مصالحوں کی ایک سو اقسام : صحت کے لئے بہترین

مصالحوں کی ایک سو اقسام : صحت کے لئے بہترین

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر سعدیہ اقبال


Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 

کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں مصالحوں کی ا یک سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، اتنی بڑی تعداد میں مصالحے کھانوں کو لذیذ بنانے کے لئے موجود ہیں،لیکن کسی خاص مصالحے یا سبزی کی کھوج میں نکلنا ضروری نہیں ہے، قریبی دکان سے چند بہترین خوبیوں کے حامل مصالحہ جات اور سبزیاں مل جائیں گے۔انہیں استعمال کرتے وقت سب سے ضروری بات مقدار کو اعتدال پر رکھنا ہے ،زبان کے ذائقے کی خاطر مقدار میں کمی پیشی اچھی بات نہیں ۔یہ کئی اہم کیمیکلز کا خزانہ ہیں جنہیں دن بھر میں ایک حد سے زیادہ نہیں کھانا چاہئے ، کھانا زیادہ کھانے یا مصالحے تیز رکھنے کی صورت میں یہ کیمیکلز بھی زیادہ مقدار میں پیٹ میں چلے جاتے ہیں، جن کا نقصان ہو سکتا ہے۔ 
یہ درست بات ہے کہ ہم ان سب سے آشنا نہیں ہیں لیکن جن مصالحوں اور سبزیوں کو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں ان کی خوبیوں سے بھی زیادہ واقف نہیں ہیں،اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف کھانوں کو مزے دار بنانے کے کام آتے ہیں ، یہ بات ٹھیک ہے لیکن یہ ہماری صحت کے بھی محافظ ہیں۔ان میں پائے جانے والے کئی اہم اجزاء ہماری صحت کیلئے ناگزیر ہیں۔ یہ آکسیڈنٹس کی فراہمی کا اچھا ذریعہ بھی ہیں۔ ''جان ہاپکنس یونیورسٹی ‘‘ میں ڈاکٹر آف سائنس کی حیثیت سے منسلک ریسرچ سکالر ڈایانے وزدھم( Diane Vizthum) نے حال ہی میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ '' کئی مصالحے طبی خصوصیات کے حامل ہیں، علاج معالجے میں ان کی اہمیت سے انکار ناممکن ہے۔مزید خوبیوں سے دنیا اب بہتر طور پر واقف ہو رہی ہے‘‘۔
دار چینی:ایک درخت سے حاصل کی جانے والی دار چینی کے درجنوں فوائد ہیں،سب سے اہم ہائی بلڈ پریشر میں کمی ہے، دار چینی خون کے دبائو میں کمی لا کر انسانی صحت کی حفاظت کرتی ہے۔یہ سبزیوں سے لے کر گوشت سمیت میں ہر چیز میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ چینی سے پرہیز کرنے والے دار چینی کی معمولی سی مقدار استعمال کر کے چائے کو مزے دار بنا سکتے ہیں۔جدید تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ دار چینی شوگر ٹائپ ٹو کو کنٹرول اور خون میں کلسٹرول اور''ٹرائی گلسرائیڈ‘‘ نامی کیمیکل کی مقدار کو بھی مناسب سطح پر لانے میں مدد دیتی ہے۔ شوگر اور دل کے مریضوں کو دار چینی کامناسب استعمال ضرور کرنا چاہئے۔
ہلدی:ہلدی کے طبی استعمال سے ہماری خواتین اچھی طرح واقف ہیں۔ بیماریوں کا ایک اہم سبب سوجن ہے۔ ہلدی ہر قسم کی سوجن (خواہ دماغ میں ہو یا جسم میں) پر قابو پا کر بیماریوں میں کمی کا سبب بنتی ہے اسی لئے ہلدی کو اب کئی ممالک میں ''سپر فوڈ‘‘ کا درجہ مل گیاہے۔کئی ممالک میں اس کی ایک خاص مقدار الزائمر اور ڈپریشن میں کمی کے لئے استعمال کی جا رہی ہے۔ ایک چھوٹی تحقیق میں معلوم ہوا کہ 18 مہینے تک ہلدی کھانے والے بچوں کی یادداشت دوسرے بچوں کی بہ نسبت بہتر تھی ،یہ بچے زیادہ متحرک پائے گئے۔ اس پر مزید تحقیق ہونا باقی ہے۔ آرتھرائٹس کی سوجن میں کمی کے لئے بھی یہ استعمال کی جاتی ہے، کئی ممالک میں ڈاکٹر اس کا استعمال کروا رہے ہیں۔ حیوانات پر تحقیق سے یہ سرطان کے علاج میں مفید پائی گئی ۔ ''جانس ہاپکنس ‘‘ کی ایک تحقیق میں کیمو تھراپی کے ساتھ ہلدی استعمال کرنے کا تجربہ فائدہ مند ثابت ہوا ۔ 
ادرک :ادرک ،کئی ہزار برس سے ایشیائی ممالک میں پیٹ کی خرابی ، متلی اوراسہال کے علاج میں استعمال کی جا رہی ہے۔افادیت کے پیش نظر امریکہ میں ادرک کے کیپسولز ، کینڈیز، چائے اور لولی پاپس اور بعض ممالک میں ادرک والے شربت بھی عام ہورہے ہیں۔ یہ پوڈر اور سرپ کی صورت میں بھی مل رہی ہے ۔ 
لہسن:لہسن کا استعمال جسم میں دل کے دورے کا سبب بننے والی تبدیلیوں کو روکتا ہے ۔عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خون کی نالیاں سخت ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔یہ قدرتی عمل ہے، اس میں بہت زیادہ گھبرانے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ ہم چند ایک احتیاطوں پر عمل کرکے خون کو نالیوں کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور کلسٹرول کی زیادتی اس کیفیت کو مزید خراب کر سکتی ہے، ان سے پرہیز کرنے سے ہم زیادہ دیر تک صحت مند رہ سکتے ہیں۔ لہسن کی قلیل سی مقدارکلسٹرول اور ٹرائی گلسرائیڈز کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔
لال مرچ:لال مرچ منہ کو ''جلا‘‘ دیتی ہے،انسان چینی ، چینی پکارتا رہ جاتا ہے ، اس کے طبی فوائد بھی کم نہیں ہیں۔کئی ممالک میں اسے آرتھرائٹس اور شوگر کے زخموں کا درد کم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتاہے۔ یہ دماغ کو بھیجے جانے والے درد کے سگنلز کی تعداد کو کم کرکے درد کی شدت میں کمی کا سبب بنتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ذہنی صحت: خاموشی توڑنے کا وقت

