سلطنت ِ برطانیہ کا ظہور
اسپیشل فیچر
برطانیہ کی تاریخ یوں تو نہایت طویل اور دلچسپ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے کہ برطانیہ کی جمہوری تاریخ کی ایک مکمل تصویر آپ کے سامنے کھنچ جائے۔
سب سے پہلے یہ جان لیجئے کہ وہ سیاسی تبدیلیاں جنہوں نے جزائر برطانیہ کو ان کی موجودہ شکل سے نوازا، ان کا آغاز 1536ء میں ویلز اور انگلستان کے ادغام سے ہوا، 1707ء میں سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ کی پارلیمانوں نے ''ایکٹ آف یونین‘‘ منظور کر کے ان دونوں سلطنتوں کو ایک کر دیا، اور 1800ء میں آئرلینڈ بھی ایسے ہی ایک ایکٹ کے ذریعے اس سلطنت کا حصہ بن گیا جس کا نام ''برطانیہ عظمیٰ اور آئر لینڈ کی سلطنت متحدہ‘‘ رکھا گیا۔ چار الگ الگ قوموں کے انضمام سے وجود میں آنے والی یہ سلطنت آج بھی چار بڑے ثقافتی خطوں میں منقسم ہے۔ 1922ء میں آئرلینڈ، ماسوائے شمالی آئرلینڈ کی چھ کاؤنٹیوں کے، متحدہ سلطنت سے علیحدہ ہو گیا۔ تب اس سلطنت کا نام بدل کر ''برطانیہ عظمیٰ اور شمالی آئرلینڈ کی متحدہ سلطنت‘‘ رکھ دیا گیا۔
برطانیہ میں آج جو پارلیمانی جمہوریت رائج ہے اور جس نے دنیا کے کئی ممالک کے نظامِ حکومت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں ، اس کا بیج برطانوی تاریخ کے ایک ایسے دور میں بویا گیا جو اپنی شورشوں اور ہنگامہ آرائیوں کے طفیل تاریخ دانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بحیثیت مجموعی اس دور کو ''انقلابِ برطانیہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے جو 1640ء سے 1660ء تک جاری رہا۔ اس انقلاب کا سبب بننے والے حالات و عوامل کی جڑیں سولہویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سولہویں صدی میں بادشاہت اور برطانوی پارلیمنٹ کے درمیان سیاسی اقتدار کی چپقلش کا آغاز ہوا۔ اس دور میں ایک بنیادی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ مفکرین نے ان نظریات و تصورات کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر دیا جو برطانوی شاہی تخت کو سنبھالے ہوئے تھے۔ سولہویں صدی کے آغاز کے انگلستان پر اس طبقہ اشرافیہ کی حکومت تھی جس کے ارکان کا خیال تھا کہ وہ زمین پر خدا کے نائب ہیں، انہیں عوام پر حکمرانی کرنے کا حق دیا گیا ہے اور معاشرے کی سیاسی و سماجی تقسیم کو ایسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔
ویسے پارلیمنٹ 1265ء میں وجود میں آ چکی تھی۔ ابتداً اس کی حیثیت ایک ادارے کے بجائے ایک تقریب کی سی تھی جس میں مختلف اضلاع کے نمائندوں کو سرکاری طور پر ایک جگہ بلایا جاتا تھا۔ اس سے پہلے ایسے اجتماع کو جاگیرداری کونسل کہا جاتا تھا۔ پارلیمنٹ اسی کونسل کی ترقی یافتہ اور بڑی شکل تھی۔ ہنری سوم کے بیٹے ایڈورڈ اول نے حقیقی معنوں میں پارلیمنٹ کو ترقی دی اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ چودھویں صدی میں پارلیمنٹ کو دار الامرا اور دار العوام میں تقسیم کر دیا گیا اور محصولات کے نفاذ اور قوانین کی تیاری میں اس کا عمل دخل بڑھنے لگا۔ 1337ء میں ایڈورڈ سوم نے فرانس کے خلاف ''صد سالہ جنگ‘‘ کا آغاز کیا۔ انجام کار یہ جنگ ناکامی سے دوچار ہوئی لیکن اس کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ایڈورڈ سوم نے جب ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو پارلیمنٹ کو سودے بازی کرنے اور کچھ حقوق و مراعات حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔
