جرنیلی سڑک۔۔ایک تاریخی ورثہ
اسپیشل فیچر
تاریخ سے معمولی دلچسپی رکھنے والا بھی شیر شاہ سوری کے نہ صرف نام سے واقف ہو گا بلکہ اس کے کارناموں سے بھی کسی حد تک ضرور آگاہی رکھتا ہو گا۔ شیر شاہ سوری کا تعلق براہ راست کسی شاہی خاندان سے نہ تھا بلکہ وہ صوبہ بہار کے ایک جاگیر دار ابراہیم خان کا پوتا اور مغل دربار میں ایک بااثر درباری فرید خان سوری کا بیٹا تھا۔
اپنے اندر چھپی ان گنت خوبیوں کی بدولت شیر شاہ سوری 1538 ء میں ظہیرالدین بابر کے بیٹے ہمایوں سے اقتدار لیکر ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے بہترین ذرائع آمدورفت ہی بنیادی نکتہ ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسکے وژن اور منصوبہ بندی کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے ایک ایسی شاہراہ کی منصوبہ بندی کی جو بیک وقت 3ملکوں کو آپس میں ملاتی تھی۔اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس نے اس مقصد کیلئے ایسے علاقوں کا انتخاب کیا جو زرعی، تجارتی اور فوجی نقطہء نظر سے اپنا مخصوص پس منظر رکھتے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ڈاک کے مؤثر نظام کا اجراء اس کی ترجیہات میں سرفہرست تھا۔کیونکہ اس کو اس امر کا بخوبی ادراک تھا کہ ترسیل اور ڈاک کا مؤثر نظام ہی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں۔اقتدار سنبھالتے ہی شیر شاہ سوری نے 2500 کلومیٹر طویل '' جرنیلی سڑک ‘‘ کا آغازکردیا جو افغانستان کے شہر کابل سے شروع ہو کر لاہور سے کلکتہ اور یہاں سے ہوتی ہوئی چٹاگانگ (موجودہ بنگلہ دیش)میں اختتام پذیر ہوتی تھی۔ جسے اب پاکستان میں جی ٹی روڈ اور ہندوستان میں شیر شاہ مارگ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس سڑک کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ شیر شاہ نے اس سڑک کے آس پاس مسافروں کی سہولت کیلئے ہر ایک کوس پر ایک سرائے بنوائی( ذہن میں رہے کہ اس زمانے میں برصغیرمیں'' کوس‘‘ ہی پیمائش کا پیمانہ ہوا کرتا تھا۔ایک کوس تقریباً 3 کلو میٹر کے برابر ہوا کرتا تھا)۔ ان سراؤں کی تعداد 1700 کے لگ بھگ تھی۔ ان سراؤں میں ہر مسافر کو کھانے کے وقت کھانا دستیاب ہوتا تھا۔بیماروں اور زخمیوں کیلئے مفت علاج کی سہولت مہیا کی جاتی تھی۔ سرائے میں طبیبوں کی باقاعدہ تعیناتی ہوتی تھی۔اس سڑک کی خاص بات یہ بھی تھی کہ اس کے دونوں اطراف جو گاؤں بسے وہ زیادہ تر مسلمانوں کے تھے اور مسلمانوں ہی کے ہیں۔ اس کے دونوں اطراف سایہ دار درخت مسافروں کی سہولت کیلئے کثرت سے لگوائے گئے۔ اس علاقے میں ڈاک کا نظام شیر شاہ سوری کا ایک لازوال کارنامہ تھا۔ شیر شاہ سوری نے مسافروں کی آسانی کیلئے اس سڑک کے کنارے لگ بھگ ہر 3کلومیٹر کے بعد ایک ایک ''کوس مینار ‘‘ بنوایا تھا جس سے مسافروں کو ان میناروں کی گنتی کے تناسب سے فاصلے اور جگہوں کے تعین میں آسانی ہوتی تھی۔یہ کوس مینار دہلی، کابل اور لاہور میں آج بھی اکثر مقام پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
1849ء میں جب کلکتہ اور لاہور میں انگریز حکمرانوں نے برطانوی پرچم لہرایا تو یہ جرنیلی سڑک فوجی آمدورفت اور نقل و حمل کا مرکز بن گئی۔بعد ازاں 1857ء میں انگریزوں کے برصغیر پر مکمل قبضے کے بعد جرنیلی سڑک کیساتھ ساتھ ریلوے لائن کا وسیع تر جال بھی بچھادیا گیا جو آج کل بھی جی ٹی روڈ کے آس پاس دیکھاجا سکتا ہے۔ اگرچہ اس سڑک کا قدیمی اور اصل نام جرنیلی سڑک تھا لیکن انگریزوں نے اپنے دور حکمرانی میں اس نام کو بدل کر'' گرینڈ ٹرنک روڈ‘‘ یعنی جی ٹی روڈ میں بدل دیا۔ سینکڑوں سال قبل اس سڑک کا روٹ کابل سے ہوتا ہوا پہلے لاہور پھر دہلی اور کلکتہ جا کر ختم ہوتا تھا۔