(عالم ارواح میں) ٹیپوسلطان اور علامہ اقبال میں مکالمہ
اسپیشل فیچر
میسور کے آخری فرماں روا سلطان فتح علی ٹیپو کو ہماری تاریخ نے بے حد بلند مقام دیا ہے۔کیونکہ اس نے سامراجی یلغار کو روکنے کے اور اپنی مسلم ریاست کی آزادی کے تحفظ میں اپنی جان کی قربانی دے دی ۔ اس بنا پر اسے حریت و آزادی اور اعلائے کلمہ حق کی علامت سمجھاجاتا ہے۔ وہ 20مئی 1949ء کو پیدا ہوئے ،1781ء میں اپنے والد سطان حیدر علی کی وفات کے بعد انہوں نے32 برس کی عمر میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی۔اس وقت ہندوستان کے بیشتر حصوں پر انگریزوں کا قبضہ ہو چکا تھا ،انہوں نے مسلم آزادی کے اس آخری حصار کو توڑنے کی کوشش کی۔کئی جنگوں میں وہ سلطان کو زیر نہ کر سکے۔آخر کار سازش کامیاب ہوئی ۔ ایک انگریز صوفی منش درویش کے بھیس میں میسور گیا، جس نے بڑے بڑے امراء کو بھاری رشوتیں دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ان میں میر صادق علی ، میر غلام علی میر قاسم علی اور دیوان پورینا بھی شامل تھے۔
آخری معرکے میں انگریزوں نے وسیع پیمانے پر فوجی اور دوسری سازشوں کی مدد سے میسور کا دارالحکومت سرنگا پٹم کا محاصرہ کر لیا۔ دیوان پورینا اور میر صادق علی میدان جنگ میںانگریزوں سے جا ملتے ہیں۔ 4 مئی 1799ء کو یہ مرد مجاہد جام شہادت نوش کرتا ہے، ابھی وہ جان کنی کے عالم میں تھا کہ انگریز جرنیل آگے بڑھ کر سلطان کے جسم کو ہاتھ سے مس کرنے کی کوشش کرتا ہے، عالم نزع میں سلطان ایک وار سے اسے موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔اب انگریزوں میں ہمت نہ تھی کہ اس کے جسم کو ہاتھ لگائیں، بالآخر میر صادق آگے بڑھتا ہے، سلطان کی نبض کو ٹٹولتا ہے اور موت کا اعلان کرتا ہے۔ انگریز خوشی میں رقص کرنے لگتے ہیں۔تو میر جعفر پکار اٹھتا ہے کہ ''تم نے نہیں ہم نے شہید کیا ہے، تم تو اس کی لاش سے بھی خوف زدہ ہو‘‘۔ اس فتح کا جشن انگریز کیسے مناتے ہیں۔اس کااحوال قدرت اللہ شہاب یوں بیان کرتے ہیں۔
''4مئی 1799 ء کا وہ منحوس دن تھا جب سرنگا پٹم کے تاریخی معرکے میں سلطان ٹیپو شہید ہو گئے۔ فتح کی خوشی میں کارنوالس نے کلکتہ تھیٹر میں شاندار محفل رقص و سرود کا انعقاد کیا۔ ہال میں جگہ جگہ ٹیپو سلطان کی فوج کے سامان حرب کی نمائش کی گئی تھی۔ دیواروں پر بڑے بڑے آئینوں کے سامنے معرکہ سرنگا پٹم کے مختلف مناظر کی قد آدم تصویریں بنا کر لٹکائی گئیں۔ ستونوں پر بڑی خوبصورتی سے رنگ برنگ کے ریشم کے تھان منڈھے گئے تھے۔ چھت سے رنگین سلک کی بڑی بڑی چادروں کو مامیانوں کی صورت میں آویزاں کیا گیا تھا۔سرنگا پٹم کی جنگ میں حصہ لینے والی رجمنٹ کے جھنڈے ہال کے وسط میں لہرائے گئے تھے۔ ان کے عین نیچے سلطان ٹیپو شہید کے جھنڈوں کو الٹا لٹکایا گیا تھا۔ڈانس رات کے 11 بجے شروع ہوا اور صبح 5 بجے تک جاری رہا۔ میموں نے سفید ساٹن کی ساڑھیاں پہن رکھی تھیں۔ ریشم کے دھاگے سے کپڑوں پر 4 مئی کے الفاظ کاڑھے گئے تھے۔ زرق برق کپڑوں میں ملبوس خواتین مبارک باد کے نغموں سے معزز مہمانوں کو خوش کر رہی تھیں۔ ٹیپو سلطان کا درباری لباس خدمت گاروں اور چپڑاسیوں کو پہنایا گیا تھا‘‘۔ (شہاب نامہ :صفحہ 100،104 )
سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعدپورے ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم ہو گیااور ڈیڑھ صدی تک ان کی حکومت قائم رہی مگر مسلمان ٹیپو سلطان کی عظمت کو سلام کرتے رہے۔ علامہ اقبالؒ نے ٹیپو سلطان کو ہندوستان ، روم اور شام کی آبرو قرار دیا۔
علامہ اقبالؒ جب عالم تصورات سے عالم ارواح میں پہنچتے ہیں تو کئی دیگر عظیم مسلم شخصیات کے علاوہ ان کی ملاقات ٹیپو سلطان سے بھی ہوتی ہے۔اس ملاقات میں جو مکالمہ ہو تاہے وہ ''جاوید نامہ ‘‘کے اشعار میں موجود ہے ۔ ذیل میں اس کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے۔
سلطان ٹیپو: اے زندہ رود(علامہ اقبالؒ )! تو (1929ء میں ) میرے شہر اور میرے مزار کا زائر ہوا، ذرا اس ہندوستان کے بارے میں ہمیں بتا جو میرا ملک ہے، اس ملک کی یاد میں ہم نے اپنا دل خون کر لیا ہے، تو ہی ہمارے غم سے اس ملک کے غموں کا اندازہ کر لے۔ افسوس ہے، اپنے عاشق کو نہ پہچاننے والے معشوق پر ہم نے اس کی آزادی کو بچانے کی خاطر جان قربان کر دی لیکن وہ ہمیں بھول کر انگریزوں کا دلداہ ہوگیا ہے۔
زندہ رود (علامہ اقبالؒ) : اہل ہند فرنگی قانون سے منکر ہو گئے ہیں، اب فرنگی جادو ان پر نہیں چلتا۔ غیروں کا آئین روح کے لئے بھاری بوجھ ہے۔
آگے 5 شعروں میں علامہ اقبالؒ سلطان ٹیپو کو اس کی توجیہہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''خودی آسانی سے ہاتھ نہیں آتی اور جب تک خود ہاتھ نہ آئے شکست انسان کا مقدر رہتی ہے‘‘۔ سلطان ٹیپو پھر پوچھتے ہیں کہ تو نے میرے شہر اور دربارکی زیارت کی ہے، بتا تو نے دکن میں زندگی کے کوئی آثار دیکھے ہیں؟ اقبالؒ کہتے ہیں کہ ''میں نے دکن میں اپنی آنکھوں سے آنسوئوں کے بیج بو دیئے ہیں۔اب اس چمن کی مٹی سے لالہ کے پھول اگتے ہیں۔ وہاں بہنے والی ندی 'کاویری‘ بھی مسلسل سفر میں ہے، میں نے اس کی جان میں ایک نیا شور دیکھا ہے۔ جو زندگی کی اٹھان ہے‘‘۔ اگلے 9 اشعار میں سلطان ٹیپو اقبالؒ کی شاعری میں بیداری حیات کے پیغام کی تعریف کرتے ہیں کہ '' تجھے قدرت نے دلوں کو روشن کرنے کا کلام عطا کیا ہے، میں تیرے آنسوئوں کی تپش میں ابھی تک جل رہا ہوں‘‘۔ان سے اگلے اشعار میں ''کاویری‘‘ کے نام ایک پیغام میں سلطان ٹیپو کہتے ہیں کہ ''تو مدتوں سے چلتے چلتے تھک چکی ہے، اس لیے آہستہ چل۔ تو نے اپنا راستہ اپنی پلکوں سے اٹھا رکھا ہے ۔ تیرا پانی دکن کے لیے حیات ہے۔ تیری موجوں نے ایک گوہر(سلطان ٹیپو ) پیدا کیا ہے ، یہ وہ گوہر ہے جس کی تدبیر سے صحرا بہشت کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔جب مشر ق سویا ہوا تھا، وہ بیدار تھا اس نے مغرب سے ٹکر لی او ر شہید ہو گیا۔میں اور تو ، دونوں زندگی کی جوئے آب کی لہریں ہیں،اور زندگی کا ہر لمحہ انقلاب ہے ۔ ہر وجود تازہ جب موت کا شکار ہوتا ہے تو نیا وجود اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ہر چیز محو سفر ہے۔موسم گل بھی مہمان ہوتا ہے،بقاء اور فنا کی اس دنیا میں آنا ہو تو کسی کی طرح سے مت گزر، بلکہ آسمانوں کی وسعت میں پائوں رکھ ، خود میں سورج کی سی قوت پیدا کر کے دنیا کو روشن کر۔‘‘