ماحول دوست توانائی کے اہم ترین ذرائع
اسپیشل فیچر
اسپیشل فیچر
دنیا میں قدرتی مظاہر کی ایک طویل فہرست ہے جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر آتش فشاں ان میں سب سے زیادہ خوفناک اور پُرہیبت سمجھے جاتے ہیں۔ زمین کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی آگ جب اچانک لاوے، راکھ اور دھوئیں کی صورت میں باہر آتی ہے تو یہ منظر نہ صرف ہولناک ہوتا ہے بلکہ انسان کو قدرت کی بے پناہ قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ ہوائی جزیرے پر واقع کیلاویا آتش فشاں (Kilauea Volcano) دنیا کے سب سے زیادہ متحرک اور مشہور آتش فشائوں میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں کیلاویا ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک سو فٹ سے بھی زائد بلند لاوا اگلنے کے منظر نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ آتش فشاں بارہا لاوا اگل چکا ہے اور اپنے اردگرد کے علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔کیلاویا آتش فشاں امریکی ریاست ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے اور یہ دنیا کے فعال ترین آتش فشاں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق کیلاویا گزشتہ کئی صدیوں سے وقفے وقفے سے پھٹتا آ رہا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر لاوا کا بہاؤ نسبتاً آہستہ رفتار سے ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ اردگرد کی بستیوں، سڑکوں، جنگلات اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق کیلاویا کی باقاعدہ آتش فشانی سرگرمی کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا، جب 1823ء میں اس کے بڑے پیمانے پر پھٹنے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد سے یہ آتش فشاں متعدد بار متحرک ہو چکا ہے۔ 2018ء میں کیلاویا کے شدید دھماکوں اور لاوے کے بہاؤ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ سیکڑوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ یہ واقعہ کیلاویا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دور تصور کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلاویا دراصل ایک شیلڈ وولکینو (Shield Volcano) ہے، یعنی ایسا آتش فشاں جس کی شکل شیلڈ کی مانند ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں دھماکہ خیز آتش فشانی سرگرمی کے بجائے زیادہ تر لاوا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات دباؤ میں اضافے کے باعث دھماکے بھی ہو سکتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔کیلاویا کی سرگرمیوں کا سائنسی مطالعہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر تحقیقی ادارے مسلسل کر رہے ہیں۔ جدید آلات کے ذریعے زمین کے اندر ہونے والی حرکات، گیسوں کے اخراج اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے دھماکے کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق آتش فشاں کی پیش گوئی مکمل طور پر ممکن تو نہیں، تاہم مسلسل نگرانی سے خطرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔کیلاویا آتش فشاں سائنسی تحقیق کیلئے ایک اہم تجربہ گاہ بھی ہے۔ زمین کی ساخت، میگما کے بہاؤ اور آتش فشانی عمل کو سمجھنے میں کیلاویا نے سائنسدانوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے محققین ہوائی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس آتش فشاں کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاویا آتش فشاں سیاحت کے لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ حکام کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق آتش فشانی سرگرمی جہاں ایک طرف تباہی لاتی ہے، وہیں دوسری طرف زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ لاوا کے ٹھنڈا ہونے کے بعد بننے والی مٹی معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے، جو زراعت کیلئے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی کی زمین دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار ہوتی ہے۔کیلاویا کی تازہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود قدرت کے سامنے بے بس ہے۔ جب بھی یہ متحرک ہوتا ہے حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے اور مسلسل آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیلاویا آتش فشاں صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ زمین کے اندرونی نظام کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سیارہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ کیلاویا کی ہر نئی سرگرمی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں چھپی طاقت آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی وقت اپنا اظہار کر سکتی ہے۔
