بہاولپور کا شاہی قبرستان، غیر ملکی بیگمات کے سفید مقبرے

 بہاولپور کا شاہی قبرستان، غیر ملکی بیگمات کے سفید مقبرے

اسپیشل فیچر

تحریر : رائے شاہنواز


بہاولپور کے نوابوں کا ذاتی قبرستان شاہی قبرستان کے نام سے مشہور ہے لہٰذا اسے عام لوگوں کے لیے نہیں کھولا جاتا۔ چاردیواری کے اندر کئی طرح کے مقبرے ہیں۔ کچھ مقبروں کے گنبد روایتی سرائیکی اور سندھی فنونِ لطیفہ کے شاہکار ہیں جن پر نیلے رنگ کے پھول بوٹے ہیں اور یہ کشیدہ کاری ہاتھ سے کی گئی ہے۔ کچھ مقبرے سفید سنگِ مرمر کے پتھروں سے بنائے گئے ہیں۔نوابزادہ سردار مجتبیٰ خان رِند جن کی والدہ اگرچہ عباسی خاندان کی ہیں تاہم رِند قبیلے سے ہونے کی وجہ سے اس خاندان کو بھی نواب کا درجہ حاصل ہے۔وہ مقبروں کے اس فرق کی وضاحت کچھ اس طریقے سے کرتے ہیں کہ ''یہ جو آپ کو سفید مقبرے نظر آرہے ہیں، یہ سفید پتھر فرانس سے درآمد کیا گیا تھا اور نوابوں کی جو ازواج غیر ملکی تھیں ان کے مقبرے سفید پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ جو ازواج اس خطے اور قبیلے کی تھیں ان کے مقبروں پر علاقائی رنگ آپ کو نمایاں نظر آئے گا۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ دونوں میں فرق کیا جا سکے۔‘‘
نوابوں کی غیر ملکی ازواج کے مقبرے سفید پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں۔اخروٹ کی لکڑی سے بنے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوں تو عالی شان مقبروں کی قطاریں اور شاہانہ طرزِ تعمیر آپ کو حصار میں لے لیتا ہے۔بائیں طرف ایک بڑے ہال میں ان 12 نوابوں کی قبریں ہیں جنہوں نے ریاست بہاولپور پر حکومت کی۔ ہر قبر کے تعویذ پر نواب کا نام اور مختصر تاریخ درج ہے جب کہ ساری قبریں سنگِ مرمر کی ہیں اور پتھر پر خطاطی بھی کی گئی ہے۔قبروں کے ایک طرف چھوٹے بڑے ستون رکھے گئے ہیںجن کی اونچائی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ سردار مجتبیٰ کے مطابق ان اونچائیوں کے نیچے اوپر ہونے کی بھی حکمت ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ''یہ چھوٹے ستون ایک خاص پیمائش کی اکائی سے بنائے گئے ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ کس نواب نے کتنا عرصہ حکومت کی۔ جس نے زیادہ حکومت کی ان کے مینار بڑے ہیں، جن کی حکومت کا دورانیہ مختصر تھا ان کے مینار چھوٹے ہیں۔‘‘
آخری قبر نواب صادق محمد خان خامس کی ہے جو ریاست بہاولپور کے آخری نواب تھے جنہوں نے 1955 میں ریاست کا الحاق پاکستان سے کیا اور یوں بہاولپور کی الگ ریاستی شناخت ختم ہوگئی۔
مرکزی ہال کے باہر بنے مقبرے نواب خاندان کی خواتین کے ہیں۔نواب صادق محمد خان پنجم عباسی کی اہلیہ بھی غیر ملکی تھیں جن کا نام اوی لین جمیلہ تھا اور ان کی قبر بھی سفید رنگ کے پتھر کی ہے۔ ریاست بہاولپور کے آخری نواب صادق محمد خان خامس کی ایک اہلیہ برطانوی تھیں جن کا نام وکٹوریہ تھا۔ تاہم بعد میں مسلمان ہونے کے بعد ان کا نام غلام فاطمہ رکھا گیا۔ شاہی قبرستان کے احاطے میں آئیں تو قطار اندر قطار کھڑے مقبروں میں آپ کو وکٹوریہ کا مقبرہ نظر نہیں آئے گا۔مرکزی ہال سے نکل کر ہال کے دوسری طرف جائیں تو پائین کی طرف سفید سنگِ مرمر سے بنا ایک چھوٹا سا مزار ہے اور یہ نواب صادق محمد خامس کی قبر کے بالکل سامنے ہے تاہم مرکزی ہال کی دیوار اس کو جدا کرتی ہے۔نوابزادہ سردار مجتبیٰ خان رِند نے ریاست بہاولپور کی آخری خاتون اول کے مزار کے چھوٹے رکھے جانے اور باقی خواتین کے مزاروں سے ہٹ کے مرکزی ہال کی پچھلی طرف ہونے کی ایک دلچسپ وجہ بتائی۔وکٹوریہ نواب صادق خامس سے بہت پیار کرتی تھیں اور انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا، تاہم مرنے سے قبل انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کو نواب صاحب کے قدموں میں دفن کیا جائے۔''یہ محبت کی ایک عظیم مثال تھی اور یہی وجہ ہے کہ ان کی اس خواہش کو پورا کیا گیا اور بالکل نواب صادق محمد خان خامس کی قبر کے سامنے قدموں کی طرف ان کو سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کا مقبرہ بڑا نہ بنایا جائے کہ نواب صاحب کے مقبرے کی چھت سے اونچا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ باہر سے دیکھنے سے وکٹوریہ کا مقبرہ آپ کو نظر نہیں آئے گا اسے دیکھنے کے لیے مرکزی ہال سے باہر دوسری طرف جانا پڑتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

