سید نفیس الحسینی شاہ
اسپیشل فیچر
سید نفیس الحسینی شاہ کا اصل نام انور حسین تھا لیکن حلقۂ ارادت میں سید نفیس الحسینی اور خطاطی کی دنیا میں ’’نفیس رقم‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے اور لافانی شہرت حاصل کی۔ تقسیم ہند سے قبل دو مشہور خانقاہیں تھیں ایک تھانہ بھون میں مولانا اشرف علی تھانوی کی اور دوسری رائے پور میں مولانا شاہ عبدالقادر کی۔ کسی بھی اہل علم و بصیرت پر یہ امر مخفی نہیں کہ حضرت تھانوی کی اس خانقاہ سے کتنے راہ بھٹکے ہوئے متلاشیان صدق و صفا نے جِلا پائی اور علم و عمل کے کتنے چراغ روشن ہوئے۔ حضرت نفیس شاہ کا اصلاحی تعلق حضرت رائے پوری کی خانقاہ سے تھا، انہوںنے نہ صرف یہ کہ حضرت رائے پوری کے دست مبارک پر بیعت فرمائی اور ان ہی کی شفقت اور توجہ سے سلوک و احسان کی منازل طے کرتے ہوئے خلافت کی مسند پر فائز ہوئے بلکہ اس خانقاہ کے فیوض و برکات کو آگے منتقل کرنے کا سلسلہ بھی عمر بھر جاری رکھا۔ چنانچہ اس وقت پاکستان کے طول و عرض میں آپ کے خلفا اور مریدین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔آپ میں اللہ تعالیٰ نے بڑی خوبیاں رکھی تھیں جہاں کہیں بھی ملاقات ہوئی تو بڑی شفقت فرماتے، ان کی باتوں میں اخلاص اور اعمال میں استقامت تھی۔ قول و فعل میں مطابقت ان کی ایک اور خوبی تھی۔ زہد و تقویٰ بھی مثالی تھا۔ فن خطّاطی بھی ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ انہوں نے اپنے اس فن کو بھی دین کی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ ان کی خطاطی کے نمونوں نے اس فن کی دنیا کو یقینا حیرانی میں مبتلا کردیا۔ قرآنی آیات اور احادیث نبویﷺ کی کتابت کے نمونے آج بھی ایک دنیا کی رہنمائی کررہے ہیں۔ خطّاطی کا یہ فن کچھ تو ان کی اپنی محنت و ریاضت کا نتیجہ تھا اور کچھ وراثت میںبھی ملا تھا۔ ان کے والد گرامی ایک بڑے خطّاط تھے جن کے کتابت شدہ قرآن پاک آج بھی دنیائے خطّاطی کے لئے رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد حسن عمدہ خطّاطی کو علما کا زیور قراردیاکرتے تھے۔ آپ اسلامی فنِ خطاطی کے امام بھی تھے۔ خطِ نسخ میں اپنے والد گرامی سید اشرف علی سے اصلاح لی لیکن بعد میں خطِ نستعلیق میں جو مقام اور مہارت حاصل کی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ خطِ نسخ، خطِ نستعلیق کے علاوہ خطِ دیوانی، خط ثلث، خطِ رقع، خطِ کوفی اور خطِ اعجازہ میں بھی فن پارے تخلیق کئے۔ بے شمار دینی و اسلامی کتابوں اور علمی و ادبی اداروں کے سرورق آپ نے تیار کئے۔ مینارِ پاکستان، سمٹ مینار (شاہراہِ قائداعظم مال روڈ لاہور)، ایوان اقبال سمیت بہت سی جگہ پر آپ کی خطاطی کے خوبصور ت و نادر نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔آپ نے کئی ممالک کے دورے کئے، ایران اور مصر میں خطاطی کے بین الاقوامی مقابلوں میںمنصف کی حیثیت سے شرکت کی، پاکستان سمیت کئی ممالک میں اسلامی فن خطاطی پر آپ کو ایوارڈ دیئے گئے لیکن آپ کی طبیعت میں درویشی، سادگی، صبر وشکر، قناعت اور دنیا سے استغنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جہاں ہزاروں لوگ آپ کے مرید و عقیدت مند تھے وہاں برصغیر پاک و ہند میں نصف صدی تک سب سے زیادہ فن خطاطی کو آپ ہی سے لوگوں نے سیکھا۔ آپ کی ذاتی لائبریری میں سینکڑوں نادر و نایاب کتب موجود ہیں۔ آپ ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ’’برگ گل‘‘ سمیت آپ کی کئی کتابیں اور فن پارے شائع ہوچکے ہیں۔ حضرت سید نفیس شاہ کے کلام اقبال پر بہترین خطاطی کے فن پارے موجود ہیں جو آپ نے ایوان اقبال لاہور میں آویزاں کرنے کے لئے کینوس کی تقریباً پچاس شیٹوں پر نستعلیق جلی میں انتہائی خوبصورت انداز میں لکھے۔ سید نفیس الحسینی نے عالمی رابطۂ ادب اسلامی کے زیر اہتمام لاہور میں منعقد ہونے والے ’’انٹرنیشنل علامہ اقبال کانفرنس‘‘ کے شرکا کے لئے انتہائی خوبصورت انداز میںکلام اقبال پر اپنی خطاطی کے دوسو نسخے تیارکرواکے رکھے تھے لیکن آہ! زندگی نے وفانہ کی اور پانچ فروری2008ء کو علی الصبح اسلامی فن خطاطی اور طریقت کا یہ سورج غروب ہوگیا۔