6 عادات جو زندگی بدل دیںتیز رفتار اور مصروف طرزِ زندگی نے انسان کو سہولتوں کی بہتات تو عطا کر دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ صحت جیسے قیمتی اثاثے کو شدید خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ آج ہر شخص مہنگی ادویات، سپلیمنٹس اور جدید علاج کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کیلئے ہمیشہ بھاری اخراجات ضروری نہیں ہوتے۔ حالیہ تحقیق اور ویلنَس ماہرین کی آراء کے مطابق روزمرہ زندگی کی چند سادہ اور مفت سرگرمیاں ایسی ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی عطاکرتی ہیں۔ یہی چھ بنیادی عادات اگر معمول کا حصہ بنا لی جائیں تو انسان خود کو زیادہ توانا، چست اور صحت مند محسوس کر سکتا ہے۔جنوری کا مہینہ عموماً فیشن ایبل ڈائٹس، مہنگے سپا ٹرپس اور بری عادات ترک کرنے کے عزم کیلئے مشہور ہے۔ بہت سے لوگ اس مہینے کا آغاز اس نیت سے کرتے ہیں کہ وہ خود کو زیادہ صحت مند بنائیں گے۔ کوئی دوڑ لگانا شروع کرتا ہے، کوئی ویٹ لفٹنگ، تو کوئی نئے سال میں سونا باتھ کو معمول بنا لیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی فروری قریب آتا ہے، ان میں سے بہت سی عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق چھ روزمرہ سرگرمیاں ایسی ہیں جو بغیر جیب پر بوجھ ڈالے آپ کی صحت کو تیزی سے بہتر بنا سکتی ہیں۔ وٹامن ڈی حاصل کریںصبح کے وقت نہانے، ناشتہ کرنے، کپڑے پہننے اور وقت پر کام کیلئے نکلنے کی جلدی میں ہم میں سے اکثر صحت مند صبح کے معمول کے ایک نہایت اہم حصے دھوپ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح صرف پانچ منٹ چہرے پر دھوپ پڑنے سے نیند بہتر ہو سکتی ہے اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی آ سکتی ہے۔امریکی محققین نے دریافت کیا کہ وہ لوگ جو صبح 8 بجے سے دوپہر 12بجے کے درمیان کچھ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں وہ رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور ان کی نیند میں خلل بھی کم ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جو دھوپ جیسی نعمت کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔یہ صرف جسمانی گھڑی کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، جو ہمارا جسم دھوپ کی مدد سے بناتا ہے۔ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جو مضبوط ہڈیوں کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے بچوں میں رکٹس اور بڑی عمر میں ہڈیاں کمزور یا بھربھری ہو سکتی ہیں۔کھانے کے بعد چہل قدمی کریںغذا کھانے کے بعد چلنا شاید وہ آخری چیز ہو جو آپ کرنا چاہیں لیکن ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی بھی صحت پر بہت مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں ظاہر ہوا کہ کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کم ہوتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے 60 سے 90 منٹ بعد چلنا سب سے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس وقت بلڈ شوگر کی سطح عموماً بلند ہوتی ہے۔لوگوں کو 15 منٹ کی چہل قدمی کا ہدف رکھنا چاہیے لیکن تحقیق کے مصنفین کے مطابق دو سے پانچ منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح دن بھر مختصر حرکات بھی کیلوریز جلانے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔منہ سے سانس لینے سے گریز کریںمنہ کے ذریعے سانس لینا طویل عرصے سے نیند میں خلل ڈالنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عادت موٹاپا، ڈیمنشیا، گنٹھیا (arthritis) اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ منہ کے ذریعے سانس لینے سے منہ خشک ہو جاتا ہے جس سے نقصان دہ بیکٹیریا پھیلنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ گھاس کو پیروں سے چھوئیںماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ننگے پیروں کھڑے ہونا جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ گھاس، ریت یا مٹی پر ننگے پیروں وقت گزارنا، جسے اکثر گراؤنڈنگ (grounding) کہا جاتا ہے، اعصابی نظام کو پرسکون کرنے، تناؤ کم کرنے اور نیند بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔کھانے کے دوران فون رکھ دیںکھانے کے دوران فون دیکھنے کی عادت وزن بڑھنے سے منسلک پائی گئی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مرد اور خواتین نے جب کھاتے وقت فون دیکھا، تو انہوں نے تقریباً 15 فیصد زیادہ کیلوریز کھائیں اور زیادہ چکنائی والا کھانا بھی تناول کیا۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کے کھانے کے دوران فون استعمال کرتے تھے، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں شام تک زیادہ تھکے ہوئے محسوس کرتے تھے جو چہل قدمی کرتے یا کتاب پڑھتے تھے۔ ماہرین کے مطابق آہستہ کھائیں اور سکرینز کے بغیر کھانا کھائیں تو ''ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ‘‘ اعصابی نظام فعال ہوتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور بھوک منظم ہوتی ہے۔سونے کے وقت کو بحال کریںنیند صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ نیند کی کمی کئی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جن میں بلند فشار خون، دل کی بیماریاں، ڈیمنشیا اور ڈپریشن شامل ہیں۔ بالغ افراد کو عموماً رات میں تقریباً سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ہر شخص کیلئے مختلف ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ زیادہ تر وقت نیند کی کمی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد بالغ افراد ہر رات مطلوبہ نیند حاصل نہیں کرتے۔ تقریباً 75 لاکھ افراد ہر رات پانچ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ خراب نیند کی عادات کو درست کرنے کیلئے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیڈ ٹائم روٹین دوبارہ قائم کریں۔ معیاری نیند مدافعتی نظام، موڈ، اور مجموعی صحت بہتر بنانے کا سب سے تیز طریقہ ہے اور اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔
٭... مایہ ناز موسیقار ماسٹر عبداللہ 1931ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔٭... صف اوّل کے پاکستانی فلمساز و ہدایتکارانور کمال پاشا کی 1962ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''سورج مکھی‘‘سے کریئر کا آغاز کیا۔٭...1964ء میں فلم ''واہ بھئی واہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دی، اس فلم کے نغمات کی مقبولیت نے انہیں بھی شہرت بخشی۔٭...ان کی موسیقی سے سجی فلم ''ملنگی‘‘ 1965ء میں ریلیز ہوئی جسے شاہکار پنجابی فلم کا درجہ حاصل ہے۔ اس فلم کی زبردست کامیابی میں ماسٹر عبداللہ کے شاندار سنگیت کا بڑا ہاتھ تھا۔ خاص طور پر میڈم نور جہاں کا گیا ہوا نغمہ ''ماہی وے سانوں بھل نہ جانویں‘‘ آج تک اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ٭... 1968ء میں اردو فلم ''کمانڈر‘‘ کی موسیقی ترتیب دی، جس میں رونا لیلیٰ کا گایا ہوا گیت ''جان من اتنا بتادو محبت، محبت ہے کیا‘‘ بہت مقبول ہوا۔٭...1968ء میں ہی فلم ''زندگی‘‘ کی موسیقی دی اور اس فلم کے گیتوں نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ ٭...مشہور پنجابی فلم ''لاڈو‘‘ میں بھی ان کی موسیقی کو بہت پسند کیا گیا اور اس فلم کے گیت کلاسک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ٭...فلم ''ضدی‘‘ کا خوبصورت میوزک دینے پر انہیں نگار ایوارڈ سے نوازاگیا۔٭... 1975ء میں اقبال کشمیری کی فلم ''شریف بدمعاش‘‘ کی موسیقی دی، اس فلم کے تمام نغمات سپرہٹ ہوئے۔٭...ان کی دیگر قابل ذکر فلموں میں ''دنیا پیسے دی، امام دین گوہاویہ، رنگی، وارث، ہرفن مولا، دل ناں دا، کش مکش، بدلہ اور نظام‘‘ شامل ہیں۔٭...اپنے30 سالہ فلمی کریئر میں 51 فلموں میں میوزک کمپوز کیا ، جن میں 10 اردو اور 41 پنجابی فلمیں شامل تھیں۔٭...ماسٹر عبداللہ نے زیادہ تر پنجابی فلموں کی موسیقی دی اور ان کے بے شمار گیتوں نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔٭... وہ صرف پنجابی گیتوں کے ہی نہیں بلکہ اردو نغمات کے بھی لاجواب موسیقار تھے۔