انگریز اور تعلیم
اسپیشل فیچر
انگریز حکومت نے سیاسی و انتظامی امور میں مسائل اور مشکلات کو دور کرنے کے لیے تعلیم کی جانب توجہ دی۔ 1854ء کا ’’ووڈز ڈسپیچ‘‘ برطانوی سرمایہ دار نوآبادیاتی ریاست کے مفادات کا بہترین عکاس تھا جس کے نتیجے میں مرکزی اتھارٹی کے زیراہتمام تمام صوبوں کے لیے محکمہ تعلیم تشکیل دیے گئے۔ ہر صوبہ میں محکمہ تعلیم کا قیام مختلف اوقات میںہوا اور وہاں تعلیم کی ترقی یا تنزلی کے اسباب مختلف رہے ہیں۔ فتح پنجاب سے قبل ایسٹ انڈیا کمپنی (جو ایک نئے صنعتی نظام معیشت و طرزِ معاشرت کی نمائندہ تھی) کے افسران برصغیر میں اپنے اقتدار کو توسیع اور طول دینے کے لیے ایک سطح پر فوجی مہم جوئی کے ذریعے نئے علاقوں پر قابض ہو رہے تھے۔ دوسری جانب ایسے ادارے قائم کیے جا رہے تھے جو کمپنی کے اقتدار اور قبضہ کو بقا و دوام بخشیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب پر قبضہ تک کمپنی کا اقتدار مستحکم ہو چکا تھا۔ لہٰذا پنجاب میں بھی ایک نوآبادیاتی سرمایہ دارانہ نظام معیشت و معاشرت کو رائج کیا گیا جس سے لاہور سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ الحاق پنجاب (1849ئ) سے قبل لاہور سمیت پورے پنجاب میں مدارس کا نظام چل رہا تھا، جن میں عربی، فارسی اور سنسکرت زبان ذریعہ تعلیم تھی۔ مسلمانوں کا اپنا منظم اور مربوط نظام تعلیم تھا، جس میں مساجد علم کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ ان مساجد کے ساتھ مدرسے اور مکتب کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ ان مکاتب میں مسلمان اور ہندو دونوں ہی فارسی کی تعلیم ہندو اور مسلم اساتذہ سے حاصل کرتے تھے جبکہ مدرسوں میں علما درس دیا کرتے تھے۔ 1849ء سے قبل لاہور تحصیل علم کے حوالے سے مشہور تھا۔ اس کا اندازہ ہمیں اس بات سے ہوتا ہے کہ خان بہادر ارسطو جاہ رجب علی کو ضلع لدھیانہ کی تحصیل جگراؤں سے 12 برس کی عمر میں حصول علم کے لیے لاہور بھیجا گیا۔ لاہور کے مدارس و مکاتب میں مسلمانوں کو ان کے متداول علوم کی تعلیم عربی اور فارسی زبان میں دی جاتی تھی۔ لاہور شہر کی تعلیمی ترقی کا اندازہ 1850ء میں ہونے والی مردم شماری سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں روایتی تعلیم کی درسگاہوں کی تعداد کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے ’’ اس وقت شہر میں ایک سو فارسی سکول، چھتیس عربی سکول، چوالیس عربی مشترکہ سکول اور اڑتیس شاستری سکول تھے۔‘‘ انگریزوں نے پنجاب پر قبضہ کرنے اور لاہور کو مرکز بنانے کے بعد اپنا نظام تعلیم نافذ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ہر چند کہ برطانوی نوآبادیاتی حکام نے 1835ء ہی میں اپنے نظام تعلیم کے خدوخال متعین کر دیے تھے جس کے مطابق سرکاری تعلیم کا مقصد ہندوستان میں مغربی علوم و سائنس کی اشاعت اور آئندہ سے ملکی سرکاری زبان بھی انگریزی ہو گی۔ اس قرارداد کے نتیجہ میں طلبا کے وظائف، دیسی مدرسوں اور مشرقی کتب کی اشاعت کی سرکاری امداد ختم کر دی گئی اور یہ سفارش کی گئی کہ ’’ان اصلاحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقوم کو مقامی آبادی کو انگریزی ادب اور سائنسی علوم انگریزی زبان کے ذریعے سکھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘‘ کمپنی کے سرمایہ دارانہ نظام معیشت و معاشرت کی بقا و فروغ ایسے ہی تعلیمی نظام پر قائم تھی جو انہیں نوآبادیاتی نظام حکومت و معیشت کو چلانے کے لیے کارکن اور افرادی قوت فراہم کرے۔ میکالے کے الفاظ میں ایسے افراد چاہیے تھے جو ’’رنگ و نسل کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوں مگر فکر و مذاق اور دل و دماغ کے اعتبار سے انگریز ہوں۔‘‘ صاحب علم اصحاب نے انگریزوں کے اس ارادے کو بھانپ لیا تھا چنانچہ ’’ایک مشہور اہل الرائے کے الفاظ میں اس نظام سے فقط ایسے اشخاص پیدا ہوئے جو محض سرکاری دفتروں میں، ریلوے اسٹیشنوں پر کلرک کی حیثیت سے کام کر سکتے تھے مگر ان میں حقیقی علمی و ادبی استعداد نہ تھی۔‘‘ان اقدامات کا اثر یہ ہوا کہ ایک طرف مکتب اور مدرسے اجڑ گئے اور وہاں عربی و فارسی کی تعلیم منقطع ہو گئی۔ دوسری طرف اردو کے فروغ کے امکانات روشن ہو گئے کیونکہ اردو کو اس انگریزی نظام تعلیم کا مرکزی مضمون قرار دیا گیا۔ اس نئے تعلیمی نظام کے نفاذ کے ضمن میں ہونے والی خط وکتابت سے پتہ چلتا ہے کہ ان کوششوں کا آغاز 1853میں ہوا، چونکہ اردو نے ورنیکولر زبان کی حیثیت حاصل کر لی تھی اس لیے حکومت پنجاب نے ورنیکولر نظام تعلیم رائج کرنے کی سفارش کر دی لہٰذا لاہور (پنجاب) میں 1856ء میں جب محکمہ تعلیم قائم ہوا تو اردو ہی کو بہتر ذریعہ تعلیم ورنیکولر قرار دیا گیا۔ تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سکول کھولے گئے، پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کو سرکاری فنڈز دیے گئے۔ اس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کی تجویز دی گئی۔ مثلاً تعلیم کے ذریعہ تدریس کے ساتھ درسی کتب کی تیاری اور ان کی اشاعت کا بندوبست، مقابلے کے امتحان کا اردو میں ہونا اور مختلف ٹیسٹ اردو میں تیار کرنا۔ ان اقدامات سے تعلیمی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔ لارڈ لارنس نے اپنی ایک ابتدائی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ فی الحال جو بڑا مقصد ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ابتدائی تعلیم اردو زبان میں دی جائے اور سب سے پہلا کام یہ ہے کہ عام لوگوں کو ہمارے علوم کے آسان اور ابتدائی اصول انہی کی زبان میں سکھائے جائیں۔ اس زمانہ میں ترجموں کا عام ہونا ممکن تھا۔ چنانچہ تعلیم کی نشرواشاعت کے ساتھ ہی اردو نثر کی نشرواشاعت میں بھی تیزی آئی۔ تمام مدارس میں ذریعہ تعلیم اردو تھی جبکہ بعض مڈل سکولوں میں انگریزی اختیاری تھی۔ گویا غالب عنصر اردو کی تدریس کا تھا۔ یوں نظامت تعلیم نے اردو زبان و ادب اور تعلیم سے دلچسپی کا بھر پور اظہار کیا۔ اس کے لیے 1857ء کے اوائل میں بک اینڈ ٹرانسلیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا۔ محکمہ تعلیم اور پنجاب بک ڈپو کے قیام سے دو ایسے پلیٹ فارم استعمال کیے گئے جہاں اردو کی ادبی نثر کے رواج کا نہ صرف آغاز ہوا بلکہ اسے فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات بھی کیے۔ بعدازاں 1877ء میں درسی کتب کو نصابی سطح پر زیادہ منظم و مربوط بنانے کے لیے ٹیکسٹ بک کمیٹی کا قیام بھی اسی سلسلے کی بنیادی کڑی تھی۔