سلطنت ِ برطانیہ کا ظہور

 سلطنت  ِ برطانیہ کا ظہور

اسپیشل فیچر

تحریر : عظیم احمد


برطانیہ کی تاریخ یوں تو نہایت طویل اور دلچسپ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے کہ برطانیہ کی جمہوری تاریخ کی ایک مکمل تصویر آپ کے سامنے کھنچ جائے۔ 
سب سے پہلے یہ جان لیجئے کہ وہ سیاسی تبدیلیاں جنہوں نے جزائر برطانیہ کو ان کی موجودہ شکل سے نوازا، ان کا آغاز 1536ء میں ویلز اور انگلستان کے ادغام سے ہوا، 1707ء میں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی پارلیمانوں نے ''ایکٹ آف یونین‘‘ منظور کر کے ان دونوں سلطنتوں کو ایک کر دیا، اور 1800ء میں آئرلینڈ بھی ایسے ہی ایک ایکٹ کے ذریعے اس سلطنت کا حصہ بن گیا جس کا نام ''برطانیہ عظمیٰ اور آئر لینڈ کی سلطنت متحدہ‘‘ رکھا گیا۔ چار الگ الگ قوموں کے انضمام سے وجود میں آنے والی یہ سلطنت آج بھی چار بڑے ثقافتی خطوں میں منقسم ہے۔ 1922ء میں آئرلینڈ، ماسوائے شمالی آئرلینڈ کی چھ کاؤنٹیوں کے، متحدہ سلطنت سے علیحدہ ہو گیا۔ تب اس سلطنت کا نام بدل کر ''برطانیہ عظمیٰ اور شمالی آئرلینڈ کی متحدہ سلطنت‘‘ رکھ دیا گیا۔
برطانیہ میں آج جو پارلیمانی جمہوریت رائج ہے اور جس نے دنیا کے کئی ممالک کے نظامِ حکومت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں ، اس کا بیج برطانوی تاریخ کے ایک ایسے دور میں بویا گیا جو اپنی شورشوں اور ہنگامہ آرائیوں کے طفیل تاریخ دانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بحیثیت مجموعی اس دور کو ''انقلابِ برطانیہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے جو 1640ء سے 1660ء تک جاری رہا۔ اس انقلاب کا سبب بننے والے حالات و عوامل کی جڑیں سولہویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سولہویں صدی میں بادشاہت اور برطانوی پارلیمنٹ کے درمیان سیاسی اقتدار کی چپقلش کا آغاز ہوا۔ اس دور میں ایک بنیادی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ مفکرین نے ان نظریات و تصورات کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر دیا جو برطانوی شاہی تخت کو سنبھالے ہوئے تھے۔ سولہویں صدی کے آغاز کے انگلستان پر اس طبقہ اشرافیہ کی حکومت تھی جس کے ارکان کا خیال تھا کہ وہ زمین پر خدا کے نائب ہیں، انہیں عوام پر حکمرانی کرنے کا حق دیا گیا ہے اور معاشرے کی سیاسی و سماجی تقسیم کو ایسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔
ویسے پارلیمنٹ 1265ء میں وجود میں آ چکی تھی۔ ابتداً اس کی حیثیت ایک ادارے کے بجائے ایک تقریب کی سی تھی جس میں مختلف اضلاع کے نمائندوں کو سرکاری طور پر ایک جگہ بلایا جاتا تھا۔ اس سے پہلے ایسے اجتماع کو جاگیرداری کونسل کہا جاتا تھا۔ پارلیمنٹ اسی کونسل کی ترقی یافتہ اور بڑی شکل تھی۔ ہنری سوم کے بیٹے ایڈورڈ اول نے حقیقی معنوں میں پارلیمنٹ کو ترقی دی اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ چودھویں صدی میں پارلیمنٹ کو دار الامرا اور دار العوام میں تقسیم کر دیا گیا اور محصولات کے نفاذ اور قوانین کی تیاری میں اس کا عمل دخل بڑھنے لگا۔ 1337ء میں ایڈورڈ سوم نے فرانس کے خلاف ''صد سالہ جنگ‘‘ کا آغاز کیا۔ انجام کار یہ جنگ ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایڈورڈ سوم نے جب ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو پارلیمنٹ کو سودے بازی کرنے اور کچھ حقوق و مراعات حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ 
اس سے پہلے 1332ء میں برصغیر میں طاعون کی وبا کا آغاز ہو چکا تھا۔ برصغیر سے یہ وبا چین تک پہنچی اور 1343ء میں جب ''سنہرے غول‘‘ کے منگولوں نے جزیرہ نما کریمیا میں ایک تجارتی قصبے کا محاصرہ کر رکھا تھا، ان میں بھی یہ وبا پھیل گئی۔ محصور شہر سے نکل بھاگنے والے یورپی تاجروں کے ذریعے ہلاکت کی یہ سیاہ پیامبر یورپ تک بھی آ پہنچی۔ 1349ء میں اس کا دائرۂ اثر پھیلتا ہوا انگلستان کی سرحدوں میں داخل ہو گیا، اور جب تک یہ بھیانک بلا ٹلتی، انگلستان کی کم و بیش نصف آبادی اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔
اس غیر متوقع اور انتہائی شدید آفت کی بدولت انگلستان میں محنت کشوں کا کال پڑ گیا۔ ملک کی ڈانواں ڈول معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے جب بادشاہ نے کام کرنے والوں کے معاوضے منجمد کرنے کی کوشش کی تو مزدور پیشہ طبقے میں بے چینی پھیل گئی۔ اس سے پہلے تک انگلستان میں مزارعے ایک طرح سے زمیندار کے غلام ہوا کرتے تھے۔ زمیندار اگر زمین بیچتا تو اس کے ساتھ اس پر کام کرنے والوں کا بھی سودا کر لیتا۔ ان لوگوں کو اپنے زمیندار کی مرضی کے بغیر شادی کرنے اور پیشہ بدلنے کا اختیار نہ تھا اور اس سے اجازت لئے بغیر وہ گاؤں تو کیا، اپنا قطعہ اراضی تک چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ مندرجہ بالا شاہی اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی کی بدولت جاگیردارانہ ناانصافیوں کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی جس کے ثمرات اگلی صدی میں اس نظام کے خاتمے کی صورت میں سامنے آئے۔
سولہویں صدی میں ٹیوڈر حکمرانوں نے طبقہ شاہی، طبقہ اشراف اور طبقہ تاجران کے درمیان ربط ضبط بڑھانے اور تعاون کو مزید فروغ دینے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ ٹیوڈور بھی بادشاہوں کے اس نظریئے پر یقین رکھتے تھے کہ بادشاہوں کو حکمرانی کرنے کا حق براہِ راست آسمانی ہے، لیکن سلطنت کے اعلیٰ طبقے کو اپنے اختیارات میں کسی حد تک شریک کر لینے میں انہیں بہت زیادہ جھجک مانع نہ ہوئی۔ اس سے پہلے کی بادشاہی تاریخ میں ہمیں ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ ویسے اختیارات کی تقسیم کے عمل کا حقیقی معنوں میں آغاز تو میگنا کارٹا کی تحریر کے ساتھ ہو چکا تھا جس میں بادشاہ کے لئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ محصول لگانے سے اپنے امرا کے ساتھ مشورہ کرے۔
