شہر لگتا ہے بیابان مجھے ۔۔۔۔کہیں ملتا نہیں انسان مجھے انسانیت ڈھونڈنے والا شاعر…یوسف ظفر میرا جی کیساتھ’’ حلقۂ ارباب ذوق ‘‘کی بنیاد ڈالی ، صحافت کے شعبے سے بھی وابستہ رہے

شہر لگتا ہے بیابان مجھے ۔۔۔۔کہیں ملتا نہیں انسان مجھے  انسانیت ڈھونڈنے والا شاعر…یوسف ظفر میرا جی کیساتھ’’ حلقۂ ارباب ذوق ‘‘کی بنیاد ڈالی ، صحافت کے شعبے سے بھی وابستہ رہے

اسپیشل فیچر

تحریر : طیبہ بخاری


شاعری کی دنیا میں یوسف ظفر کے نام کا سکہ آج بھی چلتا ہے ، وہ منفرد مقام کیساتھ ساتھ اپنا علیٰحدہ حلقہ بھی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ اس دنیا سے جانے سے پہلے مستقبل کے اہلِ ذوق کیلئے ''حلقۂ ارباب ذوق ‘‘کی بنیاد ڈال گئے تا کہ اہلِ ذوق متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم سے علم و ادب کی خدمت کرتے رہیں اور سیاسی ومعاشرتی نشیب و فراز پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں ۔ اردو زبان کے اس ممتاز شاعر نے یکم دسمبر 1914ء کو مری میں جنم لیا،یوسف ظفر قلمی نام جبکہ اصل نام شیخ محمد یوسف تھا ، 23جولائی1929ء کا دن یوسف ظفر صاحب کی زندگی میں انتہائی صدمے کا دن ثابت ہوا، اس دن کو شائد ہی وہ کبھی بھلا سکے ہوں کیونکہ اسی روز ان کے والد شیخ غلام رسول انتقال کا ہوا اور اسی روز انکی بڑی ہمشیرہ والد کی رحلت کا صدمہ برداشت نہ کرپائیں بے ہوش ہوئیں اور پھر خالق حقیقی سے جا ملیں یعنی 23جولائی 1929ء کو یوسف ظفر صاحب کے گھر سے دو جنازے اٹھے شائد اسی لمحے کیلئے انہوں نے یہ شعر کہا تھا کہ
پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے
پلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئے
اور پھر ان کا ایک اورشعر انکے جذبات کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ
شہر لگتا ہے بیابان مجھے
کہیں ملتا نہیں انسان مجھے
والد اور بڑی بہن کی اچانک وفات یوسف صاحب کیلئے غم کا پہاڑ ثابت ہوئی ، والد کے انتقال سے صرف 15سال کی عمر میں گھر کی ذمہ داری انکے ناتواں کندھوں پر آ پڑی اور بڑی بہن سے جدائی کا صدمہ انہیں اندر ہی اندر کھاتا رہا۔ انتہائی نامساعد حالات میں زندگی بسر کرنیوالے یوسف ظفرمصائب اور مشکلات کے سائے تلے جدوجہد میں مصروف رہے ، زندگی میں آگے بڑھنے کی لگن اور کچھ کر دکھانے کی دھن تھی ۔ اپنے اردگرد کے حالات پر بھی گہرے نظر رکھتے تھے ، حساس طبیعت کے مالک تھے ، کسی کو کرب میں مبتلا دیکھتے تو اند ر ہی اندر کڑھتے رہتے لیکن بے بسی کو اپنے پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ دوسروں کے درد کو اپنا سمجھنے والے یوسف ظفر کا کلام بطور مثال یہاں پیش خدمت ہے کہ
میں ترا نقش قدم ہوں اے دوست
اپنے انداز سے پہچان مجھے
میں تجھے جان سمجھ بیٹھا ہوں
اپنے سائے کی طرح جان مجھے
تو کہاں ہے کہ ترے پردے میں
لیے پھرتا ہے ترا دھیان مجھے
تیری خوشبو کو صبا لائی تھی
کر گئی اور پریشان مجھے
سر و سامان دو عالم ہوں میں
کیوں کہو بے سر و سامان مجھے
میری ہستی ترا افسانہ تھی
موت نے دے دیا عنوان مجھے
دل کی دھڑکن پہ گماں ہوتا ہے
ڈھونڈھتا ہے کوئی ہر آن مجھے
میں بھی آئینہ ہوں تیرا لیکن
تو نے دیکھا کبھی حیران مجھے
ان کی نسبت کا کرشمہ ہے ظفر
کہتے ہیں یوسف کنعان مجھے