ذہنی صحت: خاموشی توڑنے کا وقت

کسی بھی معاشرے کے صحت مندہونے کا اندازہ صرف اس کی معاشی ترقی یا جسمانی صحت سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ذہنی صحت جو انسانی وجود کا بنیادی جزو ہے، اکثر نظرانداز کی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں روزمرہ کی زندگی کے چیلنجز، معاشی دباؤ اور سماجی مسائل کا ایک انبار ہے، ذہنی صحت کے بحران کو سنجیدگی سے لینے کی اشد ضرورت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذہنی بیماریوں کو جنون یا دماغی کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے اور اس پر بات کرنا معیوب قرار پاتا ہے۔ لیکن وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑیں اور ذہنی صحت کو قومی ترجیح بنائیں۔ صورتِ حال، اعدادوشمار اور حقائق عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 24 فیصدآبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے۔ یہ تعداد تقریباً 5 کروڑ افراد بنتی ہے۔ تاہم ذہنی بیماریوں کی سکریننگ اور علاج کیلئے مختص وسائل بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں فی ایک لاکھ آبادی صرف 0.19 نفسیاتی ماہرین ہیں، جو مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں سب سے کم تعداد میں سے ایک ہے، اور پوری دنیا میں بھی۔اکتوبر 2023ء میں اسلام آباد میں ہونے والی ماہرین کی ایک کانفرنس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں صرف 900 تربیت یافتہ اور مستند ماہرین نفسیات موجود ہیں جبکہ یہاں ہر تیسرے شخص کو ہلکی یا درمیانے درجے کے ڈپریشن کا سامنا ہے۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت کا سالانہ بجٹ کا صرف 1 فیصد ذہنی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے بحران کے کنارے پر کھڑے ہیں جسے نظرانداز کرنے کی قیمت ہم اپنی تخلیقی صلاحیتوں، تعلیم اور سماجی تعلقات کی صورت میں چکا رہے ہیں۔ مسئلہ کہاں ہے؟ پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت کو اکثر ''پاگل پن‘‘کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ڈپریشن، انگزائٹی، یا PTSD یعنی (Post-traumatic stress disorder) جیسے مسائل پر بات کرنے والوں کو ڈرامہ باز یا توجہ کا طالب قرار دے دیا جاتا ہے۔ خواتین کیلئے یہ صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ مثال کے طور پر شادی کے بعد ڈپریشن کا شکار ہونے والی خواتین کو ناشکرا کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان کی بھی من مانی تعبیریں کی جاتی ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ نظر انداز کی جانے والی ذہنی بیماریوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مذہبی اور ثقافتی عقائد بھی اس سکوت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ذہنی مسائل کو اکثر جنوں کا سایہ یا کسی کی بدعا کا نتیجہ قرار دے کر روحانی علاج کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دعا ذہنی سکون کا ذریعہ ہے لیکن پیشہ ورانہ طبی علاج کی ضرورت اپنی جگہ پر ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل پر خاموشی صرف فرد تک محدود نہیں رہتی،اس کے معاشرتی و معاشی اثرات بھی گہرے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈپریشن کی وجہ سے پیدا ہونے والی کارکردگی میں کمی ملک کی مجموعی پیداوار (GDP) کو سالانہ 2سے3 فیصدتک نقصان پہنچاتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی دباؤ کے باعث تعلیمی معیار گر رہا ہے جبکہ گھریلو تشدد اور خاندانی تعلقات کی خرابی کی ایک بڑی وجہ بھی ذہنی عدم استحکام ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا، خصوصاً نوجوان نسل اس سکوت کو توڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بعض این جی اوزنے بھی مفت کاؤنسلنگ سروسز اور ہیلپ لائنز متعارف کروائی ہیں۔ ادبی حلقوں میں بھی ذہنی صحت پر بات چیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر مشہور مصنفہ عمیرہ احمد کے ناولز میں ڈپریشن اور تنہائی جیسے موضوعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ 2020 ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ''مینٹل ہیلتھ ایکٹ‘‘ منظور کیا تھا جس کا مقصد ذہنی بیماریوں کے شکار افراد کے حقوق کا تحفظ اور علاج کو عام کرنا ہے۔ تاہم اس قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ذہنی صحت کے وارڈز اکثر قید خانوں سے مشابہت رکھتے ہیں جہاں مریضوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ میں اضافہ کیا جائے، تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے، اور عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بات چیت کا آغاز: خاندان اور دوستوں کے ساتھ کھل کر بات کریں۔ جملے جیسے ''تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ کی بجائے ''میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں‘‘ کہیں۔ تعلیم کو فروغ دیں: سکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت کے موضوعات کو نصاب کا حصہ بنائیں۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ جذبات کا اظہار کرنا کمزوری نہیں۔ پیشہ ورانہ مدد لیں: جسمانی بیماری کی طرح ذہنی عارضے بھی علاج کے متقاضی ہیں۔ ماہر نفسیات سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ سماجی دباؤ کو کم کریں: خواتین کو کریئر کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون کیلئے بھی مواقع دیں۔ نوجوانوں پر کامیابی کے غیر حقیقی معیارات نہ تھوپیں۔ دنیا بھر میں ذہنی صحت کے حوالے سے ہونے والی ترقی سے سبق لیتے ہوئے پاکستان بھی اس بحران پر قابو پا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ نے ''ٹاکنگ تھراپی‘‘ کو قومی صحت کی خدمات (NHS) میں شامل کر کے خودکشی کی شرح میں 20 فیصدکمی کی ہے۔ ذہنی صحت پر خاموشی توڑنا صرف ایک آپشن ہی نہیں بلکہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ہمیں اپنے گھروں، سکولوں، اور دفتروں میں ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنی ہو گی۔ یاد رکھیں ایک صحت مند معاشرہ تب ہی بن سکتا ہے جب یہاں ہر فرد کو ذہنی سکون میسر ہو۔  