1558ء میں شاہ ہنری ہشتم اور ملکہ این بولین کی بیٹی الزبتھ اول تخت نشین ہوئی۔ الزبتھ ٹیوڈور حکمرانوں کے سلسلے کی آخری کڑی تھی۔ اپنے طویل اور کامیاب دورِ حکومت کے دوران اس نے پارلیمنٹ کے ساتھ نہایت عمدہ تعلقات استوار کئے اور ہر اہم معاملے پر ان سے مشاورت کا عمل جاری رکھا۔ چودھویں صدی میں پارلیمنٹ دار الامرا (طبقہ اشراف کے نمائندے) اور دار العوام (دولتمند تاجر طبقے کے نمائندے) کے خانوں میں بٹ چکی تھی۔ پارلیمنٹ کے تعاون کے ساتھ ٹیوڈور حکمرانوں نے ایک ملا جلا آئین بھی مرتب کر لیا جس میں حکومتی سرگرمیوں کے حوالے سے رسمی اور غیررسمی قوانین شامل تھے۔ برطانوی آئین کے ارتقا کا عمل شروع ہو چکا تھا اور اسے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین، عدلیہ کے فیصلوں ، مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین اور باہمی رضامندی کے تحت مرتب کئے جانے والے ضوابط کی مدد سے آگے بڑھتے رہنا تھا۔ ٹیوڈور حکمرانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے آئین کے تحت اقتدار و اختیار میں بادشاہ کے ساتھ ساتھ اشرافیہ اور تاجر طبقے کو بھی حصہ مل گیا۔ 
1603ء میں الزبتھ کی وفات کے بعد جیمز اول سٹورٹ خاندان کے پہلے حکمران کی حیثیت سے انگلستان کے تخت پر بیٹھا۔ سٹورٹ خاندان 1371ء سے سکاٹ لینڈ پر حکمران تھا اور چونکہ الزبتھ نے ساری عمر شادی نہ کی تھی، اس لئے اس کے بعد تخت پر بیٹھنے کے لئے ٹیوڈور خاندان میں سے کوئی وارث سامنے نہ آ سکا۔ جیمز اول الزبتھ کی کزن میری ملکہ سکاٹ لینڈ کا بیٹا تھا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد اس نے سکاٹ لینڈ اور انگلستان کی بادشاہتوں کو یکجا کر دیا۔ اس یکجائی کے ساتھ جہاں سلطنت انگلستان کی سرحدوں کی وسعت میں اضافہ ہوا، وہیں ایک صدی پر محیط ہونے والی ایک چپقلش کا بھی آغاز ہو گیا۔
اس عرصے میں سخت گیر پروٹسٹنٹ طبقہ یعنی پیوریٹان (Puritan) انگلستانی کلیسا سے بیزار ہو چکا تھا۔ ان کے نزدیک اب بھی اس کلیسا میں کیتھولک اثرات بہت زیادہ غالب تھے۔ اس کے علاوہ بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان بھی ایک مناقشہ چھڑ چکا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ پارلیمنٹ اپنے لئے خودمختار حقوق کا تقاضا کر رہی تھی جبکہ بادشاہ اپنے آسمانی حق پر اڑا بیٹھا تھا۔ 1625ء میں جیمز اول کے انتقال اور اس کے بیٹے چارلس اول کے تخت پر بیٹھنے تک یہ جھگڑا چلتا رہا۔ بالآخر 1628ء میں پارلیمنٹ، چارلس اول سے ''درخواست حقوق‘‘ پر دستخط کروانے اور اس کے اختیارات محدود کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ چارلس نے پارلیمنٹ سے مدد حاصل کئے بغیر بھی حکومت چلانے کی کوشش کی لیکن جب سلطنت میں انتشار پھیلنے لگا تو مجبور ہو کر 1640ء میں اس نے ایک دفعہ پھر پارلیمنٹ کو طلب کر لیا۔ سلطنت میں پیدا شدہ بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے عنانِ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن چند اہم نکات پر اختلافات پیدا ہو جانے کے سبب کامیاب نہ ہو سکی۔ پارلیمنٹ میں موجود پیوریٹان طبقے نے ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا اور 1642ء میں خانہ جنگیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ہوا جو 1649ء میں پیوریٹان افواج کے سربراہ آلیور کرامویل کے ہاتھوں چارلس اول کی شکست پر ختم ہوا۔ آلیور کرامویل نے چارلس اول کو سزائے موت سنا کر انگلستان کو ''دولت مشترکہ‘‘ بنانے کا اعلان کر دیا۔
1649ء اور 1651ء کے درمیانی عرصے میں کرامویل نے آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں اٹھنے والی شورشوں کو فرو کیا اور انہیں بھی دولت مشترکہ میں شامل کرکے اپنی سلطنت مستحکم کر لی تاہم 1658ء میں اس کی موت کے ساتھ ہی اس کی بنائی ہوئی سلطنت زمین بوس ہو گئی۔ تب ایک مرتبہ پھر طویل پارلیمنٹ کو مجتمع کیا گیا اور چارلس اول کے بڑے بیٹے چارلس دوم کو، جو فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا، واپس بلا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔
چارلس دوم نے نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی مگر حکمرانی کا تنازعہ ہنوز باقی تھا۔ اس وقت تک پارلیمنٹ دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک حصے کا مطالبہ تھا کہ چارلس دوم کے بھائی جیمز دوم کو اس کے رومن کیتھولک عقیدے کی وجہ سے حق جانشینی سے محروم کر دیا جائے جبکہ دوسرا حصہ اس مطالبے کی مخالفت میں تھا (بعد ازاں یہی دونوں حصے آگے چل کر وِگ پارٹی اور ٹوری پارٹی کا روپ دھار گئے)۔ اس تنازعے کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور 1685ء میں اپنی موت تک چارلس اول پارلیمنٹ کی اعانت کے بغیر ہی حکومت کرتا رہا۔ اس کی موت کے بعد تخت جیمز دوم کو مل گیا اور 1688ء میں اس کے مخالفوں نے چارلس اول کی بڑی بیٹی میری کے شوہر اور ولندیز کے صوبہ دار ولیم کو دعوت دے دی کہ وہ آ کر اپنی اہلیہ کے حق وراثت کو وصول کرے۔ 
ولیم کی آمد کے ساتھ ہی جیمز سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلا۔ 1689ء میں پارلیمنٹ نے ولیم اور میری کو مشترکہ طور پر انگلستان کا تاج پہنا دیا، اس شرط پر کہ وہ مسودۂ قانونِ حقوق کی تصدیق کریں جس میں جیمز کی زیادتیوں کا تذکرہ اور مذمت کی گئی تھی۔ ایک اور قانون کے تحت پروٹسٹنٹ عقیدے کے مخالفین کو بھی مذہبی رسوم ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر یہ انقلاب اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ اس دور کے انگلستانی امرا نے اسے ''عظیم الشان انقلاب‘‘ کا نام دیا۔
سٹورٹ خاندان کے رومن کیتھولک عناصر کی واپسی کا راستہ بند کرنے کے لئے 1701ء میں پارلیمنٹ نے سیٹلمنٹ ایکٹ منظور کیا۔ اس ایکٹ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ اگر جیمز دوم کی چھوٹی بیٹی این لا ولد مر گئی تو تخت پروٹسٹنٹ عقیدے کے حامل ہینوور خاندان کو منتقل ہو جائے گا۔ اس اختصاص کی وجہ سے سکاٹ لینڈ اور انگلستان کا باہمی ربط ختم ہو گیا اور سکاٹش عوام میں غم و غصے کے جذبات پھیلنے لگے۔ انہیں ٹھنڈا کرنے کے لئے 1707ء میں یونین ایکٹ منظور کر کے سکاٹ لینڈ کو باقاعدہ انگلستان کا حصہ بنا لیا گیا اور یوں سلطنت برطانیہ عظمیٰ وجود میں آ گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ایئر فرائیر کے پوشیدہ نقصانات