٭... ماسٹر عبداللہ کا اسلوبِ موسیقی سب سے جدا تھا۔ ان کی یہی انفرادیت ان کی سب سے بڑی خوبی بن گئی۔٭...مشہور گلوکار اسدامانت علی خان کو موسیقار ماسٹر عبداللہ نے بریک دیا تھا، ان کی موسیقی میں اسدنے گیت ''تیرے روپ کا پجاری‘‘گایا تھا۔ اس گیت کی مقبولیت نے ان کا کریئر بنانے میں اہم کردارادا کیا۔٭...31 جنوری1994ء کو پاکستان کا یہ بے مثل سنگیت کار موت کی وادی میں اتر گیا ۔ماسٹر عبداللہ کے سپر ہٹ گیٹ٭:جانے والی چیز کا غم کیا کریں٭:ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں٭:اج تیرے پنڈ نوں سلام کر چلیاں٭:کی بھروسہ دم دا اے دنیا فانی ٭:چل چلیے ، دنیا دی اوس نکرے ٭:پھکی پے گئی چن تاریاں دی لوہ ٭:جان من ، اتنا بتا دو ، محبت ہے کیا ٭:میرا محبوب ہے کہ جان بہار آیا ہے٭:یہ سفر تیرے میرے پیار کا٭:میرا دلبر ، میرا دلدار توں ویں٭:سجناں دی دید لئی ، مرنا قبول اے٭:تیرے پچھے پچھے آنا ، اسان پیار نبھانا٭:مل گئی ٹھنڈک نگاہوں کو ٭:تیرے پیار دا میں کیتا اقرار٭:میں کھولاں کہیڑی کتاب نوں٭:اکھیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں٭:ڈنگ پیار دا سینے تے کھا کے٭:چوڑا میری بانہہ دا چھنک دا اے٭:جواب دے ، بے وفا زمانے٭:امیروں کے خدا ، تو ہی غریبوں کا خدا ہے٭:جب بھی تیرا نام لیا٭:شکر دوپہر پپلی دے تھلے ٭:اللہ دی سونہہ ، تو نئیں دسدا٭:آنکھوں میں اشک ، درد ہے دل میں ٭:کچھ آہیں ہیں ، کچھ آنسو ہیں( زندگی )
چیمپینزی کو خلا میں بھیجا گیا31جنوری 1961ء کو امریکی خلائی پروگرام ''پروجیکٹ مرکری‘‘ کے تحت چمپینزی ہام (Ham) کو خلا میں بھیجا گیا۔ اس تجرباتی پرواز کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا کوئی جاندار خلا کے ماحول میں سانس لے سکتا ہے، حرکت کر سکتا ہے اور دی گئی ہدایات پر عمل کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس کامیاب مشن نے بعد میں انسانی خلانوردی کی راہ ہموار کی۔زہریلی گیس کا استعمالپہلی عالمی جنگ کے دوران 1915ء میں آج کے روز جرمنی نے روس کیخلاف زہریلی گیس کا استعمال کیا۔ 1914ء میں شروع ہونے والی یہ عالمی جنگ 11 نومبر 1918ء تک جاری رہی، جس میں پہلی بار دنیا نے کیمیائی اور زہریلی گیس کا استعمال دیکھا۔ یہ انسانی تاریخ کی تباہ کن جنگ تھی جس میں تقریباً 90 لاکھ افرادمیدان جنگ میں ہلاک ہوئے ۔ ہالینڈ میں خطرناک سیلاب 1953ء میں آج کے روز ہالینڈ میں خطرناک سیلاب آیا۔اس نے نیدرلینڈز، شمال مغربی بیلجیم، انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کو متاثر کیا۔ شدید آندھی نے بحیرہ شمالی میں طوفانی لہر پیدا کی۔ جس کی وجہ سے سطح سمندر سے 5.6 میٹر (18 فٹ 4 انچ) بلند سیلاب آیا۔ اس سیلاب میں 1800افراد ہلاک ہوئے۔بعدازاں اس طرح کے غیر معمولی واقعات سے نمٹنے کیلئے نیدرلینڈز اور برطانیہ نے ساحلی دفاع کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مختلف اقدامات کئے۔ نیدرلینڈ نے ڈیلٹا ورکس تیار کیا، جو ڈیموں اور طوفان کی روک تھام کا ایک وسیع نظام ہے۔ برطانیہ نے بھی رکاوٹیں تعمیر کیں۔
ڈیجیٹل دور میں ہماری نجی زندگی کا تحفظہر سال 28 جنوری کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے یا ڈیٹا پروٹیکشن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام، اداروں اور حکومتوں میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات (Personal Data) کس قدر قیمتی ہیں اور ان کے تحفظ کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ آج جب ہماری زندگی کا بڑا حصہ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز سے جْڑا ہوا ہے، تو ڈیٹا پرائیویسی ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، قانونی اور اخلاقی سوال بن چکا ہے۔ڈیٹا پروٹیکشن کیا ہے؟ڈیٹا پروٹیکشن سے مراد کسی فرد کی ذاتی معلومات جیسے نام، شناختی نمبر، فون نمبر، ای میل، بینک تفصیلات، طبی ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیوں کا تحفظ ہے، تاکہ یہ معلومات بغیر اجازت استعمال، فروخت یا غلط ہاتھوں میں نہ جائیں۔ ڈیجیٹل دور میں ہر کلک، ہر سرچ اور ہر ایپ استعمال کرنے سے ہمارا ڈیٹا کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو اگر غیر محفوظ ہو تو سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی تاریخڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی بنیاد یورپ میں رکھی گئی۔ 