تمام تر مشکلات کو روندتے اور بچپن کی محرومیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یوسف ظفر صاحب نے 1936ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس امتحان میں کامیابی ان کیلئے بہت اہمیت رکھتی تھی کیونکہ عملی زندگی میں یہ کامیابی ان کیلئے پہلے پائیدان کی حیثیت رکھتی تھی اور یوسف ظفر اس پائیدان سے آگے کا سفر تیزی سے طے کرنا چاہتے تھے ، کچھ کرنا اور بننا چاہتے تھے ، محنت اور لگن کا سفر جاری رہا اور اب تو کامیابیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا ۔ ہمت نہ ہارنے کا فیصلہ تو وہ بچپن سے ہی کر چکے تھے پھر کیا تھا ایک ایک کر کے ہر کامیابی ان کا مقدر بنی اور اب زندگی ان کیلئے محرومی کا باب نہیں ایک کھلی کتاب تھی جس پر انہوں نے اپنی ادبی خدمات کی وہ تاریخ رقم کی کہ جسے ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھا اور پڑھا جائے گا ۔ اپنے بارے میں انکا اپنا شعر ملاحظہ کیجئے
ان کی محفل میں ظفر لوگ مجھے چاہتے ہیں
وہ جو کل کہتے تھے دیوانہ بھی سودائی بھی
یوسف ظفر شاعر ہونے کیساتھ ساتھ ایک اچھے صحافی،ڈرامہ نگار اور ادیب بھی تھے اپنے حال میں مست رہنے والے آدمی تھے ، زندگی کے نشیب و فراز کو بھلایا نہیں بلکہ انہیں ایک سبق کے طور پر یاد رکھا ، انکی شاعری میں ہمیں جو جذبات ، کرب اور معاشرتی ناہمواریوں کا احساس ملتا ہے یہ سب اُسی سبق کا حصہ تھا 1939ء میں میرا جی کے ساتھ حلقہ'' ارباب ذوق‘‘ کی بنیاد ڈالی اور قیام پاکستان کے بعد مشہور ادبی جریدے ''ہمایوں‘‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے اور اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے تک ترقی پائی۔
باتوں سے سوا ہوتی ہے کچھ وحشت دل اور
احباب پریشاں ہیں مرے طرز عمل سے
یوسف ظفر صاحب کے تخلیقی سفر سے آگہی کیلئے اردو شعر و ادب کے عہد بہ عہد ارتقاء کیلئے ان مرکزی تحریکات و رجحانات کو مدنظر رکھنا ہو گا جن سے اردو شعر و ادب کو مسلسل توانائی حاصل ہوتی رہی ، ایسی تحریکوں میں دو تو خاص طور پر اہم ہیں یعنی ترقی پسند تحریک اور تحریک حلقۂ ارباب ذوق۔ 20ویں صدی کی ابتدا ء سے ہی سیاسی، معاشرتی اور ادبی منظرنامہ بھی بدل رہا تھا۔ اس صدی کی چوتھی دہائی، ہندوستانی معاشرے میں انتشار اور افرا تفری لے کر وارد ہوئی، حالات کچھ اور سمت، کچھ اور موڑ اور رنگ اختیار کرتے جا رہے تھے۔ شعر و ادب کا ایسے معاملات میں اپنا کردار رہا ہے لہٰذا ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں نے اس زمانے میں بھی آواز بلند کی۔ یورپ کے روشن خیال اور ترقی پسند حلقوں میں فاشزم کیخلاف رد عمل ہوا۔ ہٹلر نے کئی شاعروں، ادیبوں اور سائنسدانوں کو یا تو قتل کرا دیا یا جلا وطن۔ اس پس منظر میں ترقی پسند تحریک اُبھری اور شعر و ادب نئے امکانات اور ممکنات کی طرف راجع ہو گیا۔شعراء اور ادباء ہندوستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئے، مشہور ہوئے اور ان سے لوگ محبت بھی کرنے لگے۔ ترقی پسندی کے تحت کسان، مزدور، دبے کچلے، مظلوم اور پرولتاری طبقات موضوعات بنے۔ اشرافیہ ادب کو بھی ایک دھچکا لگا اور محسوس ہوا کہ اب شعر و ادب زندگی کے ان مطالبات سے زیادہ قریب تر ہے جن سے روز ہی واسطہ پڑتا ہے۔ ایسی گراں باری نے نئے امکانات کی طرف رُخ کرنے کی سبیل پیدا کی۔ اور پھر حلقۂ ارباب ذوق کا قیام 1939ء میں عمل میں آیا۔ ابتدا ء میں کئی سال تک ترقی پسندوں اور حلقۂ ارباب ذوق والوں میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ بلکہ کئی برسوں تک ترقی پسند ادیب اور شاعر، حلقے کے جلسوں میں شریک ہوتے رہے۔ حلقۂ ارباب ذوق اور ترقی پسند مصنّفین میں ایک بنیادی اختلاف یہ تھا کہ حلقے کے ارباب ''ادب برائے ادب‘‘ کے علمبردار تھے اور ترقی پسند مصنّفین ''ادب برائے زندگی‘‘ کے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اختلاف کا دائرہ بڑھتا گیا۔