اس سے پہلے 1332ء میں برصغیر میں طاعون کی وبا کا آغاز ہو چکا تھا۔ برصغیر سے یہ وبا چین تک پہنچی اور 1343ء میں جب ''سنہرے غول‘‘ کے منگولوں نے جزیرہ نما کریمیا میں ایک تجارتی قصبے کا محاصرہ کر رکھا تھا، ان میں بھی یہ وبا پھیل گئی۔ محصور شہر سے نکل بھاگنے والے یورپی تاجروں کے ذریعے ہلاکت کی یہ سیاہ پیامبر یورپ تک بھی آ پہنچی۔ 1349ء میں اس کا دائرۂ اثر پھیلتا ہوا انگلستان کی سرحدوں میں داخل ہو گیا، اور جب تک یہ بھیانک بلا ٹلتی، انگلستان کی کم و بیش نصف آبادی اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔
اس غیر متوقع اور انتہائی شدید آفت کی بدولت انگلستان میں محنت کشوں کا کال پڑ گیا۔ ملک کی ڈانواں ڈول معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے جب بادشاہ نے کام کرنے والوں کے معاوضے منجمد کرنے کی کوشش کی تو مزدور پیشہ طبقے میں بے چینی پھیل گئی۔ اس سے پہلے تک انگلستان میں مزارعے ایک طرح سے زمیندار کے غلام ہوا کرتے تھے۔ زمیندار اگر زمین بیچتا تو اس کے ساتھ اس پر کام کرنے والوں کا بھی سودا کر لیتا۔ ان لوگوں کو اپنے زمیندار کی مرضی کے بغیر شادی کرنے اور پیشہ بدلنے کا اختیار نہ تھا اور اس سے اجازت لئے بغیر وہ گاؤں تو کیا، اپنا قطعہ اراضی تک چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ مندرجہ بالا شاہی اقدام کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی کی بدولت جاگیردارانہ ناانصافیوں کے خلاف ایک تحریک شروع ہوئی جس کے ثمرات اگلی صدی میں اس نظام کے خاتمے کی صورت میں سامنے آئے۔
سولہویں صدی میں ٹیوڈر حکمرانوں نے طبقہ شاہی، طبقہ اشراف اور طبقہ تاجران کے درمیان ربط ضبط بڑھانے اور تعاون کو مزید فروغ دینے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ ٹیوڈور بھی بادشاہوں کے اس نظریئے پر یقین رکھتے تھے کہ بادشاہوں کو حکمرانی کرنے کا حق براہِ راست آسمانی ہے، لیکن سلطنت کے اعلیٰ طبقے کو اپنے اختیارات میں کسی حد تک شریک کر لینے میں انہیں بہت زیادہ جھجک مانع نہ ہوئی۔ اس سے پہلے کی بادشاہی تاریخ میں ہمیں ایسی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ ویسے اختیارات کی تقسیم کے عمل کا حقیقی معنوں میں آغاز تو میگنا کارٹا کی تحریر کے ساتھ ہو چکا تھا جس میں بادشاہ کے لئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ محصول لگانے سے اپنے امرا کے ساتھ مشورہ کرے۔