ایئر فرائیر کے پوشیدہ نقصانات

کچھ غذائیں ایسی ہیں جنہیں ایئر فرائیر میں پکانا خطرناک ہو سکتا ہےایئر فرائیر آج کے دور کا ایک مقبول کچن اپلائنس بن چکا ہے، جس نے کم تیل میں تلی ہوئی اشیاء بنانے کو نہایت آسان اور صحت بخش بنا دیا ہے۔ گھروں میں لوگ تیزی سے اس جدید مشین کو اپنا رہے ہیں، تاہم ہر کھانے کی چیز اس میں پکانا مناسب نہیں ہوتا۔ ماہرین خوراک کے مطابق کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو ایئر فرائیر میں پکانے سے نہ صرف ذائقہ اور ساخت خراب ہو جاتی ہے بلکہ صحت کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بارہا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایئر فرائیر کے درست اور محفوظ استعمال کیلئے اس میں پکنے والی اور نہ پکنے والی غذاؤں کا واضح علم ہونا ضروری ہے۔آپ ایئر فرائیر میں تقریباً ہر چیز پکا سکتے ہیں۔ لیکن اگرچہ یہ زیادہ تر کھانوں کیلئے اچھا کام کرتا ہے، ماہرین کے مطابق کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جنہیں آپ کو اس میں ہرگز نہیں ڈالنا چاہیے۔ محقق جیمی ڈارو کے مطابق کچھ غذائیں ضرورت سے زیادہ گندگی پیدا کرتی ہیں اور بعض اوقات حفاظتی خطرہ بھی بن سکتی ہیں۔ پاپ کارناس فہرست میں سب سے اوپر پاپ کارن (popcorn) آتا ہے۔ اگر آپ فلم نائٹ کی تیاری کر رہے ہیں تو آپ شاید کچھ مکئی کے دانے ایئر فرائیر میں ڈالنے کا سوچیں۔ تاہم مسٹر ڈارو مشورہ دیتے ہیں کہ اس کیلئے مائیکروویو استعمال کیا جائے، ورنہ آپ کو کافی دیر انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایئر فرائیر میں پاپ کارن پکانا اکثر کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر ایئر فرائیر اتنا زیادہ درجہ حرارت حاصل نہیں کر پاتے کہ دانے پھٹ سکیں۔ مائیکروویو اس کام کو کہیں بہتر طریقے سے کرتا ہے۔ یہاں وہ مزید بتاتے ہیں کہ اور کون سی غذائیں ہیں جنہیں آپ کو اپنے ایئر فرائر میں ہرگز نہیں پکانا چاہیے۔پاستا اور پاستہ ساسیہ بات حیران کن نہیں کہ آپ ایئر فرائر میں کچا پاستا نہیں پکا سکتے، کیونکہ اسے پکانے کیئے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔اور اگرچہ پاستا کی چٹنی (Pasta Sauces) پکانا ناممکن نہیں ہے، لیکن یہ کافی گندا اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے، اس لیے شاید یہ جھنجھٹ کے قابل نہیں۔ ڈارو کے مطابق آپ ایئر فرائر میں پہلے سے پکی ہوئی پاستا اور سوس کو دوبارہ گرم (reheat) کر سکتے ہیں، لیکن اس کام کیلئے مائیکروویو زیادہ مؤثر اور بہتر طریقہ ہے۔ٹوسٹ (Toast)پاستا سوس کی طرح، ایئر فرائر میں ٹوسٹ بنانا ناممکن نہیں ہے، تاہم نتائج ''ٹوسٹر کے مقابلے میں ممکنہ طور پر مایوس کن‘‘ ہو سکتے ہیں۔ڈاروکے مطابق ایئر فرائیر روٹی کو خشک کر سکتا ہے اور بریڈ کے ٹکڑے (crumbs) پکانے کے دوران ہوا کے دباؤ کی وجہ سے باسکٹ کے نیچے پھنس سکتے ہیں۔آپ کو اسے درمیان میں پلٹنا بھی پڑے گا۔ یہ سب محنت اس کے قابل نہیں ہوتی۔چاول (Rice)پاستا کی طرح، چاول کو شروع سے پکانے کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈارو کہتے ہیں کہ ایئر فرائر ابالنے (boiling) اور بھاپ دینے (steaming) کیلئے بنیادی آلہ نہیں ہے۔ اس کیلئے بہتر ہے کہ آپ سلو کُکر یا چولہے پر برتن استعمال کریں۔دیگر غذائیںاس سے پہلے ماہرین نے ایسی غذاؤں کی فہرست بھی دی ہے جو ایئر فرائیر میں بہترین نتائج دیتی ہیں۔ بلاگر لیانا گرین، جنہوں نے ایئر فرائیر پر متعدد گائیڈز لکھی ہیں، نے بتایا کہ ایئر فرائیر میں ''ہارڈ بوائلڈ‘‘ انڈے (Hard boiled eggs) بھی بہترین طریقے سے بنائے جا سکتے ہیں۔اگرچہ ایئر فرائیر میں اُبلے ہوئے انڈے بنانا غیر معمولی لگتا ہے، لیکن یہ مستقل درجہ حرارت فراہم کرتا ہے جس سے انڈے ہر بار بہتر طریقے سے پک جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو پانی اُبالنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ گرین کے مطابق ایئر فرائر کو 150 ڈگری سینٹی گریڈ پر 8 منٹ تک چلانے سے زردی نرم رہتی ہے، جبکہ 12 منٹ تک پکانے سے سخت کیا جا سکتا ہے۔ایک اور غیر متوقع غذائی آئٹم راویولی (ravioli) ہے، جو اگرچہ پاستا کی ایک قسم ہے، لیکن ایئر فرائیر میں یہ کرسپ ہو جاتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ راویولی کو پہلے پھینٹے ہوئے انڈے اور بریڈ کرمز میں کوٹ کریں، پھر اسے ایئر فرائیر میں 175 ڈگری سینٹی گریڈ پر تقریباً 10 منٹ تک پکائیں اور درمیان میں ایک بار پلٹ دیں۔اگرچہ زیادہ تر تازہ پنیر (Fresh Cheeses) ایئر فرائر میں جلد جل جاتے ہیں، لیکن ہالوومی (halloumi) اس میں محفوظ طریقے سے پکایا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا پگھلنے کا درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ گرین کے مطابق ایئر فرائیر کی زیادہ حرارت ہالوومی کی بیرونی تہہ کو بہترین طریقے سے کرسپ کر دیتی ہے جبکہ اندر سے یہ نرم رہتا ہے۔مزیدار میڈیٹیرینین ذائقہ حاصل کرنے کیلئے اس پر تھوڑا سا شہد ڈال دیں۔ میں اسے 200 ڈگری سینٹی گریڈ پر 8 سے 10 منٹ تک ایئر فرائی کرتی ہوں۔ایئر فرائیر کے استعمال میں ہونے والی عام غلطیاںبرطانوی کمپنی ''وچ‘‘کی انرجی ایڈیٹر ایملی سیمور کہتی ہیں کہ ایئر فرائیر عموماً استعمال میں آسان ہوتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اسے استعمال کرتے ہوئے کچھ غلطیاں کرتے ہیں۔ اگر آپ مشین کو زیادہ بھر دیں یا اسے صحیح طریقے سے صاف نہ کریں تو اس کے نتیجے میں چکن اور چپس اچھی طرح نہیں پکتے یا پورا کچن دھوئیں سے بھر سکتا ہے۔ 