مصنوعی ذہانت اور پانی کی کھپت

اقوام متحدہ نے خبر دار کر دیامصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے حالیہ کچھ عرصے میں دنیا کو حیران کن رفتار سے بدل دیا ہے۔ تعلیم، طب، صنعت، تجارت، صحافت اور تحقیق سمیت زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ کچھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ حال ہی میں یونائیٹڈ نیشنز یونیورسٹی کے محققین کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر AI کا پھیلاؤ اسی طرح جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ ڈیٹا سینٹرز اتنا پانی استعمال کر سکتے ہیں جو دنیا بھر کے انسانوں کیلئے مجموعی پینے کے پانی کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گا۔ یہ پیشگوئی ماہرینِ ماحولیات، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہے۔مصنوعی ذہانت اور پانی کا تعلقعام طور پر جب ہم AI کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور جدید الگورتھمز آتے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے جس کا قدرتی وسائل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔AI ماڈلز کو چلانے اور تربیت دینے کے لیے ہزاروں طاقتور سرورز پر مشتمل ڈیٹا سینٹرز درکار ہوتے ہیں۔ یہ سرورز مسلسل کام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس حرارت کو کم کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں جن میں پانی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان مراکز کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس بھی پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے۔بڑھتی ہوئی طلب اور ماحولیاتی دباؤدنیا بھر میں AI کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ کروڑوں افراد مختلف AI ٹولز کے ذریعے سوالات پوچھتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں، ویڈیوز تیار کرتے ہیں اور پیچیدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہر پرامپٹ کے پیچھے طاقتور کمپیوٹرز کی ایک وسیع دنیا کام کر رہی ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگر AI کے استعمال میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو 2030 ء تک اس سے وابستہ انفراسٹرکچر کھربوں لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تخمینہ ہے لیکن اس سے مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ٹیکنالوجی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ فوائد اور نقصانات دونوں لاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک طرف AI بیماریوں کی تشخیص بہتر بنا رہی ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ کر رہی ہے اور کاروباری کارکردگی کو بہتر بنا رہی ہے، تو دوسری طرف اس کے ماحولیاتی اثرات نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ٹیکنالوجی زیادہ مؤثر اور سستی ہو جاتی ہے تو اس کا استعمال بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے، نتیجتاً مجموعی وسائل کی کھپت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہی رجحان AI کے معاملے میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔پانی کی کمی اور چیلنجپانی کی قلت پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں آبی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، غیر مؤثر آبی انتظام اور زرعی ضروریات پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ایسے حالات میں اگر عالمی سطح پر AI انفراسٹرکچر کی وجہ سے پانی اور توانائی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات بالواسطہ طور پر ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب توانائی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے جبکہ پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔کیا اس مسئلے کا حل موجود ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ایسے ڈیٹا سینٹرز تیار کر رہی ہیں جو کم پانی استعمال کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر سمندری پانی، ری سائیکل شدہ پانی اور جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کو بھی آزمایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کرنے والے AI ماڈلز اور زیادہ مؤثر کمپیوٹر چپس پر بھی کام جاری ہے۔حکومتیں بھی ماحول دوست ڈیٹا سینٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی پالیسیاں تشکیل دے سکتی ہیں۔ اگر صنعت، حکومت اور سائنسی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو AI کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بہتر توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت بلاشبہ اکیسویں صدی کی سب سے اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے اور اس کے فوائد سے انکار ممکن نہیں تاہم اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر تکنیکی انقلاب کی ایک ماحولیاتی قیمت بھی ہوتی ہے؛چنانچہ AI کے بڑھتے استعمال کے ساتھ پانی، توانائی اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جائے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے کس طرح اس انداز میں فروغ دیا جائے کہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ زمین کے وسائل بھی محفوظ رہ سکیں۔ اگر آج سے منصوبہ بندی کی جائے تو AI مستقبل کی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور ماحول کے لیے خطرہ بننے سے بھی بچ سکتی ہے۔

