لہروں، آنکھوں کی حرکت، پٹھوں کی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے اور آکسیجن کی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے پولیسومنوگرافی کے ڈیٹا کا موازنہ الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز سے کیا، جن میں سے کچھ 25 سال پر محیط تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ 130 مختلف بیماریوں کا اندازہ مریض کے نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر معقول درستگی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ماڈل کی پیش گوئیاں خاص طور پر کینسر، حمل کے دوران پیچیدگیاں، گردش خون کی بیماریاں اور ذہنی عوارض کیلئے درست ثابت ہوئیں۔مصنف جیمز زو(James Zou) کے مطابق ''سلیپ ایف ایم‘‘ بنیادی طور پر نیند کی زبان سیکھ رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ مختلف بیماریوں کیلئے یہ ماڈل معلوماتی اور کارآمد پیش گوئیاں کر سکتا ہے۔یہ پروگرام ہر بیماری کے زمرے کیلئے ایک عددی قدر دیتا ہے جو ''سی انڈکس‘‘ (C-index ) کہلاتا ہے۔ڈاکٹر زو کے مطابق تمام ممکنہ افراد کے جوڑوں کیلئے، ماڈل یہ درجہ بندی کرتا ہے کہ کون کس مرض کا پہلے شکار ہو گا۔''سلیپ ایف ایم‘‘ کو پارکنسن کی بیماری کی پیش گوئی میں 89 فیصد درست، ڈیمینشیا میں 85 فیصد درست اور دل کے دورے میں 81 فیصد درست پایا گیاہے۔ یہ ماڈل چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کی پیش گوئی میں بالترتیب 87 اور 89 فیصد درست نکلا، اور موت کے خطرے کی پیش گوئی میں بھی 84 فیصد درستگی حاصل کی گئی۔اگرچہ موجودہ نیند کے مطالعات میں خصوصی طبی آلات کی ضرورت ہوتی ہے، ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں پولیسومنوگرافی ایک طاقتور ابتدائی تشخیص کا آلہ بن سکتی ہے۔ ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگرچہ دل کی علامات گردش خون کی بیماریوں کیلئے سب سے زیادہ معلوماتی تھیں، دماغی سرگرمی کے سگنلز ذہنی اور عصبی حالات کیلئے بہتر تھے اور سانس کے سگنلز تنفسی عوارض کی پیش گوئی میں زیادہ معاون ثابت ہوئے۔ تاہم، بہترین مجموعی نتائج وہی آئے جو تمام اقسام کے سگنلز کو ملا کر استعمال کیے گئے۔ڈاکٹر زو نے کہاکہ اس تحقیق میں ہماری تکنیکی پیش رفت یہ ہے کہ ہم نے مختلف ڈیٹا ماڈالٹیز ( data modalities )کو ہم آہنگ کرنا سیکھا تاکہ یہ سب ایک زبان سیکھ کر ایک ساتھ کام کر سکیں۔ہم مصنوعی ذہانت (AI) کی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، ممکن ہے کہ اس میں ویئر ایبل آلات جیسے ایپل واچ کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے۔جریدے Nature Medicine میں لکھتے ہوئے محققین نے کہا کہ نیند ایک بنیادی حیاتیاتی عمل ہے جس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر وسیع اثرات ہیں، تاہم بیماریوں کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ایک رات کی نیند کے ڈیٹا سے ''سلیپ ایف ایم‘‘130 مختلف حالتوں کی درست پیش گوئی کرتا ہے، جس کا ''سی انڈکس‘‘ کم از کم 0.75 ہے۔یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فاؤنڈیشن ماڈلز ملٹی ماڈل نیند کے ریکارڈنگز سے نیند کی زبان سیکھ سکتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر، کم لیبل والے تجزیے اور بیماری کی پیش گوئی کو ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت ممکن بناتی ہے بلکہ علاج اور احتیاطی تدابیر کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ 

سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار

سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار

قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والا اسکندریہ کا روشن مینار انسانی ذہانت، فنی مہارت اور سائنسی شعور کی شاندار علامت تھا۔ بحیرہ روم کے ساحل پر قائم یہ عظیم الشان مینار صرف جہاز رانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ قدیم مصری اور یونانی تہذیب کے علمی و تعمیری کمالات کا بھی عکاس تھا۔ اس کی بلند و بالا ساخت، دور تک نظر آنے والی روشنی اور مضبوط تعمیر نے صدیوں تک اسکندریہ کی بندرگاہ کو دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل رکھا اور آج بھی یہ مینار تاریخ کے اوراق میں انسانی تخلیقی صلاحیت کا درخشاں استعارہ بن کر جگمگاتا ہے۔جب سکندراعظم نے 331 قبل مسیح میں مصر فتح کیا تو اس نے بحیرہ روم کے ساحل پر نئے شہر کی بنیاد رکھی جسے اس نے اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے سکندریہ کا نام دیا۔ سکندر کی موت کے بعد اس کے جرنیل بطلیموس اوّل نے مصر کا تخت سنبھالا۔ اس نے سکندریہ کو علم، تجارت اور طاقت کا مرکز بنانے کا عزم کیا۔ چونکہ سکندریہ کی بندرگاہ بہت مصروف تھی اور وہاں کا ساحلی علاقہ کافی خطرناک تھا، اس لیے بحری جہازوں کو چٹانوں سے بچانے کیلئے بلند و بالا مینار کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس مینار کی تعمیر کا آغاز بطلیموس اوّل کے دور میں ہوا اور یہ اس کے بیٹے بطلیموس دوم کے دور 280 قبل مسیح میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر کا ذمہ یونانی انجینئر سوسٹراٹس کے سپرد تھا۔ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں تقریباً 800 ٹیلنٹ (قدیم یونانی چاندی کی کرنسی) خرچ ہوئے، جو اس دور کے حساب سے ایک خطیر رقم تھی۔قدیم مؤرخین کے مطابق، سکندریہ کا روشن مینار اہرام مصر کے بعد دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک تھا۔ اس کی اونچائی 330 سے 450 فٹ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں سفید سنگ مرمر اور بڑے پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس مینار کی بناوٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ نچلا حصہ چوکور تھا اور اس میں ملازمین کے رہنے کے کمرے اور سامان رکھنے کے گودام تھے۔ درمیانی حصہ ہشت پہلو تھا جو خوبصورتی کے ساتھ اوپر کی طرف جاتا تھا۔ اوپری حصہ گول تھا جہاں روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔مینار کے بالکل اوپر یونانی دیوتاؤں زیوس اور پوسائڈن کا مجسمہ نصب تھا۔اس مینار کی سب سے خاص بات اس کا روشنی کا نظام تھا۔ دن کے وقت سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کیلئے بڑے بڑے کانسی کے آئینے استعمال کیے جاتے تھے، جن کی چمک میلوں دور سے نظر آتی تھی۔ رات کے وقت مینار کی چوٹی پر بہت بڑی آگ جلائی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی روشنی 30 سے 50 میل کی دوری سے دیکھی جا سکتی تھی، جس کی بدولت جہاز ران بحفاظت بندرگاہ تک پہنچ پاتے تھے۔سکندریہ کا روشن مینار 1600 سال تک قائم رہا۔ اس دوران اس نے کئی جنگیں اور طوفان دیکھے۔ اسے سب سے زیادہ نقصان زلزلوں نے پہنچایا۔ 956ء میں آنے والے ایک زلزلے نے اس کی اوپری ساخت کو نقصان پہنچایا۔ 1303ء اور 1323ء کے شدید زلزلوں نے اسے کھنڈر میں بدل دیا۔ مشہور سیاح ابنِ بطوطہ نے 14ویں صدی میں جب یہاں کا دورہ کیا تو اس نے لکھا کہ مینار اتنی بری حالت میں ہے کہ اب اس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں۔بالآخر 1480ء میں مصر کے سلطان قایتبائی نے اس کے بچے کھچے ملبے اور پتھروں کو استعمال کرتے ہوئے وہیں قلعہ تعمیر کروایا، جسے آج قلعہ قایتبائی کہا جاتا ہے۔سکندریہ کا مینار یونانیوں کے سائنسی اور ریاضیاتی کمال کا ثبوت تھا۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا زاویوں کا علم اور آئینے کا استعمال اس وقت کی بلند پایہ انجینئرنگ کو ظاہر کرتا ہے۔1994ء میں غوطہ خوروں اور ماہر آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے سکندریہ کی بندرگاہ کے قریب سمندر کی تہہ سے اس مینار کے وزنی پتھر اور مجسمے دریافت کیے۔ ان دریافتوں نے مؤرخین کو اس عظیم عمارت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی۔سکندریہ کا روشن مینار انسانی عقل اور ضرورت کے تحت تخلیق پانے والا ایسا شاہکار تھا جس نے انسانی جانیں بچائیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے فن تعمیر کے نئے راستے کھولے۔ اگرچہ آج یہ مینار موجود نہیں لیکن قدیم دنیا کے عجائبات میں اس کا مقام ہمیشہ بلند رہے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب علم اور ہنر کو یکجا کرتا ہے تو وہ ایسی چیزیں تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں تک دنیا کو متحیر کرتی رہتی ہیں۔ 

خلا کی حیرت انگیز تصویر!