9اپریل 1939ء کو ایک معمولی سی انجمن کی داغ بیل ڈالی گئی تھی جس کا کام افسانے سننا اور سنانا تھا، پھر ان پر تفصیلی گفتگو کرنی تھی اور لوگوں کو آشنا بھی کرنا تھا۔ ابتداء میں اس کا نام ''بزم داستاں گویاں‘‘ رکھا گیا۔ اس کا پہلا جلسہ 29 اپریل 1939ء کو لاہور میں حفیظ ہوشیار پوری کی زیر صدارت ہوا ۔ اس موقع پہ نسیم حجازی نے اپنا طبع زاد افسانہ ''تلافی‘‘ سنایا ۔ شیر محمد اختر، تابش صدیقی، عبدالغنی، محمد سعید، محمد فاضل صاحبان شریک جلسہ تھے۔ اس بزم کی ہر اتوار کو کسی نہ کسی رکن کے گھر پر نشستیں ہوتیں۔ شروع میں یہ انجمن افسانے سننے سنانے پر بس کرتی رہی، بعد میں جب قیوم نظر، میرا جی، یوسف ظفر اور ن م راشد جیسے شعراء اس میں شامل ہوئے تو اس کے اغراض و مقاصد میں بھی توسیع ہوئی۔ اب صرف افسانہ نہیں بلکہ ناول کا کوئی باب، کوئی مضمون یا پھر نظمیں، غزلیں سننے سنانے کا سلسلہ بھی قائم ہوا۔ فن پاروں اورمضامین پر کھلی فضا ء میں سیر حاصل تنقیدی گفتگو ہوتی اور سامعین ان مباحث سے استفادہ کرتے۔ حفیظ ہوشیار پوری کی تحریک پر اس کے نام میں بھی تبدیلی لائی گئی۔ ان کی تجویز پر ''بزم داستاں گویاں‘‘ کا نام تبدیل کر کے ''حلقۂ ارباب ذوق‘‘ رکھا گیا۔ اب حلقے کے ارباب تخلیقی جہات کے نئے امکانات سے لوگوں کو آشنا کرنے لگے۔ اس حلقے میں ن م راشد، میرا جی، یوسف ظفر، قیوم نظر، مختار صدیقی، ضیاء جالندھری، غلام مصطفیٰ صوفی تبسم، تصدق حسین خالد، محمد دین تاثیر، حفیظ ہوشیار پوری، مخمور جالندھری، صفدر میر، الطاف گوہر وغیرہ جیسے ممتاز لوگوں کی شرکت نے اسے تقویت دی۔ اس کے ارتقائی سفر میں اختر شیرانی، اوپندر ناتھ اشک، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، سلام مچھلی شہری، شاد عارفی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، کنہیا لال کپور، ظہیر کاشمیری، ہنس راج رہبر، رام بابو سکسینہ جیسے لوگ بھی شامل رہے۔ ''حلقۂ ارباب ذوق‘‘ کے قیام تک لاہور میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی کوئی شاخ نہیں تھی۔ لہٰذا ترقی پسند احباب حلقے کی نشستوں میں بے دریغ شامل ہوتے تھے۔ جہاں ترقی پسندوں کا زور تھا وہاں ارباب ذوق کے لوگ ان کے جلسوں میں شریک رہتے ۔
یہ تھا یوسف ظفرصاحب کا ادبی سفر اور ان کی حلقۂ ارباب ذوق کیلئے خدمات جن کو ہم نے مختصراً بیان کرنے کی کوشش کی ، ان کی سوانح عمری ''یوسف ظفر کی بات‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے جبکہ ان کے شعری مجموعوں میں ''نوائے ساز‘ عشق پیماں‘ حریم وطن‘ صدا بہ صحرا‘ زہرخند ‘‘اور'' زنداں‘‘ کے نام شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی کلیات بھی شائع ہوچکی ہے،ان کی نثری تصنیف ''یہودیت ‘‘بھی اپنے موضوع پر لکھی گئی ایک بڑی وقیع تصنیف ہے۔ 7 مارچ 1972ء کو یہ کہنہ مشق شاعر ، صحافی اور ادیب اس دنیا سے رخصت ہوا اور انہیں راولپنڈی میں سپردِ خاک کیا گیا ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلا میں چین کی  سرگرمیاں