استنبول

استنبول

استنبول اپنے ملک کا دارالحکومت تو نہیں لیکن ترکی میں اس شہر کی اہمیت جسم میں ایک دل کی طرح ہے۔ جس طرح کسی جسم میں دل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،اسی طرح استنبول شہر نے اپنی اہمیت اور حیثیت کا لوہا منوایا ہے۔ 2010ء میں اس شہر کو یورپ کے کلچر کا دارالخلافہ قرار دیا گیا۔ استنبول ایک ایسا شہر ہے جس کی نظیر روئے زمین پر کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں ہر طرف مظاہر قدرت اپنے جوبن پر نظر آتے ہیں۔ حّد نگاہ تک پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلے ہوں یا بحرمر مر اور آبنائے باسفورس کا بنا ہوا ہالا، سب نے اس شہر کے گلے میں اپنے بازو دراز کر رکھے ہیں۔ یہ ایک ایسا بے مثال شہر ہے جہاں مشرق و مغرب باہم بغلگیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ استنبول کے ایک طرف یورپ ہے تو دوسری طرف ایشیا، مشرقی طرف بحرئہ اسود ہے تو مغربی سمت بحر ئہ مر مر اور درمیان میں ایک ملکہ کا روپ دھارے آبنائے باسفورس محو رقص ہے۔ غرضیکہ استنبول شہر کے اطراف فطرت اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ گلہائے رنگ بکھیرے اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ استنبول نہ صرف یورپ اور ایشیاکا گیٹ وے ہے بلکہ اسی مقام پر آبنائے باسفورس پورے مشرقی یورپ کے درجن بھر ممالک کیلئے ایک اہم رول ادا کر رہی ہے۔ یہ حقیقت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ آبنائے باسفورس سے 48ہزار سے زائد جہاز سالانہ گرزتے ہیں۔اس حقیقت سے اس بات کااندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مشرقی یورپ بشمول روس کی معیشت کا انحصار کس قدر آبنائے باسفورس پر ہے۔ گویا کہ آبنائے باسفورس ان بیسیوں ممالک کی ترقی میں ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ آبنائے باسفورس استنبول کے درمیان سے گزرتی ہوئی یورپ اور ایشیاکے درمیان ایک حّد فاصل کا کردار ادا کرتی ہے۔ ان مشرقی یورپ کے ممالک کے کھلے سمندروں میں جانے کا بحر اسود کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔ اس لیے ان کے بحری جہازوں کی گزر گاہ سے ترکی کو کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہو رہی ہے اور آبنائے باسفورس کے تالے کی چابی کی ملکیت کا اعزاز الگ ہے۔ استنبول کا شہر دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک یورپی حصہ اور دوسرا ایشیائی۔ ایشائی حصے کو شاخ زریں (Golden Horn )مزید دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ شہر کا قدیمی حصہ اسی علاقے میں واقع ہے۔ جہاں پر استنبول کی 65فیصد آبادی رہائش پذیر ہے۔ جبکہ ترکی کی 18فیصد آبادی صرف استنبول شہر میں آباد ہے۔ کیونکہ استنبول کا شہر یورپی ایشیائی حصوں اور سمندر میں گھرا ہوا ہے۔ اس لیے استنبول شہر کو''اے کلچرل سٹی آف سی، سن اینڈ سینڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ گویا کہ یہ شہر بحرو بر کا جا مع ہے۔ اگر گھنی آبادی اور پہاڑوں سے جب کبھی جی بھر جائے تو آبنائے باسفورس کے ساحل پر آکر لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ بحیرۂ مرمر اور گولڈن ہارن ہی آبنائے باسفورس کا مقام آغاز ہے جو بحیرۂ مرمر اور بحیرۂ اسود کو آپس میں ملاتی ہے۔ استنبول کی زیادہ تر آبادی ایشیائی حصہ میں مقیم ہے اور یورپی حصہ میں کاروباری مراکز اور دفاتر قائم ہیں۔ تاریخی نوادرات ایشیائی حصہ میں موجود ہیں۔ روزانہ تقریباً20لاکھ افراد کاروبار اور ملازمت کی غرض سے ایشیائی حصہ سے یورپی حصے کی طرف جاتے ہیں اور شام کو واپس ایشیاآ جاتے ہیں۔ آبنائے باسفورس پر بنے ہوئے معلق پلوں کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں کشتیاں اور فیری باسفورس کے دونوں اطراف لوگوں کو بہترین ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔ استنبول شہر کی کڑیاں گزشتہ اڑھائی ہزار سالوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس شہر نے یہاں تاریخ کو بنتے بھی دیکھا اور بگڑتے بھی۔ اس شہر پر دنیا کی عظیم طاقتوں اور تہذیبوں کا غلبہ رہا۔ جن کے آثار تاریخ کے اوراق کی صورت میں آج بھی شہر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ اس شہر پر 300 ق م باز نطینوں کا کنٹرول رہا۔ بازنطینی حکمرانوں نے اس شہر کو باز نطیم کا نام دے کر اسے اپنا پائیہ تخت بنایا۔ ان کی حکومت کئی صدیوں تک رہی۔ اس کے بعد اہل روما ایک عقاب کی طرح اس شہر پر جھپٹے اور انھوں نے ایک ہزار سال تک حکمرانی کے مزے لوٹے۔ شہنشاہ کنسٹنٹائین (Constintine) نے اس شہر کا نام قسطنطنیہ رکھ دیا اور اسے روم کی طرح سات پہاڑوں پر نئے سرے سے تعمیر کیا اور اس شہر کو مشرقی روم کا دارالخلافہ بنایا۔ ایا صوفیہ جیسے مشہور زمانہ گرجاگھر کی تعمیر ہوئی جسے اس وقت کے معماروں نے دنیاکا ایک عجوبہ قرار دیا۔ اسے خلافت عثمانیہ کے دور میں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ مسلما ن اور عیسائیوں، دونوں کی مشترکہ میراث ہے۔ اس میں بازنطینی طرز تعمیر کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ پر شکوہ عمارت رومی سلطنت اور دبدبے کی مظہر ہے۔ جس میں عثمانی سلاطین کی مذہبی رواداری کی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ گو کہ ایا صوفیہ عثمانی دور سے ایک ہزار سال قبل تعمیر ہوئی تھی لیکن اُس کا نقشہ اور ڈیزائن مسجد سے ملتا جلتاہے۔ دور سے دیکھنے میں یہ مسجد ہی معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے اس چرچ کو عثمانی سلاطین نے حقیقی معنوں میں مسجد میں تبدیل کر دیا اور چار میناروں کا اضافہ بھی کیا۔عثمانی حکمرانوں نے اپنے دور میں استنبول میں ایسی یادگار عمارتیں تعمیر کیں جن کی چمک دمک آج بھی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔ ان میں سلطان احمد مسجد، سلیمانیہ مسجد، ینئی مسجد، توپ کاپی محل (میوزیم)، آج بھی اپنے حکمرانوں کی استنبول شہر سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور یہ سب عمارتیں اس دور میں تعمیر کی گئیں جب سولھویں، سترھویں صدی میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی۔ استنبول دُنیا کی چار عظیم سلطنتوں کا دارالخلافہ رہا:1۔ رومن سلطنت 330ء تا395ء تک 2۔بازنطین سلطنت 395ء سے1204ء اور 1261ء سے 1453ء تک3 ۔ لاطینی سلطنت 1204ء سے 1261ء4 ۔ عثمانی سلطنت 1453ء سے 1922ء تک  