خلا کی حیرت انگیز تصویر!

ستارے بنانے والی ''فیکٹری‘‘ کا انکشافکائنات کی وسعت اور اس کے اندر جاری تخلیقی عمل انسان کو ہمیشہ حیرت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک شاندار فلکیاتی تصویر نے اس حیرت کو مزید بڑھا دیا ہے، جس میں لارج میجیلانک کلاؤڈ (Magellanic Cloud) کے اندر موجود ایک عظیم الشان ستارہ ساز خطہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین فلکیات کے مطابق یہ علاقہ دراصل ایک ایسی ''فیکٹری‘‘ کی مانند ہے جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں اور کائناتی ارتقا کا عمل پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ یہ تصویر نہ صرف جدید سائنسی آلات کی ترقی کا ثبوت ہے بلکہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ ہماری کائنات مسلسل تخلیق اور تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شائقین اور سائنس دانوں دونوں میں گہری دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی ایک نئی تصویر نے اس ہفتے کائنات کی گہرائیوں میں موجود ایک خوبصورت ''ستارے بنانے والی فیکٹری‘‘ کو آشکار کیا ہے۔ یہ تصویر لارج میجیلانک کلاؤڈ میں موجود خلا کے ایک ایسے حصے پر مرکوز ہے جو زمین سے تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ستارہ ساز فیکٹری سے نکلنے والی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال لگے، یعنی ہم دراصل اسے ویسا ہی دیکھ رہے ہیں جیسا یہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال قبل دکھائی دیتا تھا۔زمین پر اس وقت نیئنڈرتھل (Neanderthals) انسان تقریباً چالیس ہزار سال قبل ناپید ہوئے تھے، یعنی اس فیکٹری سے روشنی خارج ہونے کے بعد وہ مزید ایک لاکھ بیس ہزار سال تک ہماری زمین پر موجود رہے۔ یہ پیمانہ اس قدر وسیع اور ناقابلِ تصور ہے کہ خود یہ ستارہ ساز علاقہ بھی تقریباً ایک سو پچاس نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔سرد ہائیڈروجن کی گھنی گیسیں جو ستاروں کا ایندھن سمجھی جاتی ہیں، اس عظیم خطے میں بل کھاتی ہوئی پھیلی نظر آتی ہیں، اور جہاں نئے ستارے جنم لے رہے ہیں وہاں یہ گیسیں گہرے سرخ رنگ میں چمک رہی ہیں۔ کچھ بے قابو ستاروں نے طاقتور ستاروی ہواؤں کے ذریعے اپنے گرد و نواح کو جھنجھوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے اندر عظیم الجثہ بلبلے بن گئے ہیں۔ لارج میجیلانک کلاؤڈ ایک قریبی بونا، بے قاعدہ کہکشاں ہے جو ہماری کہکشاں ملکی وے کی ساتھی کہکشاں ہے اور آہستہ آہستہ اس کے گرد گردش کر رہی ہے۔ خود ملکی وے کی وسعت تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے۔ یہ کہکشاں زمین کے جنوبی نصف کرے میں ڈوراڈو اور مینسا کے ستاروں کے جھرمٹوں میں نظر آتی ہے اور تاریک آسمان میں ننگی آنکھ سے بھی ایک بڑے دھندلے بادل کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ گزشتہ تین دہائیوں سے زمین کے نچلے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس عرصے کے دوران کائنات کے دور دراز حصوں کو انسان کے سامنے آشکار کرتا رہا ہے۔ یہ منصوبہ ناسا اور یورپی خلائی ادارے (ESA) کا مشترکہ سائنسی منصوبہ ہے۔مزید یہ کہ اس طرح کی فلکیاتی تصاویر سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ستاروں کی پیدائش کن مراحل سے گزرتی ہے اور کن حالات میں یہ عمل تیز یا سست ہو جاتا ہے۔ گیس اور گردوغبار کے یہی بادل بالآخر نئے شمسی نظاموں کی بنیاد بنتے ہیں، جن میں سیارے، چاند اور دیگر فلکی اجسام وجود میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان خطوں کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ یوں ہبل کی ہر نئی تصویر نہ صرف بصری حسن رکھتی ہے بلکہ انسانی علم میں ایک قیمتی اضافہ بھی ثابت ہوتی ہے۔