گولڈن گیٹ برج فن تعمیر کا بے مثل شاہکار

گولڈن گیٹ برج فن تعمیر کا بے مثل شاہکار

امریکہ کے ساحلی شہر سان فرانسسکو کا نام سنتے ہی نظروں میں گولڈن گیٹ برج کا عظیم الشان پل آتا ہے، جسے اکثر ہالی وڈ کی فلموں کے مناظر میں بہت خوبصورتی سے دکھایا جاتا ہے۔ گولڈن گیٹ برج 20ویں صدی کے حیرت انگیز تعمیراتی کارناموں میں سے ایک ہے۔ایک اعشاریہ دو میل لمبا یہ پل سان فرانسسکو کو میرین کائونٹی سے ملاتا ہے۔ امریکہ میں عظیم کساد بازاری کے دور میں تعمیر ہونے والے اس پل کو دنیا کا سب سے طویل سسپنشن( معلق) برج ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔27مئی 1937ء کو جب یہ پل پایہ تکمیل کو پہنچا تو اس منصوبے پر تنقید اور احتجاج کا طویل سلسلہ بند ہو گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اتنے بڑے منصوبے پر کثیر ملکی سرمایہ ضائع کیا جا رہا ہے۔ کچھ نے کہا کہ دنیا کی محفوظ ترین قدرتی بندرگاہ کو اس پل کی تعمیر سے نقصان پہنچے گا۔ یہ سلسلہ چار سال تک جاری رہا اور بالآخر اس کی تکمیل پر یہ تمام آوازیں اس عظیم انسانی کارنامے کو دیکھ کر دب گئیں۔1937ء میں اس پل کی تکمیل سے قبل تک اس کی تعمیر کو ناممکن تصور کیا جاتا رہا کیونکہ یہاں کے موسم میں مسلسل دھند رہتی ہے، 60میل فی گھنٹہ کی فرتار سے ہوائیں چلتی رہتی ہیں اور یہاں سمندر کی موجیں بہت طاقتور ہیں لیکن ان تمام قدرتی مشکلات کے باوجود تقریباً ساڑھے چار سال کی مدت میں اسے تعمیر کر لیا گیا۔ اس پر 35ملین ڈالر لاگت آئی اور گیارہ افراد اس کی تعمیر کے دوران ہلاک ہوئے۔ آج بھی اس پل کا بڑا حصہ گہری دھند میں لپٹا رہتا ہے۔ جب سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی ہیں تو یہ پل انہیں برداشت کرنے کیلئے 27فٹ تک جھول جاتا ہے۔پل کے ساتھ جو دو کیبلز لگی ہوئی ہیں ان میں 80ہزار میل لمبی سٹیل وائر ہے جسے زمین کے ایکویڑ کے گرد تین دفعہ لپیٹا جا سکتا ہے۔ طوفانی لہروں میں پل کو مضبوط بنانے کیلئے جتنا کنکریٹ استعمال کیا گیا ہے اس سے نیویارک اور سان فرانسسکو کے درمیان 5فٹ چوڑی سائیڈوال تیار کی جا سکتی تھی۔27مئی 1937ء کو اس پل کا افتتاح دو لاکھ سے زائد افراد نے اس پر چلتے ہوئے کیا۔ اگلے روز سرکاری طور پر اس پل کا نام گولڈن گیٹ برج رکھ کر ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔اس پل کی تعمیر کیلئے کوششوں کا آغاز 1928ء میں ہوا۔ جنوبی کیلی فورنیا کی چھ کائونیٹوں نے اس کیلئے کوششوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان ریاستوں نے گولڈن گیٹ برج اینڈ ہائی وے ڈسٹرکٹ کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔1930ء میں یہاں کے ووٹروں نے 35ملین ڈالر کے بانڈ جاری کرنے کی منظوری دی تاکہ اس پل کی تعمیر کیلئے وسائل مہیا کئے جا سکیں۔ پل کا ڈیزائن انجینئر جوزف بائرمین اسٹراس نے اپنے دیگر معاونین کی مدد سے تیار کیا۔اس پل پر عملی کام کا آغاز 5جنوری 1933ء کو ہوا اور اسے ساڑھے چار سال کے عرصے میں مکمل کر لیا گیا۔ اس کی تعمیر کا سب سے مشکل مرحلہ جنوبی ٹاور کی تیاری تھا جس کے دوران کارکنوں کو بس اوقات رسیوں پر لٹک کر اور اپنی جان پر کھیل کر کام کرنا پڑا تاکہ کنکریٹ کے اس مضبوط ٹاور پر پل کھڑا ہو سکے۔ پل کی تعمیر کے دوران سب سے بڑا حادثہ 17فروری 1937ء کو اس وقت پیش آیا جب پورا ایک پلیٹ فارم جس پر انجینئرز کام کر رہے تھے ٹوٹ کر حفاظتی جال توڑتا ہوا نیچے جا گرا، جس میں 10افراد فوراً ہلاک ہو گئے۔ برج کے ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور کا وزن 95 ملین ٹن ہے۔ یہ ٹاور 746 فٹ بلند ہیں۔ دو ٹاوروں کے درمیان کا فاصلہ جو کیبلز کو اٹھائے رکھتے ہیں۔ 4200 فٹ ہے۔ یہ کیبلز پل کے فرش کو سہارا دیتی ہے۔گولڈن گیٹ برج دنیا بھر میں امریکہ کی مستند پہچان رکھتا ہے۔ جسے شروع دن سے ہی انٹرنیشنل اورنج سے پینٹ کیا گیا ہے جو عام رنگ کی بجائے خصوصی طور پر سرخ اور نارنجی رنگ ملا کر تیار کیاگیا ہے۔ اس رنگ کی بنیادی وجہ یہاں کا موسم ہے۔ گہرے کہر میں پل اور گاڑیوں کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ رنگ کیا گیا اس پر اوسطاً ایک لاکھ 25 ہزار کاریں روزانہ گزرتی ہیں جبکہ ساتھ میں بنے ہوئے فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کیلئے یہ ایک حسین نظارہ پیش کرتا ہے۔ سان فرانسسکو میں سیاحوں کے لئے یہ جگہ بہت کشش رکھتی ہے۔ اس جگہ کو کئی فلموں میں انتہائی خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے جس سے اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

