طنزومزاح اور انسانی نفسیات
اسپیشل فیچر
فنون لطیفہ کی ہر شاخ انسانی نفسیات پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ان کی تخلیق کا سبب بھی انسانی دماغ کے تناؤ کو کم کرنا ہے، کیونکہ حیات انسانی کی دشواریاں انسان کو اس قابل نہیں چھوڑتیں کہ وہ مسرت اور شادمانی کے ساتھ جی سکے، زندگی سے حظ اٹھا سکے اور اپنے وجود کی اہمیت کو محسوس کر سکے۔ فنون لطیفہ اسے اپنے وجود پر اعتماد بخشتے ہیں اور اسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ انسان رہ سکے اور اس کائنات میں اپنے وجود کی اہمیت اور فضیلت کو برقرار رکھ سکے۔
طنزومزاح کا تعلق ادب سے ہے اور اگر اسے فنون لطیفہ کی ایک ذیلی شاخ قرار دیں تو یہ کچھ غلط نہ ہو گا، لیکن انسانی نفسیات پر اس کے محرکات، فنون لطیفہ یا ادب کی تمام تر شاخوں سے زیادہ گہرے مرتسم ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے باطن میں وہ قوت موجود ہوتی ہے جو اصلاحی پہلو رکھنے کے ساتھ ساتھ ذہنی تناؤ کو کم کر سکنے پر بھی قادر ہے۔ ادب کی دوسری شاخوں، مثلاً رومانوی نثر میں ہمارے جذباتی پہلوؤں اور انانیت کی تسکین کا سامان تو بہتر طور پر موجود ہوتا ہے مگر وہ دائمی مسرت کے پھول کھلانے پر قادر نہیں ہوتی۔ شاعری میں اگرچہ بڑی قوت اور تاثیر ہوتی ہے مگر وہ خوابوں کو حقیقی شباہت عطا نہیں کر سکتی۔ جب کہ طنز و مزاح میں یہ قوت ہوتی ہے کہ وہ غیب سے مسرت کی کرن مستعار لے کر ہمارے سلگتے ہوئے ہونٹوں کو مسرت کی خنک پھوار سے شادماں کر سکے۔
اس سے جہاں ہم موجود کے ادبار سے نجات پاتے ہیں، وہاں ہماری نفسی تسکین کا سامان بھی ہوتا ہے۔ یعنی طنزومزاح ہی وہ قوت ہے جو ہمارے تناؤ کو کم بھی کرتی ہے اور ہمارے وجود کی دیرپا تسکین کا سبب بھی بنتی ہے۔
فنون لطیفہ کی تمام تر شاخیں بشمول ادب انسانی نفسیات کے کسی نہ کسی پہلو کی عکاسی کرتی ہیں۔ کہیں تصویر کے پردے میں، کہیں قطعہ کہنے کے اسلوب کا سہارا لے کر، کہیں شعر کے پردہ زنگاری میں اور کہیں تبسم کی منور روشنی میں انسانی نفسیات کی مختلف پرتیں اپنی جھلک دکھاتی ہیں اور اس طرح اس کے وجود کی ماہیت کا ادراک کرنا ممکن ہوتا ہے۔ نفسیات نے اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز سے باقاعدہ علم کی حیثیت اختیار کی ہے اور دیگر معاشرتی علوم کے مقابلے میں اس کی عمر شاید سب سے کم ہے مگر انسانی نفسیات سے متعلق ادب عالیہ کی پہچان کرنے کے لیے ہم تاریخ انسانی کے کسی بھی دور کو مثالی بنا سکتے ہیں، کیونکہ علم کسی شاخ کے تاخیر سے مدون ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ علم اس سے پہلے کی نسلوں یا زمانے کے وجود کا حصہ نہیں رہا ہو گا۔
اس لیے یہ بات غیر ممکن ہے کہ ازمنہ قدیم کے انسان کا تخلیق کردہ ادب انسانی نفسیات کے کسی نہ کسی پہلو کی تصویر کشی نہ کرتا ہو۔ طنزومزاح ادب کا ایک ایسا رویہ ہے جس میں ماحول کی ناہمواری اور ناآسودگیوں کے تصادم اور احساس تفاخر کا مضحکہ اڑایا جاتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کے دور رویہ ہونے کا محاکمہ کرتا ہے۔ ماحول کی ناہمواری پر ہنسنا یا اپنی کسی کجی پر خندہ کرنا جہاں فطرت انسانی کے اظہار کا خداداد ملکہ ہے وہاں یہ انسانی نفسیات کے مطالعے کا ایک دلچسپ حوالہ بھی بنتا ہے۔ آخر ہم اپنا، دوسروں کا، معاشرے کا یا تہذیب کا انسانی مضحکہ کیوں اڑاتے ہیں، یا وہ کیا نفسانی محرکات ہیں جو ہمیں کبھی خود پر اور کبھی دوسروں پر ہنسنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔
یہ بات بالکل واضح ہے، ہر انسانی عمل کی بنیاد انسانی نفسیات پر ہوتی ہے، خواہ ہم اس عمل کے نفسانی محرکات سے آگاہ ہوں یا نہ ہوں۔ طنزومزاح کی بنیاد بھی ایسے انسانی اعمال پر ہے جن کی بنیاد نفسیاتی محرکات پر ہوتی ہے اور ہر محرک اپنا ایک حلقہ اثر بھی رکھتا ہے۔ اس حلقہ اثر کی بھی دو پرتیں ہوتی ہیں۔ اس حلقہ اثر کا ایک سرا تو عمل کے وجود میں آنے کا جواز ہے اور دوسرا سرا اس کا نشانہ بننے والے کی ذات، یعنی مزاح تخلیق کرنے والے اور مزاح کا نشانہ بننے والے کے مابین تعلق اسی نفسیاتی محور کی تکمیل سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی طنزیہ مزاحیہ ادب پارے کے مطالعے سے ان دونوں پہلوؤں کی تہہ داری اور باطنی کیفیت کو جانچا جا سکتا ہے، یعنی یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مزاحیہ یا طنزیہ ادب تخلیق کرنے والے نے اسے کس نفسیاتی ضرورت کے تحت خلق کیا اور وہ کیا اثرات ہیں جو وہ اپنی اس تحریک کے ذریعے مرتسم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ علت اور معلول کا تعلق ہے۔
احساس تفاخر اور احساس برتری ہمیں ہنسنے پر مجبور کرتا ہے... یہ احساس تفاخر اور احساس برتری اس وقت نمودار ہوتا ہے جب ہم اپنی گزشتہ خامیوں اور دوسروں کی کمزوریوں کا تقابل کرتے ہیں... گویا ہنسی اس وقت نمودار ہوتی ہے جب کوئی چیز ہوتے ہوتے رہ جائے اور ہماری توقعات کے بالکل برعکس ہو۔ لطیفے سے بھی اسی وقت ہنسی تحریک پاتی ہے جب واقعات ایک دم ایسا رخ اختیار کر لیتے ہیں، جن کی ہمیں توقع نہیں ہوتی، الہام بھی ہنسی کو تحریک دیتا ہے اور بات کی صحیح تفہیم کے بعد انسان بے اختیار ہنسنے پر مجبور ہوتا ہے۔ دوسروں کو بے ساختہ ہنستے دیکھ کر بھی ہم ہنس دیتے ہیں۔ گویا ہنسی متعدی بیماری کی طرح پھیلتی ہے۔ کسی عمل کے ردعمل کے طور پر بھی ہنسی جنم لیتی ہے۔
سوسائٹی کے مروجہ قواعد و ضوابط سے انحراف کا عمل بھی ہنسی کا باعث بنتا ہے اور انحراف کے مرتکب شخص کی حرکات سوسائٹی کے دوسرے افراد کو محظوظ کرتی ہیں۔ مسخرے اور مزاحیہ کردار اس کی مثال ہیں۔
ہنسی تضاد کی پیداوار ہے اور یہ تضاد مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً یہ تضاد شخصیت کا بھی ہو سکتا ہے، کردار کا بھی، تہذیب کا بھی ہو سکتا ہے اور سماج کا بھی اور نشست و برخاست کا بھی، سمجھ کا بھی ہو سکتا ہے اور ذہانت کا بھی، اولیت کا بھی ہو سکتا ہے اور جدت کا بھی، گویا ہر ہنسی کسی نہ کسی تضاد کی مظہر ہوتی ہے اور تضاد کا مزاحیہ اظہار (ہنسی) ان رویوں پر ایک تنقید ہے۔
وفور جذبات سے مغلوب ہو کر انسان ہنستا ہے۔ اگرچہ رونے سے بھی جذبات کی شدت میں کمی آتی، مگر یہ موڈ پر منحصر ہے۔ گویا ہنسنے کے بعد انسان کے جذبات کا تناؤ کم ہو جاتا ہے اور وہ ایک طرف کی آسودگی محسوس کرتا ہے۔ دباؤ کم ہونے پر بھی ہنسی آتی ہے۔ مزاح کا مقصد دبے ہوئے جذبے کو تحریک دینا ہے اور یہ تحریک ہنسی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ گویا ہنسی کیتھارسس کا ایک ذریعہ ہے اور یہ تطہیر جذبات کا کام بڑی خوش اسلوبی سے کرتی ہے۔