آج کا دن

آج کا دن

یورپی خلائی ایجنسی کا قیام30مئی1975ء میں یورپی خلائی ایجنسی قائم کی گئی۔ یہ ادارہ یورپ کے مختلف ممالک کے اشتراک سے خلا اور سائنسی تحقیق کے فروغ کیلئے بنایا گیا۔ اس ایجنسی کا مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا، مصنوعی سیارے تیار کرنا، زمین اور خلا کے بارے میں تحقیق کرنا اور انسانیت کی بہتری کیلئے جدید سائنسی منصوبے مکمل کرنا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی نے موسمیاتی تبدیلی، مواصلاتی نظام، نیویگیشن اور خلائی مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج یہ دنیا کے اہم خلائی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور بین الاقوامی خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔لندن معاہدہ1913 میں معاہدہ لندن پر دستخط کیے گئے، جس کے نتیجے میں پہلی بلقان جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ جنگ بلقان اتحادی ممالک اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان لڑی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت عثمانی سلطنت نے یورپ میں اپنی بیشتر سرزمین کھو دی اور اینوس سے میڈیا تک ایک فرضی لکیر کے مغرب میں واقع تمام علاقے چھوڑ دیے۔ اسی معاہدے کے نتیجے میں البانیہ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ معاہدہ یورپ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے بلقان کے خطے کی سیاسی صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا۔مزدور تحریکجمہوریہ چین کے درمیانی دور میں سامراج کی مخالفت میں مزدوروں کی ایک تحریک شروع ہوئی۔اس تحریک کو ''مئی30 تحریک‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس کا آغاز اس وقت ہوا جب شنگھائی میونسپل پولیس نے 30 مئی 1925ء کومظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق ہوئے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کی گئی اور ملک بھر میں اس آپریشن کے خلاف مظاہرے ہوئے جس میں مقامی لوگوں کے ساتھ غیرملکیوں نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ آکلینڈ ہاربر برج کا افتتاح1959 میں نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں واقع آکلینڈ ہاربر برج کو باضابطہ طور پر عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ یہ پل وائٹیماتا ہاربر کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا اور اس نے شہر کے مختلف حصوں کے درمیان آمدورفت کو بہت آسان بنا دیا۔ اس تاریخی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی نیوزی لینڈ کے گورنر جنرل چارلس لٹلٹن، دسویں وائسکاؤنٹ کوبھم نے افتتاحی تقریب انجام دی۔ یہ پل جدید انجینئرنگ کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے اور آج بھی آکلینڈ کی پہچان مانا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر نے تجارت، سفر اور شہری ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا۔ڈریگن ڈیمو22020 میں خلائی مشن ''ڈریگن ڈیمو 2‘‘ کو امریکا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا۔ یہ مشن اس لحاظ سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ 2011 ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی انسان بردار خلائی جہاز نے امریکا کی سرزمین سے مدار میں پرواز کی۔ اس مشن کے ذریعے خلابازوں ڈگلس ہرلی اور رابرٹ بیہنکن کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک پہنچایا گیا۔ یہ پہلا تجارتی خلائی مشن بھی تھا جس نے نجی کمپنی کی مدد سے انسانوں کو خلا میں پہنچایا۔ اس کامیابی نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور نجی خلائی کمپنیوں کے کردار کو مزید مضبوط بنایا۔ دنیا بھر میں اس مشن کو سائنسی ترقی کا عظیم کارنامہ قرار دیا گیا۔ 