خلا میں چین کی سرگرمیاں

زمین کے مدار میں پراسرار اشیا چھوڑنے کا معاملہ، خفیہ مشن پر نئی بحثخلائی دنیا میں برتری حاصل کرنے کی عالمی دوڑ اب ایک نئے اور پراسرار مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین کا انتہائی خفیہ خلائی طیارہ طویل عرصے سے ماہرین اور انٹیلی جنس اداروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خصوصاً اس کے زمین کے مدار میں پراسرار اشیاء چھوڑنے کے واقعات نے کئی سوالات جنم دیے ہیں۔ اب امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ نے اس خفیہ خلائی طیارے کی پہلی واضح جھلک پیش کرکے اس کے مشن، صلاحیتوں اور ممکنہ مقاصد کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ میں پہلی مرتبہ چین کے زمین کے مدار میں گردش کرنے والے خلائی طیارے کی واضح تصویر سامنے آئی ہے، جس سے اس کی صلاحیتوں کے بارے میں ممکنہ اہم اشارے ملے ہیں۔ روبوٹک خلائی جہاز ''شین لونگ‘‘ (Shenlong) اس سے قبل زمین کے نچلے مدار میں پراسرار اشیاء خارج کرتے ہوئے دیکھا جا چکا ہے۔2020ء میں اپنے پہلے خلائی مشن کے آغاز کے بعد سے یہ طیارہ مختلف حکومتوں، خلائی اداروں اور نجی کمپنیوں کی گہری نگرانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔تاہم اب تک اس کی صرف ایک دھندلی تصویر ہی دستیاب تھی، جس میں اس کے پینلز سے منعکس ہونے والی روشنی دکھائی دیتی تھی۔ اس خلائی طیارے کی پہلی ہائی ریزولوشن تصویر امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی تازہ ترین رپورٹ میں جاری کی گئی ہے۔130 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں ایک ایسی تصویر بھی شامل تھی جو اس سے پہلے کبھی منظرعام پر نہیں آئی تھی۔ یہ تصویر 2024ء میں خلائی ٹیکنالوجی کی نجی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز نے کھینچی تھی، جو اب وینٹور (Vantor) کے نام سے کام کر رہی ہے۔رپورٹ میں اس تصویر کے ساتھ صرف ''عوامی جمہوریہ چین کا خلائی طیارہ‘‘ کا عنوان درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے کہ خلائی طیارے مدار میں پہنچ کر خلا میں اشیاء چھوڑ سکتے ہیں، ان کی آزمائش کرسکتے ہیں اور بعدازاں زمین پر واپس بھی آسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو رپورٹ میں اور نہ ہی تصویر کے عنوان میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تصویر ہے یا اس سے قبل اسے خفیہ دستاویز کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اس صورتِ حال نے یہ سوالات بھی جنم دیے ہیں کہ آخر اب اس تصویر کو منظرعام پر لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟امریکی خلائی شٹل کی طرح چین کا خلائی طیارہ ''شین لونگ‘‘ بھی ایک راکٹ کے ذریعے زمین سے روانہ کیا جاتا ہے۔ خلا میں پہنچ کر یہ زمین کے مدار میں داخل ہوتا ہے اور بعدازاں ایک عام ہوائی جہاز کی طرح لینڈنگ کرتے ہوئے زمین پر واپس آتا ہے۔ اس خلائی طیارے کا تازہ ترین مشن رواں سال 7 فروری کو شروع ہوا، جب اسے چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ''لانگ مارچ 2 ایف‘‘ راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا۔ تاہم چین نے اپنے اس تجرباتی خلائی طیارے کے بارے میں رازداری برقرار رکھی اور اب تک اس کی کوئی باضابطہ تصویر جاری نہیں کی۔اس صورتِ حال میں سامنے آنے والی یہ تصویر پہلی مرتبہ عوام کو شین لونگ کا قریب سے جائزہ لینے اور اس کی ممکنہ صلاحیتوں کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔خلائی ٹیکنالوجی کی کمپنی وینٹور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ رپورٹ خلا میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور قابلِ استعمال خلائی نظاموں سمیت دیگر سرگرمیوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں 2024ء کے دوران مدار میں موجود چینی خلائی طیارے کی وینٹور کی ''ورلڈ ویو اسپیس‘‘ سے حاصل کردہ تصاویر بھی شامل ہیں۔کمپنی کی جانب سے تصویر پر درج کردہ اضافی نشانات اور وضاحتوں میں اس خلائی طیارے کو ''عوامی جمہوریہ چین کا تجرباتی خلائی جہاز نمبر 3‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی لمبائی 26 فٹ بتائی گئی ہے۔تصویر میں یہ بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ خلائی طیارے کے ''پے لوڈ بے ‘‘(Payload Bay) کے دروازے جزوی طور پر کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے پچھلے حصے میں ایک دوسرا سیٹلائٹ بھی منسلک ہے۔تقریباً 32 فٹ (10 میٹر) چوڑایہ سیٹلائٹ غالباً ایک ''سروس ماڈیول‘‘ ہے۔ اس قسم کے سیٹلائٹ خلائی جہازوں کے ساتھ منسلک ہوکر انہیں اضافی بجلی، حرکت دینے کی قوت اور دیگر معاون نظام فراہم کرتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اس تصویر سے ماہرین کے اس سابقہ اندازے کی بھی تصدیق ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ چین کا شین لونگ خلائی طیارہ امریکی خلائی فوج کے اپنے روبوٹک خلائی طیارے سے تقریباً مماثلت رکھتا ہے۔امریکی خلائی طیارہ ''ایکس 37 بی‘‘ابتدا میں ناسا کے ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں اسے امریکی محکمہ دفاع کے حوالے کردیا گیا۔ یہ بھی ساخت و ڈیزائن کے اعتبار سے چین کے شین لونگ سے غیرمعمولی مشابہت رکھتا ہے۔

