اشیائے خورد و نوش کو کیسے محفوظ کیا جا سکتا ہے ؟
اسپیشل فیچر
ابھی کچھ عرصہ پہلے اور سامنے نظر آتے کرونا کے دوبارہ وار نے جس طرح لوگوں کے معمولات زندگی کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا ہے اس کی بابت نہ کبھی کسی نے سوچا ہو گا اور نہ کسی کے تصور میں ایسا گمان گزرا ہو گا ۔یہاں یہ امر یک گونا تسلی کا باعث تھا کہ اس ناگہانی آفت کی شروعات ہمارے دو ہمسایہ ممالک چین اور ایران وغیرہ سے ہوئیں جس کے سبب ہمیں " تیاری" کا موقع مل گیا تھا اور یوں لوگوں نے حفظ ما تقدم کے طور پر اشیائے خورد و نوش کا تھوڑا بہت ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ انہیں بلا ضرورت گھر سے نہ نکلنا پڑے ۔ضروری نہیں کرونا ہی میں اشیائے خورد و نوش کو محفوظ کیا جائے زندگی میں کئی دیگر موقعوں پر بھی کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ کرنا پڑ ہی جاتا ہے لہٰذا میں لوگوں کی سہولت کے لئے انہیں یہ بتانے کی کوشش کروں گی کہ کھانے پینے کی کون کون سی اشیاء کو کیسے اور کتنے عرصے تک محفوظ کیا جا سکتاہے۔اس لئے اپنی ضرورت کی اشیاء کو اپنے سٹور , فریج یا فریزر میں محفوظ کرلیں ۔
چاول , پاستا, دالیں ,آٹا , ڈبل روٹی , انڈے , گوشت , پھل , سبزیاں اور خوردنی تیل وغیرہ کو حسب ضرورت لمبے عرصے تک کے لئے محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔
تازہ پھل اور سبزیاں پلاسٹک کے لفافوں میں لپیٹ کر رکھنے کی بجائے انہیں کھلی حالت میں فرج میں رکھیں کیونکہ پیک کر کے یا ڈھانپ کر رکھنے سے آکسیجن نہ ملنے کے سبب یہ جلد گل سڑ جاتی ہیں ۔
مٹر چنے اور لوبیا وغیرہ کو ابال کر فریزر میں رکھیں ۔گاجر اورشلجم کے اوپر سبز پتوں والا حصہ اتار کر فریز کریں ۔ٹماٹر کو بھی اچھی طرح دھو کر لمبے عرصے کے لئے فریز کیا جا سکتا ہے ۔
اگر خوردنی تیل کو محفوظ کرنا مقصود ہو تو فرج یا کسی تاریک جگہ جہاں روشنی کا گزر نہ ہو وہاں سٹور کیا جا سکتا ہے ۔بصورت دیگر وٹامن اے اور ای زائل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔اسی طرح تازہ دودھ کو بھی تین ماہ تک کے لئے فریز کیا جا سکتا ہے ۔ اگر تازہ دودھ دستیاب نہ ہو تو ڈبے کا دودھ بھی اسی طرح ہی فریز کر کے محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔
آٹے کو پلاسٹک دھات یا شیشے کے برتنوں میں ڈال کر فریزر میں چھ ماہ تک کے لئے محفوظ کیا جا سکتا ہے کیونکہ کھلے عام آٹے میں کچھ عرصہ بعد کیڑا آ جانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔
اگر آپ کین والی اشیاء استعمال کر رہے ہیں تو انہیں بغیر دھوئے ہرگز استعمال نہ کریں۔کیونکہ کین میں محفوظ شدہ متعدد اشیاء پر ضرورت سے زیادہ نمک لگا ہوتا ہے جو ڈی ہائیڈریشن Dehyderation کا سبب بن سکتا ہے ۔
انڈوں کو فرج میں محفوظ رکھنے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ انڈے کی نوک والی جگہ نیچے کی طرف ہونی چاہئے تاکہ اس کی زردی درمیان میں خالی جگہ Air Pocket میں رہے۔انڈے تین ماہ تک فریج میں محفوظ رہ سکتے ہیں ۔انڈوں کے ساتھ ساتھ گوشت کو بھی لمبے عرصے تک محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔
جہاں تک کرونا وائرس کا تعلق ہے اس سے متاثرہ لوگوں کو پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہئے اور پروسیسڈ Processed Food سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے ۔نیز ایسے لوگ جو ضعیف ,کمزور یا پہلے سے کسی عارضہ میں مبتلا,ہیں انہیں تو باہر نکلنے سے مکمل اجتناب برتنا چاہئے اور نہ ہی لوگوں سے کسی قسم کا میل ملاپ رکھنا چاہئے ۔