حیرت انگیز نقشہ، زمین کے حیران کن انکشافات

حیرت انگیز نقشہ، زمین کے حیران کن انکشافات

دنیا کے وہ شہر جو فاصلے میں دور مگرایک ہی لائن(عرض بلد) پر واقع ہیںدنیا کے مختلف شہر اگرچہ اپنی ثقافت، موسم اور طرزِ زندگی میں ایک دوسرے سے بہت مختلف نظر آتے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ شہر جغرافیائی طور پر ایک ہی عرضِ بلد (Latitude) پر واقع ہوتے ہیں۔ جدید نقشہ جات اور سا ئنسی تحقیق یہ دلچسپ حقیقت سامنے لائی ہے کہ بظاہر دور دکھائی دینے والے شہر دراصل زمین کے ایک ہی فرضی خط پر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر نیویارک اور میڈرڈ جیسے بڑے شہر ایک ہی عرضِ بلد پر واقع ہیں، جس سے ان کے موسم اور دن رات کے اوقات میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ انکشاف جغرافیہ اور انسانی رہائش کے درمیان تعلق کو سمجھنے کیلئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے آبائی شہر کو نقشے پر آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دنیا کے کونسے شہر اسی عرضِ بلد پر واقع ہیں؟ ایک نیا انٹر ایکٹونقشہ: (vicnaum.github.io/parallel-cities) یہ دلچسپ امکان فراہم کرتا ہے کہ آپ دیکھ سکیں کہ دنیا بھر میں آپ کے شہر کے برابر کون کونسے مقامات موجود ہیں۔اس نقشے کے مطابق لاہور، شنگھائی اور قاہرہ31° شمالی عرضِ بلد پر واقع ہیں، جبکہ کراچی اور تائیوان کا دارالحکومت تے پائی 25.1° شمالی عرضِ بلد پر ایک ہی خط میں آتے ہیں۔اسی طرح نیویارک اور میڈرڈ 40.9° شمالی عرضِ بلد پر موجود ہیں، جن کے ساتھ نیپلز، استنبول اور بیجنگ بھی اسی لائن میں شامل ہیں۔جنوبی نصف کرے میں بوئنوس آئرس اور پرتھ 32.2° جنوبی عرضِ بلد پر ایک دوسرے کے متوازی واقع ہیں۔یہ نقشہ ایک ایکس صارف(@vicnaum) کی تخلیق ہے جن کا کہنا ہے کہ ا س سادہ ویب سائٹ کے ذریعے لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے شہر ایک ہی متوازی خط پر ہیں، اور ساتھ ہی دوسرے نصف کرے میں اس کا عکس بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آپ ان مقامات پر تقریباً یکساں سورج کی روشنی کے اوقات کی توقع کر سکتے ہیں (یعنی دن اور رات کی لمبائی میں مشابہت)۔ اس نقشے کو آزمانے والے صارفین نے اپنی دلچسپ آرا آن لائن شیئر کی ہیں۔ایک شخص نے تبصرہ کیا کہ انہیں انٹارکٹیکا جتنی ہی سورج کی روشنی ملتی ہے۔ایک صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اورلینڈو اور دہلی ایک ہی عرضِ بلد پر ہیں۔ ایک اور شخص نے لکھا کہ جب آپ شکاگو میں سردی سے کانپ رہے ہوں تو یاد رکھیں کہ یہ میڈرڈ کے برابر عرضِ بلد پر ہے۔ دیگر متوازی مقامات میں لندن اور کینیڈا کا شہر سسکاٹون شامل ہیں، دونوں 52.1° شمالی عرضِ بلد پر واقع ہیں۔ اسی طرح اینڈورا ، شکاگو کے برابر عرضِ بلد پر ہے۔برازیل کا شہر ریو ڈی جنیرو آسٹریلوی شہر ایلس اسپرنگز کے متوازی ہے۔ایک ہی عرضِ بلد پر واقع مقامات پر عموماً دن یکساں طوالت کے ہوتے ہیں تاہم ان مقامات پر سورج طلوع اور غروب ایک ہی وقت پر نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں لازمی طور پر سورج کی ایک جیسی روشنی ملتی ہے کیونکہ اس کا انحصار موسمی حالات پر بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر جیسے جیسے آپ خطِ استوا سے دور جاتے ہیں دن اور رات کے اوقات میں موسمی تبدیلیاں زیادہ واضح اور شدید ہوتی جاتی ہیں۔ اسی طرح سورج کے طلوع اور غروب کا اصل وقت اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ کوئی جگہ مشرق یا مغرب میں کتنی دور ہے۔دوسری جانب ماہرین نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ Mercator Projection جو دنیا بھر میں عام طور پر تجارتی اور تعلیمی نقشوں کیلئے استعمال ہوتا ہے، دراصل زمین کی اصل جسامت کو درست انداز میں ظاہر نہیں کرتا بلکہ اس میں کافی بگاڑ پایا جاتا ہے۔اس نقشے میں شمالی امریکہ اور روس کو افریقہ کے برابر یا اس سے بڑا دکھایا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں افریقہ شمالی امریکہ سے تقریباً تین گنا بڑا ہے اور روس سے بھی کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے۔ برطانوی سائنسدانوں کا نیا نقشہ دکھاتا ہے کہ کئی ممالک جن میں روس، کینیڈا اور گرین لینڈ شامل ہیں حقیقت میں اس قدر بڑے نہیں جتنے عام طور پر محسوس ہوتے ہیں۔گزشتہ سال افریقی ممالک نے مطالبہ کیا کہ دنیا کے بگڑے ہوئے نقشے کو دوبارہ بنایا جائے تاکہ براعظم افریقہ کا اصل حجم درست طور پر ظاہر ہو سکے۔ افریقن یونین نے اس مہم کی حمایت کی ہے جس کا مقصد حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے 16ویں صدی کے Mercator Projection کے استعمال کو ختم کرنا ہے اور اس کی جگہ ایسا نقشہ اپنانا ہے جو افریقہ کے اصل سائز کو زیادہ درست انداز میں دکھا سکے۔ 55 ممالک پر مشتمل اس بلاک نے اس نقشے پر اعتراض کیا ہے کہ یہ براعظموں کے سائز کو غلط پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ نقشہ قطبین کے قریب علاقوں، جیسے شمالی امریکہ اور گرین لینڈ کو غیر حقیقی طور پر بڑا دکھاتا ہے جبکہ افریقہ اور جنوبی امریکہ جیسے بڑے براعظموں کو نسبتاً چھوٹا ظاہر کرتا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ بگاڑ افریقہ کے اصل حجم اور اہمیت کو کم کرتا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ کو غیر متناسب طور پر بڑا دکھا کر ان کی وسعت کو حقیقت سے زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منفی تصورات میڈیا، تعلیم اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مہم چلانے والوں کے مطابق نقشے میں افریقہ کا کم دکھایا جانا اس کے جغرافیائی اور معاشی کردار کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے، جو عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرتا ہے۔