انجینئرنگ کی دنیا کا دیوقامت عجوبہ

انجینئرنگ کی دنیا کا دیوقامت عجوبہ

انسان نے اپنی ضروریات اور تعمیراتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایسی حیرت انگیز مشینیں تیار کی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان میں دنیا کی سب سے بڑی کھدائی کرنے والی مشین (Excavator) بھی شامل ہے، جو اپنے غیرمعمولی حجم، طاقتور بازوؤں اور دیوہیکل ساخت کے باعث کسی چلتے پھرتے پہاڑ سے کم دکھائی نہیں دیتی۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر آپ 14 ہزار ٹن وزنی ''باگر 293‘‘ (Bagger 293) نامی دیوہیکل بکٹ وہیل ایکسکیویٹر کو کھلی سڑک پر لے آئیں تو کس قدر افراتفری پھیل جائے گی۔ اگر یہ مشین کبھی صبح کے دفتری اوقات میں سڑکوں پر نکل آئے تو ٹریفک کی صورتِ حال سے متعلق خبریں بھی یقیناً کچھ مختلف ہوں گی۔اوپر دکھائی گئی تصاویر جوزف او نیل (Joseph O`Neil)کی تیار کردہ ایک ڈیجیٹل تخلیق ہے، جس میں ایک درست تھری ڈی ماڈل کی مدد سے اس مکمل طور پر چلائی جا سکنے والی مٹی کھودنے کی مشین کو سڑک پر رواں دواں دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر اس وقت کی ممکنہ صورتِ حال پیش کرتا ہے جب شہر کے ایک پورے بلاک سے بھی زیادہ لمبی کھدائی کرنے والی مشین کسی شاہراہ پر سفر کرے۔ جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے، روزانہ دفتر جانے کے دوران کوئی بھی شخص اپنی گاڑی کے آگے اس دیوہیکل مشین کو دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔یہ مشین صرف دنیا کی سب سے بڑی متحرک صنعتی مشین ہی نہیں بلکہ زمین پر چلنے والی سب سے بڑی اور بھاری ترین گاڑی بھی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسے باقاعدہ چلایا جا سکتا ہے۔جرمنی کی کمپنی ٹاکراف (TAKRAF) کی تیار کردہ ''باگر‘‘ (Bagger) ایک دیوہیکل کان کنی کی مشین ہے، جس کی بلند ترین اونچائی 94.5 میٹر (310 فٹ) جبکہ لمبائی 220 میٹر (722 فٹ) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مشین اپنے پیڈسٹل سمیت مجسمہ آزادی جتنی بلند اور فٹ بال کے دو میدانوں سے بھی زیادہ طویل ہے۔اگر آپ کے پاس اس مشین کی چابیاں ہوں تو یقیناً آپ اسے سیر کیلئے لے جاسکتے ہیں۔ تاہم، اسے چلانے کا تجربہ کسی عام خاندانی گاڑی کو چلانے جیسا نہیں ہوگا بلکہ یوں محسوس ہو گا جیسے آپ کسی شاہراہ پر ایک عظیم الشان گوتھک طرز کے گرجا گھر کو چلا رہے ہوں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دیوہیکل مشین کا وزن، خصوصاً کسی کنکریٹ کے فلائی اوور سے گزرنے کا تصور کرتے ہوئے، حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ ''باگر 293‘‘ کا مجموعی وزن 14 ہزار 196 ٹن (3 کروڑ 13 لاکھ پاؤنڈ) ہے۔ یہ وزن 130 سے زائد نیلی وہیل مچھلیوں یا مکمل سامان سے لدے 170 سے زیادہ بوئنگ 737 طیاروں کے مجموعی وزن سے بھی زیادہ ہے۔باگر مشینوں کے پورے سلسلے میں سب سے بڑی مشین ''باگر 293‘‘ کو شمالی جرمنی کی ایک کھلی کوئلے کی کان سے روزانہ 2 لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر (84 لاکھ مکعب فٹ) مٹی اور زمین کھودنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ کھدائی کی یہ مقدار اولمپک معیار کے 100 سوئمنگ پولز کو بھرنے کیلئے کافی ہے۔یہ مشین اپنے 21.6 میٹر (71 فٹ) چوڑے دیوہیکل پہیے پر نصب 18 بالٹیوں کی مدد سے زمین کھودتی ہے۔ بعدازاں نکالی گئی مٹی اور کوئلے کو ایک طویل کنویئر بیلٹ کے ذریعے مشین کے بڑے بازو (بوم) کی پوری لمبائی تک منتقل کرکے دوسری جگہ پہنچا دیا جاتا ہے۔اپنے غیرمعمولی حجم اور بھاری بھرکم ساخت کے باوجود ''باگر 293‘‘ کو چلانے اور اس کے تمام نظام فعال رکھنے کیلئے پانچ افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ڈرائیور مشین کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ دیگر چار آپریٹرز اس کے دیوہیکل گھومنے والے وہیل، کنویئر بیلٹس اور دوسرے مشینی نظاموں کی نگرانی کرتے ہیں۔زمین سے خاصی بلندی پر قائم کنٹرول کیبن میں بیٹھ کر عملے کے ارکان کھدائی کے پورے عمل کا جائزہ لیتے، مشینری کی ضرورت کے مطابق ترتیب تبدیل کرتے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ دیوہیکل مشین محفوظ اور مؤثر انداز میں کام کرتی رہے۔ یہ پانچ افراد مل کر ایک ہی دن میں اتنی بڑی مقدار میں زمین کھودنے کے عمل کی نگرانی کرسکتے ہیں، جسے وہاں سے منتقل کرنے کیلئے 10 ہزار ڈمپر ٹرکوں کے چکر لگانے پڑیں گے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!تنویر نقوی  سدا بہار گیتوں کے تخلیق کار (1972-1919ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!تنویر نقوی سدا بہار گیتوں کے تخلیق کار (1972-1919ء)