بھارتی دراندازی26فروری2019ء کو بھارت نے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت پر حملہ کرتے ہوئے دراندازی کی اور رات کے اندھیرے میں بالاکوٹ کے ایک مقام پر اپنے ہی جہاز کا ''پے لوڈ‘‘ پھینک کر فرار ہو گیا۔ بھارت نے دنیا بھر میں شور مچایا کہ ہم نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو اس من گھڑت سرجیکل سٹرائیک کی حقیقت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ بھارت نے ہمارے چند درختوں کو نقصان پہنچایا ہے۔27فروری 2019ء کو پاکستان نے دن کے اجالے میں بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی اور ان کے دو جہاز مار گرائے۔ بھارتی ائیر فورس کا ایک پائلٹ گرفتار بھی کیاگیا جسے جذبہ خیرسگالی کے تحت بھارت کو واپس کر دیا گیا۔ دنیا کاپہلا ویب براؤزر1991ء میں ٹم برنرز لی نے پہلا ویب براؤزر متعارف کرایا۔ ویب براؤزر ایسا سوفٹ ویئر ہوتا ہے جو انٹرنیٹ پر موجود تصاویر اور دیگر معلومات آپ تک پہنچاتا ہے۔ جو بھی معلومات انٹرنیٹ یا کسی بھی لوکل ایریا نیٹ ورک پر موجود ہوتی ہیں وہ براؤزر انٹرنیٹ سے ڈی کوڈ کرتے ہوئے آپ تک پہنچاتا ہے۔ جدید دور میںبراؤزر کی سب سے کامیاب مثال ہمیں گوگل کروم کی صورت میں نظر آتی ہے۔سلطنت عثمانیہ کا زوال26 فروری 1925ء کو جنگ کریمیا کے بعد عثمانی سلطنت کا زوال شروع ہو ا۔ اسی زوال سے الجھتے ہوئے سلطنت نے قرضوں کی ادائیگی بند کر دی۔ قرضوں کے محصولات کی ادائیگی کیلئے سلطنت عثمانیہ نے تین بینکوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس کا نام '' رجی‘‘ رکھا گیا۔محصولات اکٹھے کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کمیٹی کو سونپی گئی۔ قیام جمہورت کے بعد اس کمیٹی کو ختم کر دیا گیا ۔لزبن میں خوفناک زلزلہ26فروری1531ء کو لزبن جو اس وقت پرتگالی سلطنت کے زیر انتظام تھا میں صبح5بجے کے قریب ایک خوفناک زلزلہ آیا۔زلزلے کی شدت کے متعلق وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اس کے نتیجے میں آنے والے سونامی کی وجہ سے 30ہزار سے زائد افراد لقمۂ اجل بنے۔ اس ہولناک زلزلے کو یورپی تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔زلزے کے بعد کافی دن تک آفٹر شاکس بھی محسوس کئے جاتے رہے، آفٹر شاکس کی شدت نے کئی دن تک لوگوں کو خوف میں مبتلا کئے رکھا۔ جنوبی افریقی ٹیم کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی 1992ء میں جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم نے 21 سال بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی۔ 1970ء میں جنوبی افریقہ کو نسلی امتیاز کی پالیسیوں کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ سے معطل کر دیا گیا تھا۔اس پابندی کے دوران، جنوبی افریقی ٹیم کو کسی بھی ٹیسٹ، ون ڈے یا دیگر بین الاقوامی کرکٹ میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔1991 میں، جب جنوبی افریقہ میں نسلی تفریق کی پالیسیوں میں نرمی آنا شروع ہوئی اور نیلسن منڈیلا کی رہائی کے بعد سیاسی منظرنامہ بدلا، تو آئی سی سی نے جنوبی افریقہ پر سے پابندی ہٹا دی۔  