28 جنوری 1981ء کو کونسل آف یورپ نے پہلا بین الاقوامی معاہدہ (Convention 108) منظور کیا جو ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تھا۔ اسی یاد میں 2006ء سے ہر سال یہ دن منایا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی اس دن کو اہمیت دی جانے لگی۔ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے خطراتآج کے دور میں ڈیٹا ایک نئی کرنسی بن چکا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات، کاروباری حکمت عملیاں اور حتیٰ کہ سیاسی مہمات بھی چلاتی ہیں۔ ڈیٹا لیکس، ہیکنگ، شناخت کی چوری (Identity Theft)، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی لاپرواہی جیسے کمزور پاس ورڈ یا غیر محفوظ وائی فائی کسی فرد کی مالی اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔سوشل میڈیا اور پرائیویسیفیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگ روزمرہ زندگی کی تفصیلات شیئر کرتے ہیں۔ اکثر صارفین یہ نہیں جانتے کہ ان کی تصاویر، لوکیشن اور ذاتی خیالات کیسے ڈیٹا کی صورت میں محفوظ اور استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کیا شیئر کر رہے ہیں، کس کے ساتھ کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔قوانین اور ضابطےدنیا کے کئی ممالک نے ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں۔ یورپ کا GDPR (General Data Protection Regulation) اس کی نمایاں مثال ہے جس کے تحت صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کا ڈیٹا کہاں اور کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی مختلف قوانین نافذ ہیں۔ہمارے ملک میں اگرچہ ڈیجیٹل سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے۔ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر بحث ضرور ہو رہی ہے، مگر اس پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ڈیٹا پرائیویسی صرف فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اداروں اور حکومتوں کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محکمے، بینک، ٹیلی کام کمپنیاں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے عوام کا حساس ڈیٹا رکھتے ہیں۔ اگر یہ ادارے ڈیٹا سکیورٹی کو سنجیدگی سے نہ لیں تو بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے اسی اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔عام صارف کیا کر سکتا ہے؟ڈیٹا کے تحفظ کے لیے چند بنیادی اقدامات ہر فرد اختیار کر سکتا ہے جیسا کہ مضبوط اور منفرد پاس ورڈز کا استعمال،دہری تصدیق (Two-factor authentication)،غیر ضروری ایپس کو اجازت نہ دینا،پبلک وائی فائی پر حساس معلومات شیئر نہ کرنا،سوشل میڈیا پر پرائیویسی سیٹنگز کو باقاعدگی سے چیک کرنا۔یہ اقدامات بڑے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی اور انسانی حقوقڈیٹا پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نجی زندگی کا احترام، اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی ڈیٹا کے درست استعمال سے جُڑے ہیں۔ اگر ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو نہ صرف فرد بلکہ جمہوری نظام اور معاشرتی توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل سہولتوں کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور فرد، ادارہ اور ریاست ڈیٹا کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں۔ شعور، قانون سازی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ اپنی نجی زندگی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ دراصل ہماری شناخت، آزادی اور مستقبل کا تحفظ ہے۔