٭...6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، اصل نام سید خورشید علی تھا، فلمی دنیا میں تنویر نقوی کے نام سے شہرت پائی۔٭...12 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا، 1938ء میں فلم ''شاعر‘‘ سے گیت نگاری کی دنیا میں قدم رکھا۔٭...1945ء میں فلم ''انمول گھڑی‘‘کے دو گیت ''جواں ہے محبت، حسیں ہے زمانہ‘‘ اور ''آواز دے کہاں ہے، دنیا مری جواں ہے‘‘ لکھے، جو بے پناہ مقبول ہوئے۔٭...پاکستان آنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے فلم ''کوئل‘‘ کے گیت لکھے،جوبہت مقبول ہوئے۔٭... ان کے گیت ''جان بہاراں، رشک چمن‘‘ کو عظیم ترین رومانوی گیت قرار دیا گیا۔ اس لافانی گیت کی موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے مرتب کی اور سلیم رضا نے اسے گایا تھا۔٭...پنجابی فلموں کیلئے بھی شاندار گیت تحریر کئے ۔٭...فلمی گیتوں کے علاوہ غزلیں اور قطعات بھی لکھے۔ خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں، فلم ''نور اسلام‘‘ کی نعت ''شاہ مدینہ، یثرب کے والی‘‘ اور فلم ''ایاز‘‘ کی ''بلغ العلیٰ بکمالہ‘‘ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔٭... 1965ء کی جنگ کے دوران ''رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘ سمیت کئی ملی نغمے لکھے ۔٭... قتیل شفائی اور احمد راہی جیسے بڑے گیت نگاروں نے بھی تنویر نقوی کو سب سے ارفع گیت نگار قرار دیا تھا، انہوں نے تنویر صاحب کو ''نغمہ نگاروں کا شہنشاہ‘‘ قرار دیاتھا۔٭...1972ء میں آج کے روز وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ مقبول گیت٭... جواں ہے محبت (انمول گھڑی) ٭... رم جھم رم جھم پڑے پھوار (کوئل)٭... اے روشنیوں کے شہر بتا (چنگاری)٭... گائے گی دنیا گیت میرے (موسیقار)٭... کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائوں (انار کلی)٭...چلی رے چلی ، میں تو دیس پیا کے(جھومر)٭... مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے (گھونگٹ)٭... جان بہاراں، رشک چمن (عذرا)٭...گزرا ہوا زمانہ (شیریں فرہاد)٭... میری نظریں ہیں تلوار (شہید) ٭... کچھ بھی نہ کہا (عذرا) ٭...یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم (افسانہ)٭...کس نام سے پکاروں (غرناطہ)٭... چٹھی ذرا سیاں جی کے نام(دوستی)

آج کا دن

آج کا دن

سلطنت عثمانیہ کا خاتمہیکم نومبر1922ء کو ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے سلطنت عثمانیہ جو1299ء سے قائم تھی کا خاتمہ کر دیا۔ سلطنت عثمانیہ کو عالمی جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، انتظامی اور معاشی مشکلات کی وجہ سے حکومت چلانا مشکل ہو گیا۔ جنگ میں شکست کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کو فاتح افواج کی کئی شرائط قبول کرنا پڑیں ۔اقوام متحدہ میں دو ممالک شامل2000ء میں یورپ کے دو ممالک سربیا اور مونٹی نیگرو نے عالمی سفارتی میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اقوام متحدہ (یو این او) کی رکنیت حاصل کی۔ اس شمولیت کے ذریعے دونوں ممالک کو عالمی برادری کا حصہ بننے اور بین الاقوامی معاملات میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔لزبن کا تاریخی زلزلہیکم نومبر1755ء کو لزبن میں آنے والے زلزلے نے بہت زیادہ تباہی مچائی۔اس زلزلے نے پرتگال، جزیرہ نما آئبیرین اور شمال مغربی افریقہ کو متاثر کیا، آگ اور سونامی نے لزبن اور اس سے ملحقہ علاقوں کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا۔7.7شدت کے زلزلے میں تقریباً50 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ریاض ایندھن حادثہیکم نومبر2012ء کو سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایک ایندھن لے جانے والا ٹرک فلائی اوور سے ٹکرا گیا۔ پیٹرول لیک ہونے سے سڑک پر آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں 23 افراد ہلاک اور111زخمی ہوئے۔ دھماکے کی شدت کے باعث ایک ٹرک فلائی اوور سے نیچے گر گیا۔ ہندوستان پر برطانوی راجیکم نومبر 1858ء تاریخ برصغیر کا ایک اہم موڑ تھا۔ اس دن برطانوی حکومت نے اعلان کیا کہ اب برصغیر پر براہِ راست تاجِ برطانیہ کی حکمرانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کا تقریباً دو صدیوں پر محیط اقتدار ختم ہو گیا۔ملکہ وِکٹوریہ نے ایک شاہی فرمان جاری کیا جس کے تحت ہندوستان کو برطانوی سلطنت کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا۔ تمام اموربرطانوی گورنر جنرل کے ماتحت آ گئے۔فلم ٹائی ٹینک کی نمائش1997ء میں آج کے روز مشہور امریکی فلم ''ٹائی ٹینک‘‘ کی پہلی عوامی نمائش جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقدہ ایک فلمی میلے میں ہوئی۔ جیمز کیمرون کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم نے ریلیز کے بعد دنیا بھر میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی اور عالمی سنیما کی تاریخ کی کامیاب ترین فلموں میں شمار ہونے لگی۔ پہلے ہائیڈروجن بم کا تجربہیکم نومبر 1952ء کو امریکا نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں ایک اہم تجربہ کرتے ہوئے دنیا کے پہلے تھرمو نیوکلیئر آلے (ہائیڈروجن بم) کو کامیابی سے دھماکے سے اڑا دیا۔ یہ تجربہ بحرالکاہل میں واقع اینی ویٹک جزیرے پر کیا گیا۔ دھماکے کی شدت 10 میگا ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