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

بین الاقوامی یومِ آرکائیوز

قومی یاداشت کے تحفظ کا عالمی دنہر قوم کی تاریخ اس کی شناخت، ثقافت اور اجتماعی شعور کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماضی کے واقعات، سرکاری دستاویزات، تاریخی تصاویر، اخبارات، نقشے، عدالتی ریکارڈز اور اہم شخصیات کے خطوط کسی بھی ملک کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان قیمتی تاریخی ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کے لیے آرکائیوز کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال 9 جون کو بین الاقوامی یومِ آرکائیوز (International Archives Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد تاریخی اور سرکاری ریکارڈز کے تحفظ، ان کی افادیت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ان کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ یومِ آرکائیوز ، پس منظربین الاقوامی یومِ آرکائیوز پہلی بار 2008ء میں منایا گیا۔ اس تاریخ کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ 9 جون 1948ء کو انٹرنیشنل کونسل آن آرکائیوز (ICA) کا قیام عمل میں آیا تھا۔ یہ ادارہ آرکائیوز کے تحفظ، ترقی اور پیشہ ورانہ معیار کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک اس دن کو سیمینارز، نمائشوں، کانفرنسوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مناتے ہیں تاکہ لوگوں کو تاریخی دستاویزات کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔آرکائیوز اور ان کی اہمیتآرکائیوز ایسے ریکارڈز اور دستاویزات کا منظم ذخیرہ ہوتے ہیں جنہیں تاریخی، قانونی، انتظامی یا ثقافتی اہمیت کی وجہ سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ ان میں سرکاری فائلیں، مردم شماری کے ریکارڈ، عدالتی فیصلے، تاریخی تصاویر، اخبارات، صوتی و بصری مواد اور اہم شخصیات کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔اگر آرکائیوز موجود نہ ہوں تو قومیں اپنے ماضی سے محروم ہو جا ہیں۔ تاریخ کے بہت سے اہم واقعات، حکومتی فیصلے اور سماجی تبدیلیاں صرف انہی محفوظ ریکارڈز کے ذریعے ہمارے علم میں آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے آرکائیوز کے تحفظ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور انہیں قومی ورثے کا حصہ تصور کرتے ہیں۔پاکستان میں آرکائیوزپاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی تاریخ برصغیر کی صدیوں پر محیط تہذیبی اور سیاسی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریک پاکستان ، قراردادِ لاہور، تقسیمِ ہند اور قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی جدوجہد سے متعلق بے شمار تاریخی دستاویزات آج بھی قومی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ صرف محققین بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی قومی تاریخ کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔پاکستان میں قومی آرکائیوز، صوبائی ریکارڈ دفاتر، یونیورسٹی لائبریریاں اور تحقیقی ادارے اہم تاریخی مواد محفوظ کر رہے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت سی قیمتی دستاویزات، مخطوطات اور مقامی تاریخ سے متعلق ریکارڈ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آرکائیوز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔تعلیم، تحقیق اور شفافیت میں کردارآرکائیوز صرف پرانی دستاویزات کا ذخیرہ نہیں بلکہ علم اور تحقیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ، صحافی اور تاریخ دان تحقیق کے لیے انہی محفوظ ریکارڈز سے استفادہ کرتے ہیں۔ اصل دستاویزات کی موجودگی تحقیق کو مستند اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔اس کے علاوہ آرکائیوز جمہوری نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سرکاری فیصلوں اور پالیسیوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے تو عوام اور محققین ان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ اس طرح حکومتی اداروں کی کارکردگی کا تجزیہ ممکن ہوتا ہے اور شفاف حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور آرکائیوز کا مستقبلٹیکنالوجی کی ترقی نے آرکائیوز کے شعبے میں نئی جہتیں پیدا کی ہیں۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک اپنے تاریخی ریکارڈز کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل آرکائیوز کے ذریعے قیمتی دستاویزات کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر کے محققین ان تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان میں بھی اس سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر قومی اور صوبائی سطح پر آرکائیوز کی ڈیجیٹائزیشن کو تیز کیا جائے تو تاریخی ورثے کے تحفظ اور تحقیق و تعلیم کے مواقع میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں صرف کاغذی ریکارڈ محفوظ رکھنا کافی نہیں، انہیں ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ چیلنجزآرکائیوز کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نمی، آگ، سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات تاریخی دستاویزات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اسی طرح مناسب وسائل، تربیت یافتہ عملے اور جدید آلات کی کمی بھی آرکائیوز کے تحفظ میں رکاوٹ بنتی ہے۔پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں مالی وسائل کی محدود دستیابی کے باعث آرکائیوز کے شعبے کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ تاہم قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔بین الاقوامی یومِ آرکائیوز ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آرکائیوز نہ صرف تاریخی دستاویزات کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت، ثقافت اور قومی ورثے سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہماری تاریخ، تحریکِ پاکستان سے متعلق قیمتی ریکارڈز محفوظ رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