آگ کو انسان صدیوں سے جانتا اور استعمال کرتا آ رہا ہے۔ کھانا پکانے سے لے کر صنعت، جنگ اور روزمرہ زندگی میں، آگ انسانی تہذیب کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس آگ کو ہم ایک ''چیز‘‘ یا ''شے‘‘ سمجھتے ہیں، سائنسی اعتبار سے وہ کسی ٹھوس، مائع یا گیس کی صورت میں موجود ہی نہیں۔ دراصل آگ کوئی مادہ نہیں بلکہ ایک کیمیائی عمل ہے اور یہی حقیقت اسے عام فہم تصورات سے کہیں زیادہ عجیب بنا دیتی ہے۔عام طور پر ہم آگ کو شعلوں، روشنی اور حرارت کی شکل میں دیکھتے ہیں اس لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ آگ بھی ہوا یا گیس کی طرح کوئی مادہ ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ آگ نہ تو مادہ ہے اور نہ ہی اسے کسی برتن میں بند کیا جا سکتا ہے۔ آگ دراصل جلنے کا عمل ہے جسے سائنسی زبان میں Combustion کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیمیائی ردعمل ہے جس میں کوئی ایندھن آکسیجن کے ساتھ تیزی سے مل کر حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے۔فائر ٹرائینگل؟سائنسدان آگ کے بارے میں سمجھانے کے لیے ایک سادہ مگر اہم تصور پیش کرتے ہیں جسے فائر ٹرائینگل کہا جاتا ہے۔ اس کے تین بنیادی عناصر ہیں: ایندھن، یعنی وہ شے جو جل سکتی ہو، جیسے لکڑی، کوئلہ، تیل یا گیس۔ آکسیجن ،ہوا میں موجود آکسیجن جلنے کے عمل کے لیے لازمی ہے، اور حرارت یعنی ابتدائی توانائی جو جلنے کے عمل کو شروع کرتی ہے جیسے چنگاری یا شعلہ۔ اگر ان تین میں سے ایک بھی عنصر ختم کر دیا جائے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کبھی پانی، کبھی ریت اور کبھی فوم استعمال کیا جاتا ہے تاکہ آکسیجن یا حرارت کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔شعلے اصل میں کیا ہوتے ہیں؟ہم جو آگ کے شعلے دیکھتے ہیں وہ دراصل خود آگ نہیں بلکہ جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرم گیسیں ہوتی ہیں۔ جب لکڑی یا موم بتی جلتی ہے تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دیگر گیسیں بنتی ہیں۔ یہ گیسیں اوپر کی طرف اٹھتی ہیں اور ان میں موجود باریک کاربن ذرات (Soot) جب بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں تو چمکنے لگتے ہیں۔ یہی چمک ہمیں زرد یا نارنجی شعلے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل جلنے کی صورت میں، جیسے گیس کے چولہے پر شعلہ نیلا ہوتا ہے کیونکہ وہاں کاربن ذرات نہیں بنتے بلکہ گیس صاف طور پر جلتی ہے۔کیا آگ پلازما ہے؟کبھی کبھار یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا آگ کو پلازما کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ پلازما مادے کی ایک خاص حالت ہوتی ہے جس میں ایٹم اپنے الیکٹران کھو دیتے ہیں۔ عام آگ جیسے لکڑی یا موم بتی کی آگ اتنی گرم نہیں ہوتی کہ اسے مکمل پلازما کہا جائے تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت پر مثلاً سورج یا ویلڈنگ آرک میں آگ پلازما کی کچھ خصوصیات ضرور اختیار کر لیتی ہے۔آگ اور مادہ کا تعلقآگ خود مادہ نہیں مگر یہ مادے کو تبدیل ضرور کرتی ہے۔ جلنے کے بعد لکڑی راکھ میں بدل جاتی ہے، گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں اور توانائی حرارت و روشنی کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح آگ دراصل مادے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل دیتی ہے، جو توانائی کے قانونِ تحفظ کی بہترین مثال ہے۔زمین پر آگ کیوں ممکن ہے؟آگ جیسی ہمیں زمین پر نظر آتی ہے وہ کائنات میں بہت نایاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کے ماحول میں آکسیجن کی وافر مقدار ہے جو پودوں اور دیگر جانداروں کی بدولت ممکن ہوئی۔ اگر زمین پر زندگی نہ ہوتی تو شاید آگ بھی وجود میں نہ آتی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ آگ بالواسطہ طور پر زندگی کی مرہونِ منت ہے۔خلا میں آگ کا عجیب رویہخلا میں جہاں کششِ ثقل نہیں ہوتی آگ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہاں شعلے اوپر کی طرف نہیں اٹھتے بلکہ گول شکل اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ گرم گیسیں اوپر نہیں جا سکتیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ کا ظاہری انداز ماحول پر بہت زیادہ منحصر ہوتا ہے۔آگ جسے ہم ایک عام اور روزمرہ کی چیز سمجھتے ہیں، درحقیقت ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز سائنسی عمل ہے۔ یہ نہ کوئی ٹھوس شے ہے نہ مائع اور نہ ہی مکمل گیس بلکہ یہ توانائی کے اخراج کا وہ مظاہرہ ہے جو ایندھن اور آکسیجن کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ آگ کو سمجھنا ہمیں نہ صرف سائنس کے بنیادی اصولوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی ہمیں نظر آتی ہیں۔