’’ٹاول ڈے‘‘ایک منفرد ادبی اور ثقافتی روایت

’’ٹاول ڈے‘‘ایک منفرد ادبی اور ثقافتی روایت

دنیا بھر میں ہر سال 25 مئی کو ‘‘ٹاول ڈے'' منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ دن ایک عام تولیے سے منسوب محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے ادب، مزاح، سائنس فکشن اور تخلیقی سوچ کی ایک دلچسپ داستان موجود ہے۔ یہ دن معروف برطانوی مصنف Douglas Adams کے مداحوں کی جانب سے ان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ڈگلس ایڈمز نے اپنی مشہور تصنیف '' The Hitchhikers Guide To The Galaxy‘‘ کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور لاکھوں قارئین کو اپنے منفرد اندازِ تحریر سے متاثر کیا۔ٹاول ڈے کی ابتدا 2001ء میں ہوئی، جب ڈگلس ایڈمز اچانک دل کا دورہ پڑنے سے 49برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے مداحوں نے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا اور فیصلہ کیا کہ ہر سال 25 مئی کو لوگ اپنے ساتھ تولیہ رکھ کر ان کی یاد تازہ کریں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ روایت دنیا کے مختلف ممالک میں مقبول ہوگئی اور آج سوشل میڈیا، ادبی حلقوں اور سائنس فکشن کے شائقین میں بھرپور جوش و خروش سے منائی جاتی ہے۔ڈگلس ایڈمز کے ناول میں تولیہ ایک غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کائنات میں سفر کرنے والے شخص کیلئے تولیہ سب سے کارآمد چیز ہے۔ یہ نہ صرف روزمرہ استعمال میں آتا ہے بلکہ مشکل حالات میں مددگار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی تصور نے تولیے کو محض ایک عام کپڑے سے بڑھا کر ذہانت، تیاری اور مزاح کی علامت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹاول ڈے پر لوگ اپنے کندھوں یا گردن پر تولیہ ڈال کر گھومتے ہیں اور اس ادبی روایت سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہیں۔''ٹاول ڈے‘‘ صرف ایک ادبی دن نہیں بلکہ تخلیقی سوچ، مطالعے کے شوق اور فنونِ لطیفہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ آج کے دور میں جب نوجوانوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات میں کھو چکی ہے، ایسے مواقع انہیں کتابوں کی دنیا کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ڈگلس ایڈمز کی تحریروں میں مزاح کے ساتھ ساتھ فلسفہ، سائنس اور انسانی رویوں پر گہری سوچ بھی پائی جاتی ہے، جو قاری کو تفریح کے ساتھ علم بھی فراہم کرتی ہے۔اس دن مختلف ممالک میں تقریبات، ادبی نشستیں، کتابوں کی نمائشیں اور آن لائن مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگ ڈگلس ایڈمز کی کتابوں سے اقتباسات شیئر کرتے ہیں، ان کے مشہور جملوں کو یاد کرتے ہیں اور سائنس فکشن ادب پر گفتگو کرتے ہیں۔ بعض تعلیمی ادارے طلبہ کو مطالعے کی اہمیت سمجھانے کیلئے بھی اس دن کو استعمال کرتے ہیں۔ یوں ''ٹاول ڈے‘‘ ادب اور تعلیم دونوں کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔ٹاول ڈے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بظاہر چھوٹی اور سادہ چیزیں بھی بڑی معنویت رکھ سکتی ہیں۔ ایک عام تولیہ جو روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتا ہے، ادب کے ذریعے عالمی ثقافتی علامت بن گیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تخلیقی سوچ انسان کو عام چیزوں میں بھی غیر معمولی معنی تلاش کرنے کا ہنر عطا کرتی ہے۔پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نوجوان نسل اب سائنس فکشن ادب کی طرف دلچسپی لینے لگی ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں اس صنف کو ماضی میں زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور عالمی ادب تک آسان رسائی نے نوجوانوں میں نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔ ٹاول ڈے جیسے عالمی دن نوجوانوں کو مطالعے، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں، جو ایک مثبت رجحان ہے۔ڈگلس ایڈمز کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی سوچ کو وسیع کرنے کا طاقتور وسیلہ بھی ہے۔ انہوں نے اپنے مزاحیہ انداز میں انسانی کمزوریوں، سماجی رویوں اور کائناتی تصورات کو اس مہارت سے بیان کیا کہ قاری ہنستے ہوئے بھی گہری بات سمجھ لیتا ہے۔ یہی کامیاب ادب کی پہچان ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ''ٹاول ڈے‘‘ محض ایک تفریحی یا غیر رسمی دن نہیں بلکہ ادب، تخلیقی صلاحیت اور علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک منفرد روایت ہے۔ یہ دن ہمیں کتابوں سے محبت اور علم کی قدر کا احساس دلاتا ہے۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل میں مطالعے کی عادت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ایسے ادبی اور ثقافتی مواقع کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