چارلس ڈکنز کا انتقال9 جون 1870ء کو انگریزی ادب کے عظیم ناول نگار چارلس ڈکنز کا انتقال ہوا۔چارلس ڈکنز نے صنعتی انقلاب کے دور میں غربت، سماجی ناانصافی اور طبقاتی فرق کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں,Oliver Twist David Copperfieldاور A Tale of Two Citiesشامل ہیں۔ان کی تحریروں نے نہ صرف ادب کو متاثر کیا بلکہ سماجی اصلاحات کی تحریکوں کو بھی تقویت دی۔ ڈکنز کی وفات کے وقت وہ اپنے آخری ناولThe Mystery of Edwin Drood پر کام کر رہے تھے جو نامکمل رہ گیا۔نیرو کی خودکشی9 جون 68ء کو رومی سلطنت کے مشہور اور متنازع حکمران نیرو نے خودکشی کر لی۔ نیرو 54ء سے روم کا شہنشاہ تھا اور اسے تاریخ کے سب سے متنازع حکمرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے دور میں فنونِ لطیفہ کو فروغ ملا لیکن ظلم، سیاسی مخالفین کے قتل اور عیش و عشرت کی وجہ سے اس کی شہرت خراب ہوئی۔64ء میں روم میں لگنے والی آگ کے بعد نیرو پر الزام لگایا گیا کہ اس نے شہر کو جلانے میں کردار ادا کیا، اگرچہ مؤرخین اس بارے میں متفق نہیں ہیں۔ بعد ازاں اس نے عیسائیوں کو اس آتش زدگی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر سخت مظالم ڈھائے۔ سینیٹ نے اسے عوام کا دشمن قرار دے دیا۔ گرفتاری اور ممکنہ ذلت آمیز سزا سے بچنے کے لیے نیرو نے روم کے قریب ایک مقام پر خودکشی کر لی۔ویانا کانگریس معاہدہ9 جون 1815ء کو یورپ کی تاریخ کے اہم ترین سفارتی واقعات میں سے ایک یعنی ویانا کانگریس کے حتمی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ یہ کانگریس نپولین بوناپارٹ کی شکست کے بعد یورپ کے سیاسی نقشے کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس میں آسٹریا، برطانیہ، روس، پروشیا(جرمنی)، فرانس، پرتگال اور سویڈن سمیت بڑی طاقتوں نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یورپ میں طاقت کا توازن قائم کرنا اور مستقبل میں کسی ایک ریاست کو اتنا طاقتور نہ ہونے دینا تھا کہ وہ پورے براعظم کے امن کو خطرے میں ڈال سکے۔ کانگریس کے نتیجے میں متعدد سرحدیں تبدیل کی گئیں، کئی ریاستوں کو ازسرِ نو منظم کیا گیا اور فرانس کو واپس یورپی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ جارجیا کا چارٹر9 جون 1732ء کو برطانیہ کے بادشاہ جارج دوم نے شمالی امریکہ میں جارجیا کالونی کے قیام کا شاہی چارٹر جاری کیا۔جارجیا برطانوی امریکہ کی تیرہویں اور آخری کالونی تھی۔ اس کے قیام کا مقصد غریب برطانوی شہریوں کو نئی زندگی فراہم کرنا اور ہسپانوی فلوریڈا کے خلاف ایک حفاظتی بفر قائم کرنا تھا۔کالونی کے بانی نے ابتدا میں سماجی اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش کی۔ غلامی اور شراب نوشی پر پابندی لگائی گئی، اگرچہ بعد میں ان پابندیوں کو ختم کر دیا گیا۔جارجیا بعد میں امریکی انقلاب میں شامل ہونے والی کالونیوں میں سے ایک بنی اور آج امریکہ کی ایک اہم ریاست ہے۔براڈ پیک سر کی گئی9 جون 1957ء کو چار آسٹرین کوہ پیماؤں ، ہرمن بول، مارکس شمک، فرٹز ونٹرسٹیلر اور کرٹ ڈیمبرگر نے پہلی مرتبہ براڈ پیک کی چوٹی سر کی۔ براڈ پیک دنیا کا بارہواں بلند ترین پہاڑ ہے جس کی بلندی 8051 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب قراقرم کے سلسلے میں واقع ہے۔ 1950ء کی دہائی کو ہمالیہ اور قراقرم کی عظیم مہمات کا دور کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں دنیا کے کئی بلند ترین پہاڑ پہلی مرتبہ سر کیے جا رہے تھے براڈ پیک بھی ان میں شامل ہے۔یہ مہم اس لحاظ سے منفرد تھی کہ کوہ پیماؤں نے نسبتاً ہلکے سامان اور محدود وسائل کے ساتھ چوٹی سر کی۔ شدید سردی، برفانی طوفانوں اور آکسیجن کی کمی کے باوجود ان کوہ پیماؤں نے غیر معمولی ہمت اور مہارت کا مظاہرہ کیا۔

