نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاٹویٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی رہائشگاہ پرعیدمیلادالنبی ﷺ کی خوشی میں چراغاں
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان نےبنی گالہ میں اپنی رہائشگاہ کی تصویرٹویٹ کردی
  • بریکنگ :- ربیع الاول کی تیاریاں جاری ہیں،وزیراعظم عمران خان
Coronavirus Updates

وہ گولیوں کی بو چھاڑ میں آگے بڑھتے رہے، باڑ کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا اور دشمن چوکی چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن راجہ محمد سرور شہید پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا

وہ گولیوں کی بو چھاڑ میں آگے بڑھتے رہے، باڑ کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا اور دشمن چوکی چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن راجہ محمد سرور شہید پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا

اسپیشل فیچر

تحریر : اختر سردار چودھری


ایک دن کمانڈر نے اپنے جوانوں کو اکٹھا کیا اور کہا۔''یہ پہاڑی ہمارے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے ۔جونو جوان اس مہم کا بیڑا اٹھا سکتا ہو، آگے آ جائے ۔‘‘پوری کمپنی پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ یہ موت کے منہ میں جانے والی بات ہے۔ ''یس سر،میں اس مہم کا بیڑا اٹھاتا ہوں‘‘محمد سرور نے کہا ۔ 27 جولائی 1948 ء کی رات محمد سرور شہید اپنے جوانوں کے ساتھ ٹارگٹ کی طرف بڑھے۔توپوں اورمشین گنوں سے فائرنگ ہو رہی تھی۔برستی گولیوں میں محمد سرور اپنی بٹالین کی قیادت کرتے ہوئے سب سے آگے تھے ۔
اس دوران کئی جوان موت سے گلے مل گئے۔ ساتھیوں کی تعداد میں کمی ہونے لگی کیونکہ دشمن بلندی پر تھا ۔آپ ان کے سیدھے ٹارگٹ پر تھے ۔لیکن اس کمی نے حوصلہ کم نہیں کیا بلکہ بڑھایا ۔اسی وقت ایک گولی نے محمد سرور شہید کا دایاں شانہ چیر کر رکھ دیا۔خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔دشمن کی گولیاں ان کے دائیں بائیں سے اور سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھتے رہے ان کے زخموں سے خون جاری تھا ۔آخر وہ اس مورچے تک جا پہنچے جہاں سے گولیاں برسائی جا رہی تھیں ۔اور باڑ کاٹنے لگے ۔آخری تار کٹنے کو تھی کہ دشمن کی فائرنگ نے محمد سرور شہید کا سینہ چھلنی کر دیا۔ایک جھٹکے سے انہوں نے آخری تار کو دو حصوں میں کاٹا ۔دشمن پر آخری برسٹ کے ساتھ ‘‘اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے رب کے حضور لبیک کہہ دیا۔دشمن اس چوکی کو چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ صبح کے سورج نے اس پہاڑی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا۔
راجہ محمد سرور عید کے دن 10 نومبر 1910 ء کوموضع سنگوری تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ان کی شہادت بھی عید کے دوسرے دن ہوئی ۔یہ علاقہ بنجر اور زیادہ تر غیر آباد ہے۔یہاں کاشت کاری کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ فوج میں ملازم ہیں ۔آپ کے والد بھی آپ کو فوج میں بھرتی کروانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔اس کے لیے ان کی تعلیم کا بندوبست ہوا چونکہ آپ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔اس لیے ابتدائی تعلیم گاؤں کی مسجد میں حاصل کی۔ چھ برس کے ہوئے تو ان کے والد نے انہیں چک نمبر 229۔گ ب ضلع فیصل آباد کے مقامی سکول میں داخل کروا دیا۔یہاں سے پانچویں کلاس پاس کی۔1925 ء میں مڈل سکول سے آٹھویں۔سترہ سال کی عمر میں 1927 ء میں میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی۔ان کے خاندان کے بہت سارے افراد فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