1558ء میں شاہ ہنری ہشتم اور ملکہ این بولین کی بیٹی الزبتھ اول تخت نشین ہوئی۔ الزبتھ ٹیوڈور حکمرانوں کے سلسلے کی آخری کڑی تھی۔ اپنے طویل اور کامیاب دورِ حکومت کے دوران اس نے پارلیمنٹ کے ساتھ نہایت عمدہ تعلقات استوار کئے اور ہر اہم معاملے پر ان سے مشاورت کا عمل جاری رکھا۔ چودھویں صدی میں پارلیمنٹ دار الامرا (طبقہ اشراف کے نمائندے) اور دار العوام (دولتمند تاجر طبقے کے نمائندے) کے خانوں میں بٹ چکی تھی۔ پارلیمنٹ کے تعاون کے ساتھ ٹیوڈور حکمرانوں نے ایک ملا جلا آئین بھی مرتب کر لیا جس میں حکومتی سرگرمیوں کے حوالے سے رسمی اور غیررسمی قوانین شامل تھے۔ برطانوی آئین کے ارتقا کا عمل شروع ہو چکا تھا اور اسے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین، عدلیہ کے فیصلوں ، مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین اور باہمی رضامندی کے تحت مرتب کئے جانے والے ضوابط کی مدد سے آگے بڑھتے رہنا تھا۔ ٹیوڈور حکمرانوں کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے آئین کے تحت اقتدار و اختیار میں بادشاہ کے ساتھ ساتھ اشرافیہ اور تاجر طبقے کو بھی حصہ مل گیا۔
1603ء میں الزبتھ کی وفات کے بعد جیمز اول سٹورٹ خاندان کے پہلے حکمران کی حیثیت سے انگلستان کے تخت پر بیٹھا۔ سٹورٹ خاندان 1371ء سے سکاٹ لینڈ پر حکمران تھا اور چونکہ الزبتھ نے ساری عمر شادی نہ کی تھی، اس لئے اس کے بعد تخت پر بیٹھنے کے لئے ٹیوڈور خاندان میں سے کوئی وارث سامنے نہ آ سکا۔ جیمز اول الزبتھ کی کزن میری ملکہ سکاٹ لینڈ کا بیٹا تھا اور تخت پر بیٹھنے کے بعد اس نے سکاٹ لینڈ اور انگلستان کی بادشاہتوں کو یکجا کر دیا۔ اس یکجائی کے ساتھ جہاں سلطنت انگلستان کی سرحدوں کی وسعت میں اضافہ ہوا، وہیں ایک صدی پر محیط ہونے والی ایک چپقلش کا بھی آغاز ہو گیا۔
اس عرصے میں سخت گیر پروٹسٹنٹ طبقہ یعنی پیوریٹان (Puritan) انگلستانی کلیسا سے بیزار ہو چکا تھا۔ ان کے نزدیک اب بھی اس کلیسا میں کیتھولک اثرات بہت زیادہ غالب تھے۔ اس کے علاوہ بادشاہ اور پارلیمنٹ کے درمیان بھی ایک مناقشہ چھڑ چکا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ پارلیمنٹ اپنے لئے خودمختار حقوق کا تقاضا کر رہی تھی جبکہ بادشاہ اپنے آسمانی حق پر اڑا بیٹھا تھا۔ 1625ء میں جیمز اول کے انتقال اور اس کے بیٹے چارلس اول کے تخت پر بیٹھنے تک یہ جھگڑا چلتا رہا۔ بالآخر 1628ء میں پارلیمنٹ، چارلس اول سے ''درخواست حقوق‘‘ پر دستخط کروانے اور اس کے اختیارات محدود کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ چارلس نے پارلیمنٹ سے مدد حاصل کئے بغیر بھی حکومت چلانے کی کوشش کی لیکن جب سلطنت میں انتشار پھیلنے لگا تو مجبور ہو کر 1640ء میں اس نے ایک دفعہ پھر پارلیمنٹ کو طلب کر لیا۔ سلطنت میں پیدا شدہ بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے پارلیمنٹ نے عنانِ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن چند اہم نکات پر اختلافات پیدا ہو جانے کے سبب کامیاب نہ ہو سکی۔ پارلیمنٹ میں موجود پیوریٹان طبقے نے ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا اور 1642ء میں خانہ جنگیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ہوا جو 1649ء میں پیوریٹان افواج کے سربراہ آلیور کرامویل کے ہاتھوں چارلس اول کی شکست پر ختم ہوا۔ آلیور کرامویل نے چارلس اول کو سزائے موت سنا کر انگلستان کو ''دولت مشترکہ‘‘ بنانے کا اعلان کر دیا۔