یادرفتگاں حبیب فلموں کی سینچری کرنے والے پہلے پاکستانی ہیرو

یادرفتگاں حبیب فلموں کی سینچری کرنے والے پہلے پاکستانی ہیرو

6فٹ قد،کھڑا کالر، فولڈنگ کف یہ پہچان تھی پاکستان کے نامور فلمی ہیرو حبیب کی۔ انہیں گولڈن جوبلی فلم ہیرو بھی کہا جاتا تھا۔ وہ پاکستان فلم اندسٹری کے پہلے ہیرو تھے جنہوں نے فلموں کی سینچری مکمل کی تھی۔ وہ پاکستانی فلموں کے سوشل ،نغماتی اور بامقصدفلموں کے سنہرے دور کے مقبول اور مصروف ترین اداکار تھے۔ آج ان کی نویں برسی ہے۔پانچ دہائیوں تک فلمی دنیا سے وابستہ رہنے والے حبیب کا شمار پاکستان کے ورسٹائل اور منجھے ہوئے اداکاروں میں ہوتا ہے۔ان کا 6فٹ قد ان کی شخصیت کو مزید سٹائلش بناتا تھا۔ انہوں نے اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں شاندار کام کیا۔ حبیب کا اصل نام حبیب الرحمان تھا۔ وہ انتہائی تعلیم یافتہ انسان تھے،انہوں نے تین ایم اے کر رکھے تھے۔ وہ بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے۔ان کے طویل فلمی کریئر کا آغاز 1956ء میں فلم ''لخت جگر ‘‘ سے ہوا تھا۔1958ء میں ان کی فلم ''آدمی‘‘ ریلیز ہوئی، جسے ان کی بہترین فلم کہا جاتا ہے۔ مسعود پرویز کی فلم ''زہر عشق‘‘ میں انہوں نے مسرت نذیر کے ساتھ کام کیا۔ یہ بھی ان کی بہترین فلموں میں سے ایک تھی۔ ''دیوداس‘‘ کو خواجہ سرفراز نے ڈائریکٹ کیا اور اس میں انہوں نے شمیم آرا کے ساتھ کام کیا۔ ''دیوداس‘‘ میں ان کی فطری اداکاری کی سرحد پار بھی تعریف کی گئی۔''تاج محل‘‘ میں حبیب نے شیرازی کا کردار اتنی عمدگی سے ادا کیا کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔ ان کی بے شمار فلموں نے گولڈن جوبلی کی۔ 50ء کی دہائی میں وہ اردو اور پنجابی فلموں کے یکساں مقبول اداکار تھے، اعجاز اور سدھیر کے بعد انہیں تیسرا بڑا ہیرو مانا جاتا تھا۔ وہ پاکستان کے پہلے ہیرو ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنی فلموں کی سینچری مکمل کی تھی۔ 60ء کی دہائی میں جب وہ اپنے کریئر کے ٹاپ پر تھے انہوںکریکٹر رول کرنا شروع کر دیئے تھے۔حبیب نے جب پنجابی فلموں میں کام شروع کیا تو اس وقت عنایت حسین بھٹی، سدھیر اور اکمل چھائے ہوئے تھے۔ اکمل کی ناگہانی وفات کے بعد وہ پنجابی فلموں کی ضرورت بن گئے اور انہوں نے ان گنت فلموں میں ہیروکا کردار ادا کیا۔مجموعی طور پر انہوں نے 203فلموں میں کام کیا۔وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے اور ان کی خوش اخلاقی ضرب المثل بن چکی تھی۔ اپنے 50 سال سے بھی زیادہ فنی کریئر میں ان کا کبھی کسی اداکار یا ہدایتکار سے جھگڑا نہیں ہوا۔ انہیں1958ء میں ''آدمی‘‘ میں بہترین اداکاری پر نگار ایوارڈ دیا گیا۔ پھر 1961ء میں بھی ''ثریا‘‘ میں اعلیٰ درجے کی اداکاری کرنے پر ایک بار پھر نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔2002ء میں انہیں نگار لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ حبیب نے اپنے دور کی ہر اداکارہ کے ساتھ کام کیا،اداکارہ فردوس کیساتھ وہ 25 فلموں،رانی کے ساتھ 18،دیبا کے ساتھ 15، نیئر سلطانہ اور شمیم آراکے ساتھ 9، 9، سلونی کے ساتھ 7،یاسمین کے ساتھ6، صابرہ سلطانہ اور لیلیٰ کے ساتھ 4،4، حسنہ، بہار، رخسانہ، سنگیتا، کے ساتھ 3،3، مسرت نذیر،سورن لتا،شیریں، ناہید، آسیہ، عالیہ اور روزینہ کے 2،2فلموں میں ہیرو آئے۔انہوں نے تین شادیاں کیں۔ 1972ء میں انہوں نے اپنے دور کی مقبول اداکارہ نغمہ سے شادی کی جن کے ساتھ انہوں نے72 فلموں میں کام بھی کیا تھا مگر ان کی یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی اور چند سال بعد ہی دونوں نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ان کے کل 6 بچے ہیں جن میں سے ایک بیٹی اداکارہ نغمہ سے ہے۔ حبیب صرف ایک اداکار ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے بطورپروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی فلمیں بنائیں۔ وہ ایک اچھے پروڈیوسر ثابت نہ ہوئے، صرف ''پردیس‘‘ اور '' ہار گیا انسان‘‘ درمیانے درجے کی ثابت ہوئیں ،باقی تمام فلمیں بری طرح فلاپ ہوئیں۔اپنی پروڈیوس کی ہوئی فلموں میں وہ خود ہیرو آیا کرتے تھے۔حبیب نے سیاست میں بھی حصہ لیا۔ وہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہے لیکن بعد میں وہ سیاست سے تائب ہو گئے۔ حبیب ایک ورسٹائل اداکار تھے۔ انہوں نے ہیروکا کردار بھی اداکیا۔ پھر مرکزی کردار بھی ادا کئے اور بعد میں کریکٹر ایکٹر کے طور پر بھی خود کو منوایا۔ انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا اور اچھوتے کردار ادا کئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حبیب نے اپنی فنی زندگی میں بہت کام کیا۔25فروری 2016ء ان کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا اور وہ 80برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ ایک منجھے ہوئے فنکار تھے جنہوں نے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا۔ پاکستانی فلمی صنعت ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھے گی۔حبیب پر عکسبند ہونے والے مقبول گیت٭دنیا والے، دیکھ ذرا ، اس دنیا کی تصویر(فیشن)٭اے صنم ، دلربا، بھول نہ جا(رسوائی)٭ہمسفر ، آج کی یہ رات نہیں بھولے گی(وہ کون تھی)٭نادان ہو، نا سمجھ ہو، معصوم ہو(نادرہ)٭لئے چلا ہے دل کہاں(الفت)٭کلی کلی نہ جاویں مٹیارے(بابل دا ویہڑا)٭تلے دی تار چناں(لنگوٹیا)٭گلی گلی میں ہوں بدنام(میرا نام راجہ)٭زمانے میں رہ کے رہے ہم اکیلے(یہ راستے ہیں پیار کے)مقبول فلمیں''لخت جگر‘‘، ''معصوم‘‘، ''زہر عشق‘‘، ''دیوداس‘‘، ''گمراہ‘‘، ''ایاز‘‘، ''آدمی‘‘، ''اولاد‘‘، ''مہتاب‘‘، ''موج میلہ‘‘، ''کالا پانی‘‘، ''خاندانی‘‘، '' شکریہ‘‘، '' دیوانہ‘‘، ''لاڈو‘‘، ''زندہ لاش‘‘، ''ہار گیا انسان‘‘، ''تاج محل‘‘، ''دو تین سوالی‘‘، ''دل کے ٹکڑے‘‘، ''شیر خان‘‘ ، ''دہشت خان‘‘ 