ان کے والدمحمد حیات خاں فوج میں حوالدار تھے ۔ انگریز حکومت نے ان کو پہلی جنگِ عظیم میں بہادری سے بھرپور کارنامے سر انجام دینے پر 3 مربع زمین الاٹ کی تھی۔ 23 فروری 1932 ء کو محمد سرور کے والد محمد حیات خاں کا انتقال ہوا۔ان کی اولاد میں بڑا بیٹا محمد مرزا خاں فوج کے میجر کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوئے ۔ان کو بھی ایک مربع زمین دلیری اور بہادری پر انعام میں ملی۔دوسرے بیٹے یعنی راجہ محمد سرورکے دوسرے بھائی محمد سردار خاں بھی فوج میں حوالدار تھے ۔ کیپٹن راجہ محمد سرور شہید ، محمد حیات خاں کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے جو نشانِ حیدر حاصل کر کے خاندان اور مملکتِ پاکستان کے لئے فخر و ناز کا باعث بنے۔
جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیاتو 1929 میں بلوچ رجمنٹ میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔کراچی میں ابتدائی فوجی کورس کیا۔دو سال شمال مغربی سرحدی صوبے میں خدمات سر انجام دیں۔1941 ء میں اسی رجمنٹ میں حوالدار کے عہدے تک پہنچے۔ ڈرائیونگ کا کورس کیا۔1941 ء میں وہ رائل انڈین آرمی میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر منتخب ہوئے اور وی سی او سکولف رائل انڈین سروس کور میں انسٹرکٹر کی خدمات سر انجام دینے لگے۔ 19 مارچ 1944 ء کو سیکنڈ لیفٹیننٹ بنے۔27 اپریل 1944 ء کو یہ لیفٹیننٹ بنا دئیے گئے۔یکم فروری 1947 ء کی تاریخ محمد سرور شہید کی زندگی میں بے حد اہم تھی۔انہیں کیپٹن کا عہدہ دیا گیا۔
محمد سرور شہید درمیانے قد،سڈول جسم،متناسب اعضاء ، موٹی آنکھوں، بارعب آواز، گندمی رنگ اور بھاری مونچھوں کے حامل تھے۔ تلاوت قرآن پاک،نماز کے پابند اور مطالعے کے شوقین تھے۔ محمد سرور شہید علامہ اقبال ؒسے بھی بہت محبت رکھتے تھے اور ان کے بے شمار شعر انہیں زبانی یاد تھے۔کبڈی اور فٹبال محمد سرور شہید کے پسندیدہ کھیل تھے ۔ان کے حالات زندگی میں یہ واقعہ قابل توجہ ہے کہ ایک بڑھیا کو دینے کے لئے ان کی جیب میں ریزگاری نہ تھی۔ اس سے باقاعدہ معافی مانگی۔ کچھ دور گئے تو دل بے تاب ہو اٹھا۔ گوارا نہ کیا کہ محض ریزگاری نہ ہونے کے باعث اللہ کے نام پر دینے سے انکار کر دیا۔ فوراََ واپس آئے ۔ بڑھیا تلاش بسیار کے بعد ملی تو اس سے دوبارہ معافی مانگی اور حسب توفیق مدد کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ان کی شادی ان کے خاندان میں خوش اخلاق خاتون کرم جان سے ہوئی۔شادی کی تقریب بے حد سادہ اور اسلامی روایات کے مطابق 15 مارچ 1936 ء کو ہوئی ۔
جنرل اسکندر مرزا کا دور تھا جب 23 مارچ 1957 کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر کیپٹن محمد سرور شہید کے اس زندہ جاوید کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دینے کا اعلان کیامگر یہ اعزاز دینے کی تقریب اس وقت کے فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے دورِ حکومت میں 27 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی جہاں ان کی بیگم محترمہ کرم جان کو کیپٹن محمد سرور شہید کا نشانِ حیدر دیا گیا۔
پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا ۔ ایوب خاں نے اپنے خطاب میں کہا ۔''میں کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں جنہوں نے سب سے پہلا نشانِ حیدر حاصل کر کے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔انہوں نے اپنی قربانی سے اپنی فوج اور اپنی بٹالین کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا ہے ۔بے شک ان کی قربانی پر ہم سب کو فخر ہے ۔‘‘