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

20ارب ڈالر کا قمری شہر،ناسا کا انقلابی منصوبہامریکی خلائی ادارہ ناسا آئندہ چند برسوں میں چاند کی سطح پر ایک مستقل انسانی بستی یا ''قمری شہر‘‘ (Lunar City)بسائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد چاند پر طویل المدت انسانی موجودگی کو ممکن بنانا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور مستقبل میں مریخ سمیت مزید دور دراز خلائی مشنوں کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ 2032ء تک 20 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا ناسا کا چاند پر اڈہ کیسا نظر آئے گا؟ اس منصوبے کے تحت چاند کی سطح پر رہائش، سائنسی تحقیق اور وسائل کے استعمال کیلئے جدید سہولیات پر مشتمل مستقل ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قمری بستی رہائشی ماڈیولز، تحقیقی لیبارٹریوں، توانائی کے مراکز اور زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ سائنس فکشن کی کسی کہانی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن ناسا نے صرف چھ سال کے اندر چاند پر ایک شہر نما اڈہ تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین(Jarred Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ 20 ارب ڈالر مالیت کے اس قمری اڈے کے ابتدائی مشن رواں سال ہی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو ''انسانی تاریخ کی سب سے جرات مندانہ انجینئرنگ اور تحقیقی کوششوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوبارہ چاند کی طرف لوٹ رہا ہے، لیکن اس بار وہاں مستقل قیام کیلئے۔آئزک مین نے قمری کالونی کے قیام کیلئے ایک تفصیلی لائحہ عمل بھی پیش کیا، جس میں تین مراحل پر مشتمل ٹائم لائن دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا ہدف 2032ء تک چاند پر ایک مستقل انسانی بستی قائم کرنا ہے۔ بالآخر اس اڈے میں متعدد عمارتیں شامل ہوں گی جو سیکڑوں مربع میل کے رقبے پر پھیلی ہوں گی۔ یہ سب کچھ ایسے ماحول میں تعمیر کیا جائے گا جسے دنیا کے انتہائی دشوار اور خطرناک ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔چاند جیسے غیر موافق حالات میں انسانی بستی تعمیر کرنے کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے آئزک مین نے کہا کہ یہ قمری اڈہ جتنا خوبصورت ہو گا، اتنا ہی خطرناک بھی ہوگا۔ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک مشکل ہے۔ نصف صدی قبل اپالو مشنز کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح پر مجموعی طور پر صرف 80 گھنٹے گزارے تھے، اس لیے ہم اب بھی چاند کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔پہلا مرحلہقمری اڈے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ، جسے ''سیکھو، آزماؤ اور تعمیر کرو‘‘کا نام دیا گیا ہے، رواں سال کے آخر میں شروع ہوگا اور 2029 ء تک جاری رہے گا۔آئندہ تین برسوں کے دوران ناسا کا ہدف تجارتی نوعیت کے قمری مشنز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ممکنہ لینڈنگ مقامات کا جائزہ لیا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔قمری تحقیق کا یہ نیا دور اس سال خزاں کے موسم سے پہلے شروع نہیں ہوگا، جب جیف بیزوس کی کمپنی ''بلیو اوریجن‘‘ اپنا ''بلیو مون مارک1‘‘ لینڈر ''اینڈیورنس‘‘ (Endurance) چاند کی جانب روانہ کرے گی۔یہ لینڈر چاند کے جنوبی قطب کے قریب واقع شیکلٹن کریٹر کے کنارے پر اترے گا، جہاں یہ سائنسی آلات پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی لینڈنگ صلاحیتوں کا بھی عملی امتحان دے گا۔اس کے بعد 2026ء کے آخری مہینوں میں ناساایک روور کو چاند پر بھیجے گا۔اس ابتدائی مرحلے کے اختتام تک ناسا کا منصوبہ ہے کہ مون فال ہیلی کاپٹر ڈرونز اور بغیر انسان کے چلنے والے روورز کے ایک بیڑے کو استعمال کرتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی، برف اور دیگر قدرتی وسائل کی تلاش کی جائے۔دوسرا مرحلہ2029ء سے 2032ء کے دوران ناسا منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گا، جسے ''ابتدائی رہائش‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پہلی مرتبہ انسانی عملے کو چاند کی سطح پر رہنے کیلئے بھیجا جائے گا۔اس دوران 24 چکروں میں تقریباً 60 ٹن سامان اور آلات چاند تک پہنچائے جائیں گے، جن کی مدد سے مجوزہ قمری اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی سہولیات کی تعمیر مکمل کی جائے گی، جو مستقبل میں انسانی بستی کی بنیاد بنیں گی۔ناسا کے مطابق قمری اڈے کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے کیلئے وہاں ایٹمی پلانٹ بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ نظام چاند پر قائم ہونے والی بستی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا بازوں کو ایسی روورز بھی فراہم کی جائیں گی جن کی مدد سے وہ اپنے خلائی لباس اتار کر 30 دن تک آرام دہ ماحول میں رہتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے کی کھوج کر سکیں گے۔تیسرا مرحلہ2032ء میں ناسا منصوبے کے آخری مرحلے ''مستقل انسانی موجودگی‘‘ میں داخل ہوگا، جس کے تحت چاند پر ایک مستقل اڈہ قائم کیا جائے گا۔ جہاں باقاعدگی سے عملے کی تبدیلی، مستقل رہائش اور مکمل بنیادی ڈھانچہ موجود ہو گا۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ہم مہارت، عزم اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ مشن مکمل کر سکیں جو صرف ناسا ہی انجام دے سکتا ہے۔ناسا کے مطابق چاند پر قائم کیا جانے والا یہ اڈہ آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں کیلئے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا، جہاں طویل مدت تک قیام، جدید روبوٹک اور انسانی سرگرمیوں کا فروغ اور چاند کی سطح پر مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔مون بیس کے قیام کے بعد آرٹیمس مشن کے خلا باز زیادہ عرصے تک چاند پر رہ سکیں گے، مزید دور دراز علاقوں کی کھوج کر سکیں گے اور ایسی سائنسی تحقیق انجام دے سکیں گے جو خود خلائی تحقیق کو نئی جہتیں فراہم کرے گی۔

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ کرہ ارض پر موجود آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ سمندری نباتات کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر انسانی زندگی، موسمی نظام اور عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کے جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ مچھلیاں، وہیل، ڈولفن، کچھوے، مرجان اور بے شمار دیگر آبی مخلوقات سمندروں میں زندگی گزارتی ہیں۔ دنیا کے کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کیلئے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، بحری نقل و حمل، سیاحت اور معدنی وسائل کی فراہمی میں سمندروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔بدقسمتی سے آج سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری حیات کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا پہنچتا ہے، جس سے آبی جانور متاثر ہوتے ہیں اور ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندے اور مچھلیاں پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی سمندروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور کئی آبی انواع کے قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال انفرادی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہیں۔سمندروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گے۔

برین ٹیومر کا عالمی دن

برین ٹیومر کا عالمی دن

دماغی رسولی: خاموش مگر سنگین بیماریجدید طبی سائنس کی بے شمار ترقیوں کے باوجود برین ٹیومر آج بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ بیماری تصور کی جاتی ہے، جس کے علاج اور تشخیص کیلئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔برین ٹیومر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، اس بیماری کی بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کیلئے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔برین ٹیومر دراصل دماغ یا اس کے ارد گرد موجود بافتوں میں غیر معمولی خلیات کی نشؤونما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رسولی سومی (Benign) بھی ہو سکتی ہے اور سرطانی (Malignant) بھی۔ اگرچہ ہر برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا اثر نہ صرف مریض کی جسمانی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔برین ٹیومر کی علامات رسولی کے سائز، نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلسل یا شدید سر درد، بینائی میں دھندلا پن، چکر آنا، متلی، یادداشت کی کمزوری، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن ہونا اور دورے پڑنا اس بیماری کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ ان علامات کو عام بیماریوں سے منسوب کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق برین ٹیومر کی بروقت تشخیص مریض کے علاج اور صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جدید دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی طریقوں کی مدد سے دماغی رسولیوں کا نسبتاً جلد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاج کیلئے سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیمو تھراپی اور بعض جدید ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ برین ٹیومر کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ماہرین بعض جینیاتی عوامل، تابکاری کے زیادہ اثرات اور خاندانی طبی تاریخ کو ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔برین ٹیومر کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف طبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد مریض اکثر خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