پہلی جنگ عظیم مونز کی لڑائی

پہلی جنگ عظیم مونز کی لڑائی

جنگ عظیم اوّل 1914ء سے 1918ء تک جاری رہی، اس دوران جنگ میں شریک ممالک کیلئے ہر لمحہ حالت جنگ کا لمحہ تھاتاہم مختلف محاذوں پر مختلف لڑائیاں ہوتی رہیں۔ جن میں سے کچھ کی شہرت اور اہمیت اپنی مثال آپ ہے۔ ان ہی لڑائیوں میں سے ایک مونز کے محاذ پر لڑی گئی، جس ذکر نیچے کیا جارہا ہے۔برطانیہ کی مہماتی فوج14اگست کو ہی فرانس کے سرحدی علاقوں پر لنگر انداز ہو چکی تھی اور اب اسے میدان جنگ میں آنے کیلئے تیاری کا بھی بھرپور موقع مل گیا تھا۔ برطانوی فوج کوجرمنی کی افواج کو بیلجئم سے باہر دھکیلنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جان فرینچ کی قیادت میں برطانوی 70ہزار فوجی انتہائی سرعت اور خاموشی سے لاکیٹائو کے علاقے پر اپنے قدم جما چکے تھے اور اب بیلجئم میں داخل ہو کر جرمنی کی جارحیت کو روکنا چاہتے تھے۔دوسری طرف مولٹک نے 20اگست کو جرمنی کی دوسری آرمی کے کمانڈر جنرل بوُلو کو خبردار کیا کہ برطانوی فوج لیل کے علاقے میں موجود جرمن افواج کے خلاء میں مورچہ بند ہو رہی ہے۔ جنرل بوُلو نے پہلی آرمی کے جنرل کلاک کو جو جنوب مغربی سمت میں پیش قدمی کر رہا تھا، فوری طور پر جنوب کی جانب پیش قدمی کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ جنگِ سیمبر میں اس کی دوسری آرمی کو مکمل تحفظ حاصل رہے۔یہ فیصلہ غیر دانشمندانہ تھا۔ اس طرح جنرل کلاک کی پہلی آرمی برطانوی مہماتی فوج سے مونز کے مقام پر متصادم ہوئی۔ بصورت دیگر جنرل کلاک کی پہلی آرمی برطانوی فوج سے بائیں پہلو سے دائروی شکل میں تصادم ہو کر دشمن کیلئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔جنرل جان فرینچ کو برطانوی اعلیٰ حکام کی جانب سے ہدایت تھی کہ وہ فرانس کی افواج سے بھرپور تعاون کرے اور اپنے منصوبہ جات فرانسیسی کمانڈروں سے باہم مشاورت سے ترتیب دیں۔ اس لئے جان فرینج نے جنرل جوفر اور چارلس سے ملاقات کی۔ آخر الذکر جرنیلوں کو پے در پے شکستوں نے بد دل کر دیا تھا۔ ان کی گفتگو اور منصوبوں نے جان فرینچ کو بہت مایوس کیا اور باہمی تضاد اور دوری کی بنیادیں قائم ہو گئیں۔ اسی وجہ سے ہر دو حلیف کمانڈروں میں دوری اور عدم رابطہ کی فضاء قائم ہو گئی۔تاہم برطانوی فوج نے 22 اگست کی رات مونز کے مقام پر پوزیشن سنبھال لی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ برطانوی فوج کے دائیں پہلو اور فرانس کی پانچویں آرمی کے بائیں پہلو کے درمیان کئی کلو میٹر کا خلاء بن گیا۔ جرمنی کی پہلی آرمی جنرل کلاک کی قیادت میں تیزی سے مونز کی طرف بڑھی چلی آ رہی تھی۔23اگست کو جرمن اور برطانوی افواج کا شدید مقابلہ شروع ہوا۔ جرمن افواج پے در پے حملے کر رہی تھیں جبکہ برطانوی افواج ان کا بھرپور جواب دیتی رہیں۔جرمن افواج تعداد اور مہارت میں برتری کے باعث کئی مقامات پر برطانوی افواج کو کئی کئی کلو میٹر تک پیچھے دھکیلنے میں کامیاب رہیں۔ دوسری جانب فرانس کی پانچویں آرمی کے جنرل چارلس نے جنگ کی صورت حال اور جرمن افواج کی واضح برتری دیکھتے ہوئے پسپائی کا اعلان کر دیا۔ برطانوی افواج میں فرانس کی پانچویں آرمی کے اس فیصلے سے بددلی اور بیزاری کی کیفیت پیدا ہوئی، جس کے باعث برطانوی وزیر جنگ نے اپنی افواج کو دریائے مارن تک پسپا ہونے کا حکم دیا۔اس جنگ میں برطانیہ کی جانب سے پلوں کو گرانے کے مشن پر مامور5افراد کو وکٹوریہ کراس دیا گیا۔ مندرجہ بالا 4محاذوں کو '' سرحدی لڑائیوں‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان میں فرانس کے مجموعی طور پر 3لاکھ سپاہی مارے گئے۔ اور ہر طرف سے فرانس کی افواج خصوصاً اور برطانوی افواج عموماً پسپا ہوئیں فرانس کے باقی ماندہ سپاہی پے در پے شکست کھانے کے باوجود دشمن سے لڑنے اور مرنے کیلئے تیار تھے۔ جنرل جوفر اور اس کا منصوبہ ساز جنرل ہنری ایم برتھی لاٹ اب بھی اپنی فتح پر یقین رکھتے تھے۔ اب جا کر انہیں یہ احساس ہوا تھا کہ جرمن پلان کیا ہے۔اس لئے اب فرانسیسی ہائی کمان شمالی اور جنوبی (دائیں اور بائیں بازو کے) محاذوں میں سے جنوبی محاذ کو نسبتاً محفوظ سمجھتے ہوئے وہاں سے کچھ دستوں کو نکال کر ایک نئی آرمی(چھٹی آرمی) بنا کر اسے شمالی محاذ پر پہلے سے موجود مفلوک الحال آرمی کی کمک کیلئے بھیجنا چاہتے تھے۔25اگست کو جنرل جوفر نے اپنی جاری شدہ دوسری ہدایات میں نئی تشکیل شدہ چھٹی آرمی کو ایمینز کے مقام پر صف آرا کیا گیا جبکہ برطانوی مہماتی فوج، فرانس کی تیسری، چوتھی اور پانچویں آرمی کو دریائے سوم کے کنارے وارڈن تک پھیلی ہوئی لائن پر پسپا ہونے کا حکم دیا گیا۔ جہاں اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہوئے دشمن پر پوری قوت سے ازسر نوع بھرپور حملے کئے جانے تھے۔دوسری طرف مولٹک ابتدائی فتوحات کو دشمن کی مکمل ناکامی سمجھتے ہوئے فتح کے نشے میں چور ہو رہا تھا جبکہ مشرقی محاذ سے روس کی افواج کے مشرقی پروشیاء پر قابض ہونے کی حوصلہ شکن خبریں آ رہیں تھیں جن کی بنیاد پر مولٹک نے مغربی محاذ پر لڑنے والی افواج کے کل 16کوروں میں سے 5کور مشرقی محاذ پر بھجوا دیئے۔ اس طرح اس محاذ پر جرمن افواج کی قوت پہلے سے کافی کمزور ہو گئی جبکہ پہلی آرمی کے تمام کور بیلجئم اور فرانس کے شمال مغربی علاقوں میں موجود قلعہ بندیوں کو سر کرنے کی مہم میں مصروف تھے اس طرح پہلی آرمی مکمل طور پر مصروف تھی اور فرانس کی نو مجتمع افواج اور برطانوی مہماتی فوج کے جوابی حملوں کی صورت میں دوسری اور تیسری آرمی کی مدد نہیں کر سکتی تھی۔''شیلفن پلان‘‘ کے مطابق پہلی، دوسری اور تیسری آرمی کو حملے کرتے ہوئے پیش قدمی کرتے جانا تھا جبکہ قلعہ بندیوں کو سر کرنے اور مفتوحہ علاقوں میں فوجی انتظامات سنبھالنے کیلئے محفوظ دستوں کو تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ مولٹک نے محفوظ دستوں کو جرمنی کے اندر تک ہی محدود رکھا تھا اورباقاعدہ آرمی ہی تمام امور کی انجام دہی کی ذمہ دار تھی۔ اس طرح محاذ جنگ میں قوت کی کمی واقع ہو چکی تھی۔27اگست کو مولٹک نے بھرپور پیش قدمی کرنے کے احکامات دیئے جن کے مطابق پہلی آرمی کو پیرس کے جنوب میں پیش قدمی کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری آرمی کو پیرس کی طرف، تیسری، چوتھی اور پانچویں آرمی کو شہر کے مشرق کی طرف پیش قدمی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بائیں بازو کی افواج (جنوبی محاذ) چھٹی اور ساتویں آرمی کی بجائے دفاعی پوزیشن میں مورچہ بند ہونے اور دیگر حملہ آور افواج کی کمک کے آگے بڑھنے اور دریائے موسل کے کنارے محاذ قائم کرتے ہوئے فرانس اور برطانوی افواج کو چاروں طرف سے دھکیلتے ہوئے ایک بند گلی میں بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔................................. 