غازی علم دین شہید:ایمان،تاریخ اور انصاف کی جستجو

برصغیر کی تاریخ میں بعض واقعات محض ماضی کا حصہ بن کر نہیں رہتے بلکہ اجتماعی یادداشت، مذہبی جذبات اور قومی شعور میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کی داستان بھی ایک ایسا ہی تاریخی باب ہے جس میں عقیدت، نوآبادیاتی نظامِ انصاف، عوامی احتجاج اور تاریخ کے مختلف زاویے ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی زندگی اور مقدمے سے متعلق تاریخی دستاویزات کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ تاریخ کو سمجھنے کیلئے صرف واقعات کا بیان کافی نہیں بلکہ ان کے پس منظر، محرکات اور نتائج کا سنجیدہ جائزہ بھی ضروری ہے۔غازی علم دین شہید کا نام آج بھی برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی یادداشت میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کی داستان ایک طرف رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ سے مسلمانوں کی غیر معمولی محبت اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ مذہبی جذبات، قانون اور انصاف کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے۔ اس تاریخ کو خلوص، احترام اور فکری دیانت کے ساتھ پڑھنا ہی اس کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے کا راستہ ہے۔توہین آمیز کتاببیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں برصغیر برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے زیر اثر تھا۔ آزادی کی تحریک مختلف صورتوں میں آگے بڑھ رہی تھی۔ اسی ماحول میں مذہبی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے بھی شدت اختیار کی۔اس زمانے میں شائع ہونے والی ایک توہین آمیز کتاب نے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا۔ یہ کتاب ناشر مہاشے راجپال سے منسوب تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے اس پر احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ راجپال کیخلاف ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد معاملہ لاہور ہائیکورٹ تک پہنچا جہاں مئی 1927ء میں سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے سے مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ عام گھرانے سے تاریخ کے مرکز تکغازی علم دین 4 دسمبر 1908ء کو لاہور کے سریانوالہ بازار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں طالع مند لکڑی کے کام سے وابستہ تھے جبکہ والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ ان کے بڑے بھائی محمد دین اور بہن معراج بیگم تھیں۔ خاندانی روایات کے مطابق ان کا تعلق شیخو جٹ برادری سے تھا اور خاندان کو احتراماً ''میاں‘‘ کہا جاتا تھا۔ان کی ابتدائی تعلیم ایک مدرسے میں ہوئی جہاں انہوں نے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔ والد نے انہیں خاندانی پیشہ بھی سکھایا اور وہ لکڑی کے کام میں عملی مہارت حاصل کرنے لگے۔ شہر میں مذہبی ادارے، سیاسی تحریکیں، اخبارات اور عوامی اجتماعات معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ایک عام نوجوان بھی اپنے گردوپیش کے واقعات سے متاثر ہوسکتا تھا۔ 6 اپریل 1929ء کا واقعہگستاخ راجپال کی عدالتی بریت کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ مذہبی علما اور سیاسی رہنما عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے اور اس امر پر تشویش ظاہر کرتے کہ موجودہ قانونی نظام مذہبی جذبات کے تحفظ کیلئے ناکافی ہے۔ اس سے قبل غازی عبدالعزیز خان اور غازی خدا بخش نے راجپال پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں دونوں کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ غازی علم دین نے لاہور میں راجپال کیخلاف ہونے والے احتجاجی اجتماعات اور تقاریر کا اثر قبول کیا۔ ان روایات کے مطابق، بعض مقررین نے مجمع سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص رسول اکرمﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کیخلاف قدم اٹھانے کیلئے تیار نہیں؟ 6اپریل 1929ء کوغازی علم دین راجپال کی دکان پر گئے اور چھری کے وار سے اس کا کام تمام کردیا۔ انہیں گرفتار کرلیا گیا اور ان کیخلاف قتل کا مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمہ اور قانونی دفاعغازی علم دین کے مقدمے کی کارروائی تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ 25 اپریل 1929ء کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ای ایس لیوس کی عدالت میں ان کیخلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ 302 کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ 22 مئی 1929ء کو عدالت نے سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی کوشش کی گئی اور قائد اعظم محمد علی جناح اس قانونی کارروائی سے وابستہ ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق قائد اعظم نے غازی علم دین کو ایسا دفاع اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس سے ان کی جان بچنے کا امکان پیدا ہوسکتا تھالیکن انہوں نے اپنے عمل سے لاتعلقی ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے غازی علم دین کی سزائے موت برقرار رکھی۔ مزید قانونی کوششوں کیلئے علم دین ڈیفنس کمیٹی قائم ہوئی اور مالی وسائل جمع کیے گئے۔ بعض روایات کے مطابق برطانیہ کی پریوی کونسل میں اپیل کیلئے بھی رقم خرچ کی گئی لیکن ان کوششوں سے سزا تبدیل نہ ہوسکی۔میانوالی جیل اور وصیت 31اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں غازی علم دین کی سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان کی آخری ملاقات، وصیت اور آخری لمحات سے متعلق تفصیلات اس زمانے کے اخبارات اور بعد کی روایات میں محفوظ ہیں۔ روزنامہ ''انقلاب‘‘ میں ان کی والدہ سے ملاقات کے حوالے سے ایک خواب کا ذکر ملتا ہے۔ ان سے منسوب وصیت میں نماز، نیک کردار، ذاتی اعمال کی جوابدہی اور خاندان کیلئے نصیحتوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔غازی علم دین کی شہادت کے بعد انہیں میانوالی میں امانتاًدفن کیا گیا۔اس دوران لاہور میں میت واپس لانے اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس معاملے نے عوامی احتجاج کو ایک نئی جہت دی اور مذہبی و سیاسی شخصیات اس کی پیروی کیلئے سامنے آئیں۔لاہور واپسی اور تاریخی جنازہغازی علم دین کا جسد خاکی لاہور واپس لانے کی کوششوں میں علامہ محمد اقبالؒ، سر محمد شفیع، مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد بخش مسلم اور دیگر اہم شخصیات کے نام نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں قائم کمیٹی نے برطانوی حکام سے اجازت حاصل کرنے کی سبیل کی۔ حکام کو خدشہ تھا کہ بدامنی پیدا ہوسکتی ہے تاہم یقین دہانیوں کے بعد اجازت مل گئی۔14 نومبر 1929ء کو غازی علم دین شہید کی قبر کشائی کی گئی اور ان کے جسد خاکی کو دو روزہ سفر کے بعد لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مسجد وزیر خان کے امام محمد شمس الدین نے پڑھائی۔ خاندانی روایت کے مطابق پورے برصغیر سے لوگ جنازے میں شرکت کیلئے لاہور پہنچے ۔ علامہ اقبالؒ کی جنازے میں شرکت اور ان سے منسوب یہ جملہ بھی مشہور ہے: ''اسی گلاں ای کردے رہ گئے، ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا‘‘۔ یہ جنازہ محض ایک فرد کی تدفین کا موقع نہیں تھا بلکہ مذہبی وابستگی، اجتماعی جذبات اور نوآبادیاتی دور کے سیاسی ماحول کی علامت بن گیا۔ اسی عوامی یادداشت نے غازی علم دین شہید کے نام کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاریخ سے حاصل ہونے والا سبقغازی علم دین شہید کی داستان کا مطالعہ کرتے ہوئے مذہبی عقیدت، تاریخی حقائق اور قانونی اصولوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ ان کیلئے مسلمانوں کی محبت اور ان کی تاریخی یادداشت میں مقام ایک حقیقت ہے ۔ اس واقعے کو سمجھنے کیلئے مقدمے کی کارروائی، اس دور کے حالات اور قانون کے تقاضوں کا جائزہ بھی ناگزیر ہے۔غازی علم دین شہید کا واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ مذہبی احترام اور انصاف کے تقاضوں کو معاشرے میں کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔ ماضی کے واقعات کو جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ علمی دیانت سے سمجھنا ہی تاریخ سے حقیقی سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی رویہ ہمیں اپنے ماضی کی قدر کرنے، اس کے پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے اور مستقبل کیلئے زیادہ ذمہ دارانہ طرزِ فکر اختیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت

ہر سال 31اکتوبر کو کفایت شعاری کا عالمی دن منایا جاتا ہےزندگی کی حقیقی خوشحالی محض دولت کے انبار جمع کرنے یا نمود و نمائش پر بے دریغ رقم خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ محدود وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کیلئے بچت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں مہنگائی، معاشی ناہمواری اور قدرتی وسائل کی کمی نے انسان کو کئی چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے، وہاں کفایت شعاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کفایت شعاری کا عالمی دن اسی سوچ کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے تحاشا خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ سادہ طرزِ زندگی بھی خوشحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ''ورلڈ سیونگز ڈے‘‘دنیا بھر میں31اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد آمدن سے زیادہ اخراجات پر قابو پانا اور بچت کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1924ء میں ''ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اٹلی کے شہر میلان کے باسیوں نے 31 اکتوبر 1924ء کو پہلی بار اس دن کو منانے کا اعلان کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔کفایت شعاری سے مراد ضرورت کے مطابق خرچ کرنا، فضول خرچی سے اجتناب کرنا اور اپنی آمدنی و وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ موجودہ ضروریات بھی پوری ہوں اور مستقبل کیلئے بھی کچھ محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصور کنجوسی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ کنجوسی میں انسان جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، جبکہ کفایت شعاری میں ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے غیر ضروری خرچ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انفرادی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔کفایت شعاری کا تعلق صرف پیسے کی بچت سے نہیں، بلکہ وقت، توانائی، پانی، بجلی، خوراک اور دیگر قدرتی وسائل کے درست استعمال سے بھی ہے۔ گھروں میں غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، پانی ضائع نہ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنا، قابلِ استعمال اشیا کو بے جا پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال میں لانا اور خریداری سے پہلے اپنی ضروریات کا جائزہ لینا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی طرح اشیائے صرف کی غیر ضروری خریداری سے گریز نہ صرف گھریلو بجٹ کو متوازن رکھتا ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں کفایت شعاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی میں گھر چلانے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کریں، آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اشیائے ضروریہ کی فہرست بنا کر خریداری کرنا، غیر ضروری قرضوں سے بچنا اور ممکنہ حد تک ہنگامی حالات کیلئے رقم محفوظ رکھنا مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا کافی نہیں۔ حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر قومی اداروں کو بھی وسائل کے مؤثر استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، توانائی کی بچت، سرکاری عمارتوں میں بجلی اور پانی کا محتاط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ''اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (سورۃ الاعراف: 31)۔ یہ تعلیم انسان کو یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا درست ہے، لیکن ان کا بے جا استعمال اور اسراف مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعتدال پر مبنی زندگی انسان کو مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور ذمہ داری کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔کفایت شعاری کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وسائل کی قدر کرنا، ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنا کامیاب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی زندگی میں اعتدال کو اپنائے، خاندان غیر ضروری اخراجات کم کریں اور ادارے قومی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری کو محض ایک دن کی یاد دہانی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انفرادی عادت، اجتماعی رویے اور قومی طرزِ فکر کا حصہ بنایا جائے۔