دھوبی

دھوبی

علی گڑھ میں نوکرکوآقا ہی نہیں ''آقائے نامدار‘‘ بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جو آج کل خود آقا کہلاتے ہیں بمعنی طلبہ! اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ نوکرکا کیا درجہ ہے۔ پھرایسے آقا کا کیا کہنا ''جو سپید پوش‘‘ واقع ہو۔ سپید پوش کا ایک لطیفہ بھی سن لیجئے۔ آپ سے دور اور میری آپ کی جان سے بھی دور ایک زمانے میں پولیس کا بڑا دور دورہ تھا اسی زمانہ میں پولیس نے ایک شخص کا بدمعاشی میں چالان کر دیا کلکٹر صاحب کے یہاں مقدمہ پیش ہوا۔ ملزم حاضر ہوا تو کلکٹر صاحب دنگ رہ گئے۔ نہایت صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے صورت شکل سے مرد معقول بات چیت نہایت نستعلیق کلکٹر صاحب نے تعجب سے پیشکار سے دریافت کیا کہ اس شخص کا بدمعاشی میں کیسے چالان کیا گیا دیکھنے میں تو یہ بالکل بدمعاش نہیں معلوم ہوتا! پیشکار نے جواب دیا حضور! تامل نہ فرمائیں یہ سفید پوش بدمعاش ہے!‘‘ لیکن میں نے یہاں سفید پوش کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ میں نے آج تک کسی دھوبی کو میلے کپڑے پہنے نہیں دیکھا۔ اور نہ اس کو خود اپنے کپڑے پہنے دیکھا۔ البتہ اپنا کپڑا پہنے ہوئے اکثر دیکھا ہے بعضوں کو اس پر غصہ آیا ہوگا کہ ان کا کپڑا دھوبی پہنے ہو۔ کچھ اس پر بھی جز بز ہوئے ہوں گے کہ خود ان کو دھوبی کے کپڑے پہننے کا موقع نہ ملا۔ میں اپنے کپڑے دھوبی کو پہنے دیکھ کر بہت متاثر ہوا ہوں۔ کہ دیکھئے زمانہ ایسا آگیا کہ یہ غریب میرے کپڑے پہننے پر اتر آیا گو اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اپنی قمیص دھوبی کو پہنے دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں افتخار بھی محسوس کیا ہے۔ اپنی طرف سے نہیں تو قمیص کی طرف سے۔ اس لیے کہ میرے دل میں یہ وسوسہ ہے کہ اس قمیص کو پہنے دیکھ کر مجھے در پردہ کسی نے اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو گا۔ ممکن ہے خود قمیص نے بھی اچھی نظر سے نہ دیکھا ہو۔دھوبی کپڑے چراتے ہیں بیچتے ہیں کرائے پر چلاتے ہیں، گم کرتے ہیں، کپڑے کی شکل مسخ کردیتے ہیں، پھاڑ ڈالتے ہیں یہ سب میں مانتا ہوں اور آپ بھی مانتے ہوں گے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہمارے آپ کے کپڑے اکثر ایسی حالت میں اترتے ہیں کہ دھوبی کیا کوئی دیوتا بھی دھوئے تو ان کو کپڑے کی ہیئت و حیثیت میں واپس نہیں کرسکتا۔ مثلاً غریب دھوبی نے ہمارے آپ کے ان کپڑوں کو پانی میں ڈالا ہو میل پانی میں مل گیا اللہ اللہ خیر سلا جیسے خاک کا پتلا خاک میں مل جاتا ہے خاک خاک میں آگ آگ میں پانی پانی میں اور ہوا ہوا میں۔ البتہ ان کپڑے پہننے والوں کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے کپڑے کو تو اپنی شخصیت میں جذب کر لیا اور شخصیت کو کثافت میں منتقل کر دیا۔ مثلاً لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی! اور یہی کثافت ہم دنیا داروں کو قمیص، پگڑی اور شلوار میں نظر آتی ہو۔ یہ بات میں نے کچھ یوں ہی نہیں کہہ دی ہے۔ اونچے قسم کے فلسفے میں آیا ہے کہ عرض بغیر جوہر کے قائم رہ سکتا ہے اور نہ بھی آیا ہو تو فلسفیوں کو دیکھتے یہ بات کبھی نہ کبھی ماننی پڑے گی۔دھوبی کے ساتھ ذہن میں اوربہت سی باتیں آتی ہیں مثلاً گدھا، رسی، ڈنڈا، دھوبی کا کتا، دھوبن (میری مراد پرند سے ہے) استری (اس سے بھی میری مراد وہ نہیں ہے جو آپ سمجھتے ہیں) میلے ثابت پھٹے پرانے کپڑے وغیرہ۔ ممکن ہے آپ کی جیب میں بھولے سے کوئی ایسا خط رہ گیا ہو جس کو آپ سینے سے لگا رکھتے ہوں لیکن کسی شریف آدمی کو نہ دکھا سکتے ہوں اور دھوبی نے اسے دھو پچھاڑ کر آپ کا آنسو خشک کرنے کیلئے بلاٹنگ پیپر بنا دیا ہو یا کوئی یونانی نسخہ آپ جیب میں رکھ کر بھول گئے ہوں اوردھوبی اسے بالکل ''صاف نمودہ‘‘ کر کے لایا ہو۔لڑائی کے زمانے میں جہاں اور بہت سی دشواریاں ہیں۔ وہاں یہ آفت بھی کم نہیں کہ بچے کپڑے پھاڑتے ہیں عورتیں کپڑے سمیٹتی ہیں۔ دھوبی کپڑے چراتے ہیں دوکاندار قیمتیں بڑھاتے ہیں اور ہم سب کے دام بھگتے ہیں۔ لڑائی کے بعد زندگی کی ازسر نو تنظیم ہو یا نہ ہو کوئی تدبیرایسی نکالنی پڑے گی کہ کپڑے اوردھوبی کی مصیبتوں سے نوع انسانی کو کلیتہً نجات نہ بھی ملے تو بہت کچھ سہولت میسر آ جائے۔کپڑے کا مصرف پھاڑنے کے علاوہ حفاظت، نمائش اور ستر پوشی ہے میراخیال ہے کہ یہ باتیں اتنی حقیقی نہیں ہیں جتنی ذہنی یا رسمی۔ سردی سے بچنے کی ترکیب تویونانی اطبا اور ہندوستانی سادھو جانتے ہیں ایک کشتہ کھاتا ہے دوسرا جسم پر مل لیتا ہے۔ نمائش میں ستر پوشی اور ستر نمائی دونوں شامل ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ستر کے رقبہ پر کنٹرول عائد کر دیا جائے تو کپڑا یقیناً کم خرچ ہو گا اور دیکھ بھال میں بھی سہولت ہو گی۔ جنگ کے دوران میں یہ مراحل طے ہو جاتے تو صلح کا زمانہ عافیت سے گزرتا۔لیکن اگرایسا نہ ہو سکے تو پھردنیا کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ تمام سائنس دانوں اور کاریگروں کو جمع کر کے قوم کی اس مصیبت کو ان کے سامنے پیش کریں کہ آئندہ سے لباس کے بجائے ''انٹی دھوبی ٹینک‘‘ کیوں کر بنائے اوراوڑھے پہنے جا سکتے ہیں۔ اگریہ ناممکن ہے اوردھوبیوں کے پھاڑنے پچھاڑنے اور چرانے کے پیدائشی حقوق مجروح ہونے کا اندیشہ ہو جس کو دنیا کی خدا ترس حکومتیں گوارا نہیں کر سکتیں یا بعض بین الاقوامی پیچیدگیوں کے پیش آنے کا اندیشہ ہے تو پھر رائے عامہ کو ایسی تربیت دی جائے کہ لباس پہننا ہی یک قلم موقوف کر دیا جائے۔ اورتمام دھوبیوں کو کپڑا دھونے کے بجائے بین الاقوامی معاہدوں اورہندوستان کی تاریخوں کودھونے پچھاڑنے اور پھاڑنے پرمامورکردیا جائے۔