آج کا دن

آج کا دن

پنجاب میں گورنر راج 25 فروری 2009ء کو اس وقت کے گورنر پنجاب نے سابق صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر پنجاب میں دو ماہ کیلئے گورنر راج نافذ کر دیا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے کچھ دیر بعد کیا گیا۔صدرکے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل237کے تحت صدر مملکت نے صوبہ پنجاب میں دوماہ کیلئے گورنر راج نافذ کیا۔ترکیہ کا جرمنی سے اعلان جنگدوسری عالمی جنگ کے دوران 25 فروری 1945ء کو ترکی موجودہ ترکیہ نے جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اس سے قبل ترکیہ جاپان سے بھی اعلان جنگ کر چکا تھا۔ جرمنی پر حملے کا اعلان ترکیہ کے وزیر اعظم نے ایک خصوصی سیشن سے خطاب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان اور جرمنی اپنی بالادستی قائم رکھنے کیلئے کئی ممالک کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکے ہیں ،اس لئے انہیں روکنا بہت ضروری ہے۔کہا جاتا ہے کہ ترک وزیر اعظم کے اس فیصلے کو عوام کی جانب سے زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔سویت قبضے کا دنسوویت قبضے کا دن جارجیا میں ایک یاد گاری دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہر سال25فروری کو1921ء میں جارجیا پر سرخ فوج کے حملے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو چھٹی کا اعلان 2010ء میں کیا گیا جبکہ اس کو پہلی مرتبہ 2011ء میں پورے ملک میں منایا گیا۔ فروری1921ء میں سرخ فوج، ٹرانسکاکیشیا میں 1917ء کے ہنگاموں کے بعد جارجیا میں داخل ہوئی۔ جارجیا اس وقت مینشویک کے کنٹرول میں تھا۔ جارجیا مینشویک فوج کو سوویت فوج کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد تمام حکمران ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔''عوامی طاقت کا انقلاب‘‘عوامی طاقت کا انقلاب جسے تاریخ میں ''EDSAانقلاب‘‘ یا ''فروری انقلاب‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،فلپائن میںشروع ہونے والا سب سے بڑا عوامی احتجاج تھا۔ اس کا آغاز 22 فروری1986ء سے ہو ا جو 25 فروری 1986ء تک جاری رہا۔اس احتجاج کے دوران زیادہ مظاہرے میٹرو منیلا میں ہوئے، یہ مظاہروں کا ایک سلسلہ تھا جو تین دن تک جاری رہا۔اس احتجاج کے نتیجے میں فرڈینینڈ مارکوس کے اقتدار کے ساتھ ساتھ اس کی20سالہ آمریت کو بھی خاتمہ ہوگیا۔حکومت کے خاتمے کے بعد فلپائن کو ایک جمہوریہ ملک قرار دیا گیا۔