1649ء اور 1651ء کے درمیانی عرصے میں کرامویل نے آئرلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں اٹھنے والی شورشوں کو فرو کیا اور انہیں بھی دولت مشترکہ میں شامل کرکے اپنی سلطنت مستحکم کر لی تاہم 1658ء میں اس کی موت کے ساتھ ہی اس کی بنائی ہوئی سلطنت زمین بوس ہو گئی۔ تب ایک مرتبہ پھر طویل پارلیمنٹ کو مجتمع کیا گیا اور چارلس اول کے بڑے بیٹے چارلس دوم کو، جو فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا تھا، واپس بلا کر تخت پر بٹھا دیا گیا۔
چارلس دوم نے نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی مگر حکمرانی کا تنازعہ ہنوز باقی تھا۔ اس وقت تک پارلیمنٹ دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک حصے کا مطالبہ تھا کہ چارلس دوم کے بھائی جیمز دوم کو اس کے رومن کیتھولک عقیدے کی وجہ سے حق جانشینی سے محروم کر دیا جائے جبکہ دوسرا حصہ اس مطالبے کی مخالفت میں تھا (بعد ازاں یہی دونوں حصے آگے چل کر وِگ پارٹی اور ٹوری پارٹی کا روپ دھار گئے)۔ اس تنازعے کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور 1685ء میں اپنی موت تک چارلس اول پارلیمنٹ کی اعانت کے بغیر ہی حکومت کرتا رہا۔ اس کی موت کے بعد تخت جیمز دوم کو مل گیا اور 1688ء میں اس کے مخالفوں نے چارلس اول کی بڑی بیٹی میری کے شوہر اور ولندیز کے صوبہ دار ولیم کو دعوت دے دی کہ وہ آ کر اپنی اہلیہ کے حق وراثت کو وصول کرے۔
ولیم کی آمد کے ساتھ ہی جیمز سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ نکلا۔ 1689ء میں پارلیمنٹ نے ولیم اور میری کو مشترکہ طور پر انگلستان کا تاج پہنا دیا، اس شرط پر کہ وہ مسودۂ قانونِ حقوق کی تصدیق کریں جس میں جیمز کی زیادتیوں کا تذکرہ اور مذمت کی گئی تھی۔ ایک اور قانون کے تحت پروٹسٹنٹ عقیدے کے مخالفین کو بھی مذہبی رسوم ادا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر یہ انقلاب اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ اس دور کے انگلستانی امرا نے اسے ''عظیم الشان انقلاب‘‘ کا نام دیا۔
سٹورٹ خاندان کے رومن کیتھولک عناصر کی واپسی کا راستہ بند کرنے کے لئے 1701ء میں پارلیمنٹ نے سیٹلمنٹ ایکٹ منظور کیا۔ اس ایکٹ کے تحت یہ طے کیا گیا کہ اگر جیمز دوم کی چھوٹی بیٹی این لا ولد مر گئی تو تخت پروٹسٹنٹ عقیدے کے حامل ہینوور خاندان کو منتقل ہو جائے گا۔ اس اختصاص کی وجہ سے سکاٹ لینڈ اور انگلستان کا باہمی ربط ختم ہو گیا اور سکاٹش عوام میں غم و غصے کے جذبات پھیلنے لگے۔ انہیں ٹھنڈا کرنے کے لئے 1707ء میں یونین ایکٹ منظور کر کے سکاٹ لینڈ کو باقاعدہ انگلستان کا حصہ بنا لیا گیا اور یوں سلطنت برطانیہ عظمیٰ وجود میں آ گئی۔