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
لیو ڈرون روبوٹس ٹیکنالوجی میں بھونچال ، یہ روبوٹ پانی پر چلنے ، ہوا میں اڑنے اور خطرناک مقامات پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

لیو ڈرون روبوٹس ٹیکنالوجی میں بھونچال ، یہ روبوٹ پانی پر چلنے ، ہوا میں اڑنے اور خطرناک مقامات پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے

ایک ایسے روبوٹ کے بارے میں سوچنا جو بحری سفر بھی کر سکتا ہو اور ہوا میں اڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، کسی سائنس فکشن سے کم نہیں۔ یہ روبوٹ 2.5 فٹ لمبا ہے۔ اس کے دو پائوں ہیں اور اس کو دھکیلنے کے لئے سوئچ آن کرنا پڑتا ہے تاکہ یہ ہوا میں اڑ سکے۔ جس ٹیم نے یہ روبوٹ بنایا ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ ایک دن ایسا کام کر سکتا ہے جو آج کل کے ڈرون نہیں کر سکتے۔ ڈرون تو کیا بلکہ یہ کام دوسرا کوئی روبوٹ یا انسان بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ روبوٹ کوئی قصہ کہانی نہیں بلکہ یہ حقیقی شکل میں موجود ہے اور اسے ''لیونارڈو‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ لیونارڈو کو مختصراً ''LEO‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسے ڈرونز روبوٹس کے مختلف اجزاء سے بنایا گیا ہے۔ ٹیم کا مزید کہنا ہے کہ ''لیو‘‘ کسی دن ایسے کارنامے انجام دے سکتاہے جو موجودہ روبوٹس کے بس کا کام نہیں۔ ماحولیاتی حوالے سے یہ روبوٹ ان خطرناک مقامات پر بھی پہنچ سکتا ہے جہاں کوئی دوسرا روبوٹ یا کوئی انسان نہیں پہنچ سکتا۔ تاہم اس ٹیم نے یہ نہیں بتایا کہ ''لیو ‘‘ تجارتی مقاصد کے لئے کب دستیاب ہو گا اور یہ کتنا مہنگا ثابت ہو گا کیونکہ یہ ابھی تک تحقیق کے تمام مراحل طے نہیں کر سکا ہے۔''لیونارڈو‘‘ 5.6 پائونڈ وزنی روبوٹ ہے اور دو پائوں والا یہ روبوٹ دراصل پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کے لشکر سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔ یہ لشکر زمین پر چلنے، رینگنے، اور اڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جسے نہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی محسوس کیا جا سکتا ہے۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اڑنے والے روبوٹس جہاں ایک طرف نہایت سودمند ہیں وہیں ان کے کچھ مسائل بھی ہیں۔ ایک تو ان پر توانائی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کی وزن اٹھانے کی استعداد بھی محدود ہوتی ہے۔ اپنی ملٹی ماڈل حرکت کی صلاحیت کی وجہ سے یہ روبوٹ چیلنجنگ ماحول میں دوسرے روبوٹس کی نسبت زیادہ مستعدی سے حرکت کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ روبوٹ اپنی حرکت کو مناسب طریقے سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ ''لیو‘‘ کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ فضائی اور زمینی حرکت کے درمیان خلاء کو پُرکر سکتا ہے اور یہ خوبی عام روبوٹس میں نہیں ہوتی کیونکہ یہ روبوٹس فضائی اور زمینی حوالے سے آپس میں جڑے نہیں ہوتے ''لیو ‘‘ کا ایک اور وصف بہت حیران کن ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں توازن بہت زیادہ ہے۔''لیو‘‘ کی ایک صلاحیت یہ بھی ہے کہ یہ غیر معمولی طور پر بھی حرکت کر سکتا ہے۔ انسانوں میں یہ خوبی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان کے اندر توازن کو برقرار رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہو اور اس صلاحیت کو حاصل کرنے کے لئے عام انسان کو خاصی محنت کرنا پڑتی ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ ''لیو‘‘ کی دو ٹانگیں ہیں جن کے تین جوڑ ہیں جو بڑے فعال ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص چلتا ہے تو یہ روبوٹس اپنی پوزیشن درست کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اپنی ٹانگوں کی سمت کا بھی تعین کرتے ہیں۔ چونکہ ''لیو‘‘ ماحول کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے یہ چلنے، اڑنے یا ہائبرڈ حرکت کے بہترین امتزاج کے متعلق خود فیصلے کر سکتا ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ محفوظ طریقے سے کیسے جانا چاہئے اور کم سے کم توانائی کیسے استعمال ہو اس کا فیصلہ بھی یہ ڈرون خود کر سکتا ہے۔ چلتے وقت یہ ڈرون گھومنے والا پنکھا استعمال کرتے ہیں تاکہ چلتے وقت ان کا توازن ٹھیک رہے لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ یہ روبوٹ توانائی کا استعمال مناسب طریقے سے نہیں کرتے۔ اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ''لیو‘‘ کی ٹانگوں کے ڈیزائن میں بہتری لائے جائے تاکہ ''لیو‘‘ کو توازن کے ساتھ چلایا جائے اور توانائی بھی کم سے کم استعمال ہو۔

آن لائن انٹرویو کیسے دیں؟

آن لائن انٹرویو کیسے دیں؟

کورونا نے پوری دنیا کے نظام زندگی کو متاثر کیا ہے اور آج بھی زندگی مکمل طریقے سے معمول پر نہیں آ سکی۔مقامی اور بین الااقوامی کمپنیوں نے زیادہ تر ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی ہیں گو کہ اب ملازمین دفتروں میں بیٹھ کر بھی کام کر رہے ہیں لیکن اب بھی اکثر ممالک میں '' ورک فرام ہوم‘‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔کورونا سے قبل کمپنیاں اپنے دفاتر میں انٹرویو لیا کرتی تھیں ، لیکن اب زیادہ تر ادارے آن لائن انٹرویو کرتے ہیں ۔آن لائن انٹرویو کے دوران آپ کو متعدد قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اچانک بجلی بند ہو سکتی ہے، انٹرنیٹ کنکشن بند ہو سکتا ہے اور آپ کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں کوئی بھی تکنیکی خرابی ہو سکتی ہے ۔اس قسم کی صورتحال سے بچنے کے لئے آن لائن انٹرویو کے دوران چند اہم نکات کا خاص خیال رکھیں۔کمپیوٹر سیٹ اپ:آن لائن انٹرویو کے مقررہ وقت سے پہلے اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کو ہر طرح سے چیک کر لیں اور تسلی کر لیں کہ وہ ٹھیک سے کام کر رہے ہیں۔انٹرنیٹ کنکشن بھی چیک کر لیں۔کوشش کریں کہ آپ کا سیٹ اپ انٹرویو شروع ہونے سے 10منٹ پہلے تیار ہو۔جس کمرے میں آپ نے انٹر ویو دینا ہے اس کو صاف ستھرا رکھیں۔انٹر ویو شروع ہونے سے پہلے اپنے آڈیو مائیک کو بھی اچھی طرح چیک کر لیں اور اس بات کی تسلی کر لیں کہ وہ آپ کی آواز ٹھیک سے دوسری جانب پہنچا رہا ہے یا نہیں۔ لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر کی سکرین کو خود سے اتنے فاصلے پر رکھیں کہ انٹرویو کرنیوالے کو آپ ٹھیک سے نظر آسکیں۔کمرے میں روشنی کا خیال رکھیں: انٹرویو دیتے وقت کمرے میں مناسب روشنی ہو جس سے آپ کی ویڈیو کوالٹی پر اثر نہ پڑے اور آپ کا چہرہ نمایا ں نظر آئے۔ کمرے میں خاموشی ہونی چاہئے کوشش کریں کمرے میں کوئی غیر متعلقہ شخص موجود نہ ہو۔ گھر کے کسی سمجھ دار شخص کو اپنے ساتھ کمرے میں بٹھائیں تاکہ کسی ایمرجنسی یعنی بجلی بند ہونے یا انٹرنیٹ میں کسی مسئلے کی صورت میں آپ کی مدد کر سکے۔ کوشش کریں کہ انٹر نیٹ کے لئے ایک متبادل ڈیوائس پاس رکھیں۔ذہنی طور پر تیار رہیں:آن لائن انٹر ویو کے لئے آپ کا ذہنی طور پر پر سکون رہنا بہت ضروری ہے ،انٹر ویو کے دوران اگر کوئی تکنیکی خرابی آجائے یا بجلی چلی جائے تو گھبرائیں بالکل نہیں اورپرسکون رہیں ۔فوراً کمپنی کو کال کر کے اپنا مسئلہ بتائیں۔ آئن لائن انٹر ویوکے دوران ہوسکتا ہے انٹرویو لینے والا آپ کی بات اس طرح سے نہ سن رہا ہو جس طرح سے آپ سنجیدگی سے انٹرویو دے رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ انٹرویو لینے والا کسی کام میں مصروف ہو، آپ نے اس طرح کی صورتحال میںپریشان نہیں ہونا بلکہ اپنی بات مکمل کرنی ہے۔انٹرویو کے ممکنہ سوالات کے جوابات پہلے سے ہی تیار کر لیں اور جو آپ کہنا چاہتے ہیں ایک مرتبہ اس کی پریکٹس کر لیں تاکہ آپ پراعتماد ہو کر جواب دے سکیں۔ انٹرویو شروع ہونے سے پہلے جس کمپنی کو آپ انٹرویو دے رہے ہیں اس کی تاریخ اور کام کے متعلق تحقیق کر لیں۔ اگر انٹرویو لینے والا شخص مسلسل آپ کی جانب دیکھ رہا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں آپ اپنے کیمرے کی جانب دیکھ کر بات کریں اس سے انٹرویو لینے والے کو یہی لگے گا کہ آپ اس کی جانب دیکھ رہے ہیں اور آپ کی پریشانی بھی دور ہو جائے گی۔انٹرویو پورٹل:انٹرویو دینے سے پہلے معلوم کریں کہ انٹرویو کس پورٹل پرہو گا یعنی اس کے لیے کونسا آن لائن سافٹ وئیر استعمال ہوگا، اپنے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں پہلے سے اس سافٹ وئیر کو انسٹال کر کے ایک مرتبہ چیک کر لیں۔انٹر ویو کا طریقہ کار بھی معلوم کر لیں کہ انٹرویو ایک شخص لے گا یا کوئی پینل،اگر پینل انٹرویو ہو گا تو اس کے لئے آپ کو زیادہ تیاری کرنی ہوگی کیونکہ آپ کی ایک سوچ نے مختلف دماغوں سے نکلنے والے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔کوشش کریں کہ گھر میں آن لائن انٹرویو دیتے وقت بھی فارمل کپڑے پہنیں ، گھر میں بیٹھ کر انٹرویو دینے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ انٹرویو بھی گھر میں پہننے والے کپڑوں میں دیا جائے، یاد رکھیں کہ انٹرویو آئن لائن ہونے سے صرف جگہ بدلتی ہے لیکن پروٹوکول وہی رہتے ہیں۔

بہترین قوت فیصلہ ، کامیاب زندگی کی ضمانت

بہترین قوت فیصلہ ، کامیاب زندگی کی ضمانت

میرا ایک دوست گزشتہ تین سال سے سگریٹ نوشی کر رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ سگریٹ نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔ ایک دن اس کے سینے میں سخت درد اٹھا تو وہ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے کئی ٹیسٹ کرنے کے بعد کہا کہ اس کے قلب کی حالت نازک ہے اور اگر اس نے سگریٹ نوشی نہ چھوڑی تو اگلے چھ ماہ میں اسے شدید حملہ قلب ہو سکتا ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ موت کے خیال نے یک سر اسے جذباتی طور پر اتنا قوی کر دیا کہ اس دن کے بعد اس نے سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔اگر آپ اپنے تئیں واقعی اس کے قائل ہیں کہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو آپ کو آپ کی من چاہی زندگی سے روک سکے تو آپ دنیا کی ناقابل تسخیر قوت بن جائیں گے۔ آپ کے یقین کی گہرائی اور عزم کی مضبوطی حیران کن طور پر آپ کی قوت بڑھا دے گی۔ اگر آپ کو اپنی قابلیت پر یقین ہے تو آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ خود اعتمادی کا تعلق اندر سے ہے اگر آپ کے اندر چار چیزیں ہیں تو آپ کے اندر خود اعتمادی پروان چڑھے گی۔وضاحت: یہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیجئے کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کس قسم کے انسان بننے کے خواہش مند ہیں۔یقین: اپنے اوپر یہ غیر متزلزل یقین رکھیے کہ آپ کے ذہن میں جو کچھ ہے اور آپ جو چاہتے ہیں وہ آپ کر سکتے ہیں۔عزم: یہ پانے کیلئے جو کچھ کرنا ضروری ہے وہ کرنے کا تہیہ کیجئے۔ آپ کے اہداف کی جو قیمت ہے وہ ادا کرنے کیلئے تیار رہیں۔مستقل مزاجی: روزانہ اپنے اہداف پر کام کیجئے۔ ہر صبح، دوپہر، شام، رات خواہ یہ مقدار میں قلیل ہی ہو، آپ اپنے اہداف کی تکمیل کیلئے چند قدم ضرور اٹھائیں۔ جب آپ اپنے اہداف کو وضاحت، یقین، عزم اور مستقل مزاجی کے ذریعے قوی کریں گے تو آپ کے اندر خود اعتمادی بڑھتی چلی جائے گی۔خود اعتمادی کے حصول میں اہداف کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ جب آپ کوئی بڑا ہدف طے کرتے ہیں تو آپ کا ذہن متحرک ہو جاتا ہے، واضح اہداف آپ کو غیر متوقع حادثات سے بچاتے ہیں اہداف کو واضح سمت کا احساس دیتے ہیں اور یہ اطمینان کہ آپ کی زندگی آپ کی اپنی مرضی کے مطابق ہے۔اہداف آپ کو طاقت، مقصداور فوکس کا احساس دیتے ہیں۔یہ آپ کو محسوس کراتے ہیں کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔اہداف کے تعین اور منصوبہ بندی کی صلاحیت کامیابی کی بنیادی مہارت ہے جس کے بغیر شاید ہی کامیابی ممکن ہو۔باقاعدہ ہدف کا تعین اور ہدف کا حصول ایسی عادت ہے جسے کسی بھی دوسری عادت سے کہیں زیادہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی زندگی میں ، میں نے ہزاروں طالب علموں کو دیکھا جنہوں نے اہداف کا تعین کیا انہوں نے حیران کن فوائد حاصل کئے۔مجھے میرے لوگ ایسی حقیقی کہانیاں روزانہ بھیجتے رہتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے اہداف لکھے تو ذاتی اور معاشی دونوں سطح پر ان کی زندگی میں کئی گنا بہتری آئی۔یاد رکھئے جو کام ہم کرتے ہیں وہ ہمارے خوف یا خواہش کا نتیجہ ہوتا ہے، خوف ہمیشہ انسان کا سب سے بڑا دشمن رہا ہے۔ یہ آپ کی خود اعتمادی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اپنے اہداف کے تعین کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اپنے ذہن میں موجود ہر قسم کے خوف کو ذہن سے باہر جھٹکنا ہو گا۔ آپ کو سوچنا ہو گا کہ آپ ممکنات کی کائنات میں آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔

حکایت سعدیؒ نصیحت کا مناسب وقت

حکایت سعدیؒ نصیحت کا مناسب وقت

دو دوست سفر کر رہے تھے ۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک جگہ کچھ لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ کوئی اپنے مخالف کو ڈنڈے مار رہا ہے،کوئی پتھر پھینک رہا ہے،کوئی گالیاں بک رہا ہے۔یہ حالت دیکھ کر ایک دوست بولا ،ہمیں چاہیے کہ ان لوگوں کو صلح صفائی پر آمادہ کریں۔دوسرے نے کہا یہ لوگ بہت غصے میںہیں،ہماری بات نہ مانیں گے۔ہمیں ان کے معاملے میں دخل نہیں دینا چاہئے۔دوسرے شخص کی یہ بات دانائی اور معاملہ فہمی کے مطابق تھی لیکن پہلے نے اسے اس کی بزدلی خیال کیا اور اپنی شجاعت کا ثبوت دینے کے لئے لڑنے والوں کے درمیان گھس گیا اور انہیں لڑنے سے روکنے کی کوشش کرنے لگا۔اس شخص کی یہ کوشش اپنی جگہ ٹھیک تھی لیکن جن لوگوں کو وہ نصیحت کر رہا تھا اس وقت عقل و ہوش سے بیگانہ او ر آپے سے باہر تھے۔کسی نے بھی اس کی نصیحت کی طرف توجہ نہ دی بلکہ ذرادیر بعد تو یہ ہوا کہ اس مشتعل ہجوم کے کئی آدمی اس پر پل پڑے اور مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا۔یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں کہ نصیحت کرتے ہوئے بھی انسان کو تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسے لڑائی بھڑائی کے معاملوں میں تو سب سے پہلے اپنے بچاؤ کا خیال کرنا ضروری ہے۔

نوبیل انعام، کیا ہے اور کیسے شروع ہوا؟

نوبیل انعام، کیا ہے اور کیسے شروع ہوا؟

نوبیل انعام رنگ و نسل اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالا تر ہیں،بین الاقوامی ماہرین کی ایک کمیٹی خوش نصیب کا انتخاب کرتی ہےاکتوبر کا مہینہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ ہر سال اس ماہ کے پہلے ہفتے میں بین الاقوامی شہرت یافتہ نوبیل انعام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ایسا کون ہو گا جس نے ''نوبیل انعام‘‘ بارے سن نہ رکھا ہو گا اور یقینا اکثر لوگ یہ بھی جانتے ہونگے کہ نوبیل انعام معاشیات، فزکس، کیمسٹری، ادب، میڈیسن یعنی طب میں ہر سال نمایاں کارکردگی یا کچھ نیا کر دکھانے والوں کو ملتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی انعام ہے جس کا انتخاب بہت چھان بین اور سخت مقابلے کے بعد ایک کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اس انعام کے نام سے ظاہر ہے اس کا بانی الفریڈ نوبیل تھا۔ الفریڈ نوبیل 21 اکتوبر 1833 کو اسٹاک ہوم، سویڈن میں پیدا ہوا۔ جب نوبیل کی عمر صرف نو سال تھی تو اس کے والدین سویڈن چھوڑ کر سینٹ پیٹر برگ منتقل ہو گئے۔ یہ شہر اس دور میں روس کا دارلحکومت ہوا کرتا تھا۔ اس کے والد نے یہاں آکر تارپیڈو بنانے اور پلائی ووڈ کا کام شروع کیا ۔ اس کے باپ کو پلائی ووڈ کا بانی بھی کہتے ہیں۔الفریڈ نوبیل نے یہاں آکر اپنی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ فزکس اور کیمسٹری اس کے بنیادی مضامین تھے اس لئے اس نے پروفیسر نکولائی سے کیمسٹری پڑھی جو اپنے دور کے کیمسٹری کے مانے ہوئے معلم تھے۔ بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ اٹھارہ سال کی عمر میں چار سال کے لئے کیمسٹری کی مزید تعلیم حاصل کرنے امریکہ چلا گیا۔الفریڈ نوبیل نے سویڈن واپس آ کراپنے آپ کو محفوظ دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے مطالعے کے لئے وقف کر دیا۔ بنیادی طور پر اس کا مشن پہاڑوں اور چٹانوں کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے پھاڑ کر معدنیات تلاش کرنے والے کارکنوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا تھا۔الفریڈ نوبیل کی ایجادات:الفریڈ نوبیل جس کی وجہ شہرت ایک ماہر کیمیا دان، موجد اور انجینئر کی حیثیت سے ہے۔ اس کی عمر کا بیشتر حصہ سائنسی مطالعہ اور تجربات کی نظر رہا۔ اس کی کل ایجادات یوں تو 355 ہیں لیکن جس ایجاد نے اسے شہرت کی بلندیوں پر لا کھڑا کیا وہ '' ڈائنامائیٹ ‘‘ اور '' کارڈائیٹ ‘‘ ہیں۔ الفریڈ نے ان ایجادات کے ذریعے بے پناہ دولت کمائی۔ ایک تخمینے کے مطابق الفریڈ کی کل دولت 186ملین ڈالر سے زائد تھی۔الفریڈ نوبیل کی زندگی میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب اس کے بھائی لودویک کا انتقال اپنی فیکٹری میں دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے دوران ہوا۔ چنانچہ اگلے دن کے اخبارات نے اس کے بھائی کی جگہ الفریڈ نوبیل کے انتقال کی خبر شائع کر ڈالی۔ اس خبر کو '' موت کے سوداگر کی موت ‘‘ کے نام کا عنوان دیا گیا۔ اس خبر نے الفریڈ کو ذہنی اور جذباتی طور پر انتہائی متاثر کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے آپ کو فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دیا۔اس صورت حال کے بعد اپنی موت سے ایک سال قبل یعنی 1895 میں اس نے پیرس میں '' سویڈن ناروے کلب ‘‘ کی ایک تقریب میں اپنی آخری وصیت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی کل دولت کا 94فیصد مختلف مضامین میں قابل قدر اور فلاحی کام کرنے والے افراد کے لئے مختص کرنے کا اعلان کیا۔جس کے لئے فزکس، کیمسٹری، ادب، عالمی امن اور میڈیسن کے شعبوں کا انتخاب کیا گیا جبکہ اس کی وفات کے بعد معاشیات کے شعبے کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیا گیا۔نوبیل انعام کا آغاز : الفریڈ کی وصیت کے فورا ً بعد ایک فنڈ قائم کر دیا گیا،جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم ہوتا آ رہا ہے۔وصیت کے ایک سال بعد دسمبر 1896میں الفریڈ نوبل کا دماغی شریان پھٹ جانے سے انتقال ہو گیا۔ بعض وجوہات کے باعث اس کی وصیت کے تحت 1897ء میں'' دی نوبل پرائز‘‘ کا باقاعدہ طور پر ایک فاؤنڈیشن کے تحت آغاز کیا گیا۔ابتدائی طور پر ریجنر سوہلمین اور روڈولف کو '' نوبل فاؤنڈیشن ‘‘ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔اس فاؤنڈیشن کے کل چھ ڈائریکٹر ہوتے ہیں جن کا تقرر دو سال کے لئے ہوتا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان ڈائریکٹرز کا تعلق سویڈن اور ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔اس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹرز کا کام نوبل فاؤنڈیشن کے اثاثہ جات کی دیکھ بھال، نوبل انعامات کا انعقاد کرنا ہوتا ہے۔ڈائریکٹرز کی منظوری کے بعد فزکس اور کیمسٹری کے مضامین کے انعام کے لئے '' رائل سویڈیش اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت فزکس اور کیمسٹری کے شعبوں میں اہم ترین دریافت کرنے والے کو فزیا لوجی اور میڈیسن کے شعبے میں اہم ترین علاج کی دریافت پرایسے شخص کو انعام کا حق دار ٹھہراتی ہے جس نے اقوام کے درمیان دوستی، افواج کی تعداد میں کمی اور امن کی تشکیل میں موثر کردار ادا کیا ہو۔ اسی طرح ادب کے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کو '' سویڈیش اکیڈمی‘‘کے تحت انعام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ 1901ء سے مندرجہ بالا شعبہ جات میں باقاعدگی سے نوبل انعام تقسیم کئے جا رہے ہیں، ما سوائے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے چند سالوں کے۔جبکہ 1968ء سے سویڈن کے سنٹرل بنک کے تعاون سے معاشیات کے شعبے میں اہم خدمات سرانجام دینے والوں کو بھی نوبیل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ انعام چونکہ نوبیل فاؤنڈیشن کی سفارش پر عمل میں نہیں لایا گیا تھا، اس لئے اسے باضابطہ طور پر الفریڈ نوبیل یادگاری کہا جاتا ہے۔جس کا اہتمام ''رائل سویڈیش اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کرتی ہے۔نوبیل انعامات کا اعلان ہر سال اکتوبر کے مہینے کے پہلے ہفتے میں کیا جاتا ہے۔ انعام دینے کی تقریب کا اہتمام ہر سال 10 دسمبر کو الفریڈ نوبیل کے یوم وفات کے موقع پر سٹوخوم میں جبکہ امن کے نوبیل انعام کا اہتمام اسی روز اوسلو ناروے میں کیا جاتا ہے۔انعام جیتنے والے ہر شخص کو سونے کے ایک تمغے کے علاوہ گیارہ لاکھ دس ہزار ڈالر کی خطیر رقم بھی دی جاتی ہے۔ایک تاریخی الزام کی وضاحت: ۔ تاریخ میں ڈائنامائٹ کو انسانی ہلاکتوں کو سہل بنانے کے لئے ایجاد کئے جانے کا جو الزام الفریڈ نوبیل پر عائد کیا جاتا ہے مورخین اور محققین نے اسے یکسر مسترد کر دیا تھا۔ حقیقت میں ڈائنامائٹ کی ایجاد کا تصور پہاڑوں سے پتھر پھاڑ کر معدنیات نکالنے کے عمل کو سہل بنانا تھا۔بلاشبہ ڈائنامائیٹ جنگی سامان بنانے میں بھی استعمال ہوتا رہا لیکن اس کا یہ مقصد نہیں کہ اس کے پیچھے اس کے انسان دشمن عزائم کار فرما تھے۔ بنیادی طور پر الفریڈ نوبیل کو جنگ سے شدید نفرت تھی۔ بلکہ یہ امن کا داعی تھا۔ اس کی زندگی کا مشن ہی یہ تھا کہ دنیا کی تمام قومیں آپس میں مل جل کر امن اور صلح کے ساتھ رہیں۔متنازع نوبیل انعامات:نوبیل انعامات اگرچہ رنگ و نسل اور ذاتی پسند و ناپسند سے بالا تر ہوتے ہیں جن کا اعلان بین الاقوامی طور پر ماہرین کی ایک کمیٹی چھان پٹھک کے بعد کرتی ہے لیکن ایک جائزے کے بعد کچھ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جنہیں بعد کے حالات نے غلط ثابت کر دکھایا۔ ان کی مختصر تفصیل کچھ اس طرح ہے۔1926ء کا میڈیسن کا نوبیل انعام جوہانس فیبا ئگر کو اس تحقیق کے نتیجے میں دیا گیا جس کا وعویٰ تھا کہ کینسر Spiroptera Carcinoma نامی ایک کیڑے کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ بعد کی تحقیقات نے اسے یک سر غلط ثابت کر دکھایا۔1927ء میں میڈیسن کے شعبے کا انعام آسٹریا کے ایک ڈاکٹر جولئیس ویگنر کو ملا تھا جس کا وعویٰ تھا کہ آتشک کے مریضوں میں ملیریا کے مریضوں کا خون داخل کرنے بعد انہیں کونین کھلا دینے سے مریض صحت یاب ہو سکتا ہے جبکہ بعد کی تحقیقات نے اس دعویٰ کو مضحکہ خیز قرار دے کر رد کر دیا تھا۔1947ء میں انگریز کیمیا دان سر رابرٹ روبنسن کو آرگینک کیمسٹری کی جس تخلیق پر نوبیل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا تھا بعد میں پاکستانی پروفیسر عطا الرحمان نے اسے غلط ثابت کر دکھایا تھا۔

یقین کامیابی کا اصل راز

یقین کامیابی کا اصل راز

ہر کامیابی کے پیچھے صرف سادہ اور چھوٹا سا راز ہوتا ہے اور وہ ہے ''یقین‘‘ ۔یہی طاقت ایک اضافی ہمت مہیا کرتی ہے اور اسی کے ذریعے بڑے بڑے کام سر انجام دئیے جا سکتے ہیں۔یقین ایک پوشیدہ اور ذاتی طاقت ہے ۔ اپنی ذات پر مکمل اعتماد اور یقین کے بغیر آپ کی تمام ذہنی صلاحتیں اور قابلیت بے کارہے۔آپ کی یقین ہی آپ کو تمام تر مایوس کن اور پریشان حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت دیتا ہے۔بد قسمتی سے بہت سے نوجوان اس خاصیت اور اس کی اہمیت سے لاعلم ہیں۔ ان میں یقین کی خصوصیت نہیں ہوتی اور زندگی کے مختلف موقعوں پر ان کی کارکردگی نہایت ہی کمتر ہوتی ہے۔ذرا سی مشکلات وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔جو افراد یقین کام سے عاری ہوتے ہیں وہ کبھی کسی ایک ٹھوس مؤقف پر قائم نہیں رہتے۔جدھر بہاؤ تیز ہوتا ہے وہ ادھر کا رخ کر لیتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے سڑک کے درمیان چل رہے ہوں اور پھر ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی گاڑی کے نیچے آکر کچلے جاتے ہیں۔یہ سادہ لفظ ''یقین‘‘ آپ کے اندر حیرت انگیز تبدیلی اور عظمت پیدا کر دیتا ہے۔کچھ سال پہلے ایک طالب علم نے اپنا کرئیر اچھا بنانے کے لئے پروفیشنل امتحان دینے کا فیصلہ کیا تھا۔پہلا پرچہ اس نے بہت اچھا کیا لیکن وہ سمجھتا رہا کہ اس کاپہلا پرچہ بہت خراب ہوا ہے یہی بات ذہن میں لئے وہ اپنے باقی کے پرچوں پر مکمل توجہ نہ دے پایا۔جب نتیجہ آیا تو جس پیپر کو وہ سمجھ رہاتھا کہ اچھا نہیں ہوا اس پرچے میں وہ اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوا تھا لیکن بقیہ تمام پرچوں میں فیل ہو گیا تھا۔ایسا صرف اس لیے ہوا تھا کہ اسے خود پر یقین نہیں تھا۔کامیاب ہونے کے لئے آپ کو اپنے دماغ کو مثبت سوچوں کا ایندھن دینا پڑتا ہے۔کسی بھی حالت میں کبھی کوئی غلط اور منفی خیال ذہن میں نہیں لانا چاہئے۔ منفی خیالات اور جذبات آپ کے مستقبل کے دشمن ہوتے ہیں۔یہ آپ کی کامیابی کی رکاوٹین ہیں لہٰذا اپنی ذہانت کے بارے میں کبھی بھی کوئی غلط اندازہ مت لگائیں اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کشش کریں۔اگر ایک بار منفی خیالات نے آپ کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیاتو اس کی جڑیں گہری سے گہری ہوتی جائیں گی اور حوصلہ شکن خیالات کی زنجیر بنتی چلی جائے گی ۔ان حالت میں آپ کی خود اعتمادی شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی اور آہستہ آہستہ آپ کی ذات ایسی اتھاہ پستی کی جانب روانہ ہو جائے گی جہاں سے کامیابی بہت دور ہوگی۔کامیابی کے لئے آپ کو اپنی ذات پر مکمل بھروسہ رکھنا ہو گا اور خود کو بتانا ہوگا کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں ۔ آپ کا اولین فرض ہے کہ خود اپنی ذات کا احترام کریں اور خود آپ کو اپنی طاقت اور اپنی ہمت کا علم ہو۔نا مناسب حالات یا ماحول بھی اخلاق کو خراب کر سکتے ہیں۔ یہ فرد کو اپنی اہلیت،ذہانت اور قابلیت کا غلط اندازہ لگانے کی طرف ترغیب دیتے ہیں اور کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اکثر گھروں کے حالات اور برے دوستوں کا ساتھ بھی آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دینے اور حوصلہ بڑھانے کی بجائے آپ کو پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں۔یاد رکھئے کسی بھی قسم کے منفی ماحول کو اجازت نہ دیں۔آپ کو خود اپنی ذہانت کا علم ہونا چاہئے۔ آپ کو اپنی طاقت ، اپنے ہنر، اپنی قابلیت،اپنی ذہانت اور اپنی اہلیت کا علم ہو نا چاہئے۔چاہے کو ئی کچھ بھی کہے۔جب آپ کو اپنی ذات کا علم ہو گا تو آپ وہی کریں گے جو آپ کے لئے بہتر ہو گا۔آپ کو اپنی ذات سے محبت کرنی چاہئے۔خود توقیری کا مطلب اپنے جسم اور سوچ کو پسند کرنا،اپنی ذہانت اور اہلیت کو پسند کرنا ہے۔ایک پر اعتماد شخصیت کو اپنی قابلیت پر یقین ہوتا ہے اور اسے اپنے کام سے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر طالب علم اپنے کام میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔انہیں ادھورا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے اور یہی چیز ان کے مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے۔خود اعتمادی اور خود یقینی کے ملاپ سے ناممکن چیزیں بھی ممکن بن جاتی ہیں۔ لہٰذا اپنی پوشیدہ طاقت اور ذہانت پر مکمل یقین رکھیئے۔یقینا آپ شاندازکامیابی حاصل کر سکیں گے۔