کلاسیک کی خصوصیات
اسپیشل فیچر
(Renaissance)نے یورپ میں فرد کو ذہنی سطح پر جو تحرک عطا کیا تھا اس کے تموّج نے اٹھارہویں صدی عیسوی میں اعتدال کی صورت اختیار کرنا شروع کر دی اور زندگی ایک معین سانچے میں ڈھلنے لگی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کے بعد اب دورِ امن شروع ہو گیا تھا اور مفتوحہ علاقوں کے نظم و ضبط کی طرف توجہ منعطف ہونے لگی تھی۔ تاریخِ ادب میں اس تمام دور کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ اس میں پہلے کلاسیکی اور پھر رومانی تحریکیں شروع ہوئیں۔ لغوی اعتبار سے کلاسیکل سے مراد اعلیٰ ترین اور معیاری ہے۔ بقول ایچ ایل لوکس یہ لاطینی لفظ کلاسس سے مشتق ہے جس کے معنی ہجوم کے ہیں۔ یہ لفظ رومی شہنشاہ ٹلیس کے زمانے میں فوج کے بہترین اور مرصع دستے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں یہ لفظ اعلیٰ درجے کے ادبا کے لیے استعمال ہوا۔ اس زمانے میں کلاسیک سے مراد یونانی اور رومن تصانیف لی گئیں۔ بعد میں لاطینی زبان کی کتب کلاسیکی ادب میں شمار ہونے لگیں اور یوں اس اصطلاح کا دائرۂ استعمال وسیع ہو گیا۔ چنانچہ اس دور میں کلاسیک کے اصول و ضوابط وضع کیے گئے اور کلاسیکی رجحان کے ادبا کو دوسرے ادبا پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی۔ مرورِ ایام کیساتھ کلاسیک کا لفظ اتنے وسیع معانی میں استعمال ہو چکا ہے کہ اب چند لفظوں میں اس کی جامع تعریف مرتب کرنا ممکن نہیں۔ مسلمہ کلاسیکی تصنیفات سے معلوم ہوتا ہے کہ کلاسیک کی اولین خصوصیت اس کا موضوع ہے۔ ہر تخلیق میں موضوع اساسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کلاسیکی تخلیق بڑے موضوع کے بغیر معرضِ وجود میں نہیں آ سکتی۔ یونانی ادب میں ہومر کی الیڈ اور اوڈیسی اولین کلاسیکی تخلیقات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کتابوں سے پہلے کوئی ایسی تصنیف موجود نہیں تھی جو ہومر کے لیے رہنما ثابت ہوتی۔ ہومر نے شجاعت اور عظمت کی ایک ایسی داستان کو موضوع بنایا جس میں اس کا اپنا عہد خونِ گرم کی طرح دوڑتا رہا تھا۔ تاہم ہومر نے اس کہانی کو شخصی زاویے سے دیکھنے کے بجائے معروضی زاویے سے دیکھا اور یوں اپنے مخصوص تخلیقی عمل سے اسے عالمگیریت عطا کر دی۔ اس مثال میں کلاسیک کا موضوع تاریخ سے اخذ کیا گیا ہے اور ہومر نے ملی حدود میں رہنے کے باوجود انسانیت کی ان اقدار کو تلاش کیا جو رنگ، نسل، ملک اور قوم کے امتیازات سے ماورا ہوتی ہیں اور جن کی حیثیت دوامی ہوتی ہے۔ کلاسیک کی دوسری خصوصیت اس کا اسلوب ہے۔ لفظ وہ جسم ہے جسے خیال کی روح تحرک اور تازگی عطا کرتی ہے۔ ادیب کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ تخلیقی ساحری سے الفاظ کی مرمریں مورتیوں میں زندگی کا افسوں پھونک دے۔ چنانچہ بقول سید عابد علی عابد کلاسیک کا اسلوب، ایک طویل ادبی ریاضت کا ثمر ہوتا ہے اور ادیب کی تہذیبی شخصیت، اس کے جذبات کا اعتدال، لہجے کی شائستگی اور فطرت کا حسن سب مل کر اس اسلوب کا مایۂ خمیر تیار کرتے ہیں۔ اسلوب کی اس صورت میں کسی میکانکی تشکیل کا عمل دخل نہیں بلکہ یہ اس وقت تخلیق ہوتا ہے جب ادیب کو زبان کی معنوی اور ترکیبی دلالتوں پر عبور حاصل ہو جاتا ہے اور وہ ایک کامیاب سپہ سالار کی طرح تخلیقی میدان میں صحیح مقام پر موزوں لفظ کے ہتھیار استعمال کرنے کا سلیقہ رکھتا ہے۔ اسلوب کی یہ رعنائیاں میتھو آرنلڈ نے ہومر اور نپڈار کی تخلیقات سے اور عابد علی عابد نے ولی دکنی، فردوسی اور حافظ کے کلام سے اور جی ایم مائر نے شیکسپیئر اور پوپ کی منظومات میں تلاش کی ہیں۔ کلاسیک کی تیسری اہم خصوصیت ادیب کی شخصیت ہے۔ جس طرح ایک عظیم موضوع کو پُر عظمت اسلوب ہی حسن و تدبر سے پیش کر سکتا ہے، اسی طرح عظیم موضوع کا خیال بھی صرف اس ادیب کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے جو ہمہ گیر شخصیت کا مالک ہو۔ کلاسیکیت چونکہ تکمیلِ فن کی غماز ہے، اس لیے یہ اپنا تمام تخلیقی مواد کلچر کے بجائے معاشرے کی تہذیبی جہت سے حاصل کرتی ہے۔ ادیب جتنا مہذب ہو گا، اس کی تخلیق بھی اسی تناسب سے شائستہ ہو گی اور اس کا خیال اسی قوت سے عامۃ الناس کو تہذیبی رفعت عطا کرے گا۔ شیکسپیئر، فردوسی، پاسکل، غالب اور اقبال اپنے عہد کی تہذیب یافتہ شخصیتیں تھیں۔ چنانچہ انہوں نے جو ادب تخلیق کیا وہ ایک ایسی داخلی عظمت سے مملو تھا کہ ہر عہد کا انسان اس میں اپنا چہرہ دیکھنے پر قادر ہو گیا۔ کلاسیکیت کی اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں تاہم ان میں سے بیشتر مندرجہ بالا تین بنیادی خصوصیات سے ہی اخذ کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ہربرٹ گریرسن کا خیال ہے کہ کلاسیک بیک وقت قومی اور بین الاقوامی ہوتا ہے۔ ہاؤسٹن نے فطرت کی نقل کو کلاسیک کا بنیادی جزو قرار دیا ہے۔ پیرویسٹ لینڈ نے ترتیب، وضاحت اور اعتدال کو کلاسیک کے اجزائے ترکیبی میں شمار کیا ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کا خیال ہے کہ کلاسیک تاریخی اور جغرافیائی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے اور اس پر وقت اور ماحول کی قید نہیں لگائی جا سکتی۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے کہ کلاسیک ان دائمی عناصر کو سامنے لاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ افراد کوجمالیاتی تسکین بہم پہنچانے کی سکت رکھتے ہیں۔ یہ سب خصوصیات بڑی حد تک کلاسیک پر صادق آتی ہیں لیکن معنوی اعتبار سے صداقت کی صرف ایک جھلک ہی پیش کرتی ہیں۔ رفیع الشان موضوع، تہذیبی شخصیت اور دلکش اسلوب کے اتحادِ ثلاثہ سے جو تخلیق وجود میں آئے گی وہ بیک وقت قومی اور بین الاقوامی ہو گی اور فطرت کی تکمیل میں حصہ لے کر تمام تہذیبی تقاضوں کو پورا کرے گی